عالم ِ ذر

سوال۲۳:کیا ہم انسان پہلے عالم ذر میں تھے؟ عالم ذر کیا ہے اور کیسا ہے؟

خداوندمتعال قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وَاِذُ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُہُوْرِھِمْ زُرَّیَتَّھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ القِیَامَۃِ اِنّٰا کُنّٰا عَنْ ھٰذٰا غَافِلِیّنَ(۱)
یادکرو وہ وقت جب تیرے رب نے آدم کی پشت سے اس کی ذریت کواٹھایا،انہیں انہی پر گواہ بنایا اور پوچھا۔۔۔ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، انہوں نے کہا جی ہاں (تو ہمارا پروردگارہے)یہ اس لیے تھا کہ قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے۔
اسی آیت کی توضیح و تشریح میں پیغمبر اکرمﷺ اور آئمہ طاہرینؑ سے متعدد روایات منقول ہیں،امام محمدباقر ؑنے ایک روایت کے ضمن میں زرارہ سے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے آدم کے صلب سے ان کی قیامت تک کی ذریت کو نکالا اور وہ ایک انبوہ کی صورت میں نکلے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی پہچان
کرائی اوراگروہ ایسانہ کرتاتوکوئی بھی اپنے پروردگار کو نہ پہچان سکتا۔(۲)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ظہور کس طرح انجام پایا اور عالم ذر، میثاق یا عالم الست سے مراد کیا ہے؟
علماء اوردینی دانشوروں کے مابین اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں،جن میں سے اہم ترین یہ ہیں۔
۱۔جسم و روح سے مرکب عالم میں عہد
انسانوں کی روحیں اپنے بدن سے متعلقہ ہونے سے قبل چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں تھیں، وہ ذرات ارواح کے ساتھ تعلق کی وجہ سے زندہ اور آگاہ ہوئے،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت پر ان سے عہد و پیمان لیا اور ندائے الٰہی کا مثبت جواب دینے کے بعد انسان واپس صلب آدم میں پلٹ آئے۔
۲۔فطریات اور تمثیلی نظریہ
بعض محققین کی رائے ہے کہ یہ آیت تمثیل کے طور پر سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بے شمار نعمتیں اور عقل عطا کرنے کے بعد بجا طور پر سمجھتا ہے کہ وہ اس کے مقابل خاکساری کریں اور اس کی پیروی کریں۔ انسان نے بھی اپنے ضمیر میں اس مجازی الٰہی خطاب پر لبیک کہا ہے اور اپنے ضمیر میں اسے قبول کیا ہے۔
۳۔عقل اور وحی کی زبان میں عہد
بعض اہل تحقیق کا خیال ہے کہ اس آیت سے مراد خارجی حقیقت کا بیان ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے زبان عقل و وحی اور انبیاء کے ذریعے انسان سے عہد لیا ہے، یعنی عقلی ادراک، رسالت و وحی کے مقابلے میں لوگوں سے عہدلیاہے کہ وہ دینی معارف کو قبول کریں۔
۴۔عالم ِ ملکوت میں عہد
اس حوالے سے علامہ طباطبائی ؒ کا نظریہ یہ ہے کہ موجودات دو طرح کا وجود رکھتے ہیں،ایک اللہ کے ہاں جمعی وجود یعنی عالم ملکوت میں اور دوسرا منتشراور آئندہ وجود جو گزشتہ زمان کے ساتھ تدریجاً ظاہرہوتے ہیں،اس طرح دنیا کے انسانی عالم سے پہلے ایک اور عالم انسانیت ہے،جہاں کوئی موجوداپنے پروردگارسے محجوب نہیںاور اپنے شہودباطنی سے اس کا مشاہدہ کرتاہے اوراس کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہے، عالم ذر میں سوال و جواب کا تعلق اس مقام ہے، ان کا کہنا ہے کہ آیت سے مراد انسانوں کا ملکوتی پہلو ہے، یعنی میثاق عہد اور شہود کا مقام عالم ملکوت ہے، قرآن کریم کی آیت ’’وَاِذْ اُخَذَ‘‘ یعنی یاد کرو کو مدنظررکھتے ہوئے ہم چند نکات اخذکر سکتے ہیں۔
اولاً: جہان محسوس سے پہلے ایک اور نامحسوس عالم موجود تھا جہاں پر میثاق اور عہدوپیمان انجام پایا ہے۔
ثانیاً: میثاق کا میدان عالم مادی اور جہان طبیعی پر مقدم اور اس سے ماقبل ہے۔
ثالثاً: چونکہ یہ دونوں مقام متحدہیں اورایک دوسرے سے جدا نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ عالم مادی میں زندگی بسرکرنے والے انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ اس ملکوتی پہلو کو بھی یادرکھیں کیونکہ جب انسان اس کویادرکھیں گے تو اس کی حفاظت بھی کریں گے۔(۳)
۵۔فطری عہد
بعض محققین نے آیت کے معنی کو فطرت انسانی کی حکایت قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں: انسان اپنی طبیعت و فطرت میں خدا شناس ہے اور وہ خدا کی طرف کشش رکھتا ہے،یہ نظریہ تمثیل سے بہت زیادہ قریب ہے، اس کے مطابق گویا قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ فطرت کا تمثیلی بیان ہے۔
علامہ اقبال نے اسی مضمون کو اپنی بیت ’’ہزاران سال بافطرت نشستم بدو پیوستم وازخود گستم‘‘ میں بیان فرمایا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’روز الست کو جب مجھ سے پیمان توحید لیا گیا تو تب سے اب تک میں اپنی فطرت توحید کے ساتھ رفیق و دم ساز تھا اور اس دوران میں اپنے رب سے جڑا ہوا تھا اور اپنے آپ سے فارغ تھا لیکن جب میں نے عالم ناسوت و طبیعت میں قدم رکھا تو توحید کی بجائے بت تراشا اور کچھ عرصے تک اس کی پرستش کی لیکن ایک بار پھر میں فطرت کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے اس بت کو توڑا اور ایک اور بت تراشا اور ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ فطرت میں چھپی ہوئی حقیقت اپنے آپ کو مکمل طورپر ظاہرکر دے اور انسان پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو جائے ’’فِطْرَہَ اللّٰہِ الَّتٖی فَطَرَ النّٰاسَ عَلَیْھٰا‘‘ اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو خلق فرمایا ہے۔(۴)
بنابرایں حقیقت توحیدپریقین جو آیت میں لفظ ’’بلیٰ‘‘کے ساتھ آیات ہے ایک زبانی اقرار نہیں بلکہ ایک ذاتی، فطری اور جبلی حقیقت ہے، جو تمام انسانوں حتیٰ کہ پروردگار عالم کے منکرین کے ضمیر میں موجود ہے کیونکہ ان کا انکار فطری نہیں زبانی ہے۔
مذکورہ بالا تمام نکتہ ہائے نظرپرمختلف حوالوں سے تنقید اور اعتراضات کئے گئے ہیں۔(۵)
ان تمام نظریات میں سے نظریہ فطرت اور علامہ طباطبائی ؒ کا نظریہ زیادہ باوزن، استدلالی اور قابل ِقبول ہے لیکن اس کے باوجود کسی ایک کو قطعی طور پر مذکورہ آیت کا مدلول قرار نہیں دیا جا سکتا،اگرچہ وہ دونوں الگ الگ طورپرقابلِ قبول ہیں اور دینی و فلسفی طور پر ان کی تائید بھی ملتی ہے،استادآیۃاللہ شہید بہشتی اس بارے میں لکھتے ہیں:
اس آیت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اجمالی طور پر انسانوں کی موجودگی کے ایک مرحلہ کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اعتراف کیا لیکن یہ اعتراف اتنا بھی موثر اور مضبوط نہیں کہ جو تمام انسانوں کو ہمیشہ کے لیے راہِ حق اور حق پرستی پر ثابت قدم رکھ سکے لیکن یہ اس قدر اثر رکھتا ہے کہ انسانوں کی فکری، فطری اور وجدانی میدان میں خدا جوئی کے جذبے کو زندہ رکھے اور انہیں اس کے لیے تیار کر سکے کہ روز قیامت یہ عذر نہ لا سکیں کہ اس بارے میں بالکل بے خبر تھے۔
یہ آمادگی اس حد تک بھی ہے کہ ہر انسان کے لیے یہ ممکن بنا دیتی ہے کہ اپنے اور آبائواجداد کے خرافات پر مشتمل بیہودہ عقائد سے دستبردارہوں اور راہ ِحق پر آجائیں یہ عذر نہ تراشیں کہ ہمارے آبائواجداد تو پہلے سے مشرک تھے اور ہم انہی کے پیچھے چلنے والوں میں سے ہیں۔
لیکن اس مرحلہ کی خصوصیات کے بارے میں خود قرآن مجید نے کوئی اور وضاحت نہیں کی۔(۶)

(حوالہ جات)
(۱)سورہ اعراف، آیت۱۷۲
(۲)اصول کافی، ج ۳، کتاب الایمان والکفر، باب قطرۃ الخلق علی التوحید، ج ۴، ص ۲۰
(۳)تفسیر المیزان، ج ۸، ص ۳۲۰، ۳۳۳
(۴)سورہ روم،آیت ۳۰
(۵) کلام فلسفی، محمد حسن، قدر دان قراملکی، ص ۷۳، ۹۵
(۶) خدا دہر قرآن، آیۃ اللہ استاد شہید بہشتی، ص۵۳، تہران، بعثت