جِن کی خلقت

سوال۲۹:جن کیا ہے؟ کیوں پیدا کیا گیا اور انسان کی زندگی میں کیا اثر رکھتا ہے؟
ماہیت و حقیقت جن
کائنات میں بعض موجودات غیر محسوس ہیں اور طبیعی حواس سے قابل درک نہیں، ان موجودات میں سے ایک جن ہیں، جن کہ جس کا حقیقی معنی پوشیدگی ہے،انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہے،قرآن اس کے وجود کی تصدیق کرتا ہے اورقرآن مجید میں جن کے نام پر ایک سورۃ موجودہے اور کبھی قرآن میں اس موجود کو جان کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔(۱)
اس موجودکی ماہیت وحقیقت ہمارے لیے زیادہ واضح نہیں لیکن بعض آیات و روایات سے اس کے بعض مشخصات کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی خلقت انسانی خلقت سے پہلے ہوئی۔(۲)
۲۔ انسان کی طرح مکلف و مسئول ہے۔(۳)
۳۔ ان میں سے کچھ مومن اورکچھ کافراور کچھ نیک اور کچھ بد ہیں۔(۴)
۴۔ ان میں سے بعض مرد اور بعض عورت ہیں اور تولید مثل کرتے ہیں۔(۵)
۵۔ زندگی گزارتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں۔(۶)
۶۔ شعوروارادہ رکھتے ہیں اور تیزی سے حرکت کرسکتے ہیں،جیسے حضرت سلیمان ؑاور تخت بلقیس(۷) (ملکہ سباء)کا قصہ۔
۷۔ انسان کے لیے مسخرہو جاتے ہیں،اس بارے میں قرآن صرف حضرت سلیمانؑ کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پرندوں، وحشی جانوروں، انسانوں کے علاوہ جن بھی ان کے زیراختیاروفرمان تھے۔(۸)
روایات میں ہے کہ مومن جن انبیاء و آئمہ کیلئے مسخرہوتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں،وہ لوگ جواذن الٰہی سے ولایت رکھتے ہیں کافرجنوں کوبھی اپنے زیر ِفرمان کرلیتے ہیں۔(۹)
۹۔ بعض آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن آنحضرت ؐ پر ایمان لائے۔(۱۰)
یہ کہ جن زمین پر کہاں ہیں، واضح و مشخص نہیں کیا گیا لیکن بعض روایات ان مقامات کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں یہ اکثر رہتے ہیں۔(۱۱)

جِن کی خلقت کی وجہ
درج بالا توضیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح ہوتاہے کہ جن ارادہ واختیاررکھتے ہیں لیکن آگاہی و شعور کے لحاظ سے انسان سے پست تر ہیں۔
جن بھی انسان کی طرح اب موجود ہے،جس کی خلقت کا امکان تھا اور فیض و رحمت مطلق الٰہی اس کے وجود سے متعلق ہے اور خداوندمتعال نے انسان کی طرح اسے مختارپیداکیا اور ان کے راہ کمال کو معرفت و عبادت قرار دیا ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الجِْنَّ وَالْاِنْسَ الَّا لِیَعْبُدُوْنَ(۱۲)
میں نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے
بعبارت دیگر وہی فلسفہ جو انسان کی خلقت کے بارے میں موجود ہے جن کے بارے میں بھی موجود ہے۔

جِن اور انسان
ہم اجمالی طور پر جانتے ہیں کہ جن کبھی انسانی زندگی میں موثر ہوتا ہے اور بعض انسان بھی جنوں کی زندگی میں اثرانداز ہوتے ہیں لیکن یہ باتیں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے افسانہ سازیوںکی نظرہوگئے ہیں، جن میں سے اکثر پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
جن بعض انسانوں سے ارتباط برقرار کر سکتے ہیں اور روایات کے مطابق انبیاء و آئمہ سے ارتباط رکھتے تھے اور کبھی بعض انسانوں کا مشرک و کافر جن سے ارتباط ان کی گمراہی و طغیانی کا باعث ہوتا ہے۔
وَأَنَّہُ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ یَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوہُمْ رَہَقا (۱۳)
اور یہ کہ بعض انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس نے جنات کی سرکشی مزید بڑھا دی ،
اس بناء پر جن مومن و کافر انسان سے ارتباط برقرار کرتا ہے اور یہ بات قرآن و روایات میں صراحت کے ساتھ آئی ہے۔(۱۴)

(حوالہ جات)
۱)سورہ الرحمن، آیت۳۹، سورہ حجر، آیت۲۷
(۲) سورہ حجر، آیت۳۷، سورہ رحمن، آیت۱۵
(۳) سورہ ذاریات، آیت۵۶
(۴) سورہ جن، آیات ۱۱، ۱۴، ۱۵، سورہ احقاف، آیت۳۱
(۵) سورہ جن، آیت۶
(۶) سورہ احقاف، آیت۱۸، المیزان، ج۲۰، ص۴۱
(۷) سورہ نمل، آیت ۳۸، ۳۹
(۸) سورہ نمل، آیات ۱۷ تا ۳۹، سورہ سبا، آیات ۱۲ تا ۴
(۹) معارف قرآن، محمد تقی مصباح یزدی، ص۳۱۳، ۳۱۲
(۱۰) سورہ جن، آیت۱، سورہ احقاف، آیت۲۹، ۳۲
(۱۱) معارف قرآن، ص۳۰۹، ۳۱۱
(۱۲) سورہ ذاریات، آیت۵۱
(۱۳) سورہ جن، آیت۶
(۱۴) مزید وضاحت کے لیے، الف: الجن فی الکتاب، والسنہ، ص۸۸، ۹۴، ب: الجن فی الکتاب، والسنہ ، عبدالامیر، ص ۳۱۔۳۳: الجن بین الاشارات القرآنیہ وعلم الفیریاء عبدالرحمن محمد الرفاعی، د: جن و شیطان، علی رضا رجالی، ص۳۱، ۳۳، ھ: دانستنی ھائی دربارہ، جن، ابو علی خداکرمی، ص۱۸۹، ۴۱