انسانیت قبل از آدمیت

سوال۱۹:اسلام اور ادیان الٰہی کے مطا بق روئے زمین میں موجود انسان آدم ؑ اورحوا کی اولاد ہیں، حالا نکہ سا ئنسی تحقیقات سے معلو م ہوا ہے کہ زمین پر’’ کر وما نیون اور نٹاندرنال ‘‘ نامی انسان موجو د تھے، جو بول نہیںسکتے تھے اور خمیدہ حرکت کرتے تھے، اس تضاد کا کس طرح جواب دیں گے؟
امام محمد باقر ؑ سے منقول ایک روایت میں اما م ؑ نے جابر بن یزید سے فرمایا:
گویاتو گما ن کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اس عالم کو پیدا کیا ہے اوربس،اور توخیا ل کر تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے علا وہ کسی اور انسان کو پیدا نہیں کیا؟ہاں اللہ کی قسم اللہ نے ہزارہزارعالم اور ہزار ہزار آدم کو پیدا کیا ،اورتو ان تما م عو الم اورآدموں کے آخر میں ہے۔(۱)
ایسی ہی احادیث کی بنیاد پر مفکرین کا خیا ل ہے کہ حضرت آدم ؑ پہلے انسان نہیں تھے جنہوں نے کرہ خاکی پر قدم رکھا بلکہ ا ن سے پہلے بھی انسان نما مخلوقات یا اور انسا ن موجود تھے، جن کی نسل نامعلوم وجوہات کی بنا پر ارضِ خاکی سے ختم ہوگئی۔(۲)
۱۔ لیکن حضرت آدم ؑسے پہلے آدم یاآدم سے مشابہ کوئی مخلوق موجودنہیں تھی اورحضرت آدم مستقل طور پر پیدا کئے گئے۔
۲۔ حضرت آدمؑ سے پہلے انسان موجودتھے،لیکن وہ تکا مل یافتہ نہیں تھے اور کسی بھی وجہ سے ان کی نسل ختم ہو گئی اورحضرت آدمؑ اپنے سے ماقبل انسان سے کسی تعلق کے بغیرپیدا ہوئے۔
۳۔ حضرت آدم ؑ سے پہلے اورآدم بھی موجود تھے جوتکا مل یافتہ نہیں تھے لیکن ان کی نسل ختم نہیں ہوئی بلکہ تکامل کی راہیں طے کرتے ہوئے وہ مرحلہ انسانیت تک پہنچے اورحضرت آدمؑ ان سب کی نسل میں سے پہلے انسا ن اور پہلے پیغمبرتھے اور وہ مستقل طورپرپیدا نہیں ہو ئے ۔(۳)
آیاتِ قرآنی کے ظاہرسے معلو م ہوتا ہے کہ موجودہ انسانی نسل کے سلسلہ کا آغا ز حضرت آدمؑ وحوا سے ہواتھااوران دونوں کی نسل کے افرا د ماؤں کے شکم میں ڈالے گئے نطفہ سے پیدا ہوئے لیکن خو د حضر ت آدم ؑ کس طرح پیدا ہو ئے اس حوالے سے ہم آیات کے مجموعہ سے اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حضرت آدم ؑماںاورباپ کے بغیرپیداہوئے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عنا صر خا کی اور روح الٰہی سے پیدا فرمایا،اس بناپراگرماضی اورقدیم انسانی تا ریخ میں انسا ن کے مشابہ موجودات کے وجود پر کچھ دلائل ملتے ہوں تو یہ اس بات کے منافی ہر گز نہیں کہ موجودہ انسان حضر ت آدم و حوا کی نسل سے ہیں اور وہ دونوں گذشتہ نسل انسانی یا مشابہ نسل انسانی سے نہیں ہیں ـ،جدیدسائنس نے یہ ثابت نہیں کیاکہ موجودہ انسان نٹانرنال یا کرومانیوں کے مشابہ انسانوں کی نسل سے  ہیں۔

(حوالہ جات)
(۱) فصال ج ۲، ص ۴۵۰، بحا ر الا نوار ، ج ۶۲، ص ۸۳، ۸۲
(۲) منشور جاوید ، جعفر سبحا نی م، ج ۴، ص ۹۴، قا موس قرآن، سید علی اکبر قرشی، ج۱، ۲، ص ۵۰۔۴۹
(۳) تفصیل کے لئے دیکھئے باز خوانی قصہ خلقت، حسن یوسفی اشکو ری
(الف) آفرینش وانسا ن ، علامہ محمد تقی جعفری
(ب)معارف قرآن ج۱۔۳ ، علامہ محمد تقی مصباح یز دی
(ج)مبانی انسان شناسی در قرآن ،عبداللہ نصری
(د) قرآن ، طبیعت و تکا مل ، مہد ی باز رگان
(ڈ)خلقت انسا ن ، ید اللہ سحانی
(ر) دارو نیزم یا تکامل انواع، جعفر سبحانی
(ز)تکامل درقرآن ، علی مشکینی اردبیلی
(ڑ) موضع علم و دین در خلقت انسان احدفرا مرز قراملکی