امام علی نقی (ع) اور ظالم حکمران

(تحریر: محمد اشرف ملک)

ولادت
حضرت امام علی نقی (ع) 212 ھ کو اس دنیا میں آتے ہیں۔ 8 سال کی عمر مبارک میں سن 220 ھ میں والد گرامی امام محمد تقی کی شہادت ہو جاتی ہے۔ تقریباً 22 سال تک مدینہ منورہ میں زندگی بسر کرتے ہیں اور 233 ھ میں متوکل عباسی انہیں اجباراً مدینہ سے سامرا بلاتا ہے۔ 6 عباسی خلفاء معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز جیسے ظالم حکمرانوں کے ظلم و ستم سے گزرنے کے بعد، معتز ہی کے زمانے میں اسی کے ظالمانہ حکم سے رجب 254 ھ میں 42 یا 43 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوتے ہیں۔

عباسی حکومت کے مظالم
عباسی حکومت کے زمانے میں مسلمانوں کی سلطنت میں بہت اضافہ ہوا، علوم میں بہت ترقی ہوئی، مسلمانوں کا چرچا تھا، مسلمانوں کی ایک ہیبت تھی، دبدبہ تھا، رشد اور ترقی ہو رہی تھی، لیکن یہ سب کچھ طاغوت، ظالم اور استعمار و استکبار کی خدمت میں تھا، شیطان کی خدمت میں تھا۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود پاک ترین انسان، تقویٰ کی انتہا پر پہنچے ہوئے افراد، عالم ترین بندگان خدا بلکہ واضح طور پر جن کو اللہ اور اس کے رسول (ص) نے امت کا حاکم اور حکمران بنایا، ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے یا ایک ایسی فضا ان کے لئے بنا دی جاتی ہے کہ ان کا نور ولایت مستقیم طور پر لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ امام موسٰی کاظم (ع) ہوں یا امام رضا (ع)، امام محمد تقی (ع) ہوں یا امام علی نقی(ع) یا حتٰی امام حسن عسکری (ع) یا حتٰی امام زمان (عج)، ان کی سیرت کا مطالعہ کریں، کس قدر ان الٰہی نمائندوں پر ظلم کیا گیا، کیوں ان کو لوگوں سے اور لوگوں کو ان سے دور رکھا گیا؟ بنو امیہ کی حکومت میں کیوں نام علی پر پابندی لگائی گئی، ذکر علی پر پابندی لگائی، امام باقر و امام صادق کے مقابلے میں اور لوگوں کو بطور عالم مشہور کیا گیا۔

مر گئے مردود نہ فاتحہ نہ درود
سب سرمایہ، سب بیت المال، فتوحات کا سب کچھ و مال غنیمت ظالم ہارون الرشید، مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز جیسے ظالم حکمرانوں پر خرچ ہو رہا تھا۔ علم و درباری علماء، درباری محدثین، درباری مفتی ان ظالم حکمرانوں کی تعریف اور خدمت میں تھے۔ حق اور آل محمد سے لوگوں کو دور کرنے پر لگے ہوے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہوا؟ آج کہاں ہے ہارون؟ کیا اس کی قبر پر کوئی آنے والا ہے؟ مامون کہاں ہے؟ متوکل بد بخت کہاں ہے؟ معتصم کہاں ہے؟ مر گئے مردود نہ فاتحہ نہ درود، جبکہ آج کروڑوں انسانوں کے دلوں کا مرکز و محور حرم امام رضا، حرم امام علی، حرم امام حسین، حرم امام موسٰی کاظم، حرم امام محمد تقی، حرم امام علی نقی اور حرم امام حسن عسکری ہیں۔ ایسا نظام جس کی باگ ڈور شیطان صفت افراد کے ہاتھ میں ہو، حکومت حق کی نہ ہو بلکہ شیطان کی ہو، تو یہ نظام اس طوفان اور سیلاب کی مانند ہوتا ہے، جو اپنے ساتھ ہر چیز کو بہا کر لے جاتا ہے۔ اس طوفانی سیلاب کی مخالف سمت میں اگر کویی انسان حرکت کرنا چاہے تو کیا ایسا کرسکتا ہے؟ اگر حرکت کرنی شروع بھی کرے تو کس قدر حرکت کرے گا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر یہ سیدھا بھی کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا نہیں ہوسکے گا۔ طاغوتی اور شیطانی نطام میں انسان کا الٰہی، مخلص اور کامل بننا تو کجا، ایک سادہ مسلمان رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ریاکاری، خوشامد، بزدلی، کم ہمتی و مایوسی جیسی مشکلات میں غرق ہو کر انسان طاغوت، ظالم بادشاہوں اور سفاک حکمرانوں کی خدمت میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے، جو اسے بھی اپنے ساتھ جھنم کا ایندھن بنا دیتے ہیں۔

امام علی نقی اور جنیدی نامی عالم
ایسے نظام کے ہوتے ہوئے بھی اس سورج کی طرح جو بادلوں میں چھپ جانے کے باوجود اپنی روشنی سے عالم کو منور کرتا ہے، خورشید امامت یعنی امام معصوم بھی ظلم و ستم کے بادلوں کے باوجود، پورے عالم اور بالخصوص تشنگان حقیقت کو اپنے نور ہدایت سے منور فرما رہا ہوتا ہے۔ امام محمد تقی کی شہادت کے بعد چونکہ امام علی نقی کی عمر مبارک 6 سال یا 8 سال ہے۔ معتصم نے اپنے ایک قریبی شخص کو بغداد سے مدینہ جنیدی نامی عالم دین کے پاس بھیجا، جو دشمن اہلبیت تھا۔ اس سے کہا کہ مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ تمہیں اس بچے کا استاد مقرر کروں، تاکہ تم اس کی ویسی پرورش کرو، جیسی ہم چاہتے ہیں۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر چھ سال تھی اور معاملہ حکومت کا تھا، کون اس کے سامنے کھڑا ہوسکتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد دربار خلافت سے وابستہ ایک شخص نے الجنیدی سے ملاقات کی اور اس سے اس بچے کے بارے میں پوچھا، جسے اس کے حوالے کیا گيا تھا۔ الجنیدی نے کہا: بچہ؟! یہ بچہ ہے؟! میں ادبیات کی کوئی بات اسے بتانا چاہتا ہوں تو وہ ادب کے ایسے ایسے گوشے میرے سامنے کھول دیتا ہے کہ جن کا مجھے بھی علم نہیں ہوتا! ان لوگوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے؟! کبھی کبھی جب وہ حجرے میں داخل ہونا چاہتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ پہلے قرآن مجید کے ایک سورہ کی تلاوت کرو اور پھر حجرے میں داخل ہو، تو وہ پوچھتا ہے کہ کون سا سورہ پڑھوں؟ میں اس سے کہتا ہوں کہ کوئی بڑا سورہ؛ جیسے سورہ آل عمران پڑھو۔ وہ بچہ پوری سورۃ پڑھتا ہے اور اس کے مشکل الفاظ کے معنی بھی مجھے بتاتا ہے۔ یہ لوگ عالم ہیں، حافظ قرآن ہیں، قرآن مجید کی تاویل اور تفسیر کے عالم ہیں اور تم کہہ رہے ہو بچہ؟! اس بچے کا، جو بظاہر بچہ ہے لیکن ولی اللہ ہے؛ ((وآتیناه الحکم صبیا)) – استاد سے رابطہ کچھ عرصے تک جاری رہا اور استاد، اہلبیت علیھم السلام کا سچا شیعہ بن گیا۔

امام علی نقی کو سامرا بلانا
امام علی نقی مدینہ میں رہ کر 22 سال کی عمر مبارک تک جب لوگوں کو حق و حقیقت سے روشناس فرماتے ہیں تو بہت سارے لوگ ابوذر و میثم تمار کی طرح بنو عباس کے ظلم و ستم کے طوفانی سیلاب کی مخالف سمت میں حرکت کرتے ہیں۔ پوری دنیا سے تشنگان اسلام و حق و حقیقت امام کی قرآنی اور الٰہی تعلیمات کی شعاعوں کو حس کرنے کے بعد اپنی پناہ گاہ امام علی نقی کو قرار دیکر اس کشتی نجات کو سہارا بناتے ہیں۔ بنو عباس کی طرف سے مدینہ کا حاکم، سامرا میں موجود متوکل عباسی کو امام کے ان تمام کارناموں کی اطلاع دیکر امام کو اذیت اور تکلیف پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ متوکل عباسی ایسا ظالم اور دشمن اہلبیت ہے کہ امام حسین کے حرم کے ارد گرد سب مکانات گروا دیتا ہے۔ حرم کی زمین میں کھیتی باڑی کا حکم دیتا ہے۔ زیارت امام حسین کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ امام علی نقی کو مدینہ سے 233 ھ میں اپنی حکومت کے ایک سال بعد ہی سامرا یحٰی ابن ہرثمہ کو بھیج کر بلوا لیتا ہے اور امام کو ایک گھر ملتا ہے اور اسی میں امام کو رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

ابن سکیت اور متوکل کا سوال
اتنے سخت حالات میں امام کس طرح اپنے ماننے والوں سے ارتباط رکھے ہوئے ہیں، یہ انتہائی حیرت کی بات ہے۔ امام اسی سامرا میں، اس خطرناک ماحول میں بھی اپنے نمائندے بنا کر پوری دنیا کے شیعوں سے ارتباط رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ متوکل کے قریبی ترین افراد میں سے بھی امام کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ ایک نمونہ یہ ہے کہ متوکل کے بچوں کو پڑھانے والا استاد امام کے محبین میں سے ہو جاتا ہے اور آل محمد کا ایسا عاشق بنتا ہے کہ جب متوکل کو شبہ ہوتا ہے کہ یہ شیعہ ہے تو پوچھتا ہے کہ: ابن سکیت بتا تیرے نزدیک علی و فاطمہ کے بیٹے حسن و حسین عزیز ہیں یا میرے یہ دو بیٹے، تو یہاں پر امام علی نقی کا یہ شاگرد، امام علی نقی کا یہ شیعہ حقیقی، معلوم ہے کیا جواب دیتا ہے؟ اب آپ کو محسوس کرنا ہے امام علی نقی کی تربیت کے انداز کو، امام علی نقی کی مدیریت کو، اگر ہر زمانے میں ایک خاص انداز میں طاغوتی نظام کی مخالف سمت میں چلنے والے ابن سکیت کی طرح افراد نہ ہوتے تو آج یہ حقیقی اسلام ہم تک نہ پہنچ پاتا۔ ابن سکیت کہتا ہے تو تو حسن و حسین کے مقابلہ میں کہتا ہے تو اور تیرے یہ دونوں بیٹے علی کے غلام قنبر کے برابر نہیں ہوسکتے، علی کے بیٹوں کی منزل تو بہت دور ہے۔ اس جرم میں ابن سکیت کی زبان کھینچ کر اسے شہید کر دیا جاتا ہے۔

شہادت
بالآخر تین رجب سن 252 ھ میں معتز ظالم خلیفہ عباسی کے حکم سے امام علی نقی (ع) کو سامرا میں زہر دے کر شہید کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی آل محمد کے تمام دشمنوں کو تباہ و برباد فرمائے اور تمام شیعیان حیدر کرار کو متحد ہو کر ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین