فرق و اختلاف

فرق و اختلاف کا راز
سوال۲۵:اگر اللہ تعالیٰ عادل ہے تو عالم خلقت میں اتنا فرق اور اختلاف و تبعیض کیوں ہے؟ کسی کو اللہ تعالیٰ مرد اور کسی کو عورت، ایک کو اندھا، بہرا یا گونگا خلق کرتا ہے؟ اور دوسرے کو صحیح و سالم۔۔۔؟ کیوں سب کو ایک طرح سے اور ایک صورت میں خلق نہیں کرتا؟
اس سوال کے جواب کے لیے چند بنیادی باتوں کی طرف مختصر طور پر اشارہ کیا جاتا ہے۔
۱۔ عدل کا مفہوم
عدل کا لغوی معنی، برابری اور برابر کرنا ہے اور عرف میں عدل سے مراد ظلم اور دوسروں کی حق تلفی کے مقابلے میں ان کے حقوق کی ادائیگی ہے، عدل کی تعریف یوں کی گئی ہے:
اِعْطٰائُ کُلِّ ذیٖ حَقٍّ حَقَّہُ
ہرصاحب ِ حق کو وہی دینا جس کی وہ اہلیت رکھتا ہے
عدل کے اور بھی معانی بیان کیے گئے ہیں لیکن جس عدل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دی جاتی ہے اس سے مراد خداوندتعالیٰ کا فیض عام اورایک وسیع و بے انتہا مغفرت و بخشش ہے اوریہ فیض ومغفرت تمام صاحب ِ کمال اورممکن الوجود موجود کے لیے بغیر کسی رکاوٹ اور وقفے کے جاری و ساری رہتا ہے،باالفاظ دیگر عدلِ الٰہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و عنایت ہی کا دوسرا نام ہے۔
۲۔ نظام خلقت میں جو چیز پائی جاتی ہے اور جس کا وجود ہے وہ فرق اور اختلاف ہے نہ کہ تبعیض یعنی کسی کو بلاوجہ کسی دوسرے پر ترجیح دینا اور تبعیض قابلِ مذمت چیز ہے اور یہ تمیز عادلانہ ہی ہے جبکہ موجودات کی تخلیق میں فرق اور ان کا مختلف اقسام کاہونا مذموم و غیر عادلانہ نہیں ہے۔
عدل کا لازمہ تمام انسانوں یا اشیاء کو برابر قرار دینا نہیں ہے، مثال کے طور پر ایک عادل استاد اسے نہیں کہتے جو اپنے تمام محنتی و غیر محنتی شاگردوں کو ایک جیسے نمبر دے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ایک شاگرد کی محنت و قابلیت کے مطابق نمبر دے اور استحقاق کے مطابق تعریف کرے یا ملامت کرے۔
پس اللہ تعالیٰ کی حکمت و عدل کا تقاضا یہ نہیں کہ تمام مخلوقات کو ایک جیسا پیدا کرے، حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ کائنات کو اس طرح خلق کرے کہ مختلف موجودات اپنی قابلیت و لیاقت کے مطابق اصلی اور اعلیٰ ہدف کی طرف گامزن ہوں،اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ عناصر ِکائنات ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور وہ قطعاً ایک دوسرے سے جدا جدا اور غیر متعلق نہیں ہیں اور کل کائنات ایک منظم مجموعے کی مانند ہے اور کائنات کا ہرایک عنصروعضواپنے کل کا حصہ اور جز ہے۔ ایک مجموعہ میں ہر ایک جز کا خاص مقام ہوتا ہے اوروہ اپنی اسی خاص موقعیّت کی بناپر ایک خاص کیفیت کا بھی حامل ہوتا ہے۔
جہان چوں چشم و خط و خال و ابروست

کہ ہر چیزی بہ جای خویش نیکوست
نظم کائنات کی مثال انسانی جسم میں موجود آنکھ، خدوخال اور ابرو کی سی ہے کہ ان میں سے ہرایک چیزمتعلقہ مقام پرہی خوبصورت لگتی ہے،بنیادی طور پر اگر تفاوت نہ ہو تو کثرت و تنوع بھی نہیں ہو گا اوراگرکثرت و تنوع نہ ہو تو مجموعی نظام کا کوئی مفہوم نہیں ہوگا،اگر تمام انسان مردہوتے یا تمام موجودات ایک ہی نوع وقسم کے یا یہ تمام اجزاء ایک ہی قسم کے ہوتے توہرطرف یکسانیت کا دور دورہ ہوتااور کائنات میں یہ رنگا رنگی زیبائی اور نظم و ضبط موجود نہ ہوتی۔
۳۔ موجودات کا اختلاف و فرق نظام علت و معلول کا لازمہ ہے،اس معنی میں کہ ہر معلول خاص علت اورہرعلت خاص معلول سے متعلق ہوتی ہے،درحقیقت نظام علت و معلول میں ہرموجود مشخص ومعیّن مقام رکھتا ہے یعنی معلول ایک معین چیزکا معلول اورعلت ایک معین چیزکی علت ہے۔
موجودات میں معیّن نظام کے نہ ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ ہرموجودہرچیزکے ایجادکا سبب بنے اورہرچیزدوسری ہرچیزسے پیدا ہو، مثلاً ایک ماچس کے شعلہ کااثرسورج کے اثرکے برابرہو،اس بناء پرہرعلت کا اپنے معلول کے ساتھ ارتباط اور ہر معلول کا اپنی علت کے ساتھ ارتباط خودعلت ومعلول کی ذات سے ہی قائم ہوتا ہے۔
باالفاظ دیگر ہر موجود اپنے مرتبہ میں سلسلہ اعداد کی طرح ہے کہ ہر عدد کی نفی خود اس سلسلہ کی نفی کے مساوی ہے،مثال کے طور پر اگر ہم چاہیں کہ عدد پانچ چھ سے زیادہ پر دلالت کرے توپھر وہ عدد پانچ نہیں رہے گا،اسی طرح اپنی علّتِ کمال سے برترہرمعلول کی پیدائش اس معلول کے فقدان حتیٰ کہ اس علت کے نہ ہونے کے مساوی ہے۔
۴۔ عالمِ مادہ میں اس کے خصوصی اسباب و مسببات کی بنیاد پر تصادم اورٹکرائو اس کی ذات میں پوشیدہ ہے اور مادہ کی اس خصوصیت کے بغیر اس کا تصورکرناخود اس کے وجودکی نفی ہے،آگ جہاں کہیں بھی ہواس کا خصوصی اثرجلاناہے،خواہ جھونپڑی میں ہویامسجدمیںخواہ گھرمیں ہویادکان میں۔
اس بنا پریہ ممکن نہیں کہ عالم مادہ نظامِ علّت سے ہٹ کر کوئی کام انجام دے، مثلاً ایسا نہیں ہے کہ شراب فقط شرابی پر مضر اثرات مرتب کرے اور اس کی اولاد اس سے محفوظ رہے یا مرض میں مبتلا شخص کو تو نابود کرے اور جہاں اس بیماری کے جراثیم سے بچائو کا بندوبست نہ کیا جائے وہاں یہ اثرانداز نہ ہو،عالم مادہ میں نفی تزاحم کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف مجردات کی خلقت پر اکتفا کرے اور مادی دنیا کی بساط سمیٹ دے۔
اس طرزفکرکا نتیجہ یہ ہے کہ بہت ہی عظیم خیرات و برکات کو جو کائنات کے اس حصہ میں موجودہیں وہ مدِنظرنہ رکھیں۔
۵۔ نظام علت ومعلول اورعالم مادہ میں تزاحم وٹکرائوکو مدنظررکھتے ہوئے تفاوت، نقائص اورضعف کا وجود ہر ایک اپنی جگہ پر ضروری اور ناقابل اجتناب ہیں اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی کرنانظام عالم کے سلسلہ میںتغیرکرنے اورکل عالم کو ختم کرنے کے مترادف ہے،بہرحال خلقت میں موجود طبیعی تفاوت دو طرح کی ہے۔
الف:وہ تفاوت و فرق جو انسان کے علم، دانش و ارادہ سے مربوط نہیں(ایسے فرق ناقابل تغییر ہیں)۔
ب:انسانی علم، جہالت و ارادہ سے وابستہ فرق اور کمزوریاں۔
دوران زندگی میں بہت سی تکلیفیں جو بالخصوص رشتہ داروں اور بچوں میں پیدا ہوتی ہیں،طبیعی وفطری قوانین اوراحکامِ الٰہی سے انسان کی ناواقفیت کا نتیجہ ہیں،تحقیقات کے مطابق بچوں کی بہت سی جسمانی و نفسیاتی بیماریاں والدین کی لاعلمی اور غفلت کا نتیجہ ہیں،عام طور پر صاحب علم اور اصول زندگی کا پابند انسان صحیح و سالم تر اولاد سے برخوردار ہوتا ہے،اس قسم کی کمزوریاںا ورکوتاہیاں انسان کی مزید آگاہی اور صحیح عمل کرنے سے قابل رفع و اصلاح ہیں۔
۶۔ کچھ تکالیف اورنقصانات کے بدلے میں اللہ کی رحمت ِ و بے پایاں کا تقاضا ہے کہ بے گناہ کسی تکلیف و رنج میں مبتلا ہونے والوں کو اخروی ثواب کے ذریعے(۱) یا ذمہ داریوں و احکام میں سہولت(۲) و نرمی کے توسط سے اور دوسروں کو ان کے ساتھ ہمکاری اور ان کی مدد کے ذریعے سے اس کمی اور نقص کی تلافی کرے۔
موجودات کے فرق و اختلاف کے مذکورہ اسرار و رموز کے علاوہ اور بھی بہت سارے راز ہیں کہ یہاں پر اختصار کو مدنظر رکھتے ہو ئے ان جن کا ذکر کرنے سے معذور ہیں۔(۳)

(حوالہ جات)
(۱) سورہ بقرہ، آیت۱۰۰
(۲) سورہ نور، آیت۲
(۳) الف: مزید آگاہی کے لیے عدل الٰہی، شہید مطہری، بحث راز تفاوت ما، ب: خدا و مکالہ ش، محمد حسن