علامہ اقبال اور علی شریعتی کا انقلابی فلسفہ

(ڈاکٹر شگفتہ بیگم)

فکر اقبال کی شمع کو آگے بڑھانے کے لیے جن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے اُن میں ایران کے انقلابی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی کا نام بہت اہم ہے۔ اقبال اور علی شریعتی کے افکار میں حیرت انگیز طور پر مماثلت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ علی شریعتی نے فکراقبال علی شریعتیپر غوروخوض کرنے کے بعد اُس سے اثر قبول کیا ہے، تاہم اس میں بھی شبہ نہیں کہ جس قسم کے حالات سے اقبال کو سابقہ پڑا کم وبیش ویسے ہی حالات کا ایرانی قوم کو بھی سامنا تھا۔ ایرانی نوجوان نسل یورپی تہذیب کی چمک دمک کے سامنے اپنا نظریاتی اور اسلامی تشخص کھو چکی تھی۔ جس طرح اقبال نے اپنی فکر کو مضبوط مذہبی اور فلسفیانہ بنیادوں پر استوار کیا بعینہٖ علی شریعتی نے بھی اپنی فکر کی بنیاد اسلام کو ہی قرار دیا۔ جدید فلسفیانہ رجحانات کے پیشِ نظر انھوں نے عمرانی مسائل پر بڑے حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی اور اقبال کے تتبع میں اپنی قوم کے اندر صحیح اسلامی، سیاسی اور ملی شعور بیدار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ علومِ جدیدہ سے جس طرح اقبال نے استفادہ کیا، علی شریعتی نے بھی اُن سے آشنائی پیدا کرنے اور انھیں ترقی کے لیے استعمال کرنے کا درس دیا ہے۔ علی شریعتی ایک سوشل ریفارمر ہیں اس طرح ان کی فکر کے ساتھ فکراقبال کا ربط و اتصال،فکر اقبال کی اہمیت کو دوچند کردیتا ہے۔

علی شریعتی کی تصویر
علی شریعتی

اقبال اور علی شریعتی دونوں مسلمان مفکر ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر امت مسلمہ کی حالت زار پر افسردہ ہیں۔ اقبال سے متعلق علی شریعتی لکھتے ہیں:
وہ ایسے آفت زدہ دور میں میدان میں آئے جب اسلام پر کڑا وقت آیا ہوا تھا۔ غم و اندوہ سے اسلامیوں کا دل ہر چند ملول تھا لیکن بیداری ان کے نزدیک نہ پھٹکی تھی اور مغربی استعمار نے یہاں پنجے گاڑ رکھے تھے۔ اقبال نے نہ صرف اپنی شاعری سے بلکہ اپنے ’’وجود ‘‘سے بھی اس دور کے استعمار زدہ مسلمانان عالم میں نئی روح پھونک دی۔۱؎
اقبال اور شریعتی کے فکری دھارے ایک ہی رخ پر بہتے ہیں۔ ان کے پیش نظر مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی ہے چاہے وہ تعلیمی میدان میں ہو یا صنعتی میدان میں۔وہ اپنی سوئی قوم کو جھنجھوڑ کربیدار کرتے ہیں اور ان کو ان کا شاندار ماضی یاد دلاتے ہیں۔اس ضمن میںوہ سب سے پہلے انسان کی بحیثیت انسان پہچان کرواتے ہیںاور بعد میں بحیثیت مسلمان۔ اسلام ان کا دین ہے اور اپنے فکر کی اٹھان اسلام ہی سے اٹھاتے ہیں۔اقبال اپنی نظم و نثر میں جا بجا قرآن کو اپنا رہبرو رہنما اور مقتدا و پیشوا کہتے ہیںاور اپنی فکر کا ماخذ قرآن کوٹھہراتے ہیں۔
گر دلم آئینہ بے جوہر است
ور بحرفم غیر قرآن مضمر است
روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسہ پا کن مرا
علی شریعتی کہتے ہیں :
بہتیرے مسائل ایسے ہیں جن کی تفہیم مجھے قرآن سے حاصل ہوئی ۔قرآن میں موجود مواد سے مجھے تاریخ اور عمرانی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔۲؎
ایک اور جگہ کہتے ہیں:دوسری منزل یہ ہو گی کہ قرآن کو جانا جائے کہ کس قسم کی کتاب ہے ؟یہ کس قسم کے مسائل پر غور کرتا ہے۔۳؎
فکر اقبال کا عملی نفاذ انقلاب ایران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔علی شریعتی اقبال سے بہت متاثر ہیں۔ایرانی انقلاب کے داعیوں نے بھی فکر اقبال سے استفادے کا اعتراف کیا ہے۔
علامہ نے دلوں کو جو ولولہ تازہ دیا تھا اس کا بھرپور اظہار ڈاکٹر علی شریعتی کے افکار میں ہوا جو انقلاب ایران کے پیشرووں میں سے ہیں اور تحریک انقلاب کے زمانے میں اچانک انقلابی شعور کا مظہربن کر ابھرے۔ انھی کے مشہور ادارے ’’حسینیہ ارشاد‘‘ نے ۱۹۷۰ء میں علامہ اقبال کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس میں خود ان کا مقالہ حاصل جلسہ تھا۔۴؎
ڈاکٹر علی شریعتی نے انقلاب ایران کے لیے اقبال سے راہنمائی حاصل کی اور آخر کار اپنی قوم میں مذہبی وملی شعور بیدار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
انقلاب کا یہ رہبر حکیم الامت کے افکار سے دیوانہ وار متاثر تھا اور علامہ اقبال پر اس کی دوتصانیف سامنے آ چکی تھیں یعنی ’’اقبال معمار تجدید بنائی تفکر اسلامی‘‘ اور ’’ماوا اقبال‘‘ دونوں میں معاصر اسلامی بالخصوص ایرانی معاشرے کے تناظر میں پیغام اقبال کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ علامہ اقبال کو ’’مصلح متفکر انقلابی اسلامی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔۵؎
اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کی توجہ حصول آزادی کی طرف دلائی۔ انھوں نے اپنے فلسفے کی روحانی غذا اسلام سے حاصل کی لیکن مغربی علوم و فنون کے فوائد کو بھی قبول کیا۔ انھیں جدید علوم کے ساتھ خواہ مخواہ کی کوئی دشمنی نہیں۔ مغرب اور مغربی تہذیب کے بارے میں اقبال اورعلی شریعتی کے رویوں میں بلا کی مماثلت پائی جاتی ہے۔
اقبال کہتے ہیں:
میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں،اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کولامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی اور ادراکی گہوارہ کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔۶؎
مسلمانوں کو بیشک علوم جدیدہ کی تیز پا رفتار کے قدم بہ قدم چلنا چاہیے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی تہذیب کا رنگ خالص اسلامی ہو۔۷؎
علی شریعتی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اقبال نے اسلام کے افکار کے ساتھ ساتھ دنیا کے باقی فلسفیانہ نظریات کا بھی بغور مطالعہ کیا ہے۔
علی شریعتی کے الفاظ میں:
اقبال ان رجعت پسندوں اور ماضی پرستوں میںسے نہیں ہیں جو جدید یا مغربی تہذیب کی ہر نئی چیز سے چھانے پھٹکے اور سمجھے بوجھے بغیر خواہ مخواہ کی دشمنی رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن میں نقد و انتخاب کی جرأت نہیں اور جو مغربی افکار اور مغرب کے مقلد محض ہیں۔ اگر ایک طرف وہ علم کی خدمت کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ اس بات کو بھی محسوس کرتے ہیں کہ انسان کی تمام مقصدی تگ و دو کی ضرورتوں اور تکمیل بشریت کے تمام تقاضوں کے لیے علم نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ضرر رساں بھی ہے۔ اقبال کے پاس اس دشواری کا حل بھی موجود ہے، بہرحال وہ ایک ایسے شخص ہیں جو مشاہدہ عالم کے لیے اپنا ایک نقطہ نظر دنیا اور انسان کے بارے میں جو روحانی فلسفہ پیش کرتا ہے اور اس تمدن و تاریخ کی بنیادوں پر اپنے سماجی مکتب فکر کی اساس رکھتے ہیں جو ان کے نقطہ نظر اور روحانی فلسفے سے تال میل کھاتا ہے۔۸؎
اقبال اور شریعتی دونوں بین الاقوامی سطح پر نمایاں شخصیات ہیں جنھوں نے نہ صرف یہ کہ اسلامی ثقافت کے فروغ کے لیے کوششیں کیںبلکہ امت مسلمہ میں خود آگاہی بھی پیدا کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب نے ثقافتی اور فکری طور پر مسلم نوجوانوں کو خود شناسی سے محروم کر رکھا تھا۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی تھی کہ کوئی ایسی شخصیت ہو جومسلمانوں کو مغربی فکر اور ثقافتی غلامی سے نجات دلاسکے۔ ایسے میں اقبال اور شریعتی ایسی شخصیات تھیں جنھوں نے مسلم نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری فکر سے آگاہی دی اقبال نہ صرف استعمار دشمن اور ترقی یافتہ آزادی پسند مسلمان ہیں بلکہ انھوں نے مغرب کے جدید علوم و فنون میں مشرقی اور قومی روح پھونک دی ہے اور اپنے مخصوص فلسفیانہ نظریے ’’فلسفۂ خودی‘‘ کی تعبیرو تفسیر بالکل نئے انداز سے کی ہے۔
دوسری طرف ڈاکٹر علی شریعتی بھی اقبال کی طرح جدید علوم سے دشمنی نہیں رکھتے مگر مغربی تہذیب کو ناپسندیدگی کی نظر سے اس لیے دیکھتے ہیں کہ اس کی بدولت ایران کے نوجوان ذہنی الجھن، پریشانی اور ناآسودگی میں مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر عزتی کے نزدیک:
شریعتی کی شخصیت جدید مغربی اور اسلامی علوم کے عمیق مطالعے سے عبارت ہے۔ شریعتی نے ان دو متضاد و متخالف علوم کا اپنی زندگی میں ایسا حسین امتزاج پیش کر دیا ہے جن کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ انھوں نے صرف مغربی یونیورسٹیوں میں ہی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ مغرب کی تمام خوبیوں اور خامیوں کا بھی عرفان حاصل کیا اور مغرب کے انداز فکر و نظر سے بخوبی آگاہی حاصل کی۔۔۔ وہ اسلام اور اسلام مخالف افکار و نظریات، اسلامی فکر اور غیر اسلامی فکر، اسلام کے نظری علوم اور مغرب کے نظری علوم ہر چیز سے محرمانہ طور پر آگاہ تھے۔ اپنے اسی گہرے مطالعے اور مشاہدے کی وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مشرق اور بالخصوص ایران کے عوام جس ذہنی الجھن، پریشانی اور ناآسودگی کا شکار ہیں وہ سب کے سب استعمار کے پیداکردہ ہیں۔ استعمار نے اپنے پیر مضبوط کرنے کے لیے پہلے تو ایران کی زبان اور اس کے تمدن و تہذیب پر حملہ کرکے ان کی صورت مسخ کر دی اور جب اس زبان، تہذیب و تمدن کے حاملین ہی ان کی صورت پہچاننے سے قاصر رہنے لگے تو اس نے اپنی زبان، تہذیب و تمدن ان کے معاشرے میں رائج کر دیے۔ اس صورت حال کا ازالہ شریعتی کے نزدیک صرف اسی طرح کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان اپنی اصل کی طرف مراجعت کرے تاکہ دوبارہ مسلمان ہو کر ان غیر اسلامی افکار و نظر یات کو اپنے معاشرے سے اکھاڑ پھینکے جو دیمک کی طرح اس کے معاشرے کو چاٹے جا رہے ہیں۔۹؎
علی شریعتی نہ صرف یہ کہ فکر اقبال سے متاثر ہیں بلکہ انھوں نے فکر اقبال کو اپنی فکر کے لیے مشعل راہ بھی بنایا ہے جس کا اظہار وہ اس طرح کرتے ہیں:

I am one among thousand of persons who are writing their current and future history using diction of Iqbal.10

اقبال اور شریعتی نے اسلام کی تشریح و تعبیر اس طرح سے کی ہے کہ زندگی کا کوئی پہ لوایسا نہیں رہا جس پر ان کے خیالات موجود نہ ہوں۔
تمام بنی نوع انسان ایک ہی قوم ہے اور اس کا مقصد حیات بھی ایک ہی ہے۔اسلامی تمدن کی روح دو بنیادی اصول توحید اور رسالت ہیں۔ انھی دو اصولوںپرانفرادی واجتماعی زندگی کی عمارت کھڑی ہے۔اصل میں اسلامی ثقافت کی اساس اصول توحید پر ہے۔
مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور دوسری اقوام کے تصور سے بالکل مختلف ہے، ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراک زبان ہے نا اشتراک وطن ،نا اشتراک اغراض اقتصادی،بلکہ ہم لوگ برادری میں جو جناب رسالت مآب انے قائم فرمائی تھی اس لیے شریک ہیں کہ مظاہر کائنات کے متعلق ہم سب کے معتقدات کا سرچشمہ ایک ہے۔۱۱؎
اقبال نے اپنے خطبات کے ذریعے الہیات اسلامیہ کی تشکیل جدید کی ہے اور علی شریعتی نے بھی اپنی تحریر اور تقریر کے ذریعے اسلام کا ایک واضح تصور قائم کیا ہے۔ ان دونوںمفکرین کے سامنے مغربی اقوام کی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ اقدامات بھی تھے جو وہ اسلام کی اصل روح کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے تھے۔اقبال اور شریعتی نے اسلام کی تشریح و تعبیر اس ڈھنگ سے کی کہ دنیا پر اسلام کے مثبت اور آفاقی پہلو اُجاگر ہوئے۔

The biggest contribution made by Iqbal and Shariati is that they presented Islam to the world as a complete code of life. These two muslim scholars completely erased the image of Islam as a system embodying outdated concepts and teachings as it had been projected through western propaganda.12

اقبال جیسے مفکر جو عظیم، آشنا، نواندیش اور قدروقیمت کے حامل ہیں کے وسیلے سے دقیق النظری اور علمی طریقے سے اسلام کی معرفت حاصل کرنا ایک معنوی، معاشرتی، علمی، تاریخی اور سیاسی ضرورت ہے۔۱۳؎
اقبال اسلامی انقلاب کے ایک مفکر اور مصلح ہیں اور ایران میں اسلامی انقلاب کے نقیب بھی ۔ اسی لیے ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے افکار کا بذات خود مطالعہ کیا اور پھر اپنی انقلابی تقاریر اور تحریروں کے ذریعے اقبال کو ایران میں متعارف کروایا۔ فکر اقبال کو نہ صرف اقبال کے ایرانی قارئین نے خوش آمدید کہا بلکہ بہت سارے ایرانی مفکرین کا یقین ہے کہ اقبال نے ایران میں اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھی۔

نہ مصطفٰی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

Dr. Ali Shariati, a socialogist thinker of international calibre, himself conducted a study on the works of Iqbal and then introduced him in Iran through his revolutionary speeches and writings. Not only was Iqbal received well by his Iranian readers but many Iranian thinkers believe that Iqbal lay the foundations for the Islamic revolution….14

شریعتی ایران کے ممتاز راہنمائوں میں سے ایک ہیں۔ انھوںنے ہیجان انگیز اور انقلاب آفرین خیالات سے ایران میں تحریک انقلاب کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انقلاب کے اس راہنما کے فلسفہ زندگی اور انقلابی مزاج پر علامہ اقبال کے افکار کا گہرا اثر ہے۔اقبال قدیم اندازمیںتبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں۔وہ مذہب،معیشت ،حکمرانی اور اخلاق و کردار کے شعبوںمیں تبدیلی لا کر پورے نظام کی تشکیل نو کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دنیا میں برپا ہونے والی ہر انقلابی تحریک کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اقبال نے ہندوستان کے عظیم معنوی سرمائے اور اسلام کی عظمت و رفعت اور روح بصیرت کے درمیان آنکھ کھولی اور اپنی بصیرت کے سرمائے کی بدولت آگاہی پائی کہ اسلام کے فکری مکتب کے درہم برہم اجزا کو ایک جگہ اکٹھا کرکے ان کی از سر نوتشکیل کی جانی چاہیے ۔
اقبال ’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘ میں کہتے ہیں:
اسلام میں قومیت کا مفہوم خصوصیات کے ساتھ چھپا ہوا ہے، اور ہماری قومی زندگی کا تصور اس وقت تک ہمارے ذہن میں نہیں آ سکتا جب تک کہ ہم اصول اسلام سے پوری طرح باخبر نہ ہوں۔بالفاظ دیگر اسلامی تصور ہمارا وہ ابدی گھر یا وطن ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔۱۵؎
اقبال نے اسلامی فلسفہ، تاریخ اورمغربی علوم کے فکری تغیرات کی وسعت اور گہرائی سے واقفیت اور قرآن پاک سے گہرے لگائو اور آشنائی کی بدولت اپنے فلسفہ خودی کی تعمیر کی۔ اس فلسفے کی بدولت اقبال کے کائنات ، خدا اور انسان کے تعلق کی وضاحت ہوتی ہے۔
اقبال کے خطبات کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ اسلام پر وقت کے جدید تقاضوں اور بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں گہری نگاہ ڈالی جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے قرآن کو اپنے علم کا مرکزی مصدر و منبع قرار دیا ہے۔ خطبات اقبال میں جا بجا قرآنی حوالوں کو اپنی بات کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمیں اپنا راہنما قرآن کو بنانا چاہیے اور اسی سے علم حاصل کرنا چاہیے۔ علی شریعتی بھی اقبال کے تتبع میں لکھتے ہیں:

The Quran itself, or Islam itself was the source of the ideas. A philosphical theory and scheme of sociology and history opened themselves up before me.16

علی شریعتی کے نظریات مذہبی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ نظریات علمیاتی، فلسفیانہ، تاریخی اور معاشرتی طور پر مضبوط بنیادوں کے حامل ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں نظریاتی تبدیلی لائی جائے۔ اور آج کی تیزی سے بدلتی جدید دنیا میں نظریاتی اور Intellectualتبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔ علی شریعتی بنیادی طور پر ایک سوشل ریفارمر ہے۔ سوسائٹی میں مثبت تبدیلی لانے کا خواہاں یہ راہنما علمیاتی، فلسفیانہ اور مذہبی حوالوں سے فرد اور سوسائٹی سے بحث کرتا ہے۔ وہ اسلام کی راہنمائی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے لیکن اسلام کا علم حاصل کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ اس کے نزدیک معاشرے میں اگر تبدیلی لائی جا سکتی ہے تو اس جانب پہلا قدم اسلام کا درست اور صحیح علم حاصل کرنا ہے۔
ہمیں ان تجربوں سے استفادہ کرنا چاہیے جو ہماری اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ہم ایک عظیم مذہب کے ذمہ دار پیروکار ہیں اور ہمیں اسلام کے بارے میں صحیح اور مناسب معلومات حاصل کرنی چاہییں۔۱۷؎
چونکہ علی شریعتی ایک سوشیالوجسٹ ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ ان تمام کاموں کو عمرانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے تاریخ ، فلسفۂ تاریخ، مذہب، شریعت اور سوشیالوجی کو توحید کے اصول کے تحت جانچا ہے۔

…. he examined history, the philosophy of history, religion and sharia and sociology, all within the frame work of the general world-view of tauhid, so that tauhid became the intellectual and ideological foundation of both of philosophy of history, uncovering the past fate of man and human society, and a prediction of their future destinies.18

فکر اقبال میں وحدت ایک بنیادی تصور ہے۔ وہ خدا کی احدیت اور انسان کی وحدت کے قائل ہیں۔ اقبال کے الفاظ میں:
گویا بہ حیثیت ایک اصول عمل توحید اساس ہے۔ حریت، مساوات اور حفظ نوع انسانی کی۔۱۹؎
توحید عقل کو راز ہستی سمجھنے اور فطرت کو تسخیر کر کے اپنے قابو میں کرنے کا درس دیتی ہے اور انسان کو کائنات میں اس کا مقام بتاتی ہے ۔اسلامی تصور ملت توحید اور رسالت پر قائم ہے۔
اہل حق را رمز توحید ازبر است
در الی الرحمن عبدًا مضمر است
علی شریعتی کے الفاظ میں:
تیس برس قبل اقبال نے یہ اعلان کیا تھا آج کسی اور چیز سے کہیں زیادہ انسانیت کو کائنات کی ایک روحانی تعبیر کی ضرورت ہے۔یہ حقیقت اگرچہ اقبال کے الفاظ میں مستور ہے مگر ہمیں واضح طور پر کہنا چاہیے۔ دنیا کو نوع انسانی کی روحانی شرح کی بھی ضرورت ہے۔۲۰؎
تشکیلِ جدید الٰہیات اسلامیہ میں خطبہ’ الاجتہاد فی الاسلام‘ کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:
عالم انسانی کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ کائنات کی روحانی تعبیر، فرد کا روحانی استخلاص اور وہ بنیادی اُصول جن کی نوعیت عالمگیر ہو۔۲۱؎
نوع انسانی کی روحانی تشریح سے زندگی میں نئی تحریک پیدا ہو گی اور اسلام اس میںاہم کردار ادا کرے گا۔اسی توحید کے اصول کو اگر پھیلا دیا جائے تو یہی اصول ڈاکٹر علی شریعتی کے عمرانی نظریات کا اساسی اصول قرار پاتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے اور زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے اس لیے انسانی مباحث کا پسندیدہ موضوع ہے۔ کسی بھی فرد کے لیے جو کسی معاشرے میں کسی قسم کے کردار اور ذمہ داری کا حامل ہے اس کے لیے انسان کی صحیح پہچان اور اس کی تمام خصوصیات سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید بھی انسان کو باربار اپنی اصلی پہچان کی تلقین اور ہدایت کرتا ہے اور انسان کو فطرت الٰہیہ کی طرف لوٹ جانے کی دعوت دیتا ہے۔ علی شریعتی نے بھی انسان کو اپنی اصلیت پہچاننے کا سبق دیا ہے۔
اگر واقعی ہمیں اعتراف ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے حقیقی وجود کو ثابت کرنا چاہیے کہ پہلے انسان کی اصلیت اور اپنی انسانیت سے آگاہی حاصل کر لیں اور اپنا مقام اور حیثیت متعین کر لیں اور اس طرح وجود کی شخصیت اور اقبال کے بقول اسرار خودی سے آگاہی حاصل کریں۔ وہ فرماتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور اسلام ایک نظریہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے تاریخی روح، ثقافتی رسوم، عادات، اجتماعی روح، انفرادی اور اجتماعی سلوک اور ضوابط حیات جیسی ہدایات کا حامل ہے اور ہمارا ایک دوسرے سے رابطہ ، ہماری ذمہ داریاں، جہاں شناسی اور بالآخر ہماری چند پہلو اور انقلابی شخصیت کو ہمار ے لیے معین اورطے کرتا ہے، ہمارے لیے توحید، رسالت اور قیادت پر ایمان خداوند متعال سے فطری میثاق کا اظہار ہے۔ غیروں کی ثقافتی یلغار نے ہمیشہ کوشش کی ہے تاکہ انسانوں کو تہذیبی اور تعلیمی میدانوں میں غیر ترقی یافتہ بغیر تشخص اور آخر کار، حقیقی اسلام سے بالکل بے بہرہ، اسلامِ واقعی سے دور عناصر کے طور پر پیش کرے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔۲۲؎

شریعتی کے نزدیک فطرت اور انسانیت دو اساسی موضوعات ہیں جن کے باہمی رشتوں کے تحت مذہب ، فلسفہ اور عمل کے شعبے وجود میںآتے ہیں جن سے تین دھارے تصوف، مساوات اور آزادی پھوٹتے ہیں۔ اقبال کی فکر میں بھی یہ تینوں موضوعات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ عقیدہ وحدت انسانی اور وحدت حیات کا مظہر ہے اور اس کی مدد سے ہی انسان کو کائنات میں اپنے مرتبے کا علم ہوتا ہے۔توحید اسلامی کے اس عقیدے کی بنیاد فلسفیانہ اور دینی نہیںبلکہ فلسفۂ تاریخ،عمرانیت اور حیاتیات کے سرچشمے بھی اس سے پھوٹتے ہیں۔۲۳؎
تصورِ خودی اقبال کی فکر کا مرکزی نکتہ ہے اس نے اپنے اس تصور کا اظہار اپنی کئی نظموں میں کیا ہے اور بالخصوص اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی میں خاص طور پر اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ آپ نے اسرارِ خودی میں فرد اور رموزِ بے خودی میں ملت کو موضوعِ سُخن بنایا ہے۔ تشکیلِ جدید الہٰیات اسلامیہ میں چوتھا خطبہ خودی، جبرو قدر، حیات بعد الموت کے نام سے موسوم ہے۔ اسرارِ خودی کے پہلے ایڈیشن کے دیباچے میں اقبال خودی کو جن معنوں میں لیتے ہیں علی شریعتی اُنہی معنوں میں بیان کرنے کے لیے خود سازی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ علی شریعتی اپنی کتاب ’’باز گشت برخویشتن‘‘ میں یوں اظہار کرتے ہیں:
اپنے آپ کی طرف واپس لوٹو، وہاں سب کچھ پالو گے، کیونکہ وہاں سب کچھ ہے ۔۔۔باہر تاریکی ہے۔ ان چشموں سے سوائے دکھ کے اور کچھ نہیں اُبلتا، گوتم بُدھ سچ کہتا تھا۔ نروان باطن میں ہی ہے۔بُدھ کا نروان بھی اسی ’’مَیں‘‘ہی میں تھا۔ اب میں اپنے آپ کو اس کی آغوش میں پاتا ہوں۔ یہ میرا اپنا آپ ہی ہے۔ اپنا آپ یعنی خودی کہ جس کو میں نے ظاہری ’’من ہا ‘‘ (انائوں) کے انبار سے استخراج کیا۔ اس کے چہرے کو آلائشوں سے صاف کیا تو وہ زیادہ روشن اور شناختہ تر ہوگئی۔۔۔۲۴؎
اقبال اور شریعتی کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان مسلم مفکرین نے مغربی پروپیگنڈہ سے پیدا ہونے والے اس تصور کو بالکل ختم کر دیا کہ اسلام پرانی اور بوسیدہ تعلیمات پر مشتمل ایک نظام ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور خطبات کے ذریعے اور شریعتی نے اپنی تحریروں اور تقاریر کے ذریعے یہ درس دیا کہ مسلمانوں کو قرآن اور سنت کو اپنا ذریعہ علم بنانا چاہیے۔
اقبال کے فلسفے میں اصول حرکت ایک بنیادی اصول کے طورپرکام کرتا ہے۔زندگی نہ محض ثبات ہے اور نہ تغیر۔اس کے اندر کچھ عناصر غیر متبدل ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی لیکن کچھ عناصر میں وقت گزرنے کے ساتھ تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ان دونوں پہلوئوںپرنظر رکھنا اور حالات و ضروریات کے تحت ان کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔اسلام ایک حکیمانہ اور معقول المعنی مذہب ہے ۔ ایک متحرک اور ارتقا پذیر معاشرے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ مطابقت اختیار کرے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اجتہاد کی ضرورت پر زور دیا ۔وہ فقہ کی تدوین نو کرنے کے بڑے خواہش مند تھے۔ اقبال کہتے ہیں:
تہذیب و ثقافت کی رو سے دیکھا جائے تو بحیثیت ایک تحریک اسلام نے دنیائے قدیم کا یہ نظریہ تسلیم نہیں کیا کہ کائنات ایک ساکن و جامد وجود ہے ۔بر عکس اس کے وہ اسے متحرک قرار دیتا ہے۔۲۵؎
علی شریعتی کہتے ہیں:
سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کے اس عظیم مکتبِ فکر جو اس کے اختیار میں ہے، کے احکام و اصول کی بنیادوں پر اس زمانے کی حرکت اور ضرورت کے مطابق جس میں کہ وہ زندگی گزار رہا ہے، اس خاطر کہ اس کا مذہب بھی زندہ رہے، اُسے چاہیے کہ زمانے کے ساتھ زمانے کی ضروریات، اُس زمانے کی نسل اور ضروریاتِ بشر کے مطابق کوشش کر کے مسائل کے حل کا استنباط و استخراج کریں تاکہ مذہب اُن پرانی اور گزشتہ شرائط کے چوکھٹے میں محدود نہ رہے جو کہ اب ماضی بن چکی ہیں۔ نہ تو منجمد ہو اور نہ ہی اپنے زمانے سے پیچھے رہے۔۲۶؎
علی شریعتی کا احیائے فکرِ دینی کا تصور فکرِ اقبال سے ہی ماخوذ ہے اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالکریم سروش کا بیان ملاحظہ ہو
شریعتی کا اصل کام بھی فکرِ دینی کی تجدید تھا اور مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ خیال اُس نے اقبال لاہوری سے لیا تھا۔۔۔۲۷؎
علی شریعتی نے بھی اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے بار بار اس امر پر زور دیا ہے کہ ہمیں مذہب کو سائنسی بنیادوں پر دیکھنا چاہیے اس مقصد کے لیے انھوں نے بھی اجتہاد پر بہت زور دیا ہے، تاہم اس ضمن میںیہ بات بڑی اہم ہے کہ علی شریعتی نے اجتہاد کے متعلق تمام خیالات کو فکرِ اقبال سے ہی اخذ کیا ہے۔
شریعتی اپنے اجتہادی افکار کے لحاظ سے اگرچہ اپنے مذہب، ملک اور ملکی حالات کے تحت کاملاً اقبال کا ہم خیال تو نہیں البتہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے اور شریعتی کی تحریروں سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اجتہادی افکار کے لحاظ سے بنیادی طور پر علامہ کے اُن لیکچروں سے ہی متاثر ہو کر نظریہ ’’باز سازی‘‘ یعنی فکرِ مذہبی کی تعمیر نو کا داعی بنا۔۲۸؎


حوالے و حواشی

۱- ڈاکٹر علی شریعتی، ’’ہم اور اقبال ‘‘ مشمولہ افکار شریعتی، ادارہ منہاج الصالحین، لاہور۔۲۰۰۱ئ، ص۵۰۹۔
۲- ڈاکٹر علی شریعتی، ’’اسلامی معاشرے میں اسلام ہی کے افکار سے تبدیلی آتی ہے‘‘مشمولہ افکار شریعتی، ص ۳۰ ۔
۳- ایضاً، ص۱۹۔
۴- مجموعہ مقالات۔ بین الاقوامی فکر اقبال سیمینار،نومبر ۱۹۹۴ئ، ص، ۲۹۵۔
۵- ایضاً، ص ۲۹۵۔
۶- علامہ محمد اقبال، ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘مشمولہ مقالاتِ اقبال، مرتبہ سید عبدالواحد معینی، محمد عبداللہ قریشی۔ شیخ محمد اشرف (س۔ن ) ص ۱۳۴۔
۷- ایضاً، ص۱۳۵۔
۸- ڈاکٹر علی شریعتی، علامہ اقبال۔مصلح قرن آخر، مترجم: کبیر احمد جائسی، فرنٹئرپوسٹ پبلی کیشنز، ص۴۴، ۴۵۔
۹- ایضاً، ص ۲۶۔
۱۰- آغا شوکت علی، (مرتبہ) Vision، جلد ۵، جنوری ۱۹۹۲، ص ۴۲۔
۱۱- مقالاتِ اقبال، ص ۱۵۹۔
۱۲- Vision، ص ۴۰۔
۱۳- ڈاکٹر علی شریعتی، افکار شریعتی، ص۴۹۳۔
۱۴- Vision، ص۳۔
۱۵- مقالات اقبال، ص ۱۲۴۔
۱۶- ڈاکٹر علی شریعتی، On the Sociology of Islam، Mizan Press Berkley ، 1979، ص۴۳۔
۱۷- ڈاکٹر علی شریعتی، افکار شریعتی، ص۱۳۔
۱۸- On the Sociology of Islam، ص۳۲۔
۱۹- علامہ محمد اقبال، تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، بزم اقبال ، کلب روڈ لاہور۔۱۹۸۶ء ص۲۳۸۔
۲۰- افکار شریعتی، ص۲۱۷۔
۲۱- تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، ص ۲۷۵۔
۲۲- آغا شوکت علی (مرتبہ)، Vision ’’ڈاکٹر علی شریعتی سیمینار نمبر‘‘ ،جولائی ۱۹۹۲، ص ص ۴۲، ۴۳۔
۲۳- افکار شریعتی، ص۵۲۴۔
۲۴- پروفیسر شبیر افضل، علی شریعتی کے انقلابی افکار اور اقبال، پورب اکادمی ، اسلام آباد ۲۰۰۷ئ، ص ۱۸۴۔
۲۵- تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ، ص ۲۲۳۔
۲۶- علی شریعتی کے انقلابی افکار اور اقبال ، ص ۲۸۶۔
۲۷- ایضاً ، ص ۲۴۴۔
۲۸- ایضاً ، ص ۲۸۵۔