عدل کسے کہتے ہے؟

۱۔ الإمام علي (عليه السَّلام):
إنَّ اللّهَ جَعَلَني إماما لِخَلْقِهِ، فَفَرَضَ عَلَيَّ التَّقْديرَ في نَفْسي و مَطْعَمي و مَشْرَبي و مَلْبَسي كَضُعَفاءِ النّاسِ، كَيْ يَقْتَديَ الفقيرُ بِفَقْري، و لا يُطْغِيَ الغَنِيَّ غِناهُ.
یقینآ اللہ نے مجھے اپنی مخلوق کے لیے امام قرار دیا، تو اس لئے میرے اوپر واجب کیا کہ میں اپنے بارے میں اور اپنے کھانے اور پینے اور پہننے کو غریب لوگوں کی طرح رکھوں تاکہ فقیر میرے فقر میں میری پیروی کرے اور امیر کو اس کی امیری سرکش نہ بنادے۔۔

۲۔الإمام علي (عليه السَّلام):

إنّ أفضَلَ الناسِ عندَ اللّهِ مَن كانَ العَمَلُ بالحَقِّ أحَبَّ إلَيهِ وإن نَقَصَهُ و كَرَثَهُ مِن الباطِلِ و إن جَرَّ إلَيهِ فائدَةً و زادَهُ.
یقیناً اللہ کے نزدیک سب سے افضل شخص وہ ہے جس کے لئے حق پر عمل کرنا باطل پر عمل کرنے سے زیادہ پسند ہو اگرچہ (حق) اسے نقص اور غم پہنچائے اور اگرچہ (باطل) اس تک کوئی فائدہ کھینچ کر لائے اور اس (شخص) کو بڑھائے۔

۳۔الإمام علي (عليه السَّلام):

غايَةُ العَدلِ أن يَعدِلَ المَرءُ في نَفسِهِ.
عدل کی انتہا یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے ساتھ عدل کرے

۵۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

أعدَلُ الخَلقِ أقضاهُم بالحَقِّ.
مخلوق میں سے زیادہ عادل شخص وہ ہے جو ان میں سے زیادہ حق کے مطابق فیصلہ کرے۔

۶۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

أعدَلُ النّاسِ مَن أنصَفَ عَن قُوَّةٍ.
سب سے زیادہ عادل شخص وہ ہے جو طاقت رکھتے ہوئے انصاف کرے

۷۔حضرت محمد (صلی الله علیه و آله):

مَن صاحَبَ النّاسَ بِالَّذي يُحِبُّ أن يُصاحِبوهُ كانَ عَدلًا.
جو شخص لوگوں کے ساتھ اس طرح رہے جس طرح پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ رہیں، تو وہ عادل ہے۔

۸۔  الإمام علي (عليه السَّلام):

نَهى رسولُ اللّهِ صلى الله عليه و آله أنْ يُلْقى السّمُّ في بِلادِ المُشرِكينَ.
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ نے مشرکین کے شہروں کو زہرآلود کرنے سے منع کیا۔
الکافی Vol5 P28

۹۔الإمام علي (عليه السَّلام):

شَيْئان لا يُوزَنُ ثَوابُهُما: العَفوُ، والعَدلُ.
دو چیزوں ہیں جن کے ثواب کا وزن نہیں کیا جاسکتا: معاف کرنا اور عدل۔

۱۰۔الإمام علي (عليه السَّلام):

حَقٌّ على الإمامِ أنْ يَحْكُمَ بماأنْزَلَ اللّهُ و أنْ يُؤدّيَ الأمانةَ، فإذا فَعَلَ فَحَقٌ علَى النّاسِ أنْ يَسْمَعوا لَهُ و أنْ يُطيعوا و أنْ يُجيبوا إذا دُعوا.
امام کا فریضہ ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق حکم کرے اور امانت کو ادا کرے، تو جب (ایسا) کرے تو لوگوں کے ذمہ ہے کہ اس کی بات کو سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اور جب انہیں بلایا جائے تو قبول کریں۔

۱۱۔  الإمام علي (عليه السَّلام):

إنَّهُ لَيسَ علَى الإمامِ إلّا ما حُمِّلَ مِنْ أمرِ رَبِّهِ: الإبلاغُ في المَوعِظةِ، و الاجتهادُ في النَّصيحةِ، و الإحْياءُ للسُّنّةِ، و إقامةُ الحُدودِ على مَسْتَحِقِّيها، و إصدارُ السُّهْمانِ على أهْلِها.
امام کے ذمے نہیں ہے مگر جو اس کے ربّ کا امر (اس کے ذمے) عائد کیا گیا ہے: نصیحت کو پہنچانا، اور خیرخواہی میں جدّوجہد کرنا، اور سنّت کو زندہ کرنا، اور حدود کو اس کے مستحق افراد پر جاری کرنا، اور (بیت المال کے) حصوں کو ان کے حقداروں تک پہنچانا۔

۱۲۔ الإمام علي (عليه السَّلام):

بِالعَدلِ تَصلُحُ الرَّعِيَّةُ
عدل کے ذریعے رعیت اصلاح پاتی ہے