خدا اور آئمہ معصومینؑ کی محبت

سوال۹۰: ۔ حبِّ ذات، حبِّ خدا،حُبِّ انبیاء و آئمۃ ؑاور اچھائیوں سے محبت میں کیا رابطہ ہے؟
انسان کمالِ محض کو چاہتا ہے، اگر خود کو چاہتا ہے تو اس لیے کہ کمال تک رسائی حاصل کرے، قہری طور پر جوکچھ خود انسان کی طرف عائد ہوتا ہے تو اسے ہدف کے راستے میں ہونا چاہیے، انسان کو چاہیے کہ خود کو بعنوانِ وسیلہ دوست رکھے نہ کہ بعنوان ہدف و مقصد۔
یعنی اگرمعاملہ یہ ہو ہو کہ یا خود کو چھوڑے یا عالی ترین کمال کو تو ضروری ہے کہ خود کو قربان کرے اور اس عالی ترین مقصد تک رسائی حاصل کرے، قربانی کا معنی یہی ہے کہ متقرب ہو نہ کہ فانی، اس عمل کو قربانی کہتے ہیں جو انسان کو ہدف کے نزدیک کرے، قربانی ایک وجودی عمل ہے نہ کہ عدمی و فانی، یعنی انسان ہر گز قربانی کرنے سے کوئی چیز دیتا نہیں ہے۔
نماز انسان کی قربانی ہے یعنی اس کے تقرب کا ذریعہ ہے، زکوٰۃ اور تمام عبادات قربانی ہیں، درس و بحث بھی قربانی ہے۔
انسان جب کسی چیز کو راہِ خدا میں قربان کرتا ہے تو اس سے بہتر کو حاصل کرتا ہے، اگر قرآن میں آیا ہے:
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا (ا)
جو (اللہ کے پاس) ایک نیکی لے کر آئے گا اسے دس گنا( اجر) ملے گا۔
یہمسئلہ کی کمیت کی طرف ناظر نہیں یعنی فقط دہ برابر کا مسئلہ نہیں بلکہ کیفیت کو بھی شامل ہے کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے:
مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ خَیْْرٌ مِّنْہَا(۲)
جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر اجر ملے گا۔
اگر ہاتھ، پائوں اور آنکھ کو راہِ خدا میں قربان کرتا ہے تو خدا اسے دوسری آنکھ یا ہاتھ پائوں جو پہلے سے بہتر ہوتے ہیں عطا کرتا ہے، یہ جو حضرت امیرالمومنین ؑ فرماتے ہیں:
خداوندِمتعال نے میرے بھائی جعفرؑ کو دو پر عطا کیے ہیں جس کے ساتھ وہ فرشتوں کے ہمراہ جنت میں پرواز کرتے ہیں۔
جعفرطیار اس کا معنی یہ ہے کہ جعفر بن ابی طالبؑ نے ایک چیز کو قربان کیا ہے اور اس سے بہتر کو حاصل کیا ہے، اس بنا پر اپنے آپ اور اپنی خصوصیات سے محبت قابلِ اعتراض نہیں بشرطیکہ ان کو قربانی کے لیے رکھتے ہوں، اگر ہم پیامبر ﷺ، آئمہ ہدی ؑو دین کو دوست رکھتے ہیں تو اس وجہ سے ہے کہ ان تمام سے حقِ تعالیٰ کے تقرب کے راستے میں فائدہ اٹھاتے ہیں، سورہ مبارکہ توبہ میں فرمایا:
مَا کَانَ لِأَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُم مِّنَ الأَعْرَابِ أَن یَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ اللّہِ وَلاَ یَرْغَبُواْ بِأَنفُسِہِمْ عَن نَّفْسِہِ (۳)
اہل مدینہ اور ان کے گردونواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول ﷺ سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جان(مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں۔
جو شخص جنگ میں اپنی حفاظت نہیں کر سکتا، وہ پیامبر ﷺ کو بھی خطرہ میں ڈال سکتا ہے، پس ہمیں چاہیے کہ اپنے جسم کو جسم ِ پیامبر ﷺ پر قربان کریں، کیونکہ اس کام سے ہم ختم نہیں ہوں گے۔
وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَمْوَاتا(۴)
اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھو۔
بلکہ اس آلودہ عالم سے جان چھوٹ جائے گی اور بہتر جسم کے ساتھ دوسرے عالم کی حیاتِ طیبہ تک رسائی حاصل کریں گے، اہل بیت ؑ کے ساتھ محبت بھی اسی طرح ہے، ان کی دوستی عقلی ہے نہ کہ ماں باپ و فرزند کی طرح عاطفی ہو، انسان انہیں ان معارف کی وجہ سے دوست رکھے جو انہوں نے انسانی معاشرہ کے سپرد کیے ہیں اور اس کی ہدایت کی ہے۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ انعام آیت ۱۶۰
(۲) سورہ نمل آیت ۸۹
(۳) سورہ توبہ آیت ۱۶۰
(۴) سورہ آلِ عمران آیت ۱۶۹