ur

قلب کائنات حسین ابن علی (ع)

(سید اسد عباس تقوی )

زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حسین (ع) اس کائنات کا قلب ہیں اور دنیا بھر کے لاکھوں انسان نسل در نسل، بلا تفریق مذہب و ملت اس قلب کی دھڑکن سے زندگی کی خیرات پا رہے ہیں۔ یہ دھڑکن کیا ہے، اس کی نوعیت کیسی ہے، بیان سے باہر ہے؟ آپ لوگوں نے پانی میں پیدا ہونے والے ارتعاش کو تو دیکھا ہوگا۔ پتھر کا ایک ڈھیلا یا کوئی چیز جب ساکت پانی میں گرتی ہے تو اس میں مد و جزر کی لہریں جنم لیتی ہیں، یہ لہریں ایک کونے سے دوسرے کونے تک دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہیں۔ پانی پر یہ اثر چیز کی ماہیت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ حسین (ع) اور انسانی معاشرے کا تعلق بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ حسین (ع) انسانی معاشرے میں تحول کا نام ہے۔ یہ سکوت کی ضد ہے۔ ہر وہ وجود جو حسین (ع) سے کسی ذریعے سے بھی منسلک ہوا پہلے جیسا نہ رہا۔ حسین (ع) سے قربت اور دوری وجود کی حالت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ جو جس قدر حسین (ع) سے قریب ہے اس کی زندگی میں تحول اتنا ہی زیادہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ تحول خدا خوفی اور خدا پرستی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے چونکہ حسین (ع) منبع خدا خوفی و خدا پرستی ہیں۔

میں نے حسین (ع) کو قلب کائنات کیوں کہا؟ ہوا یوں کہ آج مجھے احساس ہوا کہ جیسے کربلا میں کوئی قوت ہے جو قلب جیسی ہے اور دھڑک رہی ہے۔ اس قوت کی دھڑکن پوری کائنات میں سنی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ ایسا ابتداء سے ہے اور صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ کائنات کے ہر اس انسان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے جو کسی طرح بھی حسین (ع) کا گرویدہ ہے۔ ممکن ہے وہ اس احساس کو کوئی نام نہ دے سکے جیسا کہ میں نے آج دیا، لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ دھڑکن اس روز سے ہے جس روز حسین (ع) نے کربلا میں اپنا سب کچھ دین خدا پر قربان کر دیا۔ رسول خدا (ص) نے اس قوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ

ان لقتل الحسین حرارۃ فی قلوب المومنین لا تبرد ابدا
قلب مومن میں حسین (ع) کے لیے ایک حرارت ہے جو کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہوسکتی۔

وہ لوگ جو حسین (ع) سے مربوط ہیں، چاہے کسی مذہب و مسلک سے ہوں، جب اس دھڑکن کو اپنے قلب کے کانوں سے سن رہے ہوتے ہیں تو ان کا وجود اس میں جذب ہو جاتا ہے، لیکن جب حسین (ع) سے خیرات میں ملنے والی یہ دھڑکن کم ہو جائے تو زندگی ایک عذاب بن جاتی ہے۔ دنیاوی امور اور جھمیلوں کے باعث جب ان دھڑکنوں کی صدا مدھم پڑتی جاتی ہے تو وجود میں عجیب سے بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ قالب خالی خالی سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ جان جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
میرا ایمان ہے کہ قلب کائنات کی یہ دھڑکن سارا سال سنی اور محسوس کی جاسکتی ہے، لیکن جیسے جیسے محرم الحرام کا مہینہ قریب آتا ہے یہ صدا واضح اور شفاف ہو جاتی ہے، یا یوں کہوں کہ شاید توجہ کا مسئلہ ہے۔ وہ لوگ جو سارا سال اس دھڑکن کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، وہ سارا سال اس دھڑکن میں جذب رہتے ہیں اور اس کی کیفیات سے مستفید ہوتے ہیں اور مجھ جیسے لوگ جو محرم الحرام میں اس قلب کائنات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، ان کو جیسے جیسے ماہ حسین (ع) قریب آتا محسوس ہوتا ہے، انھیں یہ دھڑکن محسوس ہونے لگتی ہے۔

بات چونکہ قلبی ہے اور عشق سے متعلق ہے، اس لیے اس میں زیادہ دلیلیں پیش نہیں کرسکتا۔ وہ جو ان دھڑکنوں کو محسوس کرتے ہیں، اس سے مربوط قلبی کیفیات کو محسوس کرسکتے ہیں۔ محرم کی آمد کے احساس سے قبل تو جیسے وجود خالی تھا۔ اچانک کیا ہوا کہ جسم کے روئیں روئیں سے یاحسین(ع)، یاحسین(ع) کی صدائیں جنم لینے لگیں۔ دماغ حسین (ع) کے سحر میں گم ہوگیا۔ وجود کاملا حسین (ع) کی جاگیر بن گیا۔ اب اس وجود میں یزیدیت کے شائبے کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ خارج میں وقوع پذیر ہونے والی کربلا انسان کے باطن میں واقع ہونا شروع ہوگئی۔ یزیدی لشکر یعنی صفات رذیلہ ایک ایک کرکے دم توڑنے لگیں۔ قلب و روح کے میدان میں ہر جانب حسین (ع) کے جھنڈے گڑنے لگے۔ ہر جانب سے تکبیر کی آوازیں، حسین سے وابستگی کے ترانے، یزیدیت سے برات کا زمزمہ۔ یہ کیفیت روز عاشور کو اپنے عروج پر ہوگی۔

عاشور کے روز دیکھئے گا کہ قلب کائنات کی دھڑکن انسانی معاشرے میں کیا تحول برپا کرتی ہے۔ بچے، جوان، بوڑھے، خواتین سبھی حسین (ع)، حسین (ع) پکارتے ہوئے گلیوں اور بازاروں میں امڈ آئیں گے۔ آرام پرستی اور تساہل جو سارا سال انسان کو باہر نکلنے سے روکتے ہیں، اس روز حسین (ع) کی صدا کے سامنے دم توڑ دیں گے۔ وہ لوگ جو حسین (ع) کو ایک تاریخی شخصیت اور واقعہ کربلا کو 60 ہجری میں ہونے والا کوئی واقعہ سمجھتے ہیں، حسین (ع) کو ایک حرارت اور قوت کے طور پر دیکھیں تو انھیں حسین (ع) اور انسانی معاشرے کے تعلق کو سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی۔ حسین (ع) اور انسان کا تعلق قلب و جوارح کا تعلق ہے۔ وہ جو قلبی کیفیات کو محسوس کرتے ہیں، سمجھتے ہوں گے کہ یہ کیفیات اعضاء و جوارح پر کس انداز سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ جب آپ حسین (ع) اور انسانی معاشرے کے اس تعلق کو درک کر لیں گے تو پھر کبھی یہ سوال جنم نہیں لے گا کہ آخر حسین (ع) ہی کیوں؟

سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او