سمجھ بوجھ کا فرق

سوال۲۶:عام طورپرکہا جاتا ہے کہ موجودات میں ذاتی فرق ان کی ذاتی قابلیت سے پیدا ہوتا ہے، کیاصلاحیتیں اللہ کی عطا کردہ نہیں؟پھراس نے سب کو ایک جیسی صلاحیتیں کیوں نہیں دیں؟
واقعیت یہ ہے کہ موجودات و انسانوں کی ظرفیت ان برتنوں کی طرح نہیں کہ بعض کیلئے نصف اور بعض کیلئے مکمل پرہوں بلکہ ہر موجود کی ظرفیت اپنی وضعیت و موقعیت کے مطابق ہوتی ہے اورتمام برتن اپنی ظرفیت کے مطابق پُرہیں اورجس قدرصلاحیتیں و قابلیتیں زیادہ ہوں گی اور فعلیت پیدا کریں گی اسی قدر برتن بھی بڑے ہوں گے، مثال کے طور پر انسان کی معلومات اور علمی درجات جس قدر زیادہ ہوں اس کے قلب و سینہ کا ظرف و سیع ہو جاتا ہے۔
اس طرح جمادات، نباتات اور حیوانات ہر ایک اپنی ظرفیت کے ظہور کے لیے خاص میدان رکھتا ہے،مثال کے طورپر گندم کا دانہ کچھ مہینوں میں کاشتکاری کے اصولوں کی مراعات کے ساتھ ستر دانوں والے خوشہ میں تبدیل ہو سکتاہے،البتہ جس قدر مئوثر عوامل کی مقدارکم ہو گی، اسی قدر گندم کے دانے کم ہوں گے اورجب بھی اصلاحی عوامل ترقی کریں گے، زیادہ دانے پیدا ہوں گے،دیگر انواع نباتات و حیوانات بھی اسی طرح ہیں۔
موجودات کے تفاوت اور صلاحیتیوں کے اختلاف کے بارے میں چند نکات کی طرف اشارہ قابل ِتوجہ ہے:
اول: ایسا نہیں کہ ہر موجود صرف خاص شرائط میں ہو اور صرف ایک طرح کی قابلیت رکھتا ہو بلکہ بسا اوقات اس کی وضعیت تبدیل ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کی قابلیت بھی ترقی پاتی ہے،مثال کے طور پر مدفون چیزیں کئی ہزار سال کے دوران پتھر، کوئلے اور پھر ہیرے کی دھاتوں میں تبدیل ہوتی ہیں،دو طرح کے پھلوں یا پھولوں کی ترکیب سے ایک نیا پھل یا نیارنگ جدید ترکیب حاصل کرتا ہے لیکن اس طرح کی تمام تبدیلیاں ایک نظام اور حساب و کتاب کے مطابق ہیں۔
دوم:تغییرکی ایجادبعض اوقات خارجی عوامل کی طرف سے ہوتی ہے، جیسے جمادات و نباتات میں ہونے والی اکثر تبدیلیاں کہ جن میں انسانی عوامل یا ماحول وغیرہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ کبھی خارجی عوامل کے علاوہ مشخصی عوامل اندرونی صلاحیتوں میں تبدیلی و تغییرکا موجب بنتے ہیں انسانوں کے بارے میں اکثرایسا ہی ہے کہ افرادکاارادہ اوراندرونی عوامل ماحول اور ان کی حالت میں بہت زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں اور انسان کا ارادہ اکثر اوقات ان کے درمیان صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت ہی زیادہ فرق و اختلاف کا باعث ہوتا ہے۔
البتہ بعض واقعیات وحقائق بھی ناقابل تغییرہوتے ہیں اور ہمیشہ ثابت رہتے ہیں،جیسے اصول عقلی مانند’’اجتماع نقیضین کامحال ہونا‘‘یاریاضی کے اصول ایسا فرق طبیعی طور پراللہ تعالیٰ کی طرف سے کائنات پرحاکم ہے، اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ہیں لیکن یہ ارادۂ الٰہی عبث و بے دلیل نہیں بلکہ خود موجودات کی وضعیت کے متناسب ہے، مثال کے طور پر اگر ایک خراب دانہ پائوں کے نیچے روندا جائے تو خوشہ میں تبدیل ہونی کی صلاحیت کوکھودے گااوراگرزمین میں کاشت کیاجائے اورباقی شرائط پانی،روشنی فراہم ہوںتوسبزہوکرخوشہ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جو کچھ زیرِزمین کاشت کیا گیا ہے اگرگندم ہو تو گندم پیدا ہوتی ہے اور اگر سیب کا دانہ ہو تو سیب پیدا ہوتا ہے جیسا کہ انسان کا نطفہ متناسب حالات میں ہو تو انسان پیدا ہوتا ہے اور اگر حیوان کا نطفہ اپنا طبیعی سفر طے کرے تو حیوان پیدا ہوتا ہے۔
انسانوں کے درمیان بھی اگر انسانی نطفہ عالی تر جینز کا حامل ہو تو اس سے پیدا شدہ انسان بھی زیادہ ذہین و طاقتور ہو گا لیکن اگر نشئی یا شرابی باپ کا نطفہ ہو تو ممکن ہے کہ پیدا ہونے والابچہ جسمانی و عقلی طور پر مشکلات سے دوچار ہو، حتیٰ کہ ایک باپ سے بھی مختلف شرائط میں مختلف صلاحیتوں اور استعداد والے بچے پیدا ہوں کیونکہ شرائط و عوامل کی تبدیلی سے مشروط و معلول بھی مختلف ہوتے ہیں۔
گزشتہ دلائل کی بنا پر ہر موجود کی قابلیت مجموعی شرائط و عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہرہوتی ہے اور اس بات سے کہ خداوندمتعال نے موجودات کو قابلیت عطا کی ہے،مقصودیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے عمومی نظام کو اس طرح بنایا ہے اور اس دنیا میں اس کی عمومی مشیت اسی طرح ہے،یہی نظم وانضباط قابلیتوں کے فرق کے قابل محاسبہ و قابل پیش بینی ہونے کا باعث ہے تاکہ سائنس دان سائنسی قوانین جیسے کیمسٹری، فزکس وغیرہ کو کشف کریں اور ڈاکٹروطبیب مشابہ علامتوں کے ذریعے سے بیماریوں کی تشخیص میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن اس مشکل کے حل کے لیے اور اصلی و بنیادی سوال کے جواب کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ہم جان لیں کہ:
الف:قابلیت ساز شرائط صرف مادی شرائط اور اس میں منحصرنہیں بلکہ غیرمادی اورمعنوی عوامل بھی ایک موجودکی افزائش یااس کی قابلیت کی کمی میں موثرہیں، مثال کے طورپرپانی کی خاص مالیکیولی کشش ایک خاص زمانہ میں اپنا اثر کھو دے، جیسا کہ حضرت موسیٰ کے لیے دریائے نیل میں شگاف پیدا ہوا یا حضرت ابراہیم ؑ کے لیے آگ ٹھنڈی ہوئی۔
اس بنا پر اگر ہم کائنات کو وسیع نظر سے دیکھیں اور تمام مادی معنوی عوامل اور معلوم و نامعلوم اثرات پر اعتقاد رکھیں تو اچھی طرح یہ نتیجہ حاصل کریں گے کہ تمام صلاحیتیں نظم و انضباط کی بنیاد پر ہیں اور خدادادی قابلیتوں سے مقصود یہی ہے کہ تمام مادی و معنوی پسِ منظر کی رعایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ہر موجود کو اس کے لائق صلاحیتیں عطا کرے۔
انبیائِ کرام کی خلقت
سوال۲۷: قرآن کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے آدمؑ، نوحؑ، آل ابراہیم ؑ،و آل عمران ؑ کو عالمین پرفضیلت دی،(۱)اگراللہ تعالیٰ نے ان کی خلقت کو آغاز ہی سے ممتاز قراردیاہے توکیایہ امتیاز ایک قسم کی تبعیض (بلاوجہ ترجیح) نہیں؟
ایک صحیح نظام کے ساتھ مخلوط خلقت ایک طرح کے اختلافات کے وجود کا تقاضا کرتی ہے،مثال کے طورپر انسانی جسم ایک منظم مخلوق ہے اوراس کی تنظیم اعضاء کے درمیان اختلافات کی مستلزم ہے،اسی وجہ سے سیلز جیسے مغزی سیلز انسانی جسم کی استقامت کو محفوظ کرتے ہیں،یہ تمام خصوصیات جوایک منظم نظام کے لیے انتہائی لازمی ہیں اس قدر سادہ نہیں، بلکہ ایک طرح کے خاص کام اور خصوصیات سے متناسب ذمہ داریوں کے ہمراہ ہیں،اس بناپرجیسا کہ انبیاء اور انسانیت کے رہنما خاص خصوصیات رکھتے ہیں،وہ عظیم ذمہ داریاں بھی اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں اور تھکا دینے والی مشکلات کو بھی برداشت کرتے ہیں۔
جیسا کہ انبیاء اور آئمہ کی زندگی اس بات کی گواہ ہے،حالانکہ دوسرے لوگوں کی ذمہ داریاں کمترہو جاتی ہیں،اس بناپریہ امتیازات بلاوجہ نہیںکیونکہ اولاً:استحقاق پرمبنی ہیںاور استحقاق کی شرائط میں سے ایک ان کے اختیاری افعال ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازل سے آگاہ ہے۔
ثانیاً: معاشرہ کی رہنمائی کا لازمہ، مسئولیت کے ساتھ ساتھ صاحب صلاحیت افراد کو امتیاز دینا ہے اور یہ ایک قسم کا بشریت پر لطف اور ان کی سعادت و بھلائی کے لیے ہے،ناگفتہ نہ رہے کہ انبیاء جو امتیازات رکھتے ہیں ان کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داریوں کے علاوہ تھوڑی سی کوتاہی پربہت ہی سخت آزمائشیں ان کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، مثال کے طور پر حضرت یونس ؑ نے اگرچہ اپنی قوم کی ہدایت کے لیے سخت محنت کی لیکن کیونکہ ضروری حوصلہ و صبر کو اپنے اوپر نافذ نہ کرسکے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں دریااور مچھلی کےبطن کی تاریکی میں مبتلاکر دیا۔(۲)
اس طرح حتیٰ کہ پیامبراسلام ﷺ جو کہ تمام انبیاء سے زیادہ اللہ کے نزدیک محبوب ہیں قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:
وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِoلَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِoثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ oفَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حٰجِـزِيْنَ (۳)
اور اگر اس (نبی) نے کوئی تھوڑی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی،تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے،پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے,پھر تم میں سے کوئی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
البتہ رسول خدا ﷺ سے ایسی کوتاہی نہیں ہوتی بلکہ (آپ نے) لوگوں کی ہدایت کے لیے توقع سے زیادہ کوشش اور ہمدردی کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
طٰہٰ مٰا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لِتَشْقٰی(۴)
طا، ہا۔ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں ۔
درحقیقت یہ انبیاء کی اختیاری خصوصیات تھیں جو ان کی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت کو واضح کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے آئندہ مستقبل کو جانتے ہوئے پیامبری کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پررکھی، جیسا کہ قرآن مجید میں پڑھتے ہیں:
اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ(۵)
اللہ جہاں(جس دل میں)اپنی رسالت قرار دیتا ہے اُس(قابلیت و صلاحیت)کو خوب جانتا ہے،جولوگ(اس جرم کے)مجرم ہیں اُن کو عنقریب اُن کی مکاری کی سزا میں خدا کے یہاں بڑی ذلت اور سخت عذاب ہو گا۔

(حوالہ جات)
(۱)سورہ آل عمران ،آیت۳۳
(۲) سورہ انبیاء، آیت۸۷
(۳)سورہ حاقہ، آیت ۴۷، ۴۴
(۴) سورہ طہ، آیت ۲،۱
(۵) سورہ انعام، آیت ۱۲۴