عالم کون ہے؟

۱۔حضرت محمد (صلی الله علیه و آله)

أعلَمُ النّاسِ مَن جَمَعَ عِلمَ النّاسِ إلى عِلمِهِ.

سب سے زیادہ عالم شخص وہ ہے جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ اکٹھا کرلے۔

 

۲ ۔حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

حُسنُ السؤالِ نِصفُ العِلمِ.

اچھا سوال کرنا آدھا علم ہے۔

 

۳۔حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

العِلمُ خَزائنُ و مَفاتِيحُهُ السُّؤالُ، فَاسألُوا رَحِمَكُمُ اللّهُ فإنّهُ تُؤجَرُ أربَعةٌ: السائلُ، و المُتَكلِّمُ، و المُستَمِعُ، و المُحِبُّ لَهُم.

علم خزانے ہیں اور ان کی کنجیاں سوال ہے، تو اللہ تم پر رحم کرے سوال کرو کیونکہ چار (افراد، سوال کی وجہ سے) اجر لیں گے: سوال کرنے والا اور بولنے والا اور سننے والا اور ان سے محبت کرنے والا۔

 

۴۔الإمام جعفر الصادق (عليه السَّلام ):

إنَّ لِكُلِّ شَي ءٍ زكاةً، و زكاهُ العِلمِ أن يُعَلِّمَهُ أهلَهُ.

بیشک ہر چیز کی کوئی زکات ہے اور علم کی زکات یہ ہے کہ علم اس کے لائق افراد کو سکھائے۔

 

۵۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

إنّ لِلجِسمِ سِتَّةَ أحوالٍ: الصِّحّةُ، و المَرضُ، و المَوتُ، و الحَياةُ، و النَّومُ، و اليَقَظَةُ، و كذلكَ الرُّوحُ، فحياتُها عِلمُها، و مَوتُها جَهلُها، و مَرَضُها شَكُّها، و صِحَّتُها يَقِينُها، و نَومُها غَفلَتُها، و يَقَظَتُها حِفظُها.

 

بیشک جسم کی چھ حالتیں ہیں: صحت اور مرض اور موت اور حیات اور نیند اور بیداری۔ اور روح بھی اسی طرح ہے تو اس کی حیات اس کا علم ہے اور اس کی موت اس کی جہالت ہے اور اس کی مرض اس کا شک ہے اور اس کی صحت اس کا یقین ہے اور اس کی نیند اس کی غفلت ہے اور اس کی بیداری اس کی حفاظت ہے۔

 

۶۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

جالِسِ العُلَماءَ يَزدَدْ علمُكَ، وَ يَحسُنْ أدبُكَ، وَ تَزكُ نَفْسُكَ

علماء کی ہم نشینی اختیار کرو تاکہ تمہارے علم میں اضافہ ہوگا اور تمہارا ادب سنور جائے اور تمہارا نفس پاکیزہ ہوجائے۔

 

۷۔ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

أعلَمُ النّاسِ مَن جَمَعَ عِلمَ النّاسِ إلى عِلمِهِ.

سب سے زیادہ عالم شخص وہ ہے جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ اکٹھا کرلے

 

۹۔حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

الخضرُ عليه السلام لِموسى عليه السلام: یا موسى، تَفَرَّغْ لِلعِلمِ إن كُنتَ تُريدُهُ، فإنَّ العِلمَ لِمَن تَفَرَّغَ.

حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا: اے موسی! اگر علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے سارا وقت لگا دو، کیونکہ علم اس شخص کے لئے ہے جو اپنا سارا وقت اس پر لگادے۔

 

۱۰۔الإمام علي (عليه السَّلام):

إنَّ العِلمَ حَياةُ القُلوبِ، و نورُ الأبصارِ مِنَ العَمى، و قُوَّةُ الأبدانِ مِنَ الضَّعفِ

یقیناً علم دلوں کی حیات، اور نابینائی سے آنکھوں کا نور، اور کمزوری سے بدن کی طاقت ہے

 

۱۱۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

كُلُّ وِعاءٍ يَضيقُ بِما جُعِلَ فيهِ إلّا وِعاءَ العِلمِ؛ فإنَّهُ يَتَّسِعُ بِهِ.

ہر ظرف اس چیز سے جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوجاتا ہے مگر علم کا ظرف، جو اس کے ذریعے وسیع ہوجاتا ہے۔

 

۱۲۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

جالِسِ العلماءَ يَزْدَدْ علمُكَ و يَحْسُنْ أدبُكَ وَ تَزكُ نَفْسُكَ.

علماء کی صحبت اختیار کرو تاکہ تمہارے علم میں اضافہ ہو اور تمہارا ادب اچھا ہو اور تمہارے نفس کا تزکیہ ہو۔

 

۱۳۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

يا مؤمنُ، إنّ هذا العِلْمَ والأدبَ ثَمَنُ نفسِكَ، فاجتَهِدْ في تَعلُّمِهِما، فما يَزيدُ مِن عِلمِكَ وأدبِكَ يَزيدُ في ثَمَنِكَ وقَدْرِكَ.

اے مومن !یہ علم و ادب تیری جان کی قیمت ہیں، لہذا ان دونوں کو سیکھنے کے لئے کوشش کر کیونکہ تیرے علم و ادب میں جتنا اضافہ ہوگا اتنی تیری قیمت و قدر بڑھے گی۔

 

۱۴۔  الإمام علي (عليه السَّلام):

التّجارِبُ علمٌ مُستفادٌ.

تجربات ایسا علم ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

 

۱۵ ۔الإمام علي (عليه السَّلام):

لَيسَ الخَيرُ أنْ يَكْثُرَ مالُكَ و ولدُكَ، و لكنَّ الخَيرَ أنْ يَكْثُرَ عِلمُكَ، و أنْ يَعْظُمَ حِلمُكَ، و أن تُباهِيَ النّاسَ بِعبادَةِ ربِّكَ، فإنْ أحسَنْتَ حَمِدْتَ اللّهَ، و إن أسَأتَ اسْتَغْفَرتَ اللّهَ.

خیر یہ نہیں کہ تمہارا مال اور اولاد زیادہ ہو جائیں بلکہ خیر یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ ہوجائے اور تمہاری برداشت بڑھ جائے اور تم اپنے پروردگار کی عبادت کرنے سے لوگوں پر ناز کرسکو اور اگر اچھا کام کرو تو اللہ کی حمد کرو اور اگر برائی کرو تو اللہ سے مغفرت طلب کرو۔

 

۱۶۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

لا تُعادوا ما تَجهَلونَ؛ فإنَّ أكثرَ العِلمِ في ما لا تَعْرِفونَ.

جس چیز کو نہیں جانتے ہو اس کی دشمنی مت کرو، کیونکہ، زیادہ تر علم ان چیزوں میں ہے جن کو تم نہیں جانتے۔

 

۱۷۔الإمام علي (عليه السَّلام):

حَسْبكَ مِن الجَهلِ أنْ تُعجَبَ بعِلْمِكَ.

تمہاری جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم اپنے علم پر غرور کرو۔

 

۱۸۔الإمام علي (عليه السَّلام):

ثَمَرةُ العِلمِ إخْلاصُ العَمَلِ.

علم کا ثمر، عمل کا اخلاص ہے۔