ur

امام علی النقی علیہ السلام كی چالیس حدیثیں

(مترجم: نور محمد ثالثی)

1. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنِ اتَّقىَ اللهَ یُتَّقى، وَمَنْ أطاعَ اللّهَ یُطاعُ، وَ مَنْ أطاعَ الْخالِقَ لَمْ یُبالِ سَخَطَ الْمَخْلُوقینَ، وَمَنْ أسْخَطَ الْخالِقَ فَقَمِنٌ أنْ یَحِلَّ بِهِ سَخَطُ الْمَخْلُوقینَ . 1
1. امام علی النقی (علیہ السلام): جو اللہ سے ڈرے گا لوگ اس سے ڈریں گے اور جو اللہ كی اطاعت كرے گا اس كی اطاعت كی جائے گی، اور جو خالق كی اطاعت كرے گا اسے مخلوقین كی ناراضگی كی كوئی پرواہ نہیں ہوتی اور جو خالق كو ناراض كرے گا وہ مخلوقین كی ناراضگی سے بھی روبرو ہونے كے لائق ہے۔

2. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنْ أنِسَ بِاللّهِ اسْتَوحَشَ مِنَ النّاسِ، وَعَلامَةُ الاُْنْسِ بِاللّهِ الْوَحْشَةُ مِنَ النّاسِ . 2
2. امام علی النقی (علیہ السلام): جسے اللہ سے انس ومحبت ہوجاتی ہے وہ لوگوں سے وحشت كرتا ہے اور اللہ سے انس و محبت كی علامت لوگوں سے وحشت كرنا ہے۔

3. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): السَّهَرُ أُلَذُّ الْمَنامِ، وَ الْجُوعُ یَزیدُ فى طیبِ الطَّعامِ. 3
3. امام علی النقی (علیہ السلام): شب بیداری، نیند كو بے حد لذیذ بنا دیتی ہے اور بھوك غذا كے ذائقہ كو دو چند كر دیتی ہے ۔

4. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): لا تَطْلُبِ الصَّفا مِمَّنْ كَدِرْتَ عَلَیْهِ، وَلاَ النُّصْحَ مِمَّنْ صَرَفْتَ سُوءَ ظَنِّكَ إلَیْهِ، فَإنَّما قَلْبُ غَیْرِكَ كَقَلْبِكَ لَهُ. 4
4 . امام علی النقی (علیہ السلام): جس سے كینہ ركھتے ہو اس سے محبت كی تلاش میں نہ رہو ۔ جس سے بد گمان ہو اس س خیر خواہی كی امید نہ ركھو اس لئے كہ دوسرے كا دل بھی تمہارے دل كے مانند ہے۔

5. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْحَسَدُ ماحِقُ الْحَسَناتِ، وَالزَّهْوُ جالِبُ الْمَقْتِ، وَالْعُجْبُ صارِفٌ عَنْ طَلَبِ الْعِلْمِ داع إلَى الْغَمْطِ وَالْجَهْلِ، وَالبُخْلُ أذَمُّ الاْخْلاقِ، وَالطَّمَعُ سَجیَّةٌ سَیِّئَةٌ. 5
5. امام علی النقی (علیہ السلام): حسد نیكیوں كو تباہ كرنے والا ہے، غرور، دشمنی لانے والا ہے، خودبینی، تحصیل علم سے مانع اور پستی و نادانی كی طرف كھینچنے والی ہے اور كنجوسی بڑا مذموم اخلاق ہے، اور لالچ بڑی بری صفت ہے ۔

6. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْهَزْلُ فكاهَةُ السُّفَهاءِ، وَ صَناعَةُ الْجُهّالِ. 6
6. امام علی النقی (علیہ السلام): تمسخر، سفیہوں كا شیوہ اور جاہلوں كا پیشہ ہے ۔

7. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الدُّنْیا سُوقٌ رَبِحَ فیها قَوْمٌ وَ خَسِرَ آخَرُونَ. 7
7. امام علی النقی (علیہ السلام): دنیا ایك بازار ہے جس میں ایك گروہ نے فائدہ تو دوسرے نے نقصان اٹھایا ہے۔

8. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): النّاسُ فِی الدُّنْیا بِالاْمْوالِ وَ فِى الاْخِرَةِ بِالاْعْمالِ.8
8. امام علی النقی (علیہ السلام): لوگوں كی حیثیت دنیا میں مال سے اور آخرت میں اعمال سے ہے ۔

9. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مُخالَطَةُ الاْشْرارِ تَدُلُّ عَلى شِرارِ مَنْ یُخالِطُهُمْ. 9
9. امام علی النقی (علیہ السلام): بُرے لوگوں كی ہمنشینی ہہمنشیں ہونے والے كی شر پسندی پر دلالت كرتی ہے ۔

10. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): أهْلُ قُمْ وَ أهْلُ آبَةِ مَغْفُورٌ لَهُمْ، لِزیارَتِهِمْ لِجَدّى عَلىّ ابْنِ مُوسَى الرِّضا (علیه السلام) بِطُوس، ألا وَ مَنْ زارَهُ فَأصابَهُ فى طَریقِهِ قَطْرَةٌ مِنَ السَّماءِ حَرَّمَ جَسَدَهُ عَلَى النّار . 10
10. امام علی النقی (علیہ السلام): قم اور آبہ كے لوگوں كی مغفرت ہوچكی ہے كیونكہ وہ لوگ طوس میں میرے جد بزرگوار حضرت امام علی رضا علیہ السلام كی زیارت كو جاتے ہیں ۔ آگاہ ہو جاؤ كہ جو بھی ان كی زیارت كرے اور راستے میں آسمان سے ایك قطرہ اس پر پڑجائے (كسی مشكل سے دوچار ہوجائے)تواس كا جسم آتش جہنم پر حرام ہو جاتا ہے ۔

11. عَنْ یَعْقُوبِ بْنِ السِّكیتْ، قالَ: سَألْتُ أبَاالْحَسَنِ الْهادی (علیه السلام :(ما بالُ الْقُرْآنِ لا یَزْدادُ عَلَى النَّشْرِ وَالدَّرْسِ إلاّ غَضاضَة؟
قالَ (ع): إنَّ اللّهَ تَعالى لَمْ یَجْعَلْهُ لِزَمان دُونَ زَمان، وَلالِناس دُونَ ناس، فَهُوَ فى كُلِّ زَمان جَدیدٌ وَ عِنْدَ كُلِّ قَوْم غَضٌّ إلى یَوْمِ الْقِیامَةِ. 11
11. حضرت امام علی نقی علیہ السلام كے ایك صحابی جناب ابن سكیت كہتے ہیں كہ میں نے امام (ع) سے سوال كیا كہ كیا وجہ ہے كہ قرآن مجید نشر واشاعت درس وبحث سے مزید ترو تازہ ہوجاتا ہے؟ امام(ع) نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اسے كسی خاص زمانے اور خاص افراد سے مخصو ص نہیں كیا ہے وہ ہر زمانے میں نیا اور قیامت تك ہر قوم و گروہ كے پاس ترو تازہ رہے گا۔

12. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْغَضَبُ عَلى مَنْ لا تَمْلِكُ عَجْزٌ، وَ عَلى مَنْ تَمْلِكُ لُؤْمٌ. 12
12. امام علی النقی (علیہ السلام): جس پر تمہارا تسلط نہیں اس پر غصہ ہونا عاجزی ہے اور جس پر تسلط ہے اس پر غصہ ہونا پستی ہے ۔

13. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): یَاْتى عَلماءُ شیعَتِنا الْقَوّامُونَ بِضُعَفاءِ مُحِبّینا وَ أهْلِ وِلایَتِنا یَوْمَ الْقِیامَةِ، وَالاْنْوارُ تَسْطَعُ مِنْ تیجانِهِمْ. 13
13. امام علی النقی (علیہ السلام): ہمارے شیعہ علماء جو ہمارے كمزور محبوں اور ہماری ولایت كا اقرار كرنے والوں كی سرپرستی كرتے ہیں بروز قیامت اس انداز میں وارد ہوں گے كہ ان كے سر كے تاج سے نور كی شعاعیں نكل رہی ہوں گی۔

14. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنۡ جَمَعَ لَكَ وُدَّہ وَ رَأیَہ فَاجۡمَعۡ لَہ طَاعَتَكَ. 14
14. حضرت امام علی نقی علیہ السلام: جو بھی تم سے دوستی كا دم بھرے اور نیك مشورہ دے تم اپنے پورے وجود كے ساتھ اسكی اطاعت كرو ۔

15. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): التَّسْریحُ بِمِشْطِ الْعاجِ یُنْبُتُ الشَّعْرَ فِى الرَّأسِ، وَ یَطْرُدُ الدُّودَ مِنَ الدِّماغِ، وَ یُطْفِىءُ الْمِرارَ، وَ یَتَّقِى اللِّثةَ وَ الْعَمُورَ. 15
15. امام علی النقی (علیہ السلام): عاجكی كنگھی سے سر میں بال اگتا ہے، دماغ كے كیڑے ختم ہوتے ہیں صفرا، ٹھنڈا پڑجاتا ہے، اورجبڑے كی سلامتی اور اس كی مضبوطی كا باعث ہے ۔

16. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اُذكُرْ مَصْرَعَكَ بَیْنَ یَدَىْ أهْلِكَ لا طَبیبٌ یَمْنَعُكَ، وَ لا حَبیبٌ یَنْفَعُكَ. 16
16. امام علی النقی (علیہ السلام): اپنے گھر والوں كے سامنے (حالت اختصار میں لاچار) پڑنے رہنے كو یاد كرو كہ نہ طبیب تمہیں (مرنے سے) سے روك سكتا ہے اور نہ حبیب (دوست) تمہیں كوئی فائدہ پہنچا سكتا ہے۔

17. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): إنَّ الْحَرامَ لا یَنْمى، وَإنْ نَمى لا یُبارَكُ فیهِ، وَ ما أَنْفَقَهُ لَمْ یُؤْجَرْ عَلَیْهِ، وَ ما خَلَّفَهُ كانَ زادَهُ إلَى النّارِ. 17
17. امام علی النقی (علیہ السلام): حرام (چیز) رشد ونمو نہیں كرتی اور اگر رشد ونمو كرے بھی تو اس میں بركت نہیں ہوتی، اگر اسے انفاق كردیا جائے تو كوئی اجر وثواب نہیں ملتا اوراگر (ورثہ میں) چھوڑ جائے تو جہنم كی زاد راہ بن جاتی ہے ۔

18. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اَلْحِكْمَةُ لا تَنْجَعُ فِى الطِّباعِ الْفاسِدَةِ. 18
18. امام علی النقی (علیہ السلام): حكمت فاسد مزاج لوگوں كے اندر میں اثر انداز نہیں ہوتی۔

19. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنْ رَضِىَ عَنْ نَفْسِهِ كَثُرَ السّاخِطُونَ عَلَیْهِ. 19
19. امام علی النقی (علیہ السلام): جو اپنے آپ سے راضی و خوشنود ہوتا ہے اس پر غصہ كرنے والوں كی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے ۔

20. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اَلْمُصیبَةُ لِلصّابِرِ واحِدَةٌ وَ لِلْجازِعِ اِثْنَتان. 20
20. امام علی النقی (علیہ السلام): صبر كرنے والے كے لئے ایك مصیبت اور جزع و فزع كرنے والے كے لئے دوہڑی مصیبت ہے۔

21. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اِنّ لِلّهِ بِقاعاً یُحِبُّ أنْ یُدْعى فیها فَیَسْتَجیبُ لِمَنْ دَعاهُ، وَالْحیرُ مِنْها. 21
21. امام علی النقی (علیہ السلام): خدا كے كچھ (خاص)اماكن ہیں جہاں اسے پكارا جانا پسند ہے لہٰذا جو ان میں خدا كو پكارتا ہے خدا اس كی سن لیتا ہے اور حائر حسینی (ع) ان میں سے ایك ہے ۔

22. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اِنّ اللّهَ هُوَ الْمُثیبُ وَالْمُعاقِبُ وَالْمُجازى بِالاَْعْمالِ عاجِلاً وَآجِلاً. 22
22. امام علی النقی (علیہ السلام): خدا ہی ثواب وعقاب دینے والا اور اعمال كی جلد یا دیر میں جزا و سزا دینے والا ہے ۔

23. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَنْ هانَتْ عَلَیْهِ نَفْسُهُ فَلا تَأمَنْ شَرَّهُ. 23
23. امام علی النقی (علیہ السلام): جس كانفس پست ہو جائے اس كے شر سے اپنے كو محفوظ سمجھو ۔

24. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اَلتَّواضُعُ أنْ تُعْطَیَ النّاسَ ما تُحِبُّ أنْ تُعْطاهُ. 24
24. امام علی النقی (علیہ السلام): فروتنی یہ ہے كہ لوگوں كو وہی چیزیں عطا كرو جسے پانا تم خود پسند كرتے ہو ۔

25. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اُذكُر حَسَراتِ التَّفریطِ بِأخذ تَقدیمِ الحَزمِ . 25
25. امام علی النقی (علیہ السلام): كوتاہی كی حسرتوں كو دور اندیشی كرنے كے ذریعہ یاد كرو ۔

26. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): لَمْ یَزَلِ اللّهُ وَحْدَهُ لا شَیْئىٌ مَعَهُ، ثُمَّ خَلَقَ الاَْشْیاءَ بَدیعاً، وَاخْتارَ لِنَفْسِهِ أحْسَنَ الاْسْماء. 26
26. امام علی النقی (علیہ السلام): خدا وند متعال ازل سے تنہا تھا اور اس كا كوئی شریك نہیں تھا پھر اس نے اشیاء كو خلق كیا اور اپنے لئے بہترین اسماء كو انتخاب كیا۔

27. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اِذا قامَ الْقائِمُ یَقْضى بَیْنَ النّاسِ بِعِلْمِهِ كَقَضاءِ داوُد (علیه السلام)وَ لا یَسْئَلُ الْبَیِّنَةَ. 27
27. امام علی النقی (علیہ السلام): جب حضرت قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ظہور كریں گے تو اپنے علم كی بنیاد پر لوگوں كے درمیان فیصلہ كریں گے جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام فیصلہ كرتے تھے اور گواہ طلب نہیں كریں گے ۔

28. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اَلمُؤمِنُ یَحتاجُ إلى تَوفیقٍ مِنَ اللَّهِ و واعِظٍ مِن نَفسِهِ وقَبولٍ مِمَّن یَنصَحُهُ. 28
28. امام علی النقی (علیہ السلام): مومن، خدا كی طرف سے توفیق اور اپنے نفس كی طرف سے نصیحت اور نصیحت كرنے والے كی طرف سے نصیحت قبول كرنے كا محتاج ہے ۔

29. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اَلْعِلْمُ وِراثَةٌ كَریمَةٌ وَالاْدَبُ حُلَلٌ حِسانٌ، وَالْفِكْرَةُ مِرْآتٌ صافَیةٌ. 29
29. امام علی النقی (علیہ السلام): علم كریم میراث ہے اور ادب خوبصورت زیور ہیں اور فكر صاف وشفاف آئینہ ہے ۔

30. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْعُجْبُ صارِفٌ عَنْ طَلَبِ الْعِلْمِ، داع إلىَ الْغَمْطِ وَ الْجَهْلِ. 30
30. امام علی النقی (علیہ السلام): خود بینی علم حاصل كرنے سے مانع ھوتی ھے اور جہالت و نادانی كی دعوت دیتی ھے۔

31. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): لا تُخَیِّبْ راجیكَ فَیَمْقُتَكَ اللّهُ وَ یُعادیكَ. 31
31. امام علی النقی (علیہ السلام): اپنے سے امید ركھنے والے كو نا امید نہ كرو كہ خدا تم سے ناراض ھوكر تم سے دشمنی كرنے لگے ۔

32. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْعِتابُ مِفْتاحُ التَّقالى، وَالعِتابُ خَیْرٌ مِنَ الْحِقْدِ. 32
32. امام علی النقی (علیہ السلام): سرزنش، غصہ كی كنجی ہے (لیكن )سرزنش، كینہ ركھنے سے بہتر ہے ۔

33. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): مَا اسْتَراحَ ذُو الْحِرْصِ. 33
33. امام علی النقی (علیہ السلام): لالچی كو كبھی چین نہیں ملتا ۔

34. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الْغِنى قِلَّةُ تَمَنّیكَ، وَالرّضا بِما یَكْفیكَ، وَ الْفَقْرُ شَرَهُ النّفْسِ وَ شِدَّةُ القُنُوطِ، وَالدِّقَّةُ إتّباعُ الْیَسیرِ وَالنَّظَرُ فِى الْحَقیرِ. 34
34. امام علی النقی (علیہ السلام): بے نیازی، كم آرزؤں كی قلت سے حاصل ہوتی ہے اور محتاجی، نفس كے لالچی پن اور شدت سے مایوسی۔

35. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الاِْمامُ بَعْدى الْحَسَنِ، وَ بَعْدَهُ ابْنُهُ الْقائِمُ الَّذى یَمْلاَُ الاَْرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً كَما مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً. 35
35. امام علی النقی (علیہ السلام): میرے بعد حسن (عسكری)امام ہیں اور ان كے بعد ان كے بیٹے قائمامام ہیں جو زمین كو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چكی ہوگی۔

36. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): إذا كانَ زَمانُ الْعَدْلِ فیهِ أغْلَبُ مِنَ الْجَوْرِ فَحَرامٌ أنْ یُظُنَّ بِأحَد سُوءاً حَتّى یُعْلَمَ ذلِكَ مِنْهُ. 36
36. امام علی النقی (علیہ السلام): جس زمانے میں عدل وانصاف كا غلبہ ظلم و ستم سے زیادہ ہو تو كسی كے بارے میں برائی كا گمان كرنا حرام ہے یہاں تك كہ برائی كا یقین حاصل ہو جائے۔

37. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): إنَّ لِشیعَتِنا بِوِلایَتِنا لَعِصْمَةٌ، لَوْ سَلَكُوا بِها فى لُجَّةِ الْبِحارِ الْغامِرَةِ. 37
37. امام علی النقی (علیہ السلام): ہمارے شیعوں كے لئے ہماری ولایت پناہ گاہ ہے كہ جس كے ذریعہ وہ اتھاہ سمندروں كی موجوں میں بھی چل سكتے ہیں ۔

38. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): یا داوُدُ لَوْ قُلْتَ: إنَّ تارِكَ التَّقیَّةَ كَتارِكِ الصَّلاةِ لَكُنتَ صادِقاً. 38
38. امام علی النقی (علیہ السلام): اے داؤد اگر تم یہ كہو كہ (تقیہ كے موقع پر) تقیہ چھوڑنے والا بے نمازی كے مانند ہے تو تم سچے ہو ۔

39. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): الحلم أنْ تَمْلِكَ نَفْسَكَ وَ تَكْظِمَ غَیْظَكَ، وَ لا یَكُونَ ذلَكَ إلاّ مَعَ الْقُدْرَةِ. 39
39. امام علی النقی (علیہ السلام): حلم یہ ہے كہ اپنے نفس پر قابو ركھو اپنے غصہ كو پی جاؤ یہ قدرت و توانائی كے بغیر ممكن نہیں ھے۔

40. قَالَ الاِمَامُ عَلِّیِ النَقِیّ (عَلیَہِ السَّلَامُ): اِنّ اللّهَ جَعَلَ الدّنیا دارَ بَلْوى وَالاْخِرَةَ دارَ عُقْبى، وَ جَعَلَ بَلْوى الدّنیا لِثوابِ الاْخِرَةِ سَبَباً وَ ثَوابَ الاْخِرَةِ مِنْ بَلْوَى الدّنیا عِوَضاً . 40
40. امام علی النقی (علیہ السلام): اللہ نے دنیا كو بلاؤں كا گھر اور آخرت كو نتائج كا گھر قرار دیا ہے اور دنیا كی بلاؤں كو آخرت كے ثواب كا سبب اور آخرت كے ثواب كو دنیا كی بلاؤں كا عوض قرار دیا ہے ۔
———-
1. بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۶۸، ص۱۸۲۔ اعیان الشیعہ سید محسن امین عاملی، ج۲، ص۳۹۔
2. عدة الداعی؛ ابن فہد حلی، ص۲۰۸۔
3. بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی،ج۶۹،ص ۱۷۲۔
4. بحار الانوار: ج۷۵، ص ۳۶۹ ح۴۔ اعلام الدین؛ ابو الحسن دیلمی،ص ۳۱۲س ۱۴۔
5. بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۶۹، ص۱۹۹ح۲۷۔
6. الدرۃ الباھرۃ ؛ ص۴۲، س۵۔ بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی،ج ۷۵، ص۳۶۹، ح۲۰۔
7. اعیان الشیعۃ؛ سید محسن امین عاملی، ص۲، ص۳۹۔تحف العقول؛ ابن شعبہ حرانی، ص۴۳۸۔
8. اعیان الشیعۃ؛ سید محسن امین عاملی، ج۲، ص۳۹۔ بحار الانوار: ج۱۷۔
9. مستدرك الوسائل؛ میرزا حسین نوری، ج۱۲، ص۳۰۸، ح۱۴۱۶۲۔
10. عیون اخبار الرضا(ع)؛ شیخ صدوق، ج۲، ص۲۶۰، ح۲۲۔
11. الامالی؛ شیخ طوسی، ج ۲، ص۵۸۰، ح۸۔
12. مستدرك الوسائل؛ میرزا حسین نوری، ج۱۲، ص۱۱، ۱۳۳۷۶۔
13. بحار الانوار: ج۲، ص۶، ضمن ح۱۳۔
14. تحف العقول، ص ۸۸۰
15. بحار الانوار: ج۷۳، ص۱۱۴، ح۱۶۔
16. اعلام الدین؛ ابو الحسن دیلمی، ص۳۱۱، س۱۶۔ بحار الانوار: ج ۷۵، ص۳۶۹، ح۴۔
17. الكافی؛ ثقۃ الاسلام كلینی، ج۵، ص۱۲۵، ح۷۔
18. نزهۃالناظر و تنبیہ الخاطر؛ ص۱۴۱، ح۲۳۔ اعلام الدین؛ ابو الحسن دیلمی، ص۳۱۱، س۲۰۔
19. بحار الانوار: ج۶۹، ص۳۱۶، ح۲۴۔
20. اعلام الدین؛ ابو الحسن دیلمی، ص۳۱۱، س۴۔ بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی ،ج۷۵، ص۳۶۹۔
21. تحف العقول؛ ابن شعبہ حرانی، ص۳۵۷۔ بحار الانوار: ج۹۸، ص ۱۳۰، ضمن ح ۳۴۔
22. تحف العقول؛ ابن شعبہ حرانی، ص۳۵۸۔ بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی، ج۵۹، ص۲، ضمن ح۶۔
23. تحف العقول؛ ابن شعبہ حرانی، ص ۳۸۳۔ بحار الانوار: ج۷۵، ص۳۶۵۔
24. المحجۃ البیضاء؛ فیض كاشانی، ج۵، ص۲۲۵۔
25. بحار الأنوار، ج 75، ص 370
26. بحارالانوار: ج 57، ص 83، ح 64.
27. بحار الانوار: ج ۵۰، ص۲۶۴۔ ح۲۴۔
28. تحف العقول، ص 457
29. بحار الانوار: ج۷۱، ص۳۲۴۔
30. بحار الانوار: ج۷۵، ص۳۶۹، س۴۔
31. بحار الانوار: ج۷۵، ص۱۷۳، ح۲۔
32. نزھۃ الناظر؛ ص۱۳۹، ح۱۲ بحار الانوار، ج۷۸، ص۳۶۸، ضمن ح۳۔
33. نزھۃ الناظر وتنبیہ الخاطر؛ ص۱۴۱، ح۲۱۔ مستدرك الوسائل؛ میرزا حسین نوری، ۲، ص۳۳۶، ح۱۱۔
34. الدّرّة الباهرة: ص 14، نزهة الناظر: ص 138، ح 7، بحار: ج 75، ص 109، ح 12.
35. بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی،،ج ۵۰، ص۲۳۹، ح۴۔
36. بحار الانوار: ج۷۳، ۱۹۷، ح۱۷۔ الدرة الباھرة؛ ص۴۲، س۱۰۔
37. بحار الانوار: ج۵۰، ص۲۱۵، ح۱، س۱۸۔
38. وسائل الشیعۃ؛ شیخ حر عاملی، ج۱۶، ص۲۱۱، ح۲۱۳۸۲۔ مستطرفات السرائر ؛ ابن ادریس حلی، ص۶۷، ح۱۰۔
39. نزھۃ الناظر وتنبیہ الخاطر؛ ص۱۳۸، ح۵۔ مستدرك الوسائل؛ میرزا حسین نوری، ج۲، ص۳۰۴، ح۱۷۔
40. تحف العقول؛ ابن شعبہ حرانی، ص۳۵۸۔