کربلا والوں کی آنکھیں

(نذر حافی)

زندگی سے محبت اور موت سے فرار ہر جاندار کی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے انسان کو جہاں جینے کے آداب بتائے وہیں مرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ جس طرح اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد زندگی گزارے اسی طرح اسلام یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد موت کے منہ میں چلا جائے۔ اسلام کے نزدیک انسان کی موت اور زندگی سے بڑھ کر اس کے اہداف مہم ہیں۔ چنانچہ جب کچھ لوگوں نے امام حسینؑ کو زندگی بچانے کا مشورہ دیا تو آپ نے ان کے مشوروں پر اپنے اہداف کو ترجیح دی۔ کسی نے کہا یا ابن رسول اللہ آپ بیعت کرلیں اور اس جھگڑے سے جان چھڑائیں، کسی نے کہا عام راستے سے سفر نہ کریں اور کسی مخفی راستے کا انتخاب کریں، کسی کا کہنا تھا کہ مکےّ کو ہی اپنا مسکن بنالیں اور حرم کے کبوتر بن جائیں۔۔۔ لیکن امام حسینؑ کی نگاہ میں زندگی بچانے کی نہیں بلکہ اہم اہداف کی خاطر صرف کرنے کی چیز تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے عقلا کے نزدیک دولت جمع کرنے کی نہیں بلکہ حسب ضرورت استعمال کرنے کی شئے ہے۔ چنانچہ آپ نے 61ھ میں زندگی کو بچانے کے بجائے اپنے اہداف پر خرچ کر دیا۔

آپ نے دو راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کیا، اس ایک راستے کا جو بظاہر موت کا راستہ تھا اور آپ نے اس راستے کا انتخاب یہ کہہ کر کیا کہ موت تو خوشبختی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی ذلت و رسوائی۔ [1] کربلا کے میدان میں جب آلِ رسول کے خیموں پر موت کے سائے چھا گئے تو ایک مرتبہ امام حسین ؑ نے اپنے بھتیجے قاسم ابن حسنؑ سے سوال کیا: بیٹا موت کو کیسا پاتے ہو؟ شہزادے نے برجستہ جواب دیا: چچا جان، احلی من العسل "[2] موت میرے لئے شہد سے زیادہ شیریں ہے۔

جی ہاں اگر انسان کو اپنا ہدف موت کے ذریعے پورا ہوتا ہوا دکھائی دے تو موت اسے شہد سے زیادہ شیریں لگتی ہے۔ 10 محرم الحرام 61 ہجری کو جب کربلا والوں نے اپنے اہداف کو اپنی موت کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر موت کو گلے سے لگالیا، جبکہ دنیا والے موت کے ڈر سے سہمے رہے۔

کربلا والوں نے آئندہ نسلوں کے لئے لق و دق صحرا کے خشک ذروں پر اپنے خون سے یہ پیغام لکھ دیا کہ انسان کے اہداف کے سامنے زندگی اور محبت دونوں ہی مساوی ہیں۔ اگر زندہ رہ کر ہدف بچ سکتا ہو تو حسن ابن علیؑ کی طرح جنگ سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے اور اگر ہدف کو بچانے کی لئے جان دینی پڑ جائے تو حسین ابن علی ؑ کی مانند تلواروں کی دھاروں پر جان کو نثار کر دینا چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 61 ھجری میں امام حسین ؑ کے ہمراہ زندگی کو چھوڑ کر موت کے راستے پر چل نکلنے والے صرف بہتر افراد تھے۔ کتب تاریخ کے تجزیئے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سوائے کربلا والوں کے اس دور کے لوگوں کی اکثریت موت سے ڈر گئی تھی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ موت کا خوف انسان کو ہر دور میں رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

موت جو کہ ایک اٹل حقیقت ہے، ایک ایسی ٹھوس حقیقت کہ نہ ہی تو انسان اس سے محبت کرتا ہے اور نہ ہی اس سے فرار کرسکتا ہے۔ موت سے وہ بھی ڈرتے ہیں جو کسی سے نہیں ڈرتے اور جو آخرت اور معاد پر یقین نہیں رکھتے اور وہ بھی ڈرتے ہیں جو برزخ اور قیامت کے معتقد ہیں۔ موت کبھی کبھار خود بخود واقع ہوجاتی ہے، جسے علمی دنیا میں طبیعی موت کہتے ہیں اور کبھی کبھار کسی حادثے، ٹکراو یا تصادم کے نتیجے میں ہوتی ہے، جسے اخترامی موت کہتے ہیں۔ انسانی معاشرے میں عام طور پر افراد کی موت دو طرح کی ہے، ایک وہ ہے کہ جسے دیکھ کر انسان ڈر جاتا ہے اور دوسری وہ ہے کہ جسے دیکھ کر انسان کا ڈر اتر جاتا ہے۔ پہلی موت جسے دیکھ کر انسان ڈرتا ہے وہ قذافی، صدام اور ضیاءالحق جیسے ظالموں اور فاسقوں کی ہے اور دوسری موت کہ جس دیکھ کر انسان سے موت کا خوف اترجاتا ہے وہ شہداء، مظلوموں اور اللہ کے مقربین کی ہے۔

حضرت امام تقی (ع) سے پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو موت سے ڈرتے ہیں۔؟ امامؑ نے فرمایا کہ موت سے ڈرنے والے موت کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور اگر انہیں موت کی حقیقت کا علم ہوجائے اور وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے بھی ہوں اور انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے آخرت اس دنیا سے بہتر ہے تو وہ موت سے محبت کرنے لگیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے بندہ خدا کیا تو نے کبھی سوچا ہے کہ ایک پاگل یا بچہ کیوں دوائی کھانے سے بھاگتے ہیں؟ پھر آپ نے خود ہی وجہ بتائی کہ وہ اس لئے بھاگتے ہیں چونکہ دوائی کے فائدے کو نہیں جانتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔ پھر امامؑ نے فرمایا اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمد کو نبی مبعوث کیا، جو شخص بھی موت کی تیاری کرلے موت اس کے لئے اس شفا بخش دوائی سے زیادہ مفید ہے، اگر نیک لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ مرنے کے بعد انہیں کیا کیا نعمتیں ملنے والی ہیں تو عقلمند اور دور اندیش لوگ بیماریوں سے نجات اور مشکلات سے چھٹکارے اور اپنی سلامتی کے لئے، موت کی آرزو کرتے اور موت کی تمنا کرتے۔ [3]

اسی طرح کسی نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا: میں کیوں موت کو پسند نہیں کرتا؟ آنحضرت (ص) نے جواب میں فرمایا: کیا مال و دولت رکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (ص) نے فرمایا: کیا اس مال و دولت میں سے کسی چیز کو اپنے سے پہلے بھیجا ہے (یعنی آخرت کے لئے خرچ کیا ہے)؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ (ص) نے فرمایا: بس اسی لیے موت کو پسند نہیں کرتے ہو۔ ایک اور موقع پر سرور دو عالم (ص) نے فرمایا ہے کہ موت، مومن کے لیے تحفہ ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ابوذر غفاری سے پوچھا کہ ہمیں کیوں موت سے ڈر لگتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم اس لئے موت سے ڈرتے ہو چونکہ تم نے اپنی دنیا آباد کی ہے اور اپنی آخرت کو ویران کیا ہے۔ عقلی بات ہے کہ تم آباد جگہ سے ویران جگہ کی طرف منتقل ہونا پسند نہیں کروگے۔

مذکورہ بالا بحث سے بخوبی روشن ہو جاتا ہے کہ موت کوئی بری شئے نہیں ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ موت سے ڈر کی مختلف وجوہات ہیں، جن میں سے اہم ترین موت کی حقیقت سے عدم آگاہی اور دنیا سے محبت ہے۔ اگر انسان غور و فکر کرے تو بآسانی اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر موت کو ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہونے کے معنوں میں لیا جائے تو ایسی موت مسلمان و کافر دونوں کے لئے مفید اور اچھی ہے۔ مسلمان کے لئے اس لئے مفید ہے کہ وہ اس دنیا کی مشکلات سے نجات حاصل کرکے ابدی نعمتوں اور دائمی سکون کو پاتا ہے، جبکہ کافر کے لئے موت اس لئے اچھی ہے کہ وہ اس کے وسیلے سے دنیا کی جھوٹی خواہشات اور اللہ کی نافرمانی سے نجات پاتا ہے۔

البتہ موت کا ایک اور معنی بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کا سلسلہ رشد و کمال منقطع ہوجائے۔ انسان کا سلسلہ رشد و کمال مادی بھی ہے اور معنوی بھی۔
قرآن مجید نے جہاں کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَیْنَا تُرْجَعُونَ [4] کہا ہے، وہیں یہ بھی کہا ہے کہ
وَ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ۞
فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ۞[5] جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے انہیں مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں۔
اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے، اس سے وہ خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور ابھی ان سے ملے نہیں ہیں، ان کے بارے میں خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کے لئے بھی نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اگر ہم مذکورہ بالا آیات میں تدبّر کریں تو یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں اور بظاہر مر جائیں انہیں مردہ خیال نہ کرو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے بغیر اللہ کے دین کی خدمت کریں وہ مردہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو زندہ ہیں وہ تو زندہ ہیں اور جو قتل ہوگئے ہیں انہیں بھی مردہ گمان نہ کرو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے جہاں اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو اجر کی بشارت دی ہے، وہیں زندہ بچ جانے والوں کو بھی اجر عظیم کی خوشخبری دی ہے۔

ملاحظہ کریں اسی سورہ کی چند باقی آیات:۔
يستبشرون بنعمة من الله وفضل وأن الله لا يضيع أجر المؤمنين ( 171 ) الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم (172)
۱۷۱۔ انہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی بشارت مل رہی ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ اللہ مؤمنوں کے اجر کو ضائع نہیں کر ے گا۔
۱۷۲۔ جن لوگو ں نے زخم کھانے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا (۲۰۴؂) ان میں سے جو نیک کردار اور متقی ہیں، ان کے لئے بڑا اجر ہے۔
اس بات کو ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک شخص نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر تم فلاں راستے سے سمندری سفر کروگئے تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور فائدہ ہی فائدہ ہوگا، البتہ سفر کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑیں گی۔ کچھ لوگ کشتی میں سوار ہوگئے اور تھوڑی دیر کے بعد طوفان آیا کشتی الٹ پلٹ گئی اور کچھ لوگ ڈوب گئے۔

جب ملاح نے کشتی کو سنبھال لیا تو وہی قافلہ سالار پھر سے بولا کہ اے لوگو یہ جو ابھی طوفان میں ڈوب گئے ہیں اور بظاہر مرگئے ہیں خبردار انہیں مردہ خیال نہ کرو، بلکہ یہ تو زیرآب ایک راستے سے دوسری طرف ایک جزیرے پر چلے گئے ہیں۔ قافلہ سالار جب یہ کہہ رہا ہے کہ یہ جو لوگ اس راستے میں ڈوب کر بظاہر مرگئے ہیں، وہ دراصل مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو ڈوبے نہیں ہو تم مرگئے ہو، بلکہ قافلہ سالار کا مقصد یہ ہے کہ تم تو ہو ہی زندہ البتہ جو بظاہر ڈوب گئے ہیں وہ بھی زندہ ہیں اور ان سے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے کئے جائیں گے۔ یعنی اسلام کی رو سے صاحبان ایمان اللہ کی راہ میں اخترامی موت سے مارے جائیں یا طبیعی موت سے وہ مرتے نہیں ہیں یعنی ان کا سلسلہ رشد و تکامل قائم رہتا ہے۔

وہ چیز جو انسان کے وجود میں رشد و تکامل کو قائم رکھتی ہے، اسے دین کی زبان میں ”فی سبیل اللہ” کہتے ہیں۔ اگر انسان فی سبیل اللہ پر قائم رہے تو اس کا رشد و کمال ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید کی وہ آیات مجید بھی ہیں، جن میں خدا نے گذشتہ انبیاء پر سلام بھیجا ہے۔
مثلاً
سلام علی نوح فی العالمین (صافات/۷۹)
سلام علی ابراهیم (صافات/۱۰۹)
سلام علی موسی و هارون (صافات/۱۴۰)
اس کے علاوہ پیغمبروں پر اجتماعی سلام بھی خدا نے بھیجا ہے، جیسے:
سلام علی المرسلين (صافات 181
اگر انبیاء مرچکے ہوتے تو ان پر سلام بھیجنا ایک عبث کام ہے۔ جو کہ خدا سے بعید ہے۔

پس ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل جوہرِ حیات اور آبِ بقا مر جانے یا باقی رہنے میں پوشیدہ نہیں بلکہ فی سبیل اللہ میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین ؑ اپنے ہمراہ جس قافلے کو لے کر نکلے تھے، اس قافلے کے جو لوگ مارے گئے وہ بھی امر ہوگئے اور جو باقی رہے، انہوں نے بھی شجاعت و استقامت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ آج ایک مرتبہ پھر پوری دنیا میں کفر و ضلالت کا دور دورہ ہے، مساجد میں دھماکے ہو رہے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، ہمارے حکمران عالمی استعمار کی پوچا کر رہے ہیں، یتیموں اور بیواوں کے بین عرش الہی کو ہلا رہے ہیں، جیلوں میں بے گناہ قیدی سسک رہے ہیں، مزارات مقدسہ کی زیارت کرنے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے، منٰی میں حاجیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اسلام کے نام پر جنسی جہاد کا ڈھنڈوارا پیٹا جا رہا ہے اور کھلے عام دین اسلام کو مسخ کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود۔۔۔

ہمارا دل۔۔۔ اس زندگی سے بیزار نہیں
اور۔۔۔
ہم ظالموں کے ساتھ۔۔۔ ہنسی خوشی جی رہے ہیں۔۔۔
شاید اس کی ایک وجہ ۔۔۔
یہ بھی ہو کہ ہمارے سامنے کربلا والوں کے اہداف نہیں اور ہمارے پاس کربلا والوں کی آنکھیں نہیں۔
آج ہم۔۔۔ زندگی اور موت کو۔۔۔ کربلا والوں کی آنکھوں سے۔۔۔ نہیں دیکھ رہے۔

(حوالہ دے کر استفاد بلامانع ہے)
استفاد.
[1] تاریخ دمشق، ج۱۴، ص۲۱۸
[2] لہوف
[3] اربعین الاولیائ از اصغر تاجیک ورامینی
[4] سوره عنکبوت – آیه 57
[5] سوره آل عمران ؛ آبات ۱۶۹ –
6. تاریخ اسلام مهدی پیشوایی
7.تاریخ کربلاسید علی اکبر خدایی
8. حماسه حسینی شهید مطهری