ur

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی نظر میں سیاست کا مفہوم اور ہمارا معاشرہ

ایسا اخلاق جہاں ہم دوسروں کا درد رکھیں اور مظلوموں کا ساتھ دینے کا جذبہ اپنے وجود کے اندر رکھیں اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں پر انسانیت پر ظلم ہو رہا ہے اس کے مقابل کھڑے ہوں، کم سے کم آواز بلند کریں، فلسطین کے مظلوموں کے لئے، یمن کے محروموں کے لئے، بحرین کے بے بس لوگوں کے لئے جو امت مسلمہ کی بے حسی کی وجہ سے شدید ترین پابندیوں قتل و وحشت و خوف کے سائے میں ماہ مبارک رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو ان کے پاس حسرت کھانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام ایک ایسی ذات ہے جو حسن خلق، حلم و بردباری اور جود و سخا و کرم جیسے بلند اخلاقی کمالات کے لئے جانی جاتی ہے، جن سے ہمارا آج کا معاشرہ تہی ہے۔

معاشرے میں روز بروز انسانی اقدار کا کمزور پڑنا، قدروں کی پامالی، انسان کے معیار شرف کا روز بروز گرنا، ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کے در کرم پر چلیں جس کے علم و فضل کی روشنی میں ایک بہترین سماج کو تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

جسکی تدبیر و سیاست کی روشنی میں، سیاست کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے معاشرے کی بہترین تدبیر کے ساتھ اسے اس انداز میں لیکر چلا جا سکتا ہے کہ جو ہمیشہ مضبوط و پائدار رہے اور ترقی کی طرف مسلسل بڑھتا رہے اور زوال پذیر مادیت کے طوفان کا شکار نہ ہو۔

جہاں آج سیاست کا مفہوم دوسروں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرنا ہے وہیں امام مجتبی علیہ السلام سیاست کو بندگان خدا اور خدا کے حقوق کی رعایت سے تعبیر فرماتے ہیں؛

آپ فرماتے ہیں کہ “سیاست یہ ہے کہ تمہیں اللہ اور اس کے بندوں کی حقوق دکھائی دیں، زندوں اور مردوں کے حقوق کی پرکھ رہے، اللہ کا حق تم پر یہ ہے کہ جس کا اس نے تم سے مطالبہ کیا ہے وہ کرو اور ہر اس چیز سے بچو جس سے اس نے تمہیں روکا ہے، اور زندوں کے حقوق یہ

ہیں کہ تم اپنے بھائیوں کے مقابل اپنے وظیفہ و اپنی ذمہ داری پر عمل کرو، ۔۔۔ لیکن مردوں کے حقوق یہ ہیں کہ تم انہیں نیکیوں کے ساتھ یاد کرو، ان کی برائیوں کا تذکرہ نہ کرو، ان کی برائیوں سے چشم پوشی کرو کہ خدا انکا حساب لینے والا ہے [1]

شک نہیں کہ معاشرہ میں اگریہ سیاست نافذ ہو جائے اور ایک دوسرے کو گرانے کی ذلیل کرنے کی باتیں نہ ہوں، اس کی اور اس کی پارٹی کے جھگڑوں میں آپسی رنجشوں کو بڑھاوا نہ ہو اور لوگ یہ دیکھیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے اور ہر ایک اپنی ذمہ داری پر عمل کرے تو ایک چھا معاشرہ سامنے آ سکتا ہے۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام نے جو سیاست کا مفہوم بیان کیا ہے اس کے پیش نظر ہمیں ان سوالوں کے جواب دینا ہوں گے ، اپنا ایک محاسبہ کرنا ہوگا۔

کیا ہم نے اپنے ساتھ جینے والوں کے حقوق کو ادا کر دیا ہے یا نہیں بالکل مردوں کی طرح چھوڑ دیا ہے اور محض ہمیں اپنی کرسی کی فکر ہے وہ جیسے ہتھے آ جائے چاہے دین و پامال کر کے چاہے بندگان خدا کے حقوق کو پامال کر کے ؟

کیا ہم اپنے مرنے والوں کو نیکی سے یا د کرتے ہیں یا مرنے کے بعد بھی انکا چٹا بٹا کھولنے پر محض اس لئے تلے ہیں کہ ہمیں اقتدار حاصل ہو سکتا ہے ؟ یہ وہ چیزیں ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے

اور خاص کر ماہ مبارک رمضان کی اس نورانی فضا میں تو ہمارے لئے اور بھی ضروری ہے کہ اپنے اخلاق و کراد کو اگر ہم امام مجتبی علیہ السلام جیسا نہیں بنا سکتے تو کم از کم ان سے قریب تو لا سکتے ہیں ، ایسا اخلاق تو پیش کر سکتے ہیں جس میں اخلاق حسنی کی پرچھائیاں ہوں

ایسا اخلاق جہاں خوف خدا ہو ، ایسا اخلاق جہاں دوسروں کا درد ہو ، ایسا اخلاق جہاں سچائی ہو ، صداقت ہو ، امانت ہو ،شرافت ہو ، ایسا اخلاق جس میں کم از کم ایک مہینہ ہم جھوٹ، فریب و بہتان سے خود کو دور رکھنے میں کامیباب ہوں

ایسا اخلاق جس میں ہمارے وجود کے اندر وسعت نظر پیدا ہو جائے اور ہم تنگ نظری کا شکار ہو کر معمولی معمولی باتوں میں ایک دوسرے سے الجھ نہ بیٹھے وہ حسنی اخلاق جس میں ہم اپنے سے بڑوں کی عزت کریں ، نرم و لطیف لب ولہجہ میں گفتگو کریں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش نہ کریں

ایسا اخلاق کسی میں کسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دیں ، سچے بن کر رہیں اپنے امام علیہ السلام کی طرح جنہیں زمانہ صداقت و سچائی سے پہچانتا ہے

ایسا اخلاق جہاں ہم دوسروں کو معاف کرنا سیکھ جائیں ، کسی کی بات کو دل میں رکھ کر اسے کینہ نہ بننے دیں ، ایسا اخلاق جہاں ہم غریبوں کے لئے ویسے ہی تڑپیں جیسے امام حسن علیہ السلام تڑپتے تھے ، ایسا اخلاق کے اگر اس مہینہ میں کسی نے ہم سے کوئی سوال کیا ہے ہم سے اپنی کسی مشکل کا ذکر کیا ہے تو کوشش کریں کہ خاموشی کے ساتھ ویسے ہی حل کریں جیسے امام مجتبی علیہ السلام نے کی تھی ۔
اپنے مومن بھائیوں کی حاجت روائی ہمیں بوجھ نہ لگے بلکہ انکی مشکل کو حل کرتے ہوئے ہمیں خوشی ہو کہ خدا نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ۔

ایسا اخلاق جہاں ہم دورسروں کا درد رکھیں ، اور مظلموں کا ساتھ دینے کا جذبہ اپنے وجود کے اندر رکھیں اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں پر انسانیت پر ظلم ہو رہا ہے اسکے مقابل کھڑے ہوں کم سے کم آواز بلند کریں ، آواز اٹھائیں فلسطین کے مظلوموں کے لئے ، یمن کے محروموں کے لئے ، بحرین کے بے بس لوگوں کے لئے جو امت مسلمہ کی بے حسی کی بنیاد پر شدید ترین پابندیوں قتل و وحشت و خوف کے سایہ میں ماہ مبارک رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو ان کے پاس حسرت کھانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، انکی نگاہیں ہمیں ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے وہ بھائی کہاں ہیں جو نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں اور جنکے ائمہ کی تعلیمات انسانیت کی نجات ہے ، ظلم کے خلاف آواز ہے ، مظلومون کا تعاون و انکا ساتھ ہے

آج امام مجتبٰی علیہ السلام کی سیرت انکی زندگی ہم سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اپنی روش زندگی پر ایک نظر ثانی کریں اور اپنی زندگی کو انکی زندگی کے ساتھ ٹیلی کریں دیکھیں کہ انکی زندگی میں کیا تھا ہماری میں کیا ہے ؟ وہ کہاں کھڑے تھے ہم کہاں ہیں

وہ سچائی و صداقت کو کتنی اہمیت دیتے تھے ہم کتنی دیتے ہیں ؟ عبادت و بندگی کا معیار انکے یہاں کیا تھا ہمارے یہاں کیا ہے ؟ غریبوں او ر ناداروں کی مدد انہوں نے کتنی کی ہم نے کتنی کی ، انکا طریقہ کار کیا تھا ہمارا کیا ہے ، انکی نظر میں سیاست کیا تھی ہم سیاست کو کیا سمجتھے ہیں ؟

یقیناً اگر امام مجتی علیہ السلام کے تعلیمات کی روشنی میں ہم اپنے معاشرے کے خدو خال سنوارنے کی کوشش کریں تو ایسا معاشرہ نکھر کر سامنے آ سکتا ہے جو مطلوب پروردگار ہے ۔

حوالہ

[1] ۔ قال الحسن بن علیّ(ع): « هی[السیاسة] أن ترعی حقوق الله و حقوق الأحیاء و حقوق الأموات، فأما حقوق الله. فاداء ما طلب، و الإجتناب عما نهی، و اما حقوق الأحیاء: فهی ان تقوم بواجبک نحو اخوانک، و لا تتأخر عن خدمة أمتک، و ان تخلص لولی الأمر ما أخلص لأمّة و أن ترفع عقیدتک فی وجهه اذا ما حاد عن الطریق السوی و امّا حقوق الأموات، فهی أن تذکر خیراتهم و تتغاضی عن ساوئهم، فانّ لهم ربّاً یُحاسبهم»

تنبیه الخواطر و نزهة النواظر(مجموعه ورّام)ج 2ص 301؛ القرشی(ره)، باقر شریف، حیاة الإمام الحسن بن علی(ع) ج1 ص 340٫