اہل بیت رسولؐ

۱۔ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):
و ايمُ اللّهِ لَأن يَهدي اللّهُ على يَدَيكَ رجُلًا خَيرٌ لَكَ مِمّا طَلَعَت علَيهِ الشَّمسُ و غَرَبَت.
آنحضرتؐ نے جب علی علیہ السلام کو یمن بھیجا تو فرمایا: یا علی، ہرگز کسی سے جنگ نہ کرنا یہاں تک کہ اسے (اسلام کی) دعوت دیں، اور اللہ کی قسم، اگر اللہ آپؑ کے ہاتھ پر ایک آدمی کی ہدایت کردے تو (یہ) آپؑ کے لئے اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع اور غروب کرے اور آپؑ کی اس پر ولایت ہے یاعلی۔
۲۔ الإمام الرّضا (عليه السَّلام ):

إنَّ الإمامَةَ اسُ الإسلامِ النامي، وفَرعُهُ السامي.
امامت، اسلام کی پروان چڑھنے والی جڑ اور اس کی بلند ٹہنی ہے۔
۳۔ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

أساسُ الإسلامِ حُبّي وحُبُّ أهلِ بَيتِي.
اسلام کی بنیاد، میری محبت اور میری اہل بیت کی محبت ہے۔
۴۔ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

الإسلامُ عُريانٌ؛ فَلِباسُهُ الحَياءُ، وزِينَتُهُ الوَفاءُ، ومُرُوءَتُهُ العَمَلُ الصالِحُ، وعِمادُهُ الوَرَعُ، ولِكُلِّ شَي ءٍ أساسٌ وأساسُ الإسلامِ حُبُّنا أهلَ البَيتِ.
اسلام برہنہ ہے، تو اس کا لباس حیاء ہے اور اس کی زینت وفا ہے اور اس کی مروت نیک عمل ہے اور اس کے ستون ورع ہے، اور ہر چیز کی کوئی بنیاد ہے اور اسلام کی بنیاد ہم اہل بیت کی محبت ہے۔
۵۔ الإمام جعفر الصادق (عليه السَّلام ):

الفَقرُ مَعَنا خَيرٌ من الغِنى مع غَيرِنا، والقَتلُ مَعَنا خَيرٌ من الحَياةِ مَع غَيرِنا.
ہمارے ساتھ ہوکر غریب رہنا بہتر ہے ہمارے غیروں کے ساتھ رہ کر دولتمند ہونے سے، اور ہمارے ساتھ رہ کر قتل ہونا بہتر ہے ہمارے غیروں کے ساتھ رہ کر زندہ رہنے سے۔
۶۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

إنّ اللّهَ تعالى فَرَضَ على أئمّهِ العَدلِ (الحقِّ) أن يُقَدِّرُوا أنفُسَهُم بِضَعَفَةِ الناسِ، كيلا يَتَبيَّغَ بالفَقيرِ فَقرُهُ.
یقیناً اللہ تعالٰی نے عادل (برحق) رہنماؤں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غریب لوگوں کے برابر کریں تا کہ فقیر کی غربت، اسے باغی نہ کردے۔
۷۔ الإمام جعفر الصادق (عليه السَّلام ):

ثلاثٌ هُنَّ فَخرُ المؤمنِ وزَينُهُ في الدنيا والآخِرَةِ: الصلاةُ في آخِرِ اللّيلِ، وَ يأسُهُ مِمّا في أيدي الناسِ، و وَلايَتُهُ الإمامَ مِن آلِ محمّدٍ صلى الله عليه و آله.
تین چیزیں ہیں جو مومن کا فخر اور دنیا اور آخرت میں اس کی زینت ہیں: رات کی آخر میں نماز، اور جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس سے اس کا مایوس ہونا، اور اس کی (اس) امام سے ولایت (محبت) جو آل محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ میں سے ہے
۹۔ الإمام جعفر الصادق (عليه السَّلام ):

يا أبا بَصيرٍ، طُوبى لِشِيعَهِ قائمِنا المُنتَظِرینَ لِظُهورِهِ في غَيبَتِهِ، و المُطيعينَ لَهُ في ظُهورِهِ، اولئكَ أولِياءُ اللّهِ الّذينَ لا خَوفٌ علَيهِم و لا هُم يَحزَنونَ.
اے ابوبصیر، خوشا بحال ہمارے قائم کے شیعوں کا جو آنحضرتؑ کی غیبت میں آنحضرتؑ کے ظہور کے منتظر ہیں، اور آنحضرتؑ کے ظہور میں آنحضرتؑ کے فرمانبردار ہیں، وہ اولیاء اللہ ہیں جن کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔
۱۰۔

الإمام محمد الباقر (عليه السَّلام):
إنَّ حَديثَنا يُحْيي القُلوبَ.
بیشک ہماری حدیث، دلوں کو زندہ کرتی ہے۔