پیغامِ کربلا کے عصری تقاضے

( فدا حسین بالہامی)

شہنشاہ کربلا کے عالم انسانیت پر بالعموم اور دنیائے اسلام پر بالخصوص مخفی و آشکار احسانات کا کاملاً ا حاطہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ احسانات بھی ایسے جو کثیرالجہت اور عالم گیر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اولاد آدم میں سے ایک بڑی جمعیت اپنے اس محسن کے اسم مبارک سے بھی ناآشنا ہے اور بہت سے انسان احسان فراموشی کا اس حوالے سے دیدہ دانستہ مرتکب ہو رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو مبلغ اسلام گرداننے والے کچھ افراد موجودہ دور میں بھی ’’رضی اللہ ‘‘ کی چادر سے قاتلِ حسین (ع) کی ’’عریان تصویر ‘‘ کو ڈھانپنا چاہتے ہیں۔ خیر کوئی معترف ہو یا نہ ہو امام عالی مقام نے پیغمبر اسلام کے مشن کو بچانے کیلئے عظیم قربانی پیش کر کے ثابت کر دیا کہ آپ علیہ السلام محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں اس لحاظ سے انسانیت کی گردن امام حسین علیہ السلام کے احسانات سے تاقیام قیامت زیر بار رہے گی، بہرکیف جوں جوں انسان احسان مندی کی بو خو سے مانوس ہوتا جائے گا۔ وہ خونِ حسین کی ہر بوند کا قدرشناس ہوتا جائے گا۔ شرط یہ ہے کہ فی الواقع کربلا کی نمائندگی کے دعوے دار اپنی اس سہ گونہ مسؤلیت کی حساسیت و اہمیت کو جان لیں اور اسکو پورا کرنے کی سعی کریں۔ جس کی مبادیات پر ذیل میں بحث ہو گی۔

۱۔۔پیغام کربلا کی تفہیم
۲۔۔پیغام کربلا کی ابلاغ و ترسیل
۳۔۔پیغام کربلا کی عصری حالات پر تطبیق

۱۔۔پیغام کربلا کی تفہیم:۔
جہاں تک اول الذکر مسؤلیت کا تعلق ہے۔ تحریک کربلا کے اصل مدعا و مقصد کو سمجھنے کیلئے لازمی ہے کہ کربلا کا مطالعہ اس کے صاف و شفاف منابع سے ہی کیا جائے۔ اس حوالے سے یہ کہنا بے محل نہیں ہے کہ کربلا میں امام علیہ السلام اور یاوران امام پر جو مظالم ڈھائے گئے۔ ان کا اختتام کربلا ہی میں نہ ہوا بلکہ ان کی نوعیت وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی گئی اور آگے جاکر یہ مظالم ایک نئی صورت میں وقوع پذیر ہوئے، یعنی کربلا کے جانبازوں کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بہت سی بے سروپا روایات کا ڈھیر لگا دیا گیا۔ تاکہ پیغام کربلا اور حسینی مشن کا مقصد اسی ڈھیر کے نیچے دب کر رہ جائے۔

ایک ایسی حقیقت جس کو انسانی تاریخ نے عالم شباب میں اپنی پُربصارت آنکھوں سے دیکھا تھا اس حقیقت کو خرافات کی نذر کرنے کیلئے کئی بار منظم سازشیں کی گئیں۔ ان سازشوں میں ایک سازش یہ بھی تھی کہ اس حقیقتِ کربلا کو افسانوی رنگ میں رنگ دیا جائے۔ بہت سی افسانوی داستانیں کربلا کے ساتھ منسوب ہوئیں۔ ان داستانوں کی کھوج اسلامی تاریخ میں کیجئے۔ تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ تھک جائیں گے لیکن کہیں پر ان کا سراغ نہیں مل پائے گا۔ ان افسانوں، داستانوں اور غیر مستند روایات کا پول سیرت امام حسین (ع) اور ان کے اعوان و انصار کے کردار سے بھی کھل جاتا ہے۔ بعض دفعہ چند ایسی روایات اور واقعات سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔ جو قطعی طور سیرت سید الشہدا (ع)، کردارِ اصحابِ امام حسین اور شعارِ اہلبیت سے میل نہیں کھاتے۔ مثال کے طور پر کیا یہ بات تضاد بیانی پر محمول نہیں ہوگی کہ ایک طرف ہم صبر حسین کے مدح سرا بھی ہوں اور دوسری جانب ایسی روایتوں پر سینہ کوبی کریں جس میں امام یا ان کے اولاد و اعوان یہاں تک محذرات کے تئیں انتہائی بے صبری کی منظر کشی کی گئی ہو۔ عمومی لحاظ سے بھی کسی تاریخی واقعے کے متعلق حتماً یہ دعوی کرنا مبادی العلومِ تاریخ سے ناواقفیت کی علامت ہے کہ فلاں واقع بدطینت افراد کی دست برد سے کلیتاً محفوظ رہا ہے۔ علی الخصوص جب کوئی واقعہ اغیار کی آنکھ کا کانٹا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنوں کے حقیر مفادات کی حصول یابی کا ذریعہ بن جائے۔ اس لحاظ سے تفہیمِ کربلا ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ یہ کام اسلامی تاریخ اور سیرتِ ائمہ سے کماحقہ آشنائی کا طالب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پر خلوص اور بابصیرت علما کرام نے وقتا فوقتاواقعہ کربلاکی (بعض گوشوں کے حوالے سے) تحریف کا انکشاف کیا ہے۔

اس سلسلے میں گذشتہ ادوار میں چند ایک قابل قدر علماومجتہدین نے اپنی تحقیقی بصیرت سے بہت سے واقعات و روایات کو نشان زد کیا ہے۔ دورِ حاضر کے بہت سے مفکرین اور محقیقین نے بھی کتابِ کربلا سے تحریف کی دھول جھاڑنے کی بساط بھر کوشش کی ہے۔ ان علما کرام، دانشمند حضرات اور مجتہدینِ عظام میں سے شہید مرتضی مطہری (رہ) کو امتیازی حیثیت کے حاصل ہیں۔ جس زاویہ نظر سے انہوں نے کربلا کو دیکھا اور اس کے دقیق پہلووں کو مورد بحث ٹھہرایا ہے۔ اسکی نظیر خال خال ہی نظرآتی ہے۔ علی الخصوص تحریف کربلا کے حوالے سے ان کے آثار میں بہت سے جدید انکشافات نظر سے گزرتے ہیں۔ انہوں نے جس دلیری سے اپنے زبان و قلم کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ اس سے کربلا پر نظر دوڑانے والوں کو ایک نیا کینوس ملا، ایک نیا زاویہ نگاہ اور نئی فکری افق فراہم ہوئی ہے۔ شہید موصوف نے اپنی نوکِ قلم سے بہت سے غیر حقیقی داستانوں کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا ہے۔ جس سے تفہیم کربلا کا حقیقی رخ اور زیادہ نمایاں ہوگیا ہے۔

پیغام کربلا کی تفہیم کیلئے کافی اہم ہے کہ شہید موصوف کے زاویہ نگاہ سے استفادہ کیا جائے۔ کسی نابغہ روزگار شخصیت کے افکار و آثار سے استفادہ کئے بغیر کربلا شناسی میں خطا سے دوچار ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ زاویہ نگاہ فراہم کرنا اعلی پایہ دیدہ وروں کا کام ہے اور اس قبیل کے دیدہ ور پیدا کرنا ہر دور کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ بلاشبہ ان کو جدید استعاراتی تناظر میں "فکری سیٹلائٹ ” کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ فکری لحاظ سے کافی بلندی پر جاکر حیات و کائنات کی مختلف جہات کا مشاہدہ و مطالعہ کرنا ایک منفرد وظیفہ ہے یہ وظیفہ علامہ مرتضی مطہری جیسے دیدہ ور اور مفکر سے ہی تکمیل پاتا ہے۔ جس طرح سیٹلائٹ (Satellite) عام سطح سے کافی اونچائی پر جاکر ہماری زمین کے گوشہ و کنار کے متعلق ہمیں مختلف جدید آلات کے ذریعے اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ بعینہِ ایک قومی مفکر عامیانہ فکری سطح سے اوپر اٹھ کر حیات و کائنات کے مختلف گوشوں کو دیکھتا ہے اور تفکر کے نشیب میں بیٹھی انسانی جمعیت کو نادر اور نامعلوم افکار سے روشناس کراتا ہے۔ شہید مطہری نے اسی فکری بلندی سے اپنی بلند نگاہی کربلا پر مرکوز(Focus) کی۔ اور بہت سے پوشیدہ گوشے منکشف کر دیئے۔ المختصر واقعات کربلا کا مطالعہ کرنا ایک اہم وظیفہ ہے مگر اس بھی اہم وظیفہ یہ ہے کہ کربلا کی تفہیم سے قبل ایک بےلاگ فکری رہنما کا تعین کیا جائے تاکہ تذکرہ کربلا کے حقیقی رجحان کو فروغ ملے اور خرافات سے یہ بیش بہا اثاثہ پاک ہو۔

۲۔پیغام کربلا کی تشہیر وترسیل:
تفہیم اور ترسیل کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے جو بات، خیال، فکر، ادراک، اور معلومات انسانی ذہن میں درجہ اجابت اور تقدیس کے مقام تک پہنچ جائیں ان کی حتی الوسع تشہیر و ترسیل انسان کی فطری ضرورت بن جاتی ہے۔ بروقت اور شایان شان وسیلہ اظہار مل جائے تو ایک ذہنی آسودگی اور روحانی کیف سے انسان لطف اندوز ہوتا ہے، یہی فکری و ذہنی اثاثہ اسکی باطنی دنیا میں ہیجان انگیزی کی فضا قائم کردیتا ہے جو بعض دفعہ عجیب و غریب حرکات و سکنات کی صورت میں اظہار پاتی ہے۔ کتاب کربلا مفاہیم اور جذبات کا ایک بیش بہا خزینہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، مفاہیم اور جذبات کے اس بحر پرذخار [کربلا] میں غوطہ زن ہونے والے”غواصِ مودت "کو "درد آگہی” اور”کرب مصائب "جیسے دو گراںبہا موتی ہاتھ آ جاتے ہیں جن کی نمائش کے لئے عجب نہیں ہے کہ وہ دیار بہ دیار اور کوچہ و بازار آہ و فغاں کر تا پھرے۔

سوز و گداز اور علم و آگہی میں بےچینی قدر مشترک ہے۔ کربلا اس قدر مشترک یعنی دوگانہ بےچینی کے عروج کا نام ہے۔ پس یہ امر انسانی فطرت سے کوسوں بعید ہے کہ کربلا کے درد و کرب اور عرفان و آگہی سے کسی حدتک آشنا فرد پر زبان بندی کی تعزیرِ بےجا لگائی جائے، بےجا نکتہ چینوں کے لئے یہ ضرب المثل کافی ہے "ملکی کیا جانے پرائے دل کی” البتہ تشہیرِ کربلا ایک ایسا عمل ہے۔ جس سے عہدہ برآں ہونا اصل میں علماِ دین کا ہی وظیفہ ہے، لیکن تبلیغ و تشہیر کے وسیع تر مفہوم کے پیش نظر ہر وہ شخص اپنی بساط کے مطابق اس کام میں مصروف ہے۔ جو کربلا کی یاد حتی الوسع زندہ رکھنے میں کوشاں رہے۔ یہ عمل تفہیمی مرحلے کا ہی اگلا قدم کہلائے جائے گا۔ کیونکہ جو چیز انسان کے ذہن نشین ہو فطری طور وہ اسے دوسرے انسانوں تک منتقل کرنے کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے۔ جو لوگ فکر عاشورا سے آشنا ہوئے وہ ہر صورت اس کی ترسیل و ترویج کیلئے بھی کوشاں ہوں گے۔ البتہ تبلیغی اور ترسیلی کاوشیں حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہیں۔

ذکرِ حسین شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنے کے مترادف ہے خدانخواستہ اگر یہ تبلیغی کاوشیں مبنی پر اغلاط ہوں تو انفرادی معاملہ اجتماعی سرحدوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ ذاتی غلط فہمی اور فکری کج روی کے معاشرتی اور سماجی بلکہ ملی سطح پرمنفی نتائج مراتب ہوسکتے ہیں۔ اس لحاظ سے مبلغین واعظین اور ذاکرین کی معمولی سے معمولی غلط بیانی کا خمیازہ بڑے پیمانے پر قومی تہذیب و ثقافت اور ملت کے فکری نظام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ روحِ حسینیت سے واقف کوئی بھی شخص اس حقیقت کا منکر نہیں ہو سکتا ہے کہ تحریک کربلا ذوقِ عمل کو جلا بخشنے کا بےبدل وسیلہ ہے۔ کربلا سوئے ہووں کو جگانے اور جاگے ہووں کو میدانِ عمل میں کودنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کی تاثیر سے زنگ آلود اذہان میں بھی فکرنو کی شمعیں روشن ہوگئیں اور خوف و دہشت کے مارے قلوب شجاعت کی چاشنی سے آشنا ہوئے۔ مگر کم سواد ذاکرین و واعظین کی کرشمہ سازی دیکھئے انہوں نے کربلا اور امام عالی مقام کی قربانی کو منفی انداز میں پیش کیا۔ نتیجتاً امام حسین علیہ السلام سے عقیدت رکھنے والے بعض افراد کے عقیدے میں یہ باطل خیال رچ بس گیا ہے کہ معاذاللہ خونِ حسین علیہ السلام اصل میں ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ آپ علیہ السلام نے جو اتنی بڑی قربانی سے ہماری نجات کا پروانہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا تو پھر ہاتھ پیر مارنے کی کیا ضرورت ہے۔

یقیناً امام حسین علیہ السلام بمطابقِ حدیث پیغمبر ’’ نجات کی کشتی ‘‘ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ کہ محض نام حسین علیہ السلام کو ورد زباں رکھنے والے خواہ اس نجات کی کشتی کے مخالف سمت ہی محو سفر کیوں نہ ہوں ہر حال میں منزلِ نجات پر لنگرانداز ہوں گے! بےریب و شک امام عالی مقام علیہ السلام پوری امتِ مسلمہ بلکہ اقوام کیلئے باعثِ نجات ہے جیسا کہ علامہ اقبال بھی اس حقیقت کے معترف ہیں۔

نقش اِلا اللہ برصحرا نوشت
سطرِ عنوانِ نجات مانوشت

مگر اس سلسلے میں کچھ شرائط کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس صورتِ حال کو ایک مثال کے ذریعے شاید بہتر انداز میں سمجھایا جاسکتا ہے کہ جان بلب بیمار کے حق میں طبیب نے شفایابی کا ایک بہترین نسخہ تجویز کیا۔ مگر تیماردار نے مریض کو اس نسخے میں درج تجاویز پر عمل کرنے کے بجائے اس بات پر اترانے کی ترغیب دلائی کہ وہ ایک حاذقِ بےمثل سے منسوب ایک بیمار ہے وہ پرہیز کرے یا نہ کرے بہرصورت شفایابی اس کی تقدیر میں رقم ہوچکی ہے۔ بیمار اترانے تک ہی محدود رہا یہاں تک موت کی آغوش میں چلا گیا۔ امام حسین علیہ السلام جیسے طبیبِ خون دہندہ نے اپنے مقدس خونِ جگر سے جاں بلب انسانیت کیلئے نسخۂ سرخ لکھ دیا مگر افسوس خونِ حسین (ع) کے تاجروں نے اس کی قسمت بھی وصولی اور عملی مظاہرے کی راہ میں سنگِ راہ بھی ثابت ہوئے۔ وہی کربلا جو ذوقِ عمل کو جلا بخشنے کا محرک تھی، روحِ حسینیت سے ناآشنا واعظ و ذاکر حضرات نے حرکت و عمل کی روح کو جسد قومی سے یوں نکال دیا جیسے عطر ساز نے گلاب کے پھول سے عرقِ گلاب کشید کیا ہو۔

کیا یہ امر غور طلب نہیں ہے کہ مجلس حسینی میں جو جوش، و لولہ،تحریک، دلسوزی، تجسس، کشمکش، حرارت، یکسوئی، طلاطم، تڑپ اور درد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کا ادنی سا عملی مظاہرہ بھی ان مجالس کو برپا کرنے والے معاشروں میں دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا؟ وجہ صاف ہے۔ اپنے آپ کو پیغامِ حسینی کے پیغام رساں گرداننے والے بیشتر افراد یا مقصدحسینی اور تقاضائے کربلائی سے ناآشنا ہیں یا اپنے حقیر مفادات کی خاطر اس کی صحیح تشہیر و ترسیل میں روڑا اٹکاتے ہیں۔ کسی پس و پیش کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ اگر پیغام حسینی کے مقصد کو صحیح انداز و عنوان میں پیش کیا جاتا تو حسینی مشن سے وابستگی کے دعوے دار معاشروں میں فعالیت کا فقدان نہیں ہوتا۔

کربلا کو اگر روحانی بجلی گھر spiritual power station سے تشبیہہ دی جائے۔ اگر اسے نور و حرار ت کا ایک بڑا منبہ تصور کیا جائے تو یاد کربلا کو تازہ کرنیوالے ذاکر و واعظ کو ترسیلی لائن کہنا بجا ہے جو بظاہر اس روحانی بجلی گھر سے متوصل ہے۔ لیکن ہدایت و حرات کی حامل موجہ برق (Current) کی غیر موجودگی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ترسیلی لائن کہیں نہ کہیں نقص زدہ ہے کیونکہ کربلا جیسے حرارت و نور کے ماخذ میں خرابی یا فیض رسانی میں کمی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح پاور اسٹیشن سے ہمیں حرارت و روشنی ملتی ہے اسی طرح کربلا کے روحانی بجلی گھر (Power Station ) سے انسانیت کو نورہدایت اور جذبہ حرکت فراہم ہونا لابدی ہے بشرطیکہ ترسیلی لائن کے نقائص دور ہوں۔

پیغام رسانی پر مامور حضرات کے طرزِ فکر، انداز تخاطب اور طریقہ کار سے یہ بات مترشح ہے کہ انہوں نے واقعات و روایات کی ہی روشنی میں امام اور یاورانِ امام کے سیرت و کردار کو پیش کرنے کی سعی کی ہے جبکہ اس امر کا متوازن اور احسن طریقہ یہ ہے کہ امام عالی مقام کے سیرت و کردار اور واقعاتِ کربلا کے تقابلی مطالعے سے ان واقعات کی اعتباریت کا پہلے تعین کیا جائے۔ رسالت و امامت کے وسیع و عظیم پس منظر سے بے نیاز ہوکر کربلاکی تفہیم و تشہیر ایسا ہی ہے جیسا کسی متن کو اس کے سیاق و سباق کے بغیر ہی سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ واقعہ کربلا کے تشہیری عمل سے وابسطہ غالب اکثریت کے تحت الشعور میں یہ خیال رچ بس گیا ہے کہ ذکرِ حسین اور تذکرہ شہدا ء نفسیاتی تسکین کا وسیلہ ہے۔ یہ نفسیاتی تسکین حاصل ہو جائے تو ذکر کربلا کا مدعا پورا ہوگیا۔ بالفاظِ دیگر اشک ریزی، نالہ و شیون، نوحہ و ماتم کو ہی ذکرِ کربلا کا مقصد عینی سمجھا گیا۔ ماتم و مراسمِ عزا ،ذکرِ کربلا اور احوالِ امام حسین کا فطری نتیجہ ہے نہ کہ مقصدِ قیامِ حسین ! ذکرِ کربلا کا اصل ہدف پیغام کربلا کی حتی الوسع ابلاغ و ترسیل ہے۔ یعنی انسانیت کا فرد فرد اس عظیم درس سے مانوس ہو جو ریگزارِ کربلا میں شہداء کربلا کے لہو سے رقم ہوا ہے۔

اس بات سے انکار کی جرات کسی بھی حقیقت بین فرد ملت کو نہیں ہو سکتی ہے۔ کہ مجالسِ حسینی میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو آنسو بہاکر نفسیاتی آسودگی حاصل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے ان مجالس سے گوہر مراد حاصل کرلیا۔ نشر و اشاعت اور تبلیغ و وعظ کا محور و مرکز سید الشہدا کے قیام کی غرض و غایت ہونا چاہیئے۔ بین و ماتم ایک ثانوی درجہ رکھتا ہے۔ کربلا کو اس کی غرض و غایت کے ساتھ بڑے ہی خلوص کے ساتھ پیش کیا جائے تو ضرور بہ ضرور ہر قلب سلیم غم زدہ ہو جائے گا اور ہر چشم بصیر تر ہوجائے گی۔ لیکن جب نتیجہ ہی مقصد بن جائے تو کسی بھی عمل کا مقصد فوت ہونا طے ہے۔ مثال کے طور پر عارفوں اور صوفیوں کے یہاں یکسوئی کے ساتھ ذکر اللہ کی کثرت کا ایک طریقہ رائج تھا۔ یعنی جب عارف و صوفی تمام تر ذ ہنی، قلبی، نفسیاتی یکسوئی کے ساتھ ذکر اللہ میں مشغول ہوا کرتے تھے تو ان پر ایک قسم کی مدہوشی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ وہ اپنے آپ سے، پاس پڑوس سے بےخبر ہوجاتے تھے۔ نتیجتاً وہ ایک قسم کی روحانی لذت سے محظوظ ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ ذکر اللہ کے نتیجے میں طاری ہونے والی غنودگی کی کیفیت ہی ہدف بن گئی یعنی پھر اکثر و بیشتر صوفی حضرات اسی لذت سے لطف اندوز ہونے کیلئے ہی کثرتِ ذکر میں محو ہونے لگے۔ وہ عمل جس کا مقصد اللہ کی معرفت اور قرب خداوندی تھا لذت کوشی کا ذریعہ بن گیا۔ پھر کسی عامل سے پوچھا جاتا کہ یہ عمل کیوں کرتے ہو؟ تو وہ جواباً کہتا کہ اس سے روحانی لذت سے نفسیاتی کام و دہن آشنا ہوتا ہے۔

عصر حاضر میں ترسیل و ابلاغ کے جدید ذرائع سے پیغام رسانی کا دائرہ کافی وسیع ہوتا جارہا ہے۔ مبادلہ افکار و آئیڈیلوجیexchange of thought and ideology کی رزمگاہ میں فکری للکار و پکار کی گونج دنیا کے ہر کونے میں سنی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی چھوٹے پیمانے کا عملی یا فکری مظاہرہ ان جدید ذرائع کے حوالے ہو جائے تو آن واحد میں عالمی منظر نامے کی زینت بن جاتا ہے۔ پیامبرانِ کربلا کو اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ ان کی نظر میں سامعین و قارئین کے علاوہ بھی ایک بڑی انسانی جمعیت گوش بر آواز اور نظر بر تحریر ہے۔ جن محافل و مجالس اور تحاریر و تقاریر کو صرف اور صرف اہل عزا کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔ انکو دیکھنے اور سننے والے دیگر اقوام سے وابستہ افراد بھی ہیں۔ لہذا رسوم عزا میں جس قدر پیچیدگی Complication اور الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارا عقیدہ اگریہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت تمام انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے اور ان کے لاثانی کارناموں کا تذکرہ کرنے والے اس حکم پیغمبر (ص)پر عمل پیرا ہے جس میں انہوں نے اصحابِ کبار سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا ’’ھذا حسین فاعرفو‘‘یہ حسین ہے اس کو پہچانو۔ مقامِ تفکر یہ ہے کہ کہیں یہ تذکرہ کرنے والے ہی حسین (ع) اور عالم انسانیت کے درمیان حائل تو نہیں ہے۔ کیا ہماری فرسودہ حرکات و سکنات سے تحریک کربلا دیگر اقوام عالم بلکہ اسلامی مسالک کے لئے چیستان تو نہیں بنی ہے؟ انسانی نفسیات سے کماحقہ شناسا افراد کو شاید ہی یہ بات قبول کرنے میں پس و پیش ہو کہ اگر واقعہ کربلا کو بغیر کسی اشکال و الجھاؤ کے جدید ذرائع کے حوالے کیا جائے تو یہ ضرور انسانی اذہان میں ہی نہیں بلکہ انسانی قلوب میں بھی اپنی جگہ یا لے گا۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اس اثر انگیز واقع سے عالمِ انسانیت مجموعی لحاظ سے غیر واقف کیوں ہے؟ کیونکہ ہم نے بقول علامہ اقبال "غریب و سادہ، رنگین داستانِ حرم” کو مرصع، مسجع، غیر واضع اور پیچ در پیچ مراسم کے ذریعہ بیان کرنے پر اپنی پوری توانائی صرف کردی ہے۔ ان مراسم کے ذریعے جو پیغام دنیا تک پہنچانا مقصود تھا وہ پیغام سیدھے سادھے اور غیر مبہم پیرایہ میں بیان ہوتا تو صورتِ حال دیگر ہوتی۔ شاید اس مثال کے ذریعے بات واضح ہوکہ کسی ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو تحفتاً ایک قیمتی شے ارسال کی لیکن ارسال کردہ شے کو کچھ اس انداز سے Pack کیا کہ اس شے کو لینے والا شخص پیچ در پیچ Package کو کھولتے وقت الجھ کے رہ گیا وہ ایک عقدہ وا کرتا تو دوسرا عقدہ اسے پریشان کردیتا۔ باالآخر اس نے کھول کر اس شے کو دیکھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔ اور اس Pack کو قیمتی شے سمیت طاق نسیاں کے حوالے کردیا۔

پیغامِ کربلا کی عصری حالات پر تطبیق:
ذمہ داری کا آخرالذکر پہلو انتہائی حساس اور اہم ہے۔ تطبیق یعنی کسی ایک شئے کو کسی دوسری شئے، کسی ایک واقعہ کو کسی دوسرے واقعے کے ساتھ، کسی ایک دور کے حالات کو کسی دوسرے دور کے حالات کے روبرو کرنا۔ مثال کے طور پر کسی مومن پر اگر کبھی کسی ظالم حکمران یا نظام کی جانب دباو ڈالا جائے کہ وہ اس کے مظالم میں شرکت کے عوض انعام و اکرام اور دنیاوی عیش و عشرت سے ہمکنار ہو۔ لیکن وہ امام عالی مقام کی انکارِ بیعت اور اس کے نتیجے میں کربلا کے مصائب کو زیر نظر لاکر اس دباو کو خاطر میں نہ لائے نیز تمام ممکنہ مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوجائے تو کہا جائے گا اس نے واقعہ کربلا کو اپنی زندگی کے ساتھ منطبق و منسلک کیا۔ عصری حالات و واقعات پر کسی تاریخی واقعہ کی مطابقت کیلئے شرط اول یہ ہے کہ تاریخی واقعہ زائد المیعاد (Expire) اور دور از کار (Non Function) اور غیر موثر (Ineffective) نہ ہوا ہو۔ ان بنیادی شرائط کے بشمول واقعہ کربلا میں یہ تمام لازمی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

دراصل کربلا محض ایک ٹریجڈی کا نام نہیں (سطحی اور عوامی رائے کے مطابق ) بلکہ ایک منظم تحریک ہے۔ اس تحریک کا اہم اور حیات بخش پہلو اس کا حرکی پہلو (Dynamic Aspect) ہے۔ یہی اس کی پائندگی کا راز ہے۔ اسی سے یہ زمانی و مکانی حدبندیوں سے ماورا ہے، کربلائی تحریک ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر زمان و مکان کا عمومی رویہ تحریک کربلا پر بھی لاگو ہوتا تو گردشِ ایام نے اس کی اہمیت، نوعیت اور حساسیت کو کب کا نابود نہ سہی معدوم ضرور کیا ہوتا۔ تحریک کربلا پورے آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اس کے بطن سے بےشمار چھوٹی بڑی تحریکوں نے جنم لیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے تحریکی رہنماوں کیلئے بھی تحریک inspiration کا باعث بنی۔ اس لحاظ سے تحریکِ کربلا کو بجا طور پر’’ ام التحاریک ‘‘کے عنوان سے بھی یاد کیا جاسکتا ہے۔ گویا کربلائی حرکت، جمود زدگی سے معاشرہ کو نجات دلاکر اس میں تحرک کے عناصر انڈیل دیتی ہے۔ لہذا اس تحریک سے وابستہ افراد (خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں) کیلئے شرط اول یہ یے کہ وہ ہر طرح کی فرسودگی اور جمودزدگی سے مبرا ہوں جب ہی وہ اس تحریک کی نمائندگی کا کسی حد تک ادا کرسکتے ہیں۔ عصری شعور سے نابلد ذاکر و واعظ کی مثال خوابیدہ شخص کی سی ہے جو عالمِ خواب میں دیگر سوئے پڑے افراد کو جگانے کی اس زعم کے تحت سعی کر رہا ہو کہ خود وہ بیدار ہے۔ اس قسم کی بیداری کو غالب نے جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں تہی دست ہے وہ قوم جسکا دامنِ تاریخ سبق آموز اور عبرت انگیز واقعات سے خالی ہوا اور اس بڑھ کر وہ قوم بدقسمت ہے جس کا ماضی اس طرح کے واقعات سے مالا مال ہو اور وہ ان سے استفادہ کرنے سے قاصر ہو۔ ایک جانب ماضی میں واقعہ کربلا کی موجودگی اور دوسری جانب واقعہ کربلا کا تذکرہ کرنے والی قوم کی موجودہ بدحالی دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اس قوم نے کربلا جیسے واقعے کو ذکر تک ہی محدود رکھا ہے۔ اور ہنوز عملی تطبیق کے مرحلے سے کافی دور ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ افراد ملت میں وہ متوازن بصیرت مفقود ہے، جو تاریخ کے مطالعے اور عصری حالات کے مشاہدے سے تشکیل یزید ہوتی ہے۔ نتیجتا یہ لوگ کربلا کے عصری تقاضوں سے بھی نابلد ہیں۔ اس متوازن بصیرت کے فقدان کے سبب ہی ناقابلِ تصور مشاہدات سے آئے دن ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔ چنانچہ یزید صفت انسان اس دور میں حسینی مشن کے علمبرداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور سادہ لوح عزاداروں کی ایک بڑی جمعیت ان کے دام فریب میں بآسانی آجاتی ہے۔ بالفرض خود یزید بھی امام عالی مقام کے نام پر آکر ان کے سامنے دست دراز ہوجائے تو اس کی بھی دل کھول کر معاونت سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس امر کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا کہ کہیں کوئی عصری یزید مجلسِ حسینی کے نام پر امام کے نام لیواوں کا استحصال تو نہیں کررہا ہے کیونکہ

خدا آن ملتی را سروری داد کہ تقدیرش بدستِ خود بنوشت
بہ آں ملت سروکار ندارد کہ دہقانش براے دیگراں کشت

عصری آگہی کو جو یادِ کربلا سے الگ کیا جائے تو محض ایک رسمِ خانقاہی رہ جاتی ہے۔ جو لوگ اس رسمِ خانقاہی میں مست و مگن ہوئے وہ عصری یزیدیت کی شناخت سے تو رہ گئے۔ لہذا ان کے لئے عصری یزیدیت کے خلاف مورچہ بند ہونا ممکن ہے نہ وہ عصری کربلا سے واقف ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی زبانوں پر نام حسین ورد ہوتا ہے لیکن ان کے ہاتھ غیرشعوری طورحسینی مشن کی بیخ کنی میں مصروف ہوتے ہیں۔ تذکرہ کربلا اپنی جگہ ایک ایسا عمل ہے جس کی سعادتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر یاد کربلا کے عصری تقاضوں سے بےاعتنائی ان سعادتوں پر بھی پانی پھیر دیتا ہے۔ کربلا کے عصری تقاضے کیا ہیں؟ اور” صدائے ینصرنا "پر آج کے دور میں کیوںکر لبیک کہا جاسکتا؟ "کل ارض کربلا کل یوم عاشورا "کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ ان چند سوالوں پر بہت زیادہ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سادہ طبعیت لوگ اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کب زمانہ الٹی سمت میں گردش کرنے لگے۔ تاکہ وہی۶۱ ہجری کا زمانہ ہو۔ وہی یزید اور وہی امام ہو، وہی کربلا اور وہی نصرت کی صدا۔ اور وہ اسی ریگزارِ کربلا میں نصرتِ امام کیلئے حاضر ہو جائیں گے۔ لیکن روحِ حسینیت پوری آب و تاب کے ساتھ گردش زمانہ کے رواں دواں ہے، ظاہری ہیئت کے اعتبار سے تغیر پذیر ضرور ہے لیکن اسکی حقیقی روح میں تغیر و تبدل کا شائبہ تک نہیں ہو سکتا ہے، بقولِ اقبال امام عالی مقام کی شخصیت اور تحریک ابدی حقیقت ہے۔ اسی حقیقت کی روشنی میں معاصر حالات پرکھنے کی ضرورت ہے آج بھی جگہ جگہ کربلا برپا ہے بس کربلا کی اصل نوعیت اور عصری بصیرت درکار ہے۔ زمانے کی راہ و روش کے عین مطابق پھر سے کربلا کے درس ہائے رنگا رنگ انسانیت کے گوش گزار کرنے ہوں گے۔ ان دروس کو پیش کرنے سے قبل ہمیں اپنے روایتی طور طریقوں پر بھی طائرانہ نطر دوڑانا ہوگی۔ فرسودگی سے مبرا ایک تازہ دم نظام عزا کو تشکیل دینا ہو گا۔ جس کے لئے مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہے
پرانے ساغرو مینا اگر نہ بدلو گے
کوئی نہ لے گا جو آبِ حیات بھی دو گے
ذرائع اور مقاصد میں فرق ہوتا ہے
یہ نکتہ کب اے فقیہانِ شہر سمجھو گے