امام حسین (ع) اور اقبال

(تحریر: ذاکر حسین میر )

اگرچہ واقعہ کربلا کے بعد ہر دور کے دانشوروں اور اہل علم حضرات نے امام حسین (ع)کی پاک سیرت اور ان کے عظیم اہداف پر گفتگو کی ہے اور آپکے بارے میں سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ لیکن جس قدر مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال نے امام حسین (ع) کی سیرت اورآپ کے اہداف کو اپنے کلام میں اجاگر کیا ہے وہ کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ علامہ اقبال دنیا کو امام حسین (ع)کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام حسین (ع) آغوش نبوت کی تربیت یافتہ ہستی ہیں، اور حضور اکرم (ص) نے خود دوش نبوت پر چڑھا کر حسین(ع) کی پرورش کی جیساکہ فرمایا:

بہر آں شہزادہ خیر الملل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل

حضرت علامہ اقبال امام حسین(ع) کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ کو سورہ قل ھو اللہ سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں قل ھو اللہ کو جو فضیلت حاصل ہے وہی فضیلت امت محمدی میں حضرت امام حسین(ع) کو حاصل ہے۔

درمیان امت کیوان جناب
ھمچو حرف قل ھواللہ درکتاب

علامہ ایک جگہ پر اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ امام حسین نے ہمیشہ کے لئے استبدادیت کا خاتمہ کر ڈالا اور دنیا کو استبدادیت کے سامنے ڈٹ جانے کا سبق سکھایا۔ وہ لوگ جو دنیا پرستی کے نشے میں مست ہو کر انسانیت کو اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، حسینیت کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے۔ اور حسین نے حقیقت سے پردہ ہٹا کر انہیں بےنقاب کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ امام حسین (ع)اور آپ کے عزیزوں کے خون نے ظلم و بربریت سے انسانی زندگی کے ہر میدان کو سرسبز و شا داب سبزہ زار میں تبدیل کردیا جہاں انسان نے سکون کی زندگی گزارنی شروع کردی۔

تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد

علامہ اقبال حضرت امام حسین (ع) کو حقیقی معلم قرآن کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں موجود اسرار و رموز کی تعلیم ہمیں حسین نے دی اور حسین ہی وہ حقیقی مفسر قرآن ہیں، جنھوں نے قرآن کی عملی تفسیر مسلمانوں کے سامنے رکھ دی۔ امام حسین(ع) نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ عشق و محبت کی شمع جلائی جس سے ہم نے بھی روشنی حاصل کی اور اسی روشنی کی وجہ سے آج ہمارا ایمان تازہ ہے اور ہمارے اندر ایمان کی روح پیدا ہو گئی۔

رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
خون او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را بیدارکرد

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ امام حسین (ع) نے کربلا کے میدان میں’’لا‘‘ کی تلوار چلائی اور صحرا ے کربلا میں’’اِلااللہ‘‘ کا نقشہ کھینچ کر ہماری نجات کے لئے راہ فراہم کردی۔

تیغ لا چوں از میاں بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید
نقش الااللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات مانوشت

علامہ اقبال اس حقیقت کا بھی اعتراف کر تے ہیں کہ امام حسین(ع) معلم حریت ہیں اورآزادی کی تعلیم ہم نے حسین(ع) سے سیکھی۔ درنوای زندگی سوز از حسین(ع)
اہل حق حریت آموز از حسین(ع)

علامہ اقبال نے اپنے کلام میں مقصدقیام امام حسین(ع) کو بھی بیان کیا اور اس حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ امام حسین(ع) کا قیام ذاتی حکمرانی کے لئے نہیں تھا بلکہ انکا قیام باطل کو نیست و نابودکرنے اور حق کی بقاء کے لئے تھا کیونکہ جن محدود وسائل اور اصحاب کی قلیل تعداد کے ساتھ امام حسین(ع) نے قیام کیا وہ اس چیز کی گواہ ہے کہ امام حسین(ع) کا قیام کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں تھا۔

مدعایش سلطنت بودے اگر
خود نہ کردی باچنین سامان سفر