علم اور علماء کی ذمہ داری

١۔”من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتةً جاہلیة”
١۔ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے ، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔
٢۔ ”من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار”
٢۔ جو شخص علم کے بغیر قرآن کے بارے میں لب کشائی کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
٣۔ ”من سئل عن علم فکتمہ الجمہ اللہ بلجامٍ من نار”
٣۔ جس شخص سے علم طلب کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے تو خدا س کے منہ پر آگ کی لگام چڑھا دے گا۔
٤۔” من افتیٰ بما لا یعلم لعنتہ ملائکة السماء و الارض”
٤۔ جو شخص ایسی چیز کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ جس کو نہیں جانتا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
٥۔” کل مفتٍ ضامن”
٥۔ ہر فتوی دینے والا ضامن ہے ۔
٦۔” کل بدعة ضلالة و کل ضلالة سببھا الیٰ النار”
٦۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے ۔
٧۔”من یرد اللہ بہ خیراً یفقہہ فی الدین”
٧۔ جس شخص کو خدا خیر دینا چاہتا ہے اسے علم دین سے نواز دیتا ہے ۔
٨۔”تعلموا الفرائض و علموھا النّاس فانھا نصف العلم”
٨۔ فرائض (واجبات) کا علم حاصل کرو اور دوسروں کو اس کی تعلیم دو کہ یہ نصف علم ہے ۔
٩۔” اذا اتاکم عنی حدیث فاعرضوہ علیٰ کتاب اللہ فما وافقہ فاقبلوہ وما خالفہ فاضربوا بہ عرض الحائط”
٩۔ جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث آئے تو اسے کتابِ خدا کے معیار پر پرکھو اگر قرآن کے موافق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر اس کے خلاف ہے تو دیوار پر دے مارو۔
١٠۔” اذا ظہرت البدعة فلیظھرالعالم علمہ فمن لم یفعل فعلیہ لعنة اللہ”
١٠۔ جب بدعت ظاہر ہو تو عالم کو چاہئے کہ اپنا علم ظاہر کرے پھر جو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ) سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی (گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )