ur

چہلم امام حسین (ع) کی اہمیت

( ایس ایچ بنگش)

اس سال اگر ایک طرف چوبیس دسمبر کو بیس صفر المظفر یعنی چہلم کا دن ہے تو ساتھ ہی پچیس دسمبر حضرت عیسی علیہ السلام کی یاد بھی ہے۔ اس حوالے سے اگر ایک طرف یورپی ممالک بالخصوص لندن کے درودیوار پر امام حسین اور حضرت عیسی علیہ السلام کی یاد پر مبنی بل بورڈز آوایزاں ہیں جس کی تصاویر یہاں ای میل میں منسلک ہیں تو دوسری طرف چہلم یا اربعین کے دنیا بھر سے زائرین کا سمندر اور ملین مارچ کربلا کی طرف رواں دواں ہے۔ نواسہ رسول (ص) محسن انسانیت امام حسین (ع) اور حضرت عیسی (ع) دونوں کا مقصد توحید کی بقا اور دنیا میں انسانی اقدار امن و امان اور آزادی کا فروغ تھا، یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام بغیر کسی تفریق کے دنیا بھر کے تمام انسانوں اور آزادی کی تحریکوں کے لئے مشعل راہ ہے، جس کا ذکر نیلسن منڈیلا نے بھی واشگاف الفاظ میں کیا۔

نیلسن منڈیلا کے لئے کربلا و امام حسین آئیڈیل:
افریقہ کو آزادی، حریت کا درس دینے والے اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنے والے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے اپنی کامیابی کا سہرا امام حسین (ع) اور کربلا کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ “جب جیل میں میری اسیری بیس سال سے زائد ہوئی تو ایک رات میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کل صبح حکومت کی تمام تر شرائط مان کر دستخط کرکے تسلیم ہو جاؤں، لیکن اچانک اسی رات مجھے واقعہ کربلا اور امام حسین (ع) کی یاد نے ہمت باندھی کہ جب امام حسین (ع) نے کربلا میں نامناسب حالات کے باوجود ظلم و یزیدیت کی بیعت نہیں کی تو میں نیلسن منڈیلا کیوں ظلم کے آگے تسلیم ہو جاؤں اسلئے میری کامیابی کا راز کربلا اور امام حسین کو آئیڈیل قرار دینے میں ہے۔۔

امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کی تازگی کا اثر دیکھئے کہ کربلا و عراق سے عراقی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے اِس زمانے کا یزید امریکہ بھاگنے پر مجبور ہو کر شکست سے دوچار ہوا۔ اور کربلا میں روضہ حسین (ع) کی طرف ہر سال چہلم کے حوالے سے کئی ملین زائرین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا عہد کرتا نظر آتا
ہے کہ ہم ہر زمانے کے یزید کےخلاف لڑتے رہیں گے۔ عراق پر جب یزید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چڑھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یزید امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسن علیہ السلام کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے ظلم و یزیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخرکار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر ایک کروڑ سے زیادہ پاپیادہ عزاداروں کا کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسین، حسینت زندہ باد و

یذیدیت مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر
ڈالا اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا، یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسین کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے، ٹام کا خط 2003ء میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی شائع ہوا۔ جس کے ایک پیراگراف کا ترجمہ و تفصیل قارئین کے لئے دی جا رہی ہے۔

ٹام لکھتے ہیں۔۔”میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔ یہاں ایک مقدس مقام زیارت کی طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسین ع) نے اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ ماں، میں بھی بوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے ساتھی (امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں یہاں مامور کیا ہے۔”

ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی ذلالت بھری شکست میں سید الشہداء کی ذات اور عزاداری نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔ دوسری طرف مشرق وسطٰی میں حزب اللہ اور انقلاب اسلامی نے سیرت امام حسین (ع) کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر یزیدیت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال یزید وقت امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر کی باطل قوتوں حتٰی کہ اوائل اسلام اور پھر دور یزید ملعون کی طرح خواراج و یزیدی قوتوں، آج کی القاعدہ و طالبان نے امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ شریکۃ الحسین بی بی زینب سلام اللہ علیہا کےدمشق میں واقع مزار کی بےحرمتی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن یہ یزیدی قوتیں دربار یزید لعین میں بی بی زینب (س) کا تاریخی خطبہ بھول گئے ہیں جس کا ذکر ذیل میں آئے گا کہ اے یزید لعین یعنی ہر دور کے یزید تم جتنی بھی کوشش کرو ہماری “اہلبیت محمد و آل محمد (ص) کی یاد تم دلوں سے نہیں نکال سکتے۔۔ ۔۔انشاءاللہ عراق کی طرح دمشق و سریہ سے بھی یزید وقت امریکہ اور خواراج و یزیدی قوتوں کا امریکی امامت میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت اور نام نہاد جہاد ناکام و نامراد ہو گا۔

جس طرح روز عاشوارا میدان کربلا میں امام حسین اور آپ کے باوفا جانثاروں نے قربانیاں دے کر اسلام کو تاابد زندہ و جاوید کرکے محرم و عاشورا کو امر کر دیا۔ اسی طرح چہلم یا صفر المظفر کے مہینہ میں خانوادہ اہلبیت علیہم السلام کی پاک و مطہر بیبیوں کا دین حق کی خاطر قربانیاں دینا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ امام خمینی فرماتے ہیں کہ محرم اور صفر ہی نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔ جب کہ حکیم الامت علامہ اقبالؒ جو بہترین کربلا شناس تھے، وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کو امام حسین علیہ السلام و شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسین (ع) رقم کرد و دیگر زینب (س)

بچوں اور جوانوں کی طرح کربلا میں خواتین کا بھی کردار رہا ہے لیکن سب سے اہم کردار خواتین ہی کا ہے کیونکہ حسین و اصحاب حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد یزید لعین و بنی امیہ نے اپنے اجداد کے راستے پر چلتے ہوئے اتنا منفی پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ نعوذ باللہ امام حسین باغی تھے اور خلیفہ وقت یزید ملعون کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔لیکن یہ امام حسین علیہ السلام کی شیردل بہن سیدہ زینب سلام اللہ علیہا جسے شریکۃ الحسین بھی کہا جاتا ہے کا بحثیت سالار قافلہ اسیران کربلا کردار ہی تھا کہ شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے دیگر مخدارات عصمت و طہارت اور بچوں سمیت کربلا سے کوفہ و شام کے بازاروں و زندانوں میں علی علیہ السلام کے لہجے میں خطبے سنا کر اور بازاروں میں ماتم حسین علیہ السلام برپا کرکے جلوس و عزاداری اور ظالموں کے
خلاف احتجاج کی بنیاد ڈالی۔ یزید ملعون اور بنی امیہ کے منفی پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔ اس سلسلے میں دربار ابن زیاد و یزید لعین دمشق میں شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے خطبوں نے یزیدیت کو تاقیامت رسوا و بےنقاب کرکے لعنت کا حقدار ٹہرایا۔۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح قرار دیتے ہیں، علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا ترجمہ و تفسیر اگر کرنا چاہیں تو معروف دانشور علی شریعتی کی زبان میں اس طرح کیا جا سکتا ہے۔۔کہ جو شہید ہو چکے انہوں نے حسینی کام انجام دیا جو زندہ ہے انہیں زینبی کام انجام دینا چاہیے، جو نہ حسینی کام انجام دے اور نہ ہی زینبی کام، وہ یزیدی ہے۔

یہاں شام و کوفہ کے بازاروں میں بی بی زینب (س) کے خطبات سے چند اقتباسات دئیے جا رہے ہیں ،جس سے میدان کربلا میں خواتین کا کردار واضح تر ہو جائے گا۔ شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شام دمشق کے یزیدی درباروں اور بازاروں میں یادگار خطبے دیئے۔
شام کے زندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کر دیا اور اس طرح ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔ ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جواب دینے کی سکت و جرأت نہیں رکھتی، کہنے لگا، اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا، تمہارے مردوں کو مار ڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا ’’علی کی
بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش طاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔(یاد رہے کہ ابن زیاد لعین کی ماں مرجانہ اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن زیاد حرام زادہ ہے) تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبر (ص) کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کر دیا۔

دربار یزید لعین دمشق میں ،حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ:
زینب (‏س) اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س) کی طرح ظالموں کے سامنے آواز بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں، بھرے دربار میں خدا کی حمد و ستائش کرتی ہیں اور رسول (ص) و آل رسول (علیہ السلام) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آيات سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں: “یزید تو یہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کر دیا ہے تیرے گماشتوں نے ہمیں شہر بہ شہر اسیروں کی صورت میں پھرایا، تیرے زعم میں ہم رسوا اور تو باعزت ہو گیا ہے؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہو گیا ہے اسی لئے ان باتوں پر تکبر کر رہا ہے؟ جب تو اپنی توانائی و طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا
ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو آشکار کرسکے کیا تونے قول خدا کو فراموش کر دیا ہے۔ “کافر یہ خیال نہ
کریں کہ یہ مہلت جو انہیں دی گئی ہے یہ ان کے لئے بہترین موقع ہے ہم نے ان کو اس لئے مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کر لیں، پھر ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہو گا۔ کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول (ص) کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے، انہیں سانس تک نہ لینے دیا جائے، تیری فوج انہیں اونٹوں پر سوار کر کے شہر بہ شہر پھرائے؟ نہ انہیں کوئی پناہ دیتا ہے، نہ کسی کو ان کی حالت کا خیال ہے، نہ کوئی سرپرست ان کے ہمراہ ہوتا ہے لوگ ادھر ا‍‌‌‎دھر سے انہیں دیکھنے کے لئے جمع ہوتے ہیں، لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

تو کہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور یہ کہہ کر تو فرزند رسول (ص) سید الشہدا امام حسین علیہ سلام کے دندان مبارک پر چھڑی لگا کر بےحرمتی کرتا ہے؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ تو ایک گناہ اور برے کام کا مرتکب ہوا ہے؟ تونے آل رسول (ص) اور خاندان عبدالمطلب بنی ہاشم کا خون بہا کر اپنے آپ کو ابوجہل و ابوسفیان کی اولاد ثابت کیا ہے۔ خوش نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، اس وقت یہ تمنا
کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا تو یہ کہتا ہے کہ اگر
میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے، اے اللہ تو ہی ہمارا انتقام لے اور جن لوگوں نے ہم پرستم کیا ہے ان کےدلوں کو ہمارے کینہ سے خالی کر دے، خدا کی قسم تو اپنے آپے سے باہر آ گیا ہے اور اپنے گوشت کو بڑھا لیا ہے۔ جس روز رسول (ص) خدا، ان کے اہل بیت (ع)، اور ان کے فرزند رحمت خدا کے سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت و رسوائی کےساتھ ان کے سامنے کھڑا ہو گا۔ یہ دن وہ روز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم و ستم دیدہ لوگ جو کہ اپنے خون کی چادر اوڑھے ایک گوشے میں محو خواب ہیں انہیں جمع کرے گا۔ خدا خود فرماتا ہے: ” راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں، تیرے باپ معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے، جس روز محمد (ص) داد خواہ ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہو گا، اور عدالت الہی میں تیرے ہاتھ پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے۔ اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شہید اور ہمیں اسیر کرکے فائدہ حاصل کر لیا ہے تو عنقریب تجھے معلوم ہو جائے گا کہ جسے تو فائدہ سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے، اس روز تمہارے کئے کے علاوہ تمہارے پاس کچھ نہ ہو گا، تو ابن زیاد سے مدد مانگے گا اور وہ تجھ سے، تو اور تیرے پیروکار خدا کے میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تمہارے اجداد نے تیرے لئے جمع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تونے رسول (ص) خدا کے بیٹوں کو قتل کر دیا ۔ قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے شکایت نہیں کرتی، جو چاہو تم کرو، جس نیرنگی سے کام لینا چاہو لو، اپنی ہر دشمنی کا اظہار کرکے دیکھ لو ، قسم خدا کی جو ننگ کا دھبہ تیرے دامن پر لگ گيا ہے وہ ہرگز نہ

چھوٹے گا، ہر تعریف خدا کے لئے ہے جس نے جوانان بہشت کے سرداروں حسن و حسین علیہ السلام کو کامیابی عطا کی، جنت کو ان کے لۓ واجب قرار دیا۔

میدان کربلا میں بچوں بزرگوں اور خواتین کا نمایاں کردار ہمیں آج کی
کربلا یا دور حاضر میں اپنا کردار ادا کرنے کا سبق دیتے ہے بقول شاعر
لب فرات پہ اب بھی جنگ جاری ہے
کوئی حسین کے لشکر میں آئے حر کی طرح
محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں اپنے انصار و اصحاب سمیت تاقیامت انسانی اقدار کو بچانے کے لئے ایسی لازاول قربانی دی، جس کی نظیر ملنا مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول (ص)، محسن انسانیت حضرت امام حسین (ع) کی یاد
تمام باشعور و حریت پسند انسانوں میں بغیر کسی تفریق مذہب رنگ و نسل آباد ہے اور انشاءاللہ تاقیامت یہ یاد باقی رہے گی۔ امام حسین علیہ السلام نے راہِ خدا و اسلام، راہِ حق و عدالت، اور جہالت و گمراہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو آزاد کرنے کے لئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ کیا یہ چیزیں کبھی پرانی اور فراموش ہونے والی ہیں؟ ہرگز نہیں حضرت امام حسین (ع) نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں مقام و منزلت رکھتے ہیں بلکہ تمام مذاہب اسلامی اور غیر اسلامی آپ کو ایک مرد آزاد کے عنوان سے پہچانتے ہیں۔ اور آپ کے لیے کچھ خاص خصوصیات کے قائل ہیں۔ ہم یہاں پر بعض غیر اسلامی دانشوروں اور مورخین کے اقوال امام حسین (ع) سلسلے میں نقل کرتے ہیں۔
*لبنان سے تعلق رکھنے والے عیسائی سکالر انٹویا بارا کہتے ہیں۔ کہ اگر ہمارے ساتھ حسین جیسی ہستی ہوتی تو ہم دنیا کے مختلف حصوں میں امام حسین کے نام کا پرچم لے کر مینار تعمیر کرکے لوگوں کو عیسائیت کی طرف بلاتے، لیکن افسوس عیسائیت کے پاس حسین نہیں۔
*انگلستان کے مشہور سکالر و ناول نگارچارلس ڈکسن کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا کہ امام حسین کو کوئی دنیاوی لالچ تھی یا اگر ایسا ہوتا تو حسین اپنا سارا خاندان بچے و خواتین کیوں دشت کربلا میں لاتے۔ کربلا میں بچوں و خواتین سمیت آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ حسین نے فقط اسلام اور رضائے الہی کے لئے قربانی دی۔
* ع۔ ل۔ پویڈ لکھتے ہیں، حسین نے یہ درس دیا ہے کہ دنیا میں بعض دائمی اصول جیسے عدالت، رحم، محبت وغیرہ پائے جاتے ہیں کہ جو قابل تغییر نہیں ہیں۔ اور اسی طریقے سے جب بھی کوئی برائی رواج پھیل جائے اور انسان اس کے مقابلے میں قیام کرے تو وہ دنیا میں ایک ثابت اصول کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ گذشتہ صدیوں میں کچھ افراد ہمیشہ جرأت، غیرت اور عظمت انسانی کو دوست رکھتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آزادی اور عدالت، ظلم و فساد کے سامنے نہیں جھکی ہے۔ حسین بھی ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالت اور آزادی کو زندہ رکھا۔ میں خوشی کا احساس کر رہا ہوں کہ میں اس دن ان لوگوں کے ساتھ جن کی جانثاری اور فداکاری بے مثال تھی شریک ہوا ہوں اگرچہ ۱۳ سو سال اس تاریخ کو گزر چکے ہیں۔
* امریکہ کا مشہور و معروف مورخ اپرونیک، واشنگٹن سے لکھتا ہے۔ حسین کے لیے ممکن تھا کہ یزید کے آگے جھک کر اپنی زندگی کو بچا لیتے۔ لیکن امامت کی ذمہ داری اجازت نہیں دی رہی تھی کہ آپ یزید کو ایک خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے قبول کریں انہوں نے اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہر طرح کی
مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا۔ دھوپ کی شدت تمازت میں جلتی ہوئی ریتی پر حسین نے حیات ابدی کا سودا کر لیا، اے مرد مجاہد، اے شجاعت کے علمبردار، اور اے شہسوار، اے میرے حسین۔
*برصیغر کے معروف رہنما مہاتما گاندھی کہتے ہیں۔۔کہ اسلام بذور شمشیر نہیں پھیلا بلکہ اسلام حسین کی قربانی کی وجہ سے پھیلا اور میں نےحسین سے مظلومیت کے اوقات میں فتح و کامرانی کا درس سیکھا ہے۔ گویا انگریزوں سے پاکستان و ہندوستان کی آزادی بھی امام حسین کی قربانی سے سبق لینے کی وجہ سے ہے۔ ایک طرف گاندھی برملا اس بات کا اقرار کرتا ہے تو دوسری طرف *بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے والد پونجا جناح اور بعد
میں خاندان کے ساتھ جناح کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ ان کی عاشورا کے دن امام حسین کی شبیہہ ذوالجناح کے وسیلے سے دعا پوری ہونے (کیونکہ قرآن میں بھی اللہ سے دعا مانگنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے) کی وجہ سے یہ خاندان محب اہل بیت علیہم السلام اور پیروکاران سید الشہدا امام حسین بن گئے تھے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے عناصر اور بات بات پر کفر کے فتووے لگانے والے اسلام کے لبادے میں یزید ملعون کے پیروکار مٹھی بھر فسادی ٹولے اور فسادی ملاؤں نے اس وقت قائد اعظم کو بھی کافر اعظم (نقل کفر کفر نہ باشد) کہہ کر پکارا اور
آج بھی یہی مٹھی بھر خارجی و فسادی ٹولہ پاکستان میں اسلام کے نام پر فساد برپا کر رہا ہے۔

کربلا شناس و حکیم الامت علامہ اقبال نے سن اکسٹھ ہجری اور اکیسویں صدی کی یزیدیت کو بےنقاب کرتے ہوئے فرمایا،
عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسین کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ

اسی طرح آج کے دور اکیسیویں صدی کے یزید وقت امریکہ کے ایجنٹ اسلام کے نام پر جہاد بنام فساد کی صورت میں ہو ان خواراج و یزیدان عصر کی اسلام دشمنی اور فتنہ کے بارے میں بھی اقبال نے پیشن گوئی کی تھی اور یوں برملا اظہار کیا تھا۔
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
محرم تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے۔ سید الشہداء امام حسین کے فلسفے اور عزاداری کی طاقت نے باطل کے عزائم خاک میں ملا دیئے۔ امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی تکفیری دہشت گرد خوارج القاعدہ و طالبان کو سیریہ میں نواسی رسول (ص) بی بی زینب (س) کے مزار کی تباہی کی نیت، اسرائیل کی حمایت میں اسرائیل مخالف شام کی حکومت کے خلاف نام نہاد جہاد کے دوران فلسطین کی حامی مزاحمت اسلامی اور حزب اللہ کے ہاتھوں بدترین شکست بھی کربلا آئیڈیالوجی کی فتح ہے۔ بقول شاعر۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین