اہل بیت رسولؐ

۱۔ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):
كمال الدين عن جابرٍ الجُعفيِّ: سمعتُ جابرَ بنَ عبدِ اللّهِ الأنصاريّ يقول: لَمّا أنزَلَ اللّهُ عَزَّوجلَّ على نَبيِّهِ محمّدٍ صلى الله عليه و آله: «أطِيعُوا اللّهَ وأطِيعُوا الرَّسُولَ واولي الأمْرِ مِنْكُم» قلتُ: يا رسولَ اللّهِ، عَرَفْنا اللّهَ ورَسولَهُ، فمَن اولو الأمرِ الّذينَ قَرَنَ اللّهُ طاعَتَهُم بطاعَتِكَ؟ فقالَ عليه السلام: هُم خُلَفائي ياجابِرُ، وأئمَّةُ المُسلِمينَ مِن بَعدي، أوَّلُهُم عليُّ بنُ أبي طالِبٍ، ثُمَّ الحَسَنُ، و الحُسَينُ، ثمّ عليّ بن الحسين، ثمّ محمّد بن عليّ المعروف في التوراة بالباقر… ثمّ الصّادق جعفر بن محمّد، ثمّ عليّ بن موسى، ثمّ موسى بن جعفر، ثمّ محمّد بن علي، ثمّ عليّ بن محمّد، ثمّ الحسن بن عليّ، ثمّ سمييّ وكنيي حجّة اللّه في أرضه وبقيّته في عباده ابن الحسن بن عليّ ….
کمال الدین میں جابر جعفی سے منقول ہے: میں نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے سنا کہ وہ کہتے تھے: جب اللہ عزّوجل نے اپنے نبی محمد صلّی اللہ علیہ وآلہ پر نازل کیا: "اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں” تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پہچان لیا، تو اولوالامر کون ہیں جن کو اللہ نے اپنی اطاعت اور آپؐ کی اطاعت کے ساتھ ملایا ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: وہ میرے خلیفے ہیں اے جابر، اور مسلمانوں کے امام ہیں میرے بعد، ان کے پہلے علی ابن ابی طالب ہیں، پھر حسن اور حسین، پھر علی ابن الحسین، پھر محمد ابن علی جو تورات میں باقر سے مشہور ہیں… پھر صادق جعفر ابن محمد، پھر علی ابن موسی، پھر موسی ابن جعفر، پھر محمد ابن علی، پھر علی ابن محمد، پھر حسن ابن علی، پھر میرے ہم نام اور ہم کنیت، اللہ کی حجت اس کی زمین میں اور اس کا بقیہ اس کے بندوں میں ابن الحسن ابن علی…