خلقت ِ روح

سوال۲۱:روح کا کیا معنی ہے؟ کیا روح و بدن کو جدا اور ہر ایک کی خلقت کو الگ الگ مد ِنظررکھا جا سکتا ہے؟ سیلز کے زندہ ہونے کے مسئلہ کی توجیہ کیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے۔
نکتہ اول: فلسفی نظر سے نفس کی تین قسمیں ہیں۔ نفس نباتی، نفس حیوانی، نفس انسانی۔
انسان ان تینوں کا حامل ہوتا ہے،حیوانات پہلی دو اقسام کے حامل ہوتے ہیں جبکہ نباتات فقط پہلی قسم کے حامل ہوتے ہیں،بالفاظ دیگر ہر وہ نفس جو عالی تر مرتبہ پر فائز ہوتا ہے،پست تر مرتبہ نفس کے کمالات کا حامل ہوتا ہے، نفس نباتی کی اہم ترین خصوصیت نشوونما رشد، تغذیہ اور تولید نسل سے عبارت ہے۔ جبکہ نفس حیوانی کی خصوصیات مذکورہ امور کے علاوہ ادراک حسی اور حرکت ہے جبکہ انسان کی مختصات میں سے ایک اختیاراورتعقل بھی ہے،ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر نفس خاص قوتیں رکھتا ہے اور خاص افعال کے ظہور کا باعث ہوتا ہے،اس بناء پر زندہ ہونا نفس و روح انسانی رکھنے کے مساوی نہیں۔ یعنی ممکن ہے کسی جگہ پر زندگی ہومگرروح انسانی حتیٰ کہ روحِ حیوانی بھی موجود نہ ہو بلکہ حیات صرف نباتی ہو، ماں کے شکم میں بچہ تشکیل کے ابتدائی مراحل میں زندہ ہوتا ہے لیکن اس کی زندگی نباتی ہوتی ہے، پھر اس میں حیوانی زندگی پیدا ہوتی ہے اور بالآخر انسانی زندگی میں تبدیل ہوتی ہے اور بعض احادیث کی روشنی میں اس کا دورانیہ 4 یا 5 ماہ ہوتا ہے۔
بعبارت دیگر اجزائے بدن کے کامل ہونے (چارماہ مکمل اور پانچویں ماہ میں داخل ہونے کے بعد) جنین کی ظاہری صورت مکمل ہو جاتی ہے اورماں جنین کی حرکات کو محسوس کرتی ہے، اس مرحلہ کو پیدائش روح کا آغاز اور دوسرے لفظوں میں حیات انسانی کے ابتدائی مظاہر میں سے شمارکیا جا سکتا ہے۔
نکتہ دوئم:قرآنی آیات، مسلمان فلاسفہ اور متکلمین کے درمیان روح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے،جن میں سے ایک نفس انسانی ہے،جیسے آیت شریفہ میں اشارہ ہوا ہے:
فَإِذَا سَوَّیْْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِن رُّوحِی(۱)
محققین کہتے ہیں کہ خدا کا یہ فرمان کہ میں نے اپنی روح کو انسان میں پھونکا اور روح کو اپنی طرف نسبت دینا اضافہ تشریفی ہے، یعنی ہدف روح انسانی کی عظمت و شرافت کا بیان ہے نہ یہ کہ حقیقتاً کوئی چیز اللہ سے جدا ہو کر انسان سے مربوط ہوتی ہے بلکہ روح بھی جسم اور دیگر تمام امور کی طرح مخلوقِ خدا ہے۔
نکتۂ سوئم: روح اور بدن مستقل اور جداگانہ خلقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، ملاصدرا کے نظریہ کے مطابق روح جسمانیۃ الحدوث اور روحانیۃ البقاء ہے۔
یعنی مادہ جنین کے اندر اپنی حرکت جوہری اور ارتقائی سفر میں مرحلہ تجرد نفسانی و روحانی تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور روح و جسم جداگانہ خلقت اور ترکیب انضمامی نہیں رکھتے۔(۲)

(حوالہ جات)
(۱) سورہ ص، آیات ۷۱۔ ۷۲
(۲) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: الف، مسعود امامی، زمان دمیدن روح در جنین، (مسالہ) فقہ۔ (کاوئی نو درفقہ اسلامی)، (فصلنامہ) شمارہ ۴۹۔ ۱۳۸۵
ب: حیات جاودانہ، امردیوانی
ج: معارف قرآن، آیۃ اللہ مصباح یزدی، ج ۳، ۱۔
د: راز جاودانگی، عباس یزدانی