اصلاحِ امتِ مصطفٰی (ص)

(حسن عسکری)

قال الامام الحسین (ع) انی لم اخرج اشرا و لا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما، انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی رسول اللہ۔
امام حسین (ع) نے فرمایا، میں نے نہ ہی خود خواہی اور خودپسندی کی وجہ سے ظالم کے خلاف خروج کیا اور نہ ہی میرا قیام ظالمانہ و مفسدانہ ہے بلکہ میں صرف اور صرف اپنے نانا رسولِ خدا (ص) کی امت کی اصلاح کے لیے باہر نکلا ہوں۔ (مقتل خوارزمی، مقتل عوالم)۔
جب بھی دنیا میں کوئی واقعہ، حرکت یا کام انجام پذیر ہوتا ہے تو ہر انسان اپنی سطح، سوچ اور فکر کے مطابق اس کے ہدف کے بارے میں اندازے اور تخمینے لگاتا ہے۔ کوئی اپنے ظن و گمان سے مدد لیتا ہے تو کوئی علم اور کتابوں کے سہارے سے اس واقعہ و فعل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی آدمی سنی سنائی پر اطمینان کر لیتا ہے۔ الغرض جس کا جتنا بس چلتا ہے اتنا اظہار خیال کرتا ہے۔
کسی بھی واقعہ یا حادثہ کو سمجھنے کے لیے ان سب طریقوں میں سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان خود اس واقعے و حادثے کے خلق کرنے والے سے پوچھے کہ آپ نے یہ کام کس مقصد کے لیے انجام دیا؟

سیدالشہداء (ع) کی تحریک اور موومنٹ بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے۔ ہر آدمی نے اس کے بارے میں اپنی فکر کے گھوڑے دوڑائے ہیں۔ اکثریت نے مثبت نتائج اخذ کیے ہیں لیکن کچھ کج فہم یا طاغوتی دستر خواں کے ریزہ خواروں نے منفی نگاہ بھی کی۔ اے کاش کہ یہ لوگ خود سبطِ رسول (ع)، جگر گوشہ بتول (س) کی نصیحت و وصیت پر ایک نظر کر لیتے۔ سید الشہداء نے واضح طور پر اپنے قیام کے آغاز میں یہ اعلان کردیا بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے لکھ کر دے دیا کہ میں کسی دنیاوی و مادی انگیزہ و علت سے قیام نہیں کر رہا۔ مسلمانوں میں اختلاف و انتشار نہیں پھیلانا چاہتا۔ میرا ہدف و مقصد فقط اور فقط اصلاحِ امت مصطفٰی (ص) ہے۔ نیز سید الشہداء (ع) نے اپنے اس عظیم ہدف کو تمام لوگوں تک پہنچانے کے لیے حج بیت اللہ کی فرصت سے استفادہ کیا اور تمام حاجیوں کو اپنے مقصد سے آشنا کرنے کے لیے خانہ کعبہ میں بزرگ علماء و دانشوروں کو خطبے دیئے۔ عوام و خواص کو اپنی تحریک اور موومنٹ سے آشنا بھی کیا اور اس عظیم قیام میں شرکت کرنے کی دعوت بھی دی۔

اپنے بھائی محمد حنفیہ کو اپنا وصیت نامہ دیا جس میں شفاف طور پر فرمایا کہ اس وقت امت کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی خرابی اور آفت پیدا ہو گئی تھی کہ جس کی وجہ سے سبطِ رسول (ع) کو قیام کرنا پڑا۔ وہ کون سا بگاڑ و فساد تھا جس کی اصلاح پر امام حسین (ع) جیسی شخصیت کا قیمتی خون اور بی بی زینب (س) جیسی ہستی کی چادر قربان کی جا سکتی ہے، چہ جائیکہ عام خاکی و گناہگار افراد کا اپنا مقام و حیثیت قربان کرنا۔ جب امت یزید جیسے ظالم و جابر حکمران کی حکومت پر خاموش اور ساکت ہو جائے تو امت کی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ یزیدیت برسرِ اقتدار ہے اور امت اپنے بےروح نماز ، روزے انجام دے رہی ہے۔ حج و عمرہ اور طواف کے چکروں میں محو ہے۔ یزیدیت سے لاتعلق ہو کر روزمرہ کی زندگی گزارنے پر راضی ہے۔ اپنے بال بچوں اور کاروبار کے ہم و غم میں مبتلا ہے۔ دعوائے اسلام و مسلمانی کے باوجود اسلام کی فریاد رسی کوئی بھی نہیں کرتا۔ سیدالشہداء (ع) کے بقول مسلمان ہوتے ہوئے اسلام پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں گویا ایک بےدین، فاسق و فاجر اور طاغوت کی حکومت پر خاموش اور راضی ہیں ۔حضرت کی نگاہ میں یہی امت کی سب سے بڑی خرابی اور فساد ہے کہ جس کی اصلاح کا بیڑا سالارِ شہداء (ع) نے اٹھایا اور فرمایا کہ میں نے اس لیے قیام کیا ہے تاکہ یزید جیسے کی حکومت پر اپنی ناراضگی کا اعلان کروں اور امت کو ظالم حکومت کے خلاف بیدار کرکے اس کے مقابل لا کھڑا کروں۔

آج ہم پوری دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ ہر آدمی جب ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اسوہ مقاومت، سردارِ شہیدان امام حسین (ع) کا نام لیتا ہے۔ امام خمینی (رہ) نے طاغوت زمان کے خلاف سید الشہداء (ع) کی تحریک سے استفادہ کیا اور اسلامی و الہی حکومت قائم کی۔ اسی طرح ہندوستان و پاکستان میں برطانیہ کے ظالمانہ رویئے کے خلاف جب گاندھی نے عوام کو اٹھایا۔ اس سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی طاقت سے کیسے مقابلہ کرو گے؟ تو کہا جیسے امام حسین (ع) نے یزید کے ساتھ مبارزہ کیا۔ میں بھی حسینی طریقے پر چل کر اپنی قوم کو بوڑھے استعمارسے نجات دلاوں گا۔ جس طرح ہندوستان کی آزادی کربلائی جذبے سے نصیب ہوئی اور ارضِ مقدس ِپاکستان کا حصول عاشورائی احساس و فکر سے ہوا، اسی طرح آج پاکستا ن کی بقاء حسینی مکتب، کربلائی جوش و جذبے اور عاشورائی طرز و طریقہ میں منحصر ہے۔ مصور پاکستان نے اسی مقام کے لیے شعر کہا تھا:

قافلہ حجاز میں اک حسین بھی نہیں

یعنی ملک و مِلک پاکستان کی نجات حسینیت میں ہے کیونکہ قافلہ اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے امت محمدی میں ناموسِ مصطفیٰ کا درد موجود ہے فقط ایک حسین (ع) یا حسینی کی ضرورت ہے جو اس قافلے کو راہ کربلا پر گامزن رکھ سکے۔ ایک ایسا قافلہ سالار کہ جو وقت کے مصلحت پسندوں کے خاموشی اور سکوت کے مشوروں کے مقابلے میں ٹھہر سکے، چونکہ امام حسین علیہ السلام کو بھی کتنے بزرگان دین نے سکوت و خاموشی کا مشورہ دیا تھا۔ آج امتِ مصطفیٰ کے یہ لاکھوں اور کروڑوں بھرے دینی و اسلامی اجتماع چاہے پاکستان میں ہوں یا دیگر ممالک میں، رہبران ،بزرگان اور خواص پر حجت تمام کرچکے ہیں کہ وہ ہر قسم کی خانقاہوں سے نکل کر رسم و رزمِ شبیری ادا کرکے دین ِمصطفی، زمینِ مصطفی، ناموس مصطفی اور امت مصطفیٰ کا دفاع کریں۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

یہ دہشت گردی، ناامنی، فقر و تنگ دستی، بےشعوری و جہالت، طاغوتی حکومت و احساس کمتری وغیرہ تمام وہی اندوہ و دلگیریاں ہیں جو خانقاہی تفکر کی وجہ سے ہمارے اندر سرایت کرچکی ہیں۔ یہ ایام عزاداری سید الشہداء امت پاکستان کے لیے وہ واحد فرصت و راستہ ہیں کہ جن کی مدد سے وہ ان تمام دل خراش اور غمناک حالات سے باہر آ سکتے ہیں۔