تکبر و خودپسندی

(تحریر:سیدہ ثمرین بخاری )

یوں تو دنیا میں فسادات کی بہت سی وجوہات موجود ہیں لیکن علماء اخلاق نے غرور و تکبر، خودپسندى اور خودخواہی كى صفت كو ” ام الفساد” يعنى فساد كى ماں قرار ديا ہے۔ غرور اور خودپسندی کو تمام گناہوں اور برى صفات كا سبب بتلايا ہے۔ ” ولیم لا” ایک مشہور انگریز مصنف ہے۔ اس نے اخلاقیات کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے۔ برائی جب بھی شروع ہوتی ہے غرور سے شروع ہوتی ہے۔ برائی کاجب بھی خاتمہ ہوتا ہے تو انکساری کے ذریعہ ہوتا ہے۔
Evil can have no beginning, but from pride, nor any end but from (humility William Law)
یوں تو” ولیم لا ” نے یہ بات اخلاقی اعتبار سے کہی ہے، لیکن اگر ہم صرف اسلامی نقطعہ نظر کے مطابق اس بات پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آسمانی شریعت کی بات بھی یہی ہے۔ خدا کے نزدیک کسی آدمی کا سب سے بڑا جرم "شرک” ہے۔ اسی لئے شرک کی معافی نہیں اور شرک غرور کی سب سے اعلی سطح ہے یعنی اپنی ذات کو اتنی اہمیت دینا کہ اللہ اور اس کے احکامات کو فراموش کر دینا غرور ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے کیونکہ تکبر صرف واحد اللہ تعالی کی ذات کے لئے مخصوص ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلے میں جو بھی ظلم یا فساد کرتا ہے ان سب کی جڑ میں کھلا یا چھپا ہوا غرور شامل رہتا ہے۔ غرور کی وجہ سے آدمی حق کا اعتراف نہیں کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ حق کا اعتراف کر کے اس کی بڑائی ختم ہو جائے گی۔ وہ بھول جاتا ہے کہ حق کو نہ مان کر وہ حق کے مقابلہ میں خود اپنی ذات کو برتر قرار دے رہا ہے۔ اور یہاں سے ہی خودپسند متکبر لوگوں کے ہاتھوں اللہ کی مخلوق کو نہ صرف اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے بلکہ معاشرے میں تباہی شروع ہو جاتی ہے۔ فضائل اخلاقی کے لئے سب سے بڑا خطرہ اپنی ذات کی محبت اور خودپسندی ہے۔ کیونکہ اپنی ذات کی چاہت میں اضافے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر ایسے شخص کے دل میں دوسرے افراد سے محبت کرنے کی جگہ ہی باقی نہیں رہتی اور اپنی ذات کا غرور انسان کو اپنی غلطیوں کے اعتراف سے روکتا ہے اور ان حقائق کے قبول کرنے پر تیار نہیں ہونے دیتا، جن سے اس کے تکبر کا شیشہ چور ہو جانے کا اندیشہ ہو ۔

پروفیسر ” روبنیسون” کہتا ہے ہم کو بارہا یہ اتفاق ہوتا ہے کہ خود بخود بغیر کسی زحمت و پریشانی کے اپنا نظریہ بدل دیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی دوسرا ہمارے نظریہ کی غلطی یا اشتباہ پر ہم کو مطلع کرے تو پھر دفعةً ہم میں ایک انقلاب پیدا ہو جاتا ھے اور ہم اس غلطی کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں ہم کسی بھی نظریہ کو خود بڑی آسانی سے قبول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ہم سے ہمارا نظریہ چھیننا چاہے تو ہم دیوانہ وار اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں، ظاہری سی بات ہے ہمارے عقیدہ و نظریہ میں کوئی مخصوص رابطہ نہیں ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری خود خواہی و تکبر کی حس مجروح ہوتی ہے ۔ اس لئے ہم تسلیم نہیں کرتے اور اسی لئے اگر کوئی ہم سے کہے کہ تمہاری گھڑی پیچھے ہے یا تمہاری گاڑی بہت پرانے زمانہ کی ہے تو ممکن ہے کہ ہم کو اتنا ہی غصہ آ جائے جتنا یہ کہنے پر آتا ہے کہ تم مریخ کے بارے میں جاہل ہو یا فراعنہ مصر کے بارے میں تمہاری معلومات صفر کے برابر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ غصہ کیوں آتا ہے صرف اس لئے کہ ہمارے تکبر اور ہماری انانیت کو ٹھیس نہ لگ جائے۔

خودپسند اور غرور میں ڈوبا ہوا انسان خود اپنا سب سے بڑا دُشمن ہوتا ہے۔ ایسا شخص صرف حيوانیت كو چاہتا ہے۔ اس كے تمام افعال اور حركات كردار اور گفتار كا مركز حيوانى خواہشات كا چاہنا اور حاصل كرنا ہوتا ہے اور اسی لئے ایسا انسان مقام عمل ميں اپنے آپ كو حيوان سمجھتا ہے اور زندگى ميں سوائے حيوانى خواہشات اور ہوس كے اور كسى ہدف اور غرض كو نہيں پہچانتا۔ حيوانى پست خواہشات كے حاصل كرنے ميں اپنے آپ كو آزاد جانتا ہے اور ہر كام كو جائز سمجھتا ہے اس كے نزديك صرف ايك چيز مقدس اور اصلى ہے اور وہ ہے اس كا حيوانى نفس اور وجود، تمام چيزوں كو يہاں تك كہ حق عدالت صرف اپنے لئے چاہتا ہے اور مخصوص قرار ديتا ہے۔ حق اور عدالت جو اسے فائدہ پہنچائے اور اس كى خواہشات كو پورا كرے اسی عدالت اور ضابطوں کو مانتا ہے اور اگر عدالت یا سمجھانے والا کوئی بھی اسے صیح راستے کی طرف دعوت دے تو وہ ايسے کسی قانون دوست یا عدالت كو نہيں مانتا، بلكہ اپنے غرور اور خودپسندی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اپنے لئے صحيح سمجھتا ہے كہ اپنے دوستوں یا عدالتوں كا مقابلہ كرے يہاں تك كہ قوانين اور احكام كى اپنى پسند كے مطابق تاويل كرتا ہے يعنى اس كے نزديك اپنے افكار اور نظريات اور حقيقت ركھتے ہيں اور باقی کسی شے کی کوئی حثیت نہیں۔
انسانی نیک بختی اور بشری سعادت کی سب سے بڑی دشمن "خود پسندی” ہے۔ لوگوں کی نظروں میں تکبر و خودپسندی جتنی مذموم صفت ہے کوئی بھی اخلاقی برائی اتنی ناپسند نہیں ہے۔ خودپسندی الفت و محبت کے رشتہ کو ختم کر دیتی ہے۔ یگانگت و اتحاد کو دشمنی سے بدل دیتی ہے اور انسان کے لئے عمومی نفرت کا دروازہ کھول دیتی ہے اسلئے انسان کو چاہیئے کہ وہ جتنا دوسروں سے اپنے لئے احترام و محبت کا خواہشمند ہو، اتنا ہی دوسروں کی حیثیت و عزت و وقار کا لحاظ کرے اور ان تمام باتوں سے پرہیز کرے جن سے حسن معاشرت کی خلاف ورزی ہوتی ہو یا رشتہ محبت کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ لوگوں کے جذبات کا احترام نہ کرنے سے اس کے خلاف عمومی نفرت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اور خود وہ شخص مورد اہانت بن جاتا ہے۔ کبر کا لازمہ بدبینی ہے، متکبر انسان سب ہی کو اپنا بدخواہ اور خود غرض سمجھتا ہے اس کے ساتھ مسلسل ہونے والی بے اعتنائیوں اور اس کے غرور کو چکنا چور کر دینے والے واقعات کی یادیں اس کے دل سے کبھی محو نہیں ہوتیں اور بےاختیار و نادانستہ اس کے افکار اس طرح متاثر ہو جاتے ہیں کہ جب بھی اس کو موقع ملتا ہے وہ پورے معاشرے سے کینہ توزی کے ساتھ انتقام پر اتر آتا ہے اور جب تک اس کے قلب کو آرام نہ مل جائے اس کو سکون نہیں ملتا۔

اگر آپ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ فرمائیں تو یہ حقیقت آپ پر منکشف ہو جائے گی اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جو لوگ انبیائے الٰہی کی مخالفت کرتے رہتے تھے اور حق و حقیقت کے قبول کرنے سے اعراض کرتے رہے تھے وہ ہمیشہ دنیا کی خونیں جنگوں میں اس بات پر راضی رہتے تھے کہ ہستی بشر سرحد مرگ تک پہنچ جائے اور یہ جذبہ ہمیشہ حاکمانِ وقت کے غرور و خودپرستی ہی کی بنا پر پیدا ہوتا تھا۔ پست اقوام و پست خاندان میں پرورش پانے والے افراد جب معاشرہ میں کسی اچھی پوسٹ پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ متکبر ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو دوسروں کی شخصیت سے ماوراء سمجھتے ہیں اور ان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنی شرافت کا ڈھنڈھورا پیٹیں لیکن ایسے افراد بھول جاتے ہیں کہ غرور و تکبر نے نہ کسی کو شائستگی بخشی ہے اور نہ کسی کو عظمت و سر بلندی کی چوٹی پر پہنچایا ہے۔

ایک دانشمند کہتا ہے ” امیدوں کے دامن کو کوتاہ کرو اور سطحِ توقعات کو نیچے لے آؤ اپنے آپ کو خواہشات کے جال سے آزاد کراؤ، غرور و خودبینی سے دوری اختیار کرو قید و بند کی زنجیروں کو توڑ دو۔ تاکہ روحانی سلامتی سے ہم آغوش ہو سکو ۔ حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو سود مند نصائح کرتے ھوئے فرمایا تھا "نخوت و تکبر سے پرہیز کرنا” اسی طرح قرآن مجید کہتا ہے اور لوگوں کے سامنے (غرور سے ) اپنا منہ نہ پھلانا، اور زمین پر اکڑ کر نہ چلنا کیونکہ خدا کسی اکڑنے والے اور اترانے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں، اگر خدا کسی بندے کو تکبر کی اجازت دیتا تو ( سب سے پہلے ) اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء کو اجازت دیتا لیکن خدا نے اپنے انبیاء و اولیاء کے لئے بھی تکبر پسند نہیں فرمایا، بلکہ تواضع و فروتنی کو پسند فرمایا ( اسی لئے ) انبیاء و اولیاء نے ( خدا کے سامنے ) اپنے رخساروں کو زمین پر رکھ دیا اور اپنے چہروں کو زمین پر ملا اور ایمانداروں کے سامنے تواضع و فروتنی برتا۔ تکبر کرنے والے قطع نظر اس بات کے کہ پورا معاشرہ ان کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے ان کے لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ” تکبر سے بچو کیونکہ جب کسی بندے کی عادت تکبر ہو جاتی ھے تو خدا حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کا نام جباروں میں لکھ لو، ہم میں سے ہر وہ شخص جو متکبر خودپسند واقعی اپنی سعادت و خوش بختی کا خواہاں ہے تو اس کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیئے اور اس نفرت انگیز صفت سے اپنی شخصیت کو الگ کرنا چاہیئے کیونکہ اگر اس نے اس کی سرکوبی کی کوشش نہ کی تو ہمیشہ ناکامی کا شکار رہے گا۔