ur

نیک گفتار

قرآن مجید کی متعدد آیات زبان کے سلسلہ میںہونے والی گفتگو، زبان کی عظمت اور گوشت کے اس لوتھڑے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان دنیا و آخرت میں نجات پاتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ دنیا و آخرت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔زبان ہی کے ذریعہ انسان گھر اور معاشرہ میں چین و سکون پیدا کرتا ہے یا اسی زبان کے ذریعہ گھر اور معاشرہ میں تباہی و بربادی پھیلادیتا ہے۔زبان ہی یا اصلاح کرنے والی یا فساد برپا کرنے والی ہوتی ہے،اسی زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو اور اسرار کو محفوظ کیا جاتا ہے یا دوسروں کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیا جاتا ہے۔

قرآن کریم تمام انسانوں خصوصاً صاحبان ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ صرف نیک گفتار میں کلام کرو۔
زبان کے سلسلہ میں قرآنی آیات کے علاوہ بہت سی اہم احادیث بھی رسول اکرم ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہوئی ہیں کہ اگر کتب احادیث میں بیان شدہ تمام احادیث کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔

حضرت رسول خدا ۖ کا فرمان ہے:اِذا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ اَصْبَحَتِ الْاَعْضائُ کُلُّھا تَسْتَکْفِی اللِّسانَ،اَیْ تَقولُ:اِتَّقِ اللّٰہَ فِینَا ،فَاِنَّکَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنا ،وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنا’۔(١)

‘جس وقت انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء و جوارح بھی صبح کرتے ہیں ، چنانچہ تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں: ہمارے سلسلہ میں تقویٰ الٰہی کی رعایت کرنا کیونکہ اگر تو راہ مستقیم پر رہے گی تو ہم بھی مستقیم رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے پن میں گرفتارہوجائیں گے’۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اَللِّسانُ میزانُ الْاِنْسانِ ‘۔(٢)
‘زبان انسان کی میزان ]اور ترازو[ ہے (یعنی انسان کی شرافت اور اس کی بزرگی یا پستی اس کی زبان سے سمجھی جاتی ہے)

حضرت رسول اکرم ۖ کا فرمان ہے:

‘ٰیُعَذِّبُ اللّٰہُ اللِّسانَ بِعَذابٍ لَایُعَذِّبُ بِہِ شَیْئاً مِنَ الْجَوارِحِ فَیَقولُ:یارَبِّ عَذَّبْتَنِی بِعَذابٍ لَمْ تُعَذِّبْ بِہِ شَیْئاً مِنَ الْجَوارِحِ ، فَیُقالُ لَہُ:خَرَجَتْ مِنْکَ کَلِمَة فَبَلَغَتْ مَشارِقَ الْاَرْضِوَمَغارِبَھا فَسُفِکَ بِھَا الدَّمُ الْحَرامُ ،وَانْتُھِبَ بِہِ الْمالُ الْحَرامُ، وَانْتُھِکَ بِہِ الْفَرْجُ الْحَرامُ’۔(۳)

‘خداوندعالم زبان کو ایسے عذاب میں مبتلا کرے گا کہ کسی دوسرے حصہ پر ایسا عذاب نہیں کرے گا، اس وقت زبان گویا ہوگی:خدایا! تو نے مجھے ایسے عذاب میں مبتلا کیا ہے کہ کسی حصہ کو ایساعذاب نہیں کیا ہے، چنانچہ اس سے کہا جائے گا: تجھ سے ایسے الفاظ نکلے ہیں جو مشرق و مغرب تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے بے گناہ کا خون بہا، بے گناہ کا مال غارت ہوا اور بے گناہ کی آبرو خاک میں مل گئی!’

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:
‘کَمْ مِنْ اِنْسانٍ اَھْلَکَہُ لِسان’۔(۴)
‘کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی زبان کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں’۔

بہر حال ہمیں شب و روز اپنی زبان کی حفاظت کرنا چاہئے، اور اس کو بولنے کے لئے آزاد نہیں چھوڑدینا چاہئے، کس جگہ، کس موقع پر، کس کے پاس اور کس موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے غور و فکر کرنا ضروری ہے، نیز ہر حال میں خدا اور قیامت پر توجہ رکھنا ضروری ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان زبان کے ذریعہ ایسا گناہ کر بیٹھے کہ اس سے توبہ کرنا مشکل اور ان کے نقصان کی تلافی کرنا محال ہو۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ‘مومن اور مخالف سے نیکی اور خوبی کے ساتھ گفتگو کرو، تمہاری گفتگو صرف نیک اور منطقی ہونا چاہئے’۔مومنین سے خنداں پیشانی اور خوش روئی کے ساتھ گفتگو کرنا چاہئے، اور وہ بھی نیکی اور اچھائی سے، اور مخالفوں ]غیر شیعہ[ سے اس طرح گفتگو کرو کہ ان کے لئے ایمان کے دائرہ میں داخل ہونے کا راستہ ہموار ہوجائے، اور اگر وہ ایمانی دائرے میں داخل نہ ہوسکے تو اس سے دوسرے مومنین حفظ و امان میں رہیں، اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: دشمنان خدا کے ساتھ تواضع ومدارا ت سے پیش آنا، اپنے اور دوسرے مومنین کی طرف سے صدقہ ہے۔(۵)

حضرت امام باقر علیہ السلام سے آیہ شریفہ (وَ قولوا لِلنَّاسِ حُسناً) کے ذیل میں روایت ہے کہ لوگوں سے اس طرح نیک گفتار کرو جس طرح تم اپنے ساتھ گفتگو کیا جانا پسند کرتے ہوکیونکہ خداوندعالم مومن اور قابل احترام حضرات کی نسبت بدگوئی اور نازیبا الفاظ پسند نہیں کرتا ]یعنی مومنین کو برا بھلا کہنے والوں کو دوست نہیں رکھتا[ اور باحیا، بردبار، ضعیف اور باتقویٰ لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔(۶)

حضرت رسول خدا ۖ کا فرمان ہے:
‘کَلامُ ابْنِ آدَمَ کُلُّہُ عَلَیْہِ لَا لَہُ اِلاَّ اَمْر بِالْمَعْروفِ ،وَنَھْی عَنِ الْمُنْکَرِ ،اَوْ ذِکْرُ اللّٰہِ ‘۔(۷)
‘تمام لوگوں کی گفتگو ان کے نقصان میں ہے سوائے امر بالمعروف ،نہی عن المنکر اور ذکر خدا کے’۔

سورہ بقرہ آیت ٨٣ کے لحاظ سے جس کی شرح گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکی ہے ماں باپ ، رشتہ داروں اورمساکین کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں سے نیک گفتار اور اچھی باتیں معنوی زیبائیوں میں سے ہیں، گناہ خصوصاً گناہ کبیرہ سے توبہ کرنے والے کے لئے اپنی توبہ ، عمل اور گفتار کی اصلاح کے لئے اس آیت کے مضمون پر پابندی کرنا ضروری ہے اور اس مذکورہ آیت میں بیان شدہ اہم مسائل پر خوشحالی اور نشاط کے ساتھ عمل کرے تاکہ اس کے اندر موجود تمام برائیاں دُھل جائیں اور اس کے عمل، اخلاق اور گفتار کی اصلاح ہوجائے۔

اخلاص
اخلاص اور خلوص نیت ایک بہت عظیم مسئلہ ہے جس پر قرآن مجید کی آیات اور روایات معصومین میں بہت زیادہ تازور دیا گیا ہے۔صرف مخلص افراد ہی کی فکر و نیت ، عمل اور اخلاق قابل اہمیت ہے اور صرف وہی لوگ اجر عظیم اور رضوان الٰہی کے مستحق ہوتے ہیں۔اگر ہماری کوشش ، اعمال اور اخلاقی امور غیر خدا کے لئے ہوں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اور خدا کے نزدیک اس کا کوئی ثواب نہیں ہے۔

جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو قرآن مجید کے فرمان کے مطابق اس کو اپنی حالت اور گفتگو کی اصلاح کرنا چاہئے، اور تمام امور میں خداوندعالم کی پناہ میں چلا جائے، اور اپنے دین اور تمام دینی امور میں خلوص خدا کی رعایت کرے، اور ریاکاری اور خودنمائی سے پرہیز کرے، اپنے دینی فرائض میں صرف اور صرف خدا سے معاملہ کرے، تاکہ اہل ایمان کی ہمراہی حاصل ہوجائے، اس سلسلہ میں درج ذیل آیہ شریفہ بہت زیادہ قابل توجہ ہے:

(ِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وََصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاﷲِ وََخْلَصُوا دِینَہُمْ لِلَّہِ فَُوْلَئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ وَسَوْفَ یُؤْتِ اﷲُ الْمُؤْمِنِینَ َجْرًا عَظِیمًا).(۸)
‘علاوہ ان لوگوں کے کے جو توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور خدا سے وابستہ ہوجائیں اور دین کو خالص اللہ کے لئے اختیار کریں تو یہ صاحبان ایمان کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب اللہ ان صاحبان ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا’۔

( َلاَلِلَّہِ الدِّینُ الْخَالِصُ…).(۹)
‘آگاہ ہو جاؤ کے خالص بندگی اللہ کے لئے ہے…’۔

جو شخص ریاکاری ،خود نمائی اور شرک کا گرفتار ہو تو بارگاہ خداوندی سے اس کا کوئی سروکار نہیںہے۔

(… فَاعْبُدْ اﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّینَ ).(۱۰)
‘…لہٰذا آپ ]پیغمبر اکرم[ مکمل اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں’۔

جن لوگوں کے اعمال میں اخلاص نہیں ہوتا ان کے اعمال خدا کی نظر میں ہیچ ہوتے ہیں لیکن خلوص کے ساتھ اعمال انجام دینے والوں کے اعمال کا خریدار خداوندمہربان ہے۔

(…وَلَنَا َعْمَالُنَا وَلَکُمْ َعْمَالُکُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُخْلِصُونَ).(۱۱)
‘]اے پیغمبرۖ! بدکار اور مشرکین سے کہو[ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے تمہارے لئے اعمال اور ہم تو صرف خدا کے مخلص بندے ہیں’۔

ریاکاری کی وجہ سے عمل باطل ہوجاتا ہے اور اس کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے، لیکن اخلاص سے عمل میں اہمیت پیدا ہوتی ہے اور اخلاص کے ذریعہ ہی آخرت میں جزائے خیر اورثواب ملنے والا ہے۔توبہ کرنے والے کے لئے اپنی نیت کی اصلاح کرنا اور اپنے ارادہ کو خدا کی مرضی کے تابع قرار دینالازم و ضروری ہے تاکہ توبہ کا درخت ثمر بخش ہوسکے۔

اخلاص پیدا کرنے کا طریقہ خدا اور قیامت پر توجہ اور اولیاء الٰہی کے حالات پر غور و فکر کرنا ہے، اور انسان اس بات کا معتقد ہو کہ جنت و جہنم کی کلید خدا کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے، اور انسان کی سعادت و شقاوت کا کسی دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حضرت رسول خدا ۖ اخلاص کے فوائد کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
‘مَا اَخْلَصَ عَبْدلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اَرْبَعِینَ صَباحاً اِلّا جَرَتْ یَنابِیعُ الْحِکْمَةِ مِنْ قَلْبِہِ عَلیٰ لِسانِہِ’۔(۱۲
‘جب کوئی بندہ چالیس دن تک خدا کے لئے اخلاص سے کام کرے تو خداوندمہربان اس کی زبان پر حکمت کا چشمہ جاری کردیتا ہے’۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشادہے:
‘اِنَّ الْمُؤمِنَ لَیَخْشَعُ لَہُ کُلُّ شَیْئٍ وَیَھابُہُ کُلُّ شَیْئٍ ثُمَّ قالَ:اِذاکانَ مُخْلِصاً لِلّٰہِ اَخافَ اللّٰہُ مِنْہُ کُلَّ شَیْئٍ حَتّیٰ ھَوامَّ الْاَرْضِ وَ سِباعَھاوَ طَیْرَ السَّمائِ؛'(۱۳)

‘بے شک’ مومن انسان ‘کے لئے ہر چیز خاشع و خاضع ہے اور سبھی اس سے خوف زدہ ہیں، اس کے بعد فرمایا: جس وقت مومن انسان خدا کا مخلص بندہ بن جاتاہے تو خداوندعالم اس کی عظمت اور ہیبت کو تمام چیزوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ روئے زمین پر وحشی درندے اور آسمان پر اڑنے والے پرندے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں’۔
حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے:
‘سَبَبُ الْاِخْلاصِ الْیَقینُ’۔(۱۴)
‘یقین وایمان کے ذریعہ اخلاص پیدا ہوتا ہے’۔

‘اَصْلُ الْاِخْلاصِ الْیَأْسُ مِمّا فِی اَیْدِی النّاسِ’۔(۱۵)
‘اخلاص کی اصل ،دوسروں کے پاس موجود تمام چیزوں سے ناامیدی ہے’۔

‘مَنْ رَغِبَ فِیما عِنْدَ اللّٰہِ اَخْلَصَ عَمَلَہُ’۔(۱۶)
‘جو شخص خداوندعالم کی رحمت و رضوان اور بہشت کا خواہاں ہے اسے اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرنا چاہئے’۔

صبر
قرآن و احادیث میں صبر و شکیبائی کے سلسلہ میں حکم دیا گیا ہے جو واقعاً ایک الٰہی ، اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کو خداوندعالم پسند کرتا ہے، جو عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے. صبر حافظ دین ہے اور انسان کو حق و حقیقت کی نسبت بے توجہ ہونے سے روکتا ہے، صبر کے ذریعہ انسان کے دل و جان میں طاقت پیدا ہوتی ہے، نیز صبر انسان کو شیاطین (جن و انس) سے حفاظت کرنے والا ہے۔

اگر سخت حوادث و ناگوار حالات(جو دین و ایمان کو غارت کرنے والے ہیں ) ، عبادت و اطاعت اور گناہ کے وقت صبر سے کام لیا جائے تو انسان یہ سوچتے ہوئے کہ حوادث بھی قواعد الٰہی سے ہم آہنگ ہیں، ان کو برداشت کرلیتا ہے،اور اپنی نجات کے لئے دشمنان خدا سے پناہ نہیں مانگتا، عبادت و اطاعت خدا کے وقت اپنے کو بندگی کے مورچہ پر کھڑا ہوکر استقامت کرتا ہے، اور گناہ و معصیت سے لذت کے وقت لذتوں کو چھوڑنے کی سختی کو برداشت کرتا ہے اور قرآن مجید کے فرمان کے مطابق خداوندعالم کی صلوات و رحمت کا مستحق قرار پاتا ہے

(وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الَْمْوَالِ وَالَْنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ٭ الَّذِینَ ِذَا َصَابَتْہُمْ مُصِیبَة قَالُوا ِنَّا لِلَّہِ وَِنَّا ِلَیْہِ رَاجِعُونَ٭ ُوْلَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَات مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَة وَُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُہْتَدُونَ).(۱۷)

‘اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال ،نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں . جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں .کہ ان کے لئے پروردگار کی طرف صلوات اور رحمت ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں’۔

(…وَالْمَلَائِکَةُ یَدْخُلُونَ عَلَیْہِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ٭ سَلَام عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ).(۱۸)
‘اور ملائکہ ان کے پاس ہر دروازے سے حاضر ی دیں گے .کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا ہے اور اب آخرت کا گھر تمہاری بہترین منزل ہے’۔

(مَا عِنْدَکُمْ یَنفَدُ وَمَا عِنْدَ اﷲِ بَاقٍ وَلَنَجْزِیَنَّ الَّذِینَ صَبَرُوا َجْرَہُمْ بَِحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ).(۱۹)
‘جوکچھ تمہارے پاس ہے وہ سب خرچ ہو جائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے اور ہم یقینا صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال سے بہتر جزا عطا کریں گے’۔

(ُوْلَئِکَ یُؤْتَوْنَ َجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوا…).(۲۰)
‘یہی وہ لوگ ہیں جن کو دہری جزادی جائے گی چونکہ انھوں نے صبر کیا ہے…’۔

حضرت رسول خدا ۖ کا ارشاد ہے:
‘مَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَنْ یَسْتَعْفِفُ یُعِفَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِیَ عَبْد عَطا ئً ھُوَ خَیْر وَ اَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ’۔(۲۱)

‘جو شخص صبر سے کام لے تو خداوندعالم اس کو صبر کی توفیق عطا کرتا ہے، اور جو شخص عفت و پارسائی کو اپناتا ہے تو خداوندعالم اس کو پارسائی تک پہنچادیتا ہے اور جو شخص خداوندعالم سے بے نیازی طلب کرتا ہے تو خداوندعالم اس کو بے نیاز بنادیا ہے ، لیکن بندہ کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی چیز عطا نہیں ہوتی’۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
‘اَلْحَقُّ ثَقِیل،وَقَدْ یُخَفِّفُہُ اللّٰہُ عَلیٰ اَقْوامٍ طَلَبُوا الْعاقِبةَ فَصَبَرُوا نُفُوسَھُمْ ،وَوَثِقُوا بِصِدْقِ مَوْعُودِ اللّٰہِ لِمَنْ صَبَرُوا ،اِحْتَسِبْ فَکُنْ مِنْھُمْ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ’۔(٢۲)

‘حق کڑوا ہوتا ہے لیکن خداوندعالم اپنی عاقبت کے خواہاںلوگوں کے لئے شیرین بنادیتا ہے، جی ہاں ، جو لوگ صبر کے سلسلہ میں دئے گئے وعدہ الٰہی کو سچ مانتے ہیں خدا ان کے لئے حق کو آسان کردیتا ہے، خدا کے لئے نیک کام انجام دو اور حقائق کا حساب کرو جس کے نتیجہ میں تم صبر کرو اور خدا سے مدد طلب کرو’

نیز آپ کا ہی کا ارشاد ہے:
‘اِصْبِرْ عَلیٰ مَرارَةِ الْحَقِّ ،وَاِیَّاکَ اَنْ تَنْخَدِعَ بِحَلاوَةِ الْباطِلِ’۔(۲۳)
‘صبر کے کڑوے پن پر صبر کرو اور باطل کی شیرینی سے فریب نہ کھائو’۔

ایک شخص نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے کسی مسئلہ کے بارے میں نظر خواہی کی تو امام علیہ السلام نے اس شخص کے نظریہ کے برخلاف اپنی رائے کا اظہار فرمایا، اور امام نے اس کے چہرے پر بے توجہی کے آثار دیکھے تو اس سے فرمایا: ، حق پر صبر کرو، بے شک کسی نے صبر نہیں کیا مگر یہ کہ خداوندعالم نے اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عنایت فرمادی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
‘اَلْجَنَّةُ مَحْفُوفَة بِالْمَکارِہِ وَالصَّبْرِ ،فَمَنْ صَبَرَ عَلَی الْمَکارِہِ فِی الدُّنْیا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَ جَھَنَّمُ مَحْفوفَة بِاللَّذّاتِ وَالشَّھَواتِ ،فَمَنْ اَعْطیٰ نَفْسَہُ لَذَّتھا وَشَھْوَتَھا دَخَلَ النّارَ’۔(۲۴)

‘]جان لو کہ[ جنت پر ناگواری اور صبر کا پہرہ ہے، جس شخص نے دنیا میں ناگواریوں پر صبر کیا و ہ جنت میں داخل ہوجائے گا، اور جہنم پر خوشیوں اور حیوانی خواہشات کا پہرہ ہے چنانچہ جو شخص بھی لذات اور شہوات کے پیچھے گیا تو وہ جہنم میں داخل ہوجائے گا’۔

نیز آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے:
‘اَلصَّبْرُ صَبْرانِ:صَبْر عَلَی الْبَلائِ حَسَن جَمیل ،وَأَفْضَلُ الصَّبْرَیْنِ الْوَرَعَ عَنِ الْمَحارِمِ’۔(۲۵)
‘صبر کی دو قسمیں ہیں: بلاء و مصیبت پر صبر جو بہتر اور زیبا ہے ، لیکن دونوں قسموں میں بہترین صبر اپنے کو گناہوں سے محفوظ رکھنا ہے’۔

یہ حقیقت ہے کہ تمام چیزوں میں صبر اس لئیضروری ہے کہ انسان کا دین، ایمان، عمل اور اخلاق صحیح و سالم رہے، اور انسان کی عاقبت بخیر ہوجائے واقعاً انسان کے لئے کیا بہترین اور خوبصورت زینت ہے ۔

گناہوں سے توبہ کرنے والے انسان کو چاہئے کہ مشق و تمرین کے ذریعہ اپنے کو صبر سے مزین کرلے،گناہوں سے پاک رہنے کی کوشش کرے تاکہ ہوائے نفس ،شیطانی وسوسہ اور گناہوں کی آلودگی سے ہمیشہ کے لئے آسودہ خاطر رہے کیونکہ صبر کے بغیر توبہ برقرار نہیں رہ سکتی، اور اس کے سلسلہ میں رحمت خدا کا تدوام نہیں ہوتا۔

حوالہ جات
(١)محجة البیضا ء ج٥، ص١٩٣،کتاب آفات اللسان.
(٢)غررالحکم ص٢٠٩،اللسان میزان ،حدیث ٤٠٢١.
(۳)کافی ج٢،ص١١٥،باب الصمت و حفظ اللسان ،حدیث١٦؛بحار الانوار ج٦٨،ص٣٠٤،باب٧٨،حدیث٨٠.
(۴)غررالحکم ص٢١٣،حظہ اللسان واہمیتہ ،حدیث ٤١٥٩.
(۵)تفسیر صافی ج١،ص١٥٢،ذیل سورۂ بقرہ آیت ٨٣ ؛بحار الانوار ج٧٢،ص٤٠١،باب ٨٧،حدیث ٤٢.
(۶)تفسیرعیاشی ج١،ص٤٨،حدیث٦٣،؛تفسیرصافی ج١،ص١٥٢،ذیل سورۂ بقرہ آیت ٨٣؛بحار الانوار ج٧١،ص١٦١، باب ١٠، حدیث١٩.
(۷)مواعظ العددیہ ص٨٧.
(۸)سورۂ نساء آیت ١٤٦.
(۹)سورۂ زمر آیت ٣.
(۱۰)سورۂ زمر آیت ٢.
(۱۱)سورۂ بقرہ آیت ١٣٩.
(۱۲)عیون اخبار الرضا ج٢،ص٦٩،باب ٣١،حدیث ٣٢١؛بحا رالانوار ج٦٧،ص ٢٤٢،باب ٥٤،حدیث ١٠.
(۱۳)جامع الاخبار ص١٠٠،الفصل ٥٦فی الاخلاص؛بحار الانوار ج٦٧،٢٤٨،باب ٥٤،حدیث٢١.
(۱۴)غررالحکم :٦٢،فوائد الیقین ،حدیث٧٤٦.
(۱۵)غرر الحکم :٣٩٨،الفصل التاسع ،حدیث ٩٢٤٩.
(۱۶)غررالحکم :١٥٥،الاخلاص فی العمل ،حدیث٢٩٠٧.
(۱۷)سورۂ بقرہ آیت ١٥٥۔١٥٧.
(۱۸)سورۂ رعد آیت ٢٣۔٢٤.
(۱۹)سورۂ نحل آیت ٩٦.
(۲۰)سورۂ قصص آیت ٥٤.
(۲۱)کنزل العمال حدیث٦٥٢٢.
(۲۲)نہج البلاغہ ص٦٩٩،نامہ ٥٣؛تحف العقول ص١٤٢؛بحار الانوارج٧٤،ص٢٥٩،باب ١٠،حدیث ١.
(۲۳)غررالحکم :٧٠،الصبر علی الحق ،حدیث ٩٩٣.
(۲۴)کافی ج٢،ص٨٩،باب الصب ،حدیث ٧؛بحار الانوار ج٦٨،ص٧٢،باب ٦٢،حدیث ٤.
(۲۵)کافی ج٢،ص٩١،باب الصبر،حدیث ١٤؛وسائل الشیعہ ج١٥،ص٢٣٧،باب ١٩،حدیث ٢٠٣٧١.