ur

تہذیب نفس

4
مصنف:آیت اللہ ابراہیم امینی
موضوع:اخلاق تربیت

خرافات اور عقائد باطل عین جہالت اور نادانی ہوتے ہیں اور انسان کی رو ح کو تاریک کر دیتے ہیں اور صراط مستقیم اور قرب الٰہی اور تکامل سے منحرف کر دیتے ہیں باطل عقائد رکھنے والے تکامل کے راستے کو نہیں پہچانتے اسی واسطے گمراہی اور ضلالت کی وادی میں قدم رکھتے ہیں اور یقیناً مقصد تک نہیں پہنچتے جو روح تاریک ہو کس طرح وہ انوار الٰہی کی تابش کا مرکز قرار پا سکتی ہے؟ اسی طرح برے اخلاق اور ان کے ملکات حیوانی عادات کو تقویت پہچانتے ہیں اور انسانی روح کو آہستہ آہستہ خاموش اور تنہا ہو جانے کی طرف لے جاتے ہیں ایسا انسان انسانی غرض خلقت جو قرب الہی اور کمال تک پہنچنا ہوتا ہے کبھی نہیں پہنچے گا اسی طرح گناہوں اور معصیت کو بجالانا انسان کی روح کو تاریک اور آلودہ کر دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تکامل اور قرب الہٰی سے دور ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان آخری غرض اور غایت تک نہیں پہنچنے پاتا۔
اس مرحلے میں ہمیں تین کام انجام دینے ہونگے۔
1۔ باطل عقائد اور غلط افکار اور خرافات سے نفس کو پاک کرنا۔
2۔ برے اخلاق اور رذائل سے نفس کو پاک کرنا۔
3۔ گناہوں اور معاصی کا ترک کرنا۔
خرافات اور عقائد باطل عین جہالت اور نادانی ہوتے ہیں اور انسان کی رو ح کو تاریک کر دیتے ہیں اور صراط مستقیم اور قرب الٰہی اور تکامل سے منحرف کر دیتے ہیں باطل عقائد رکھنے والے تکامل کے راستے کو نہیں بچانتے اسی واسطے گمراہی اور ضلالت کی وادی میں قدم رکھتے ہیں اور یقیناً مقصد تک نہیں پہنچتے جو روح تاریک ہو کس طرح وہ انوار الہٰی کی تابش کا مرکز قرار پا سکتی ہے؟ اسی طرح برے اخلاق اور ان کے ملکات حیوانی عادات کو تقویت پہچانتے ہیں اور انسانی روح کو آہستہ آہستہ خاموش اور تنہا ہو جانے کی طرف لے جاتے ہیں ایسا انسان انسانی غرض خلقت جو قرب الہٰی اور کمال تک پہنچنا ہوتا ہے کبھی نہیں پہنچے گا اسی طرح گناہوں اور معصیت کو بجالانا انسان کی روح کو تاریک اور آلودہ کر دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ تکامل اور قرب الٰہی سے دور ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان آخری غرض اور غایت تک نہیں پہنچنے پاتا۔ اسی واسطے نفس کا پاک و پاکیزہ کرنا ہمارے لئے انتہائی اہم اور ضروری کام شمار ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے برے اخلاق اور گناہوں کو پہچانیں اور پھر عمل کے مرحلے میں قدم رکھیں اور اپنی روح کو پاک و پاکیزہ بنائیں۔ اتفاق سے ہمیں پہلے مرحلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اس واسطے کہ ارواح کے اطباء اور خدا کے بھیجے ہوئے انسان شناسی یعنی پیغمبروں اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے برے اخلاق کو بطور کامل ہمارے لئے بیان کر دیا ہے اور ان کا علاج کرنا بھی بتلا دیا ہے۔ معصیت اور نافرمانیوں کو ہمارے لئے شمار کر کے انکا علاج بھی بیان کر دیا ہے ہم تمام برے اخلاق کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور ان کی برائیوں سے آگاہ ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ نفاق ،تکبر ،حسد ،کینہ پروری، غضب چغل خوری خیانت ،خودپسندی ،برا چاہنا، شکایت کرنا، تہمت لگانا، برا بھلا کہنا، بد زبان ہونا، تندخوئی۔ ظلم بے اعتمادی خوف، بخل، حرص، عیب جوئی، جھوٹ بولنا، حب دنیا اور مقام اور ریاست کی محبت ریاکاری، دھوکا دینا، حیلہ باز ہونا، براگمان، قسی القلب ہونا، ضعف نفس اور اس طرح کی دوسری صفات بری اور زشت ہیں۔ اس کے علاوہ ہم فطرت کی رو سے ان کی برائیوں کو سمجھ پاتے ہیں۔ سینکڑوں روایات اور آیات ان کی برائیوں اور قبیح ہونے کی گواہی دے رہی ہیں، ہماری احادیث اس کے متعلق اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی طرح تمام محرمات اور گناہوں کی وضاحت قرآن مجید اور انکی تشریح اور ان کا عذاب اور سزا احادیث میں موجود ہے۔ غالبا ہم تمام کو جانتے ہیں لہٰذا برے اخلاق اور صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی پہچان میں ہمیں کوئی مشکل نہیں آتی اس کے باوجود ہم غالبا شیطان اور نفس امارہ کے قیدی ہیں اور توفیق حاصل نہیںکرتے کہ اپنی نفس گناہوں اور برے اخلاق سے پاک کریں اور یہی اساسی مشکل ہے کہ جس کا علاج ہمیں سوچنا چاہئے۔ میری نگاہ میں اس کا مہم ترین سبب دو چیزیں ہیں۔ پہلی کہ ہم اپنی اخلاقی بیماریوں کو نہیں پہچانتے اور اپنے بیمار ہونے کا اقرار نہیں کرتے اور دوسرے اخلاقی بیماری کو معمولی قرار دیتے ہیں اور اس کے برے اور دردناک انجام سے غافل ہیں اسی لئے تو اس کے علاج کرنے میں کو شش نہیں کرتے یہی وہ دو مہم سبب ہیں کہ جنہوں نے ہمیں اپنی اصلاح اور تہذیب نفس سے غافل کر رکھا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس میں بحث کریں اور اس کا علاج بتلائیں۔
بیماری سے غفلت
ہم غالباً اخلاقی بیماریوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے برے ہونے کو بھی جانتے ہیں لیکن یہ صرف دوسروں میں نہ اپنے وجود میں۔ اگر ہم کسی دوسرے میں برے اخلاق اور برے رفتار کو دیکھیں تو اس کی برائی کو اچھی طرح جان لیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہی بری صفت بلکہ اس سے بدتر ہم میں موجود ہو تو اس کی طرف ہم بالکل متوجہ نہیں ہوتے مثلاً دوسرے کے حقوق کو ضائع کرنا برا سمجھتے ہیں اور اس کے بجا لانے والے سے نفرت کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ہم خود دوسروں کے حقوق ضائع کر رہے ہوں لیکن اسے بالکل نہیں سمجھتے بلکہ اپنے کام کو تو دوسرے کے حقوق کو ضائع کرنا ہی نہیں جانتے بلکہ ہو سکتا ہے کہ اپنے ایسے کام کو ایک اپنی نگاہ میں بہت عمدہ اور اخلاقی قدر والا گر دانتا ہو اسی طریقے سے اپنے نفس کو مطمئن کر دیتے ہیں یہی حال دوسرے بری صفات کا بھی ہو سکتا ہے، یہی تو وجہ ہوتی ہے کہ ہم اپنی کبھی اصلاح کرنے کی فکر میں نہیں جاتے کیونکہ اگر بیمار اپنے آپ کو بیمار نہ سمجھے تو وہ علاج کرنے کی فکر میں نہیں جاتا اور چونکہ ہم اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھتے لہٰذا اس کے علاج کرنے کے درپے بھی نہیں ہوتے ہماری سب سے بڑے مصیبت اور مشکل یہی ہے۔ لہٰذا اگر ہم اپنی سعادت کی فکر میں جائیں تو اس مشکل کا حل ہمیں تلاش کرنا ہوگا اور جس ذریعے سے بھی ممکن ہو ہمیں اپنی نفسانی بیماریوں کے پہچاننے میں کوشش کرنی چاہئے۔
نفس کی بیماریوں کے تشخیص کے راستے
بہتر ہوگا کہ نفس کی مختلف بیماریوں کی پہچان میں ان وسائل سے کہ جن سے ممکن ہے استفادہ کیا جائے یہاں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
1۔ تقویت عقل: ملکوتی انسان کا اعلی مرتبہ اور اس کے وجود کا کامل ترین امتیاز جو انسان کے لئے تمام مخلوقات سے امتیاز دینے کا منشا اور مبدا ہے اسے قرآن اور احادیث میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے، روح نفس قلب عقل یہ تمام نام ایک حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کو مختلف جہات کی وجہ سے مختلف نام دیے گئے ہیں۔
اس لحاظ سے کہ وہ حقیقت موجب فکر اور سوچ اور سمجھنا اور تعقل ہے اسے عقل کا نام دیا گیا ہے احادیث کی کتابوں میں عقل کو ایک ممتاز مقام دیا گیا ہے یہاں تک کہ اس کے لئے ایک علیحدہ فصل احادیث کے کتابوں میں مخصوص کی گئی ہے۔ احادیث میں عقل کو موجودات سے شریف ترین موجود اور احکام اور ثواب اور عقاب کا منشاء بتلایا گیا ہے جیسے امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘ جب اللہ تعالی نے عقل کو پیدا کیا تو اسے بولنے پر قدرت دی اور پھر اسے کہا کہ اے عقل آگے آ؟ عقل نے اطاعت کی اور آگے آئی۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ لوٹ جا۔ عقل نے پھر اطاعت کی اور لوٹ گئی اس وقت خداوند عالم نے فرمایا کہ’’ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں نے تجھ سے بہتر اور محبوب ترین مخلوق خلق نہیں کی تجھے کامل نہیں کرونگا مگر اس میں کہ جسے میں دوست رکھتا ہونگا۔ جان لو کہ میرے اوامر اور نواہی تیری طرف متوجہ ہونگے اور تجھ ہی سے ثواب اور عقاب دونگا‘‘۔(۱)
انسان عقل کے ذریعے فکر کرتا ہے اور حقائق کو معلوم کرتا ہے اچھائی اور برائی فائدہ مند اور ضرر رساں ذمہ داریوں کی تشخیص کرتا ہے اگر انسان کے پاس عقل نہ ہوتی تواس کے اور حیوانات کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا اسی لئے خداوند عالم نے قرآن کریم میں تعقل اور تفکر اور تامل اور تفقہ پر اعتماد کیا ہے اور انسان سے چاہتا ہے کہ اپنی عقل کو اپنے آپ میں کام میں لائے۔
قرآن مجید میں آیا ہے کہ خداوند ایسی نشانیاں تمہارے لئے بیان کرتا ہے۔ شاید تم تعقل کرو اور تفکر کرو۔ (۲) نیز خدا فرماتا ہے ‘ وہ زمین میں کیوں سیر نہیں کرتے تا کہ ان کے لئے دل ہو کہ فکر و غور کریں۔ (۳)
نیز خدا فرماتا ہے کہ ‘ سب سے بدتر حرکت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو بہرے گونگے اور سوچ نہیں کرتے۔(۴)
خداوند عالم ان لوگوں کو جوعقل کان اور زبان رکھتے ہیں لیکن حقائق کی پہچان میں ان سے کام نہیں لیتے انہیں حیوانات کے زمرے میں شمار کرتا ہے بلکہ حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے کیونکہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔
خدا فرماتا ہے ‘ خدا پلیدی کو ان پر قرار دیتا ہے جو تعقل نہیں کرتے۔(۵)
انسان میں جتنی اچھائی ہے وہ عقل سے ہے، عقل سے خدا کو پہچانتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے اور قیامت کو قبول کرتا ہے اور اس کے لئے مہیا ہوتا ہے۔ پیغمبروں کو قبول کرتا ہے اور ان کی اطاعت کرتا ہے۔ اچھے اخلاق کو پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو ان میں ڈھالتا ہے برائیوں کو پہچانتا ہے اور ان سے پرہیز کرتا ہے۔ اسی درجہ سے قرآن اور احادیث میں عقل کی عظمت اور جلالت بیان کی گئی ہے۔
امام صادق علیہ السلام ایک سوال کرنے والے کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ‘ عقل وہ چیز ہے کہ جس وجہ سے خدا کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے سے بہشت حاصل کی جاتی ہے۔(۶)
نیز امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘ جو شخص عاقل ہوگا دین رکھتا ہوگا اور جو شخص دین رکھتا ہوگا وہ بہشت میں داخل ہوگا۔(۷)
امام موسی کاظم علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا کہ ‘ خدا کی لوگوں پر حجت اور دلیلیں دو ہیں ایک ظاہری اور دورسری باطنی۔ ظاہری حجت انبیاء اور ائمہ علیہم السلام ہیں اور باطنی عقل ہے۔(۸)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرماتا ہے ۔ ‘ عقل کے لحاظ سے کامل تر لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق تمام سے بہتر ہوں۔(۹)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ مومن کا راہنما عقل ہے۔(۱۰)
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ ہر انسان کا دوست عقل ہے اور اس کا دشمن جہالت۔(۱۱)
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے ‘ انسان کا خودپسند ہونا اس کے عقل کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے۔(۱۲)
امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا کہ ‘ جو شخص بغیر مال کے بے نیازی اور روح کو حسد سے آرام اور اطمینان میں رکھے اور دین میں سالم رہے اسے تضرع اور زاری سے خدا سے دعا مانگی چاہئے کہ خدا اس کی عقل کو کامل کردے ۔ جو شخص عاقل ہوگا وہ قدر کفایت پر قناعت کرے گا اور جو شخص کفایت کی مقدر ارپر قناعت کرے گا وہ غنی اور بے نیاز ہوگا اور جس نے مقدار کفایت پر قناعت نہ کی وہ ہرگز بے نیاز نہ ہوگا۔(۱۳)
امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں ‘ عقلمند انسان دنیا کے زائد امور کو ترک کرتے ہیں چہ جائیکہ گناہوں کو جب کہ ترک دنیا افضال ہے تو گناہوں کا ترک کرنا تو واجب ہے۔ (۱۴)
آپ نے فرمایا کہ ‘ عقلمند انسان جھوٹ نہیں بولتا گر چہ اس کی روح اس کی طرف مائل ہی کیوں نہ ہو۔(۱۵)
آپ نے فرمایا کہ ‘ جو شخص مروت نہیںرکھتا اور جو شخص عقل نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا وہ مروت نہیں رکھتا سب سے قیمتی انسان وہ ہے جو دنیا کو اپنے نفس کی قیمت قرار نہ دے اور جان لو کہ تمہارے جسم کی قیمت سوائے بہشت کے اور کوئی نہیں ہے لہذا اسے بہشت کے عوض کسی اور چیز کے مقابلے فروخت نہ کرو۔(۱۶)
ان تمام احادیث سے عقل کے پردازش اور قیمتی ہونے کو سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے معارف اور علوم اور ایمان کا لانا عبادت خدا اور اس کی شناخت مکارم اخلاق سے استفادہ کرنا اور رذائل اور گناہوں سے اجتناب کرنا حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اس نقطہ کی طرف متوجہہ ہونا چاہئے اور اس سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔ عقل انسان کے بدن میں ایک عادل قاضی ہے اور حاکم ہے لیکن یہ اس صورت میں اچھا فیصلہ دیتا ہے جب اس کے لئے امن کا ماحول میسر ہو اور اس کے فیصلے کو مورد قبول قرار دیا جائے یہ اس دانا اور قدرت مند اور مدبر اور خیر اندیش حاکم کے قائم ہے لیکن بشرطیکہ اس کے فیصلے اور حکومت کی تائید کی جائے یہ ایک دانا مشورہ دینے والے اور مورد اعتماد اور خیر اندیش کے قائم ہے لیکن بشرطیکہ اس سے مشورہ طلب کیا جائے اور اس کے فرمان کو درست سنا جائے۔
اگر بدن پر عقل کی حکومت ہو اور خواہشات اور غرائز نفسانی پر اس کا تسلط ہو تو وہ بدن کی مملکت پر بہترین طریقہ سے حکومت کرے گا۔ غرائز اور قومی میں تعادل برقرار کرے گا۔ اور تمام کو تکامل اور سیر و صعود الی اللہ پر برقرار رکھے گا لیکن اس سادگی سے حیوانی خواہشات اور تمایلات عقل کی حکومت کو قبول کرلیں گے اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیں گے نہ بلکہ یہ اتنی فتنہ انگیزی اور خرابکاری کریں گے۔ تا کہ وہ عقل کو میدان سے باہر نکال دیں اس کا علاج یہ ہے کہ عقل کو قوی کیا جاے کیونکہ عقل جتنا طاقت ور اور نافذ ہوگا وہ داخلی دشمنوں کو بہتر پہچانے گا اور ان پر تسلط حاصل کرنے اور انہیں دبانے پر زیادہ قادر ہوگا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عقل کو مضبوط بنانے کی کوشش اور جہاد کریں۔
2۔ عمل سے پہلے فکر کرنا: عقل کے قوی کرنے میں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کسی کام کے انجام دینے سے پہلے سوچنا چاہئے اور اس کام کے نتائج اور آثار اور دنیاوی اخروی اثرات کو خوب دیکھناچاہئے اور یہ عہد کرلیں کہ کسی کام کو بھی اس کی عاقبت اندیشی سے پہلے انجام نہ دیں تا کہ آہستہ آہستہ سوچنے اور تفکر کے ذریعے اپنی روح کو آگاہ کیا کریں۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘ تفکر انسان کو اچھے کاموں اور ان پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔(۱۷)
نیز حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘ کام کرنے سے پہلے انجام کو سوچنا تجھے پشیمانی سے محفوظ کردے گا۔(۱۸)
ایک شخص رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے کسی کام کی فرمائش کریں۔ آپﷺ نے فرمایاکہ ‘ کیا تم میرے کہنے پر عمل گروگے؟ اس نے کہا: ہاں یا رسول اللہ ﷺ ‘۔ اس سے یہ سوال اور آپ کا یہ جواب تین دفعہ رد و بدل ہوا۔ اس وقت رسول خدا نے فرمایا کہ ‘ میری فرمائش یہ ہے کہ جب تم کسی کام کو انجام دینا چاہو تو اس کے انجام کے بارے میں پہلے خوب غور و فکر کرلو اگر اچھا ہوا تو اسے بجالائو اور اگر شک اور اشتباہ ہو تو اسے بجانہ لائو۔(۱۹)
رسول خداﷺنے فرمایا ہے کہ ‘ جلد بازی لوگوں کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے اگر لوگ اپنے کاموں میں تدبر کرتے تو کبھی ہلاک نہ ہوتے۔(۲۰)
پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ ‘ انجام کو سوچنا اور جلد بازی نہ کرنا خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازی کرنا شیطان کی طرف سے ۔(۲۱)
معصوم کی حدیث میں یوں آیا ہے کہ ‘ غور و فکر شیشہ کی طرح ہے جو تمہیں اچھائی اور برائی ظاہر کردے گا۔(۲۲)
حیوانات اپنے کاموں میں غرائز اور حیوانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور غور اور فکر نہیں رکھتے لیکن انسان چونکہ اس کے پاس عقل ہے لہٰذا اسے پہلے کاموں میں غور و فکر کرنا چاہئے اور اسے عاقبت اندیش ہونا چاہئے گرچہ انسان بھی وہی حیوانی غرائزاور خواہشات رکھتا ہے اسی وجہ سے جب کسی حیوانی خواہش کا طالب ہوتا ہے تو فورا ًاس کے بجالانے میں دوڑتا ہے اور اس کی حیوانی خواہش اور غریزہ اسے غور و فکر کی مہلت نہیں دیتا کہ کہیں عقل اس میدان میں نہ آجائے اور اس کی حیوانی خواہش کے لئے سد راہ نہ بن جائے لہٰذا اگر ہم سے ہو سکے کہ ہم اپنے آپ کو یوں عادت دیں کہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس میں خوب غور اور فکر کریں کے راستے کو کھول دیں اور اسے اس میدان میں کام کرنے دیں اور جب عقل اس میدان میں وارد ہوگا تو وہ اس اقدام کے واقعی مصالح اور مفاسد کو درک کرے گا اور حیوانی خواہش اور تمایلات میں اعتدال پیدا کرے گا اور ہمیں تکامل انسانی کے صراط مستقیم کی راہنمائی کرے گا اور جب عقل طاقت ور ہوگا اور جسم کی مملکت میں حاکم ہوجائے گا تو پھر وہ انسانیت کے داخلی دشمنوں اور نفسانی بیماریوں سے ہمیں آگاہ کردے گا اور اس کے علاج اور روکنے کی طرف متوجہ ہو جائیگا اسی لئے قرآن اور احادیث میں غور و فکر اور تعقل و تدبر کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔
3۔ نفس کے بارے میں بدبینی: اگر انسان اپنے اندر کو دیکھے اور اپنی نفسانی صفات کو انصاف کی نگاہ سے تو لے تو پھر وہ اپنی نفسانی بیماریوں اور عیوب سے آگاہ ہوجائے گا کیونکہ انسان سب سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہے (یعنی اپنے اندر نیکی اور بدی کے وجود کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے لیکن عذر لانے کے پردے اپنی بصیرت کی آنکھ پر ڈالنا رہتا ہے۔(۲۳)
لیکن ہم میں سب سے مشکل اور مصیبت یہ ہے کہ ہم فیصلے اور حکم دینے میں غیر جانبدار نہیں رہتے بلکہ اکثر اوقات ہم اپنے بارے میں خوش بین اور خودپسند ہوتے ہیں ہم اپنے آپ کو اور اپنے افعال اور صفات اور گفتار کو اچھا اور بلا عیب سمجھتے ہیں۔ انسانی نفس امارہ ہمارے حیوانی کاموں کو ہمارے سامنے ایسا خوشنما بناتا ہے کہ ہم اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ قرآن ارشاد فرماتا ہے کہ وہ شخص کہ جس کے کام اس کے سامنے خوشنما بنائے گئے ہیں اور انہیں نیک سمجھتا ہے ( آیا تونے نہیں دیکھا؟)
‘ پس خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔(۲۴)
اسی لئے ہم اپنے عیبوں کو نہیں دیکھ پاتے تا کہ ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اس مشکل کا حل یہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے نفس پر بد گمان اور بدبین رہیں اور یہ احتمال دیں بلکہ یقین کریں ہم بہت سی برائیوں اور بیماریوں میں گرفتار ہیں ایسی حالت میں ہم اپنے نفس کے بارے میں سوچیں۔
امیر ا لمومنین علیہ السلام نے متقیوں کی صفات میں فرمایا ہے کہ ‘ انکا نفس ان کے نزدیک مورد تہمت اور بدگمانی میں قرار پایا ہے اور وہ اپنے کاموں میں خوف کھاتے ہیں جب بھی ان میں سے کوئی کسی کی تعریف کا مورد قرار پاتا ہے تو وہ اپنی تعریف کئے جانے میں ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنے نفس سے زیادہ واقف ہیں اور خدا ہم سے بہت زیادہ آگاہ ہے۔(۲۵)
بڑے موانع میں سے ایک مانع جو اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنی نفسانی بیماریوں سے آگاہ ہو اور اس کی اصلاح کرے یہی اپنے آپ کو اچھا سمجھنا اور اپنے بارے میں حسن ظن رکھناہوتا ہے اگر یہ مانع دور کردیا جائے اور بطور انصاف اور یہ احتمال دیتے ہوئے کہ ہم میں عیب موجود ہیں اپنے آپ کو پایا جائے تو اس وقت ہم اپنی بیماریوں کو بھی پہچان لیں گے اور ان کی اصلاح بھی کریں گے۔
4۔ روحانی طبیب کی طرف رجوع: انسان کو اپنے عیبوں کو پہچاننے کے لئے ایک ایسے اخلاق کے عالم کی طرف کہ جس نے اپنے نفس کی تہذیب کر رکھی ہو اور اچھے اخلاق سے متصف ہوچکا ہو رجوع کرنا چاہئے اپنے اندرونی صفات اور احوال کو بطور کامل اس کے سامنے بیان کرنا چاہئے اور اس عالم سے خواہش کرے کہ وہ اس کے نفسانی عیوب اور برے صفات سے اسے آگاہ کرے۔
ایک روحانی طبیب جو اسلامی، اخلاقی اور نفسیات کو جانتا ہو اور خودعامل اور مکارم اخلاق کا پابند ہو وہ تہذیب نفس اور سیر و سلوک کے راستے بتلانے کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور موثر ہوا کرتا ہے اگر انسان اس قسم کا آدمی پیدا کرلے تو اسے خداوند عالم کا اس بزرگ نعمت پر شکریہ ادا کرنا چاہئے لیکن صد افسوس کہ اس قسم کے آدمی بہت کمیاب ہیں۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ روح کی بیماریوں کی تشخیص کرنا بہت مشکل ہے لہٰذا بیمار پر فرض ہے کہ اپنی اندرونی صفات اور افعال کو بغیر چھپائے روحانی طبیب کے سامنے وضاحت سے بیان کردے تا کہ وہ اس کی بیماری کی تشخیص کر سکے اور اگر بیمار نے اس بارے میں روحانی طبیب کی مدد نہ کی اور واقعات کے اظہار میں پس و پیش کیا تو وہ اس مطلوبہ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔
5۔ دانا دوست کی طرف رجوع کرنا: اچھا اور دانا اور خیر خواہ دوست اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہوتا ہے جو تہذیب نفس اور بری صفات کی پہچان کے راستے میں انسان کی مدد کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دانا ہو اور بری اور اچھی صفات کو پہچانتا ہو اس کے علاوہ وہ خیر خواہ اور مورد اعتماد بھی ہو اس واسطے کہ اگر وہ اچھی اور بری صفات کو نہ پہچانتا ہو تو وہ اس کے متعلق اس کی مدد نہیں کر سکے گا اور اگر وہ مورد اعتماد اور خیر خواہ نہ ہوا تو ممکن ہے کہ وہ دوستی کی حفاظت اور ناراضگی کے مول نہ لینے کیوجہ سے اپنے دوست کے عیب کو چھپا لے بلکہ ممکن ہے کہ وہ خوشامد کرتے ہوئے اس کے عیب کو اس کے سامنے اچھا بیان کرے اور اس عیب پر اس کی تعریف اور تمجید شروع کردے اگر کوئی اس قسم کا دوست پیدا کرے اور اس سے خواہش کرے کہ جو نقص اور عیب اس میں دیکھے اسے اس کا تذکرہ کردے تو اسے اس کی یاد دہانی اور تذکر پر اس کی عزت اور قدردانی کرنی چاہئے۔
اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ایسے دوست سے استفادہ کرنا چاہئے، اس کے تذکرات سے استفادہ اور اس کی عزت اور قدردانی پر اسے یہ باور کرائے کہ اس کے عیب بیان کرنے پر نہ صرف اسے برا معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس سے وہ خوشحال بھی ہو جاتا ہے۔ اس دوست پر کہ جسے خیرخواہ قرار دیا گیا ہے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنےاخلاص اور صداقت کو عملی طور پر ثابت کرے۔ بطور انصاف اور بغیر محبت اور بغض کے دوست کے صفات کو پر کھے اور دقت کرے اور اس بارے جو اس کا نظریہ ہوا سے وہ خیرخواہی اور دوستانہ زبان میں اسے بتلائے اور جہاں تک ہو سکے یہ اسے تنہائی اور مخفی طور سے بتلائے اور اس کے عیب کو لوگوں کے سامنے اظہار کرنے سے پرہیز کرے اس کی غرض واقع کا بتلانا ہو اور مبالغہ آمیزی سے پرہیز کرے کیونکہ وہ اپنے مومن بھائی کے لئے بطور آئینہ ہوتا ہے جو خوبیوں اور اچھائیوں کو بغیر کم اور زیادہ کے ظاہر کرتا ہے۔ البتہ ایسے مہربان اور اصلاح طلب دوست جو انسان کے عیوب کو اصلاح کے لئے بیان کردیں بہت ہی کمیاب ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو ایسا دوست مل جائے تو وہ ایک بہت بڑی سعادت پر فائز ہوتا جائیگا اسے اس کی قدر پہچاننی چاہئے اور اس کی یاد دھانیوں پر خوشحال ہونا چاہئے اس کے شکریہ کا اظہار کرے اور اسے متوجہ ہونا چاہئے کہ جو دوست اصلاح کی غرض سے انسان کے عیب کی یاد دھانی کرا رہا ہے اور یاد دھانی سے رنجیدہ خاطر ہو اور اس کے دفاع یا انتقام لینے پر اتر آئے۔ اگر کسی نے تجھے بتلایا کہ کئی ایک بچھو تیرے لباس پر موجود ہیں کیا اس کے اس بتلانے سے تو رنجیدہ خاطرہ ہوگا اور اس سے انتقام لینے پر اتر آئے گا اس کے اس کہنے سے خوشحال ہوگا اور اس کی قدردانی کرے گا؟
برے صفات بھی بچھو کی طرح ہوا کرتے ہیں بلکہ اس سے بدتر ہوتے ہیں اور انسان کے جسم پر ڈیگ مارتے ہیں اور ہمیشہ اس کے اندر چھپے رہتے ہیں جو ایسے بچھو سے بچانے میں ہماری مدد کرے اس نے ہماری بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘ میرا بہترین بھائی وہ ہے جو میرے عیب کو میرے لئے بیان کرے۔(۲۶)
6۔ دوسروں کے عیب سے نصیحت لینا: انسان غالبا اپنے عیب سے غافل ہوتا ہے ۔لیکن دوسروں کے عیب کو دیکھتا ہے اور اس کی برائی کو خوب سمجھتا ہے اور مثال مشہور ہے کہ دوسروں کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اسے پہاڑ سمجھتا ہے لیکن پہاڑ کو اپنی آنکھ میں نہیں دیکھتا لہٰذا ایک راستہ اپنے نفسانی عیوب کی پہچان کا دوسروں کے عیوب کو دیکھتا ہے۔ جب کسی عیب کو دوسروں میں دیکھے تو اس پر اعتراض کرنے سے پہلے اسے اپنے میں ڈھونڈے اور اپنے آپ میں اسے مورد تفتیش قرار دے اور اپنے آپ میں رجوع کرے اگر وہی عیب اس میں موجود ہو تو اس کی اصلاح کرنے کی سعی اور کوشش کرے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ دوسروں کے عیب سے نصیحت حاصل کرے اور اپنے نفس کو اس سے پاک کرلے، رسول خداﷺ نے فرمایا کہ: وہ سعادتمند انسان ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔(۲۷)
7۔ اعتراض کئے جانے سے نصیحت حاصل کرے: دوست اکثر عیب کے ذکر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اس کے بر عکس دشمن اکثر عیب پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں گرچہ وہ اعتراض کرنے میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ حسد بغض انتقام لینے کی غرض انہیں تنقید کرنے پر ابھارتی ہے بہر حال انسان اپنے دشمنوں کے اعتراض اور تنقید اور عیب جوئی سے استفادہ کر سکتا ہے انسان اپنے دشمنوں کے اعتراض سے دو طریق میں سے کسی ایک سے روبرو ہو سکتا ہے پہلے یا تو وہ اپنے آپ کو ان اعتراضات سے دفاع کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے کیونکہ وہ عیب جوئی دشمن سے ظاہر ہوتی ہے اور وہ اس کے بیان کرنے میں اچھائی کی نیت نہیں رکھتا لہذا جس طرح سے بھی ہو وہ اپنے لئے دفاع کی حالت پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس کی اس طرح کی آواز کو خاموش کرنے کے در پے ہوتا ہے اس طرح کا انسان نہ فقط اپنے عیب کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ اس سے بڑھ کر دوسری غلطی اور خطا اور اشتباہ میں اپنے آپ کو گرفتار کر لیتا ہے دوسرے وہ دشمنوں کے اعتراضات کو اچھی طرح سے سنتا ہے اور پھر حقیقت شناسی کی نیت سے اپنے آپ میں رجوع کرتا ہے اور بطور انصاف اس اعتراض کی تحقیق کرتاہے اگر اس نے دیکھا کہ دشمن کا اعتراض درست ہے اور اس کا نفس معیوب ہے تو فورا اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اگر مصلحت کا تقاضا ہو کہ ایسے دشمن سے کہ جس نے اس کا عیب بیان کیا ہے اور وہ اس کے نفس کے پاک کرنے کا وسیلہ بنا ہے شکریہ ادا کرے ایسا دشمن اس لحاظ کرنے والے دوست سے کہ جو اس کے عیب کو چھپاتا ہے اور اس کی اس عیب پر تعریف کرتے ہوئے چاپلوسی کر کے اسے جہالت اور نادانی میں رکھے رہتا ہے بہت زیادہ بہتر اور مفید ہوگا اور اگر اس نے سوچ و بچار کے بعد دیکھا کہ دشمن کا بیان کردہ عیب اس میں موجود نہیں ہے تو پھر خدا کا شکریہ ادا کرے اور اپنے نفس کی حفاظت کرے کہ کہیں اس برے عیب میں بعد میں مبتلا نہ ہوجائے اس صورت میں انسان ایسے دشمن سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن اس کا اس طرح کرنا اس سے مانع نہیں ہوگا کہ وہ عقلائی اور شرعی طریقے سے دشمن کی سازش اور خیانت کے نقشے کو ناکام بنادے۔
8۔ روح کی بیماریوں کی علامتیں: بیماری کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کی علامتوں سے ہوا کرتا ہے۔ جسم کی بیماری دو میں سے ایک طریقے سے پہچانی جاتی ہے یا تو درد کے محسوس کرنے سے اور یا کسی عضو کے اس کام کے انجام دینے سے کمزور پڑ جانے سے جو اس کے ذمہ قرار پایا ہے کیونکہ بدن کے نظام کے برقرار رہنے میں اس کے ہر عضو کا مخصوص عمل ہوا کرتا ہے اگر کوئی عضو اس کام کے انجام دینے میں کمزور ہو جائے تو معلوم ہوجائیگا کہ وہ عضو مریض ہوگیا ہے مثلا آنکھ اگر سالم ہو تو وہ خاص شرائط کے ساتھ دیکھتی ہے پس اگر شرائط کے ہوتے ہوئے یا تو بالکل نہ دیکھے یا اچھی طرح نہ دیکھے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بیمار ہے اسی طرح بدن کے بقیہ تمام اعضاء اور جوارح مثل کان ، زبان، ہاتھ، پائوں، دل ، جگر، گردے و غیرہ ان میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص کام ہوا کرتا ہے کہ جسے وہ سلامتی کی حالت میں انجام دیتے ہیں اگر انہوں نے وہ مخصوص کام انجام نہ دیئے تو معلوم ہوجائیگا کہ وہ بیمار ہیں انسان کی روح اور نفس بھی اسی طرح ہے کہ اس کے لئے فطرت اور خلقت کے لحاظ سے مخصوص کام قرار دیئے گئے ہیں جنہیں اس کو بجالانے ہوتے ہیں۔ روح عالم ملکوت سے آئی ہے علم اور رحمت قوت احسان انصاف پسندی محبت معرفت نورانیت اور دوسرے کمالات اور مکارم اخلاق سے اسے سنخیت حاصل ہے اور ان سے مربوط ہے یہ فطرت کے لحاظ سے علت کو معلوم کرتی ہے اور خدا طلب ہے ایمان اور خدا کی طرف توجہ اور اس ذات سے محبت اور علاقمندی اس کی عبادت اور اس سے دعا اور راز و نیاز روح کی سلامتی اور صحت کی علامتیں ہیں۔ اسی طرح علم و دانش اور اللہ کے بندوں کی رضا الہٰی کے لئے خدمت۔ قربانی اور ایثار، عدالت خواہی اور دوسرے مکارم اخلاق روح کی صحت اور سلامتی کی علامتیں شمار ہوتی ہیں اگر انسان اس قسم کی صفات اپنے میں موجود پائے تو معلوم ہوجائیگا کہ اس کی روح سالم اور صحیح ہے اور اگر اسے حاصل ہو کہ وہ خدا کی طرف توجہ نہیں رکھتا اور عبادت اور دعا اور مناجات سے لذت حاصل نہیں کرتا اور اس سے بھاگتا ہے خدا کو دوست نہیں رکھتا اور صرف مقام اور مرتبہ جاہ و جلال دولت اور ثروت اور اولاد اور بیوی شہوت رانی اور لذات حیوانی کو اللہ کی رضا پر ترجیح دیتا ہے اور زندگی سے صرف منافع شخصی کا ہدف رکھتا ہے اور فداکاری اور قربانی اور ایثار اور احسان اور خدمت خلق سے لذت حاصل نہیں کرتا اور دوسروں کے درد اور مصیبت سے دردناک نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کو جان لینا چاہئے کہ اس کی روح واقعا بیمار ہے اگر وہ اپنی سعادت کو چاہتا ہے تو اسے بہت جلدی اپنی روح کی اصلاح اور علاج کرنا چاہئے۔
علاج کرنے کا عزم
جب ہم نے نفس اور روح کی بیماریوں کو پہچان لیا اور یقین کرلیا کہ ہم بیمار ہیں تو ہمیں فورا ًعلاج شروع کرنا چاہئے اور سب سے اہم اس مرحلہ میں انسان کا ارادہ اور عزم ہے اگر واقعاً ہم چاہیں اور حتمی ارادہ کرلیں کہ ہم اپنے آپ کو برائیوں اور برے اخلاق سے اپنی روح کو پاک کریں گے توا یسا کر سکتے ہیں لیکن اگر اس کو معمولی شمار کریں اور ارادہ اور عزم نہ کریں تو پھر روح کی سلامتی اور اس کا صحیح ہوجانا غیر ممکن ہوگا ،یہ وہ وقت ہے کہ شیطان اور نفس امارہ اپنا کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور مختلف بہانوں کو سامنے لاتا ہے تا کہ ہمیں روح کی اصلاح کرنے سے روکے رکھے ،لیکن ہمیں بہت زیادہ ہوشیار ہونا چاہئے، تا کہ اس کے حیلے اور بہانوں کا فریب نہ کھائیں۔ ممکن ہے کہ ہماری بری عادت کو یوں بتلایا جائے کہ تم نے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے دوسرے بھی ایسی صفت رکھتے ہیں۔ فلان فلان فلان کو دیکھو اسی صفت بلکہ اس سے بدتر صفت رکھتا ہے کیا تم تنہا زندگی گذار سکتے ہو؟ اگر تو چاہتا ہے کہ رسوائے زمانہ نہ ہو تو زمانے کی طرح چال چلو۔ لیکن انسان کو اس فریب اور دھوکے کے سامنے ڈٹ جانا ہوگا۔ اگر دوسرے اس مرض میں مبتلا ہیں تو ان کا مجھ سے کیا ربط ہے، کسی دوسروں کا اس بیماری میں گرفتار ہوجانا میرے اس کام کے ارتکاب کا جواز نہیں بنتا۔ اسے یوں کہنا ہوگا کہ یہ عیب اور بیماری تو مجھ میں موجود ہے اگر میں اس بیماری کے ساتھ مرگیا تو ہمیشہ بدبختی اور شقاوت میں جا پڑوں گا۔ لہٰذا مجھے اس کا علاج کرنا چاہئے اور اپنے نفس کو اس سے پاک کرنا ہوگا۔
ممکن ہے کبھی اور حیلے کے ذریعے سے کہ جس سے وقت گذرتا جائے اور تاخیر ہوجائے شیطان میدان میں آجائے اور ہمارے ارادہ کو منصرف کردے اور یوں خیال میں لائے کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ عیب تو تجھ میں موجود ہے اور اس کی اصلاح بھی کرنی چاہئے لیکن اتنی جلدی کیا ہے اور کیا دیر ہوگئی ہے؟ رہنے دو میں فلان کام انجام دے لوں۔ اس وقت فارغ البال ہو کر نفس کے پاک کرنے میں مشغول ہو جائونگا۔ ابھی تو میں جوان ہوں اور عیش کرنے کا زمانہ ہے جب بڑھا پے میں جائونگا تو پھر توبہ کر لونگا اور نفس کے پاک کرنے میں مشغول ہوجائونگا۔ انسان کو متوجہ رہنا چاہئےکہ یہ بھی شیطان کا ایک فریب اور حیلہ ہے۔ کیا معلوم کہ اس وقت تک انسان زندہ رہے گا؟ شاید اس سے پہلے مرجائے اور انہی نفسانی بیماریوں میں فوت ہوجائے اس وقت ہمارا انجام کیا ہوگا؟ اور بالغرض اس وقت تک ز ندہ بھی رہ جائے تو کیا اس وقت شیطان اپنی حیلہ گری اور فریب دینے کو چھوڑ دے گا۔ اور ہمیں آزاد چھوڑ دے گا تا کہ اپنے نفس کو پاک کر سکیں، اس وقت شیطان کوئی اور فریب دے کر نفس کے پاک کرنے سے ہمیں روک دے گا لہٰذا کتنا ہی اچھا ہے کہ ابھی سے نفس کے پاک کرنے کا آغاز کیاجائے اور نفس امارہ پر قابو پایا جائے۔ ممکن ہے کہ نفس امارہ ہمیں کہے کہ تم نے فلاں صفت کی عادت کر رکھی ہے اور عادت کا چھوڑنا تیرے لئے ممکن نہیں ہو گا تو خواہشات نفس کا قیدی ہے کس طرح تو اپنے آپ کو اس قید سے رہائی دلا سکتا ہے؟ تیری روح گناہ اور معصیت کی وجہ سے تاریک ہوچکی ہے، ابھی اس سے گلو خلاصی ممکن نہیں ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بھی شیطان کی ایک فریب کاری اور دھوکا دہی ہے ،تجھے اپنے نفس کو کہہ دینا چاہئے کہ عادت کا چھوڑنا غیر ممکن نہیں ہوتا بلکہ یہ ممکن ہے اگرچہ یہ مشکل تو ہے لیکن اصلاح کرنے کے عمل میں شروع ہو جانا چاہئے اور اپنے نفس کو پاک کرنے میں کوشش کرنے چاہئے اگر گناہ اور بری عادت کا چھوڑنا ممکن نہ ہوتاتو یہ سارے حکم جو پیغمبر علیہ السلام اور ائمہ اطہار کے اس بارے میں آئے ہیں تو ان سے صادر نہ ہوتے اور توبہ کے دروازے کسی وقت بند نہ ہوتے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے لہٰذا حتمی ارادہ کر لینا چاہئے اور روح کے پاک کرنے میں مشغول ہو جانا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ شیطان نفسانی بیماریوں اور بری صفات کو معمولی اور کم بتلائے اور کہے کہ تم واجبات کے بجالانے کے تو پابند ہو اور فلان فلان مستحب کام بھی بجالاتے ہو، خدا تمہیں بخش دے گا اور تیری جگہ بہشت ہے اور یہ کئی ایک بری صفات جو تم میں موجود ہیں یہ اتنی اہم نہیں ہیں ،تیرے مستحبات کے بجالانے کی وجہ سے ان کا تدارک ہو جائیگا اور وہ بخش دی جائیں گی اس صورت میں بھی ملتفت رہنا چاہئے کہ اس قسم کے خیالات اور امیدیں دلانا بھی شیطان کا ایک مکر اور فریب ہوتا ہےاور ہمیں اپنے نفس ا مارہ سے کہنا چاہئے کہ نیک اعمال تو صرف متقیوں سے قبول ہوتے ہیں اور تقویٰ کا حصول نفس کو پاک کئے بغیر حاصل نہیں ہوتا اگر ہمارا نفس برائیوں سے پاک نہ ہوا تو نفس میں اچھائیوں کی نشو و نما نہیں ہو سکے گی اور اگر نفس سے شیطان باہر نہ گیا تو فرشتہ رحمت اس میں داخل نہیں ہو سکے گا اگر گناہ اور برے اخلاق سے نفس آلودہ ہوا تو آخرت کے جہان میں اس کے لئے نور نہ ہوگا۔
ہمیں ہمیشہ ان بیماریوں کے انجام کی طرف جو پہلے بیان کی جاچکی ہیں متوجہ رہنا چاہئے اس کے ساتھ احادیث اور اخلاق کی کتابوں کے مطالعہ سے ان نفسانی بیماریوں اور ان کی اخروی سزا اور عقاب کو مورد توجہ قرار دینا چاہئے، اس ذریعے سے ہمیں نفس امارہ کے حیلے اور بہانے اور نفس امارہ کے توہمات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور نفس کی اصلاح اور اسے پاک کرنے میں حتمی اور جزمی ارادہ کر لینا چاہئے اگر ہم نے ارادے کا مرحلہ طے کر لیا تو پھر عمل کرنے کا مرحلہ قریب تر ہوجائیگا۔
نفس پر غلبہ کرنا
تمام اعمال اور افعال اور برائیاں اور اچھائیوں کو بجالانے والی در حقیقت روح ہوا کرتی ہے اگر روح سالم اور صحیح ہو تو انسان کی دنیا اور آخرت آباد ہوگی اور اگر روح فاسد ہوئی تو پھر وہ برائیوں کے بجالانے کا موجب ہوگی اور دنیا اور آخرت کی ہلاکت اسے لاحق ہوجائیگی، اگر انسان نے انسانیت کے راستے پر قدم رکھا تو اللہ کے مقرب فرشتوں سے بھی بالاتر ہوجائیگا اور اگر اس نے انسانی شرافت کو نظر انداز کیا اور حیوانیت کے راستے پر گامزن ہوا تو حیوانات سے بھی بدتر ہوجائیگا بلکہ وہ شیطان کے مقام تک پہنچ جائیگا، ان دونوں راستوں کے طے کرنے کے اسباب اور عوامل انسان کی فطرت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔
وہ عقل بھی رکھتا ہے اور فطرت کے ما تحت انسانی فضائل اور کمالات کا چاہنے والا بھی ہوتا ہے اور یہ حیوان بھی ہے اور حیوانی غرائز اور خواہشات بھی رکھتا ہے اور یوں بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حیوانی خواہشات اور غرائز بالکل اور نقصان وہ ہوتی ہیں اور انسان کو پستی کی طرف دھکیل دیتی ہیں نہ بلکہ ان کا ہونا بھی انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ اگر ان سے صحیح اور ٹھیک استفادہ کیا جائے تو انہیں انسانی تکامل اور اللہ کی طرف سیر و سلوک کے لئے کام میں لایا جا سکتا ہے لیکن اصل مشکل یہ ہے کہ حیوانی خواہشات ایک معین حد تک نہیںٹھہر تیں اور دوسروں کا لحاظ نہیں کرتیں اور نہ ہی انسانی خصوصیات کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور نہ ہی دوسرے غرائز کا لحاظ کرتی ہیں بلکہ ان کی غرض اور غایت صرف اپنے آپ کو آخر تک پہنچانا ہوتا ہے۔
حیوانی غریزہ کی غرض صرف اسی غریزہ کو بطور کامل حاصل کرنا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی غرض نہیں ہوتی تمام حیوانی خواہشات اور غرائز جیسے کھانے پینے کی چیزوں سے لذت حاصل کرنا مقام اور منصب کی محبت حکومت اور شہرت مال اور دولت سے وابستگی زندگی کے تجملات اسی طرح غصہ انتقام لینا اور تمام وہ صفات جو ان سے پھوٹتی ہیں یہ تمام کی تمام کسی ایک معین حد تک نہیں ٹھہرتیں بلکہ ان میں سے ہر ایک کو آخر تک حاصل کرنا مقصود ہوجاتا ہے۔
اسی وجہ سے انسان کا نفس اور روح مختلف خواہشات اور غرائز کے لئے میدان جنگ اور شکست و ریخت کا میدان بنا رہتا ہے اور کبھی آرام اور سکون میں نہیں رہتا جو بھی اس جنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے وہی روح اور نفس کو پوری طرح اپنا اسیر اور قیدی بنا لیتا ہے لیکن ان کے درمیان عقل بہت قدرت اور بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ عقل شرعیت کی راہنمائی میں حیوان خواہشات پر کنٹرول کر سکتی ہے اور انہیں اعتدال کی حالت میں قرار دے سکتی ہے اور افراط اور تفریط سے مانع بن سکتی ہے عقل اپنی حکومت کو کام میں لا سکتی ہے۔ خواہشات کے درمیان اعتدال برقرار کرسکتی ہے۔ عقل اس وسیلے سے نفس اور روح کی مملکت کو گڑ بڑ اور نا آرامی اور زیادہ طلبی سے نجات دلا سکتی ہے اور انسانیت کے سیدھے راستے اور سیر اور سلوک کی راہ نمائی کر سکتی ہے۔
لیکن عقل کا اسپر حاکم اور مسلط ہوجانا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہ باقی طاقت ور قوتوں اور خواہشات کے روبرو ہوتی ہے اور دھوکے باز دشمن کہ جس کا نام نفس امارہ ہے اور اس کے بہت زیادہ مددگار اور ساتھی ہیں جو اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اسے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے کہ: نفس ہمیشہ برے کاموں کا حکم دیتا ہے مگر خدا رحم کردے۔(۲۸)
رسول خداﷺ نے فرمایا ہے کہ ‘ تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دو پہلو میں موجود ہے۔(۲۹)
امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ عقل اور شہوت ایک دوسرے کی ضد ہیں علم عقل کی مدد کرتا ہے اور ہویٰ اور ہوس شہوت کی تائید کرتے ہیں۔ انسانی نفس دو قوتوں کی لڑائی کا میدان ہوتا ہے ان میں سے جو دوسری قوت پر غلبہ حاصل کر لے انسانی نفس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔(۳۰)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ برائی اور شر ہر ایک نفس میں موجود ہیں اگر نفس کے مالک نے اس پر غلبہ حاصل کر لیا تو وہ مخفی ہوجاتا ہے اور اگر اس پر غلبہ نہ کیا تو وہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ (۳۱)
لہٰذا عقل بہت اچھا حاکم ہے لیکن مدد کئے جانے کا محتاج ہے اگر اس جنگ میں عقل کی مدد کریں اور نفسانی خواہشات اور شہوات اور ہوی و ہوس پر شورش کریں اور جسم کی مملکت کے انتظام کا کاکم عقل کے سپرد کردیں تو ایک بہت بڑی فتح اور کامرانی کو حاصل کر لیں گے۔
یہی دو چیز ہے کہ جو دین کے پیشوائوں اور رہبروں اور شریعت اور طریقت پرچلنے والوں نے ہم سے طلب کی ہوئی ہے اور اس کے متعلق بہت زیادہ تاکید کر رکھی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ ہوشیار رہنا کہ کہیں شہوات تمہارے دلوں پر غالب نہ آجائیں کیونکہ پہلے وہ تمہیں اپنی ملکیت میں لیں گی اور آخر میں تجھے ہلاک کردیں گی۔(۳۲)
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘ جس نے اپنی خواہشات کو اپنی ملکیت میں قرار نہ دیا تو وہ اپنی عقل کا مالک بھی نہیں رہے گا۔(۳۳)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ‘ جو شخص خوف اور رغبت اور شہوت اور غضب کے وقت اپنے نفس پر مسلط ہوا تو خدا اس کے بدن کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دے دے گا۔(۳۴)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاہے کہ: تم اپنے نفس پر مسلط ہوجائو اور اسے گناہوں سے روکو تا کہ تم اسے اللہ کی اطاعت کی طرف آسان کردو۔(۳۵)
روح انسانی کو پاکیز بنانے کے لئے نفس اور اس کی خواہشات اور ہوی اور ہوس پر کنٹرول کرنا ایک ضروری اور زندگی ساز کام ہے۔ انسان کا نفس اور روح مثل ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے اگر وہ ریاضت کے ذریعے مطیع اور آرام میں ہوا اور اس کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھی اور اس کی پشت پر سوار ہوا تو پھر اس سے فائدہ حاصل کر سکے گا اور اگر وہ مطیع اور فرمانبردار نہ ہوا اور جس طرف چاہے وہ جانے لگا تو وہ تجھے اپنی پشت سے تہہ غار میں گرا دے گا لیکن سرکش نفس کو مطیع اور فرمانبردار بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے وہ ابتداء ہی میں تجھ سے مقابلہ کرے گا۔ لیکن اگر تو مقاومت کرے اور مضبوط بنے تو وہ تیرا مطیع اور فرمانبردار ہوجائے گا۔
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ اگر تیرا نفس تیرے سامنے سختی سے پیش آئے اور مطیع اور فرمانبردار نہ ہو تو بھی اس پر سختی کر تا کہ وہ تیرا مطیع اور فرمانبردار ہوجائے تو اس کے ساتھ حیلے اور بہانے سے پیش آتا کہ وہ تیری اطاعت میں آجائے ۔ (۳۶)
نیز حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ‘ انسان خواہشات اور شہوات مار دینے والی بیماریاں ہیں اور انکا بہترین علاج اور دوا، صبر اور استقامت اور اس کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے۔
حوالہ جات
۱۔ عن ابی جعفر علیہ السلام قال: لما خلق اللہ العقل استنطقہ، ثم قال لہ: اقبل، فاقبل۔ ثم قال لہ: ادیر۔ فادبر ثم قال: و عزتی و جلالی ما خلقت خلقا احب الیّ منک و لا اکملتک الّا فیمن احب۔ اما انّی ایّاک آمر و ایّاک انہی و ایّاک اثیب۔ کافی/ ج 1 ص 10۔
۲۔ کذالک یبیّن اللہ لکم آیاتہ لعلکم تعقلون۔ بقرہ/ 242۔
۳۔ افلم یسیروا فی الارض فتکون لہم قلوب یعقلون بہا۔ حج/ 46۔
۴۔ انّ شر الدواب عنداللہ الصمّ البکم الذین لا یعقلون۔ انفال/ 22۔
۵۔ و یجعل الرجس علی الذین لایعقلون۔ یونس/ 100۔
۶۔ بعض اصحابنا رفعہ الی ابی عبداللہ علیہ السلام قال: قلت لہ ما العقل؟ قال: ما عبد بہ الرحمان و اکتسب بہ الجنان۔ کافی/ ج 1 ص 11۔
۷۔ قال ابو عبداللہ علیہ السلام: من کان عاقلاً کان لہ دین و من کان لہ دین دخل الجنۃ۔ کافی/ ج 1 ص 11۔
۸۔ قال ابوالحسن موسی بن جعفر علیہ السلام (فی حدیث): یا ہشام ان اللہ علی الناس حجتین: حجۃ ظاہرۃ و حجۃ باطنۃ فاما الظاہرۃ فالرسل و الانبیاء و الائمہ۔ و اما الباطنۃ فالعقول کافی/ ج 1 ص 16۔
۹۔ قال ابو عبداللہ علیہ السلام: اکمل الناس عقلاً احسنہم خلقاً۔ کافی/ ج 1 ص 23۔
۱۰۔ قال ابو عبداللہ علیہ السلام: العقل دلیل المؤمن۔ کافی / ج / ص 25۔
۱۱۔ قال الرضا علیہ السلام: صدیق کل امرء عقلہ و عدوہ جہلہ۔ کافی/ ج / ص 11۔
۱۲۔ قال امیرالمومنین(ع): اعجاب المرء بنفسہ دلیل علی ضعف عقلہ۔ کافی/ ج 1 ص 27۔
۱۳۔ قال موسی بن جعفر علیہ السلام: یا ہشام من اراد الغنی بلامال و راحۃ القلب من الحسد و السلامۃ فی الدین فلیتضرع الی اللہ فی مسالتہ باکن یکمّل عقلہ۔ فمن عقل قنع بما یکفیہ و من قنع بما یکفیہ استغنی و من لم یقنع بما یکفیہ لم یدرک الغنی ابدا۔ کافی / ج 1 ص 18۔
۱۴۔ قال موسی بن جعفر علیہ السلام: یا ہشام ان العقلاء ترکوا فضول الدنیا، فکیف الذنوب، و ترک الدنیا من الفضل و ترک الذنوب من الفرض۔ کافی/ ج 1 ص 17۔
۱۵۔ قال موسی بن جعفر(ع): یا ہشام ان العاقل لا یکذب و ان کان فیہ ہواہ۔ کافی /ج 1 ص 19۔
۱۶۔ قال موسی بن جعفر(ع): یا ہشام لا دین لمن لا مروۃ لہ و لا مروۃ لمن لا عقل لہ وان اعظم الناس قدراً الذی لا یری الدنیا لنفسہ خطراً۔ اما ان ابدانکم لیس لہا ثمن الّا الجنۃ فلا تبیعوہا بغیرہا۔ کافی /ج 1 ص 19
۱۷۔ قال امیرالمؤمنین علیہ السلام: ان التفکر یدعو الی البّر و العمل بہ۔ کافی/ ج 2 ص 55۔
۱۸۔ قال امیرالمومنین علیہ السلام: التدبیر قبل العمل یؤمنک من الندم۔ بحار/ ج 71 ص 338۔
۱۹۔ ان رجلاً اتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فقال: یا رسول اللہ اوصنی۔ فقال لہ: فہل انت مستوص ان اوصیتک؟ حتی قال ذالک ثلاثا فی کلہا یقول الرجل: نعمت یا رسول اللہ، فقال لہ رسول اللہ: فانی اوصیک اذا ہممت بامر فتدبر عاقبتہ، فان یک رشداً فامضہ و ان یک غیا فانتہ عنہ۔ بحارالانوار/ ج 71 ص 339۔
۲۰۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ: انّما اہلک الناس العجلۃ و لو ان الناس تثبتوا لم یہلک احد۔ بحار/ ج 71 ص 340۔
۲۱۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ: الاناۃ من اللہ و العجلۃ من الشیطان۔ بحار/ ج 71ص 340۔
۲۲۔ و اروی: التفکر مراتک ترایک سیئاتک و حسناتک۔ بحار/ ج 71 ص 325۔
۲۳۔ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، و لو القی معاذیرہ۔ قیامت/ 14 و 15۔
۲۴۔ افمن زیّن لہ سوء عملہ فراہ حسنا فان اللہ یضلّ من یشاء و یہدی من یشائ۔ فاطر/ 8۔
۲۵۔ قال علی (ع): فہم لانفسہم متہمون و من اعمالہم مشفقون و اذا زکّی احد منہم خاف مما یقال لہ فیقول: انا اعلم بنفسی من غیری و ربی اعلم من بنفسی۔ نہج البلاغہ/ خطبہ 193۔
۲۶۔ قال الصادق علیہ السلام: احب اخوانی الیّ من اہدی الیّ عیوبی۔ تحف العقول/ ص 385۔
۲۷۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ: السعید من وعظ بغیرہ۔ بحارالانوار/ ج 71 ص 234۔
۲۸۔ انّ النفس لا مّارۃ بالسوء الّا ما رحم ربّی۔ یوسف/ 53۔
۲۹۔قال النبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ:اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک۔ بحار/ ج 70 ص 64۔
۳۰۔ قال علی علیہ السلام: العقل و الشہوۃ ضدان، و مؤید العقل العلم و مؤیّد الشہوۃ الہوی، و النفس متنازعۃ بینہما۔ فایّہما قہر کانت فی جانبہ۔ غرر الحکم/ ج 1 96۔
۳۱۔ قال علی علیہ السلام: الشرّ کامن فی طبیعۃ کل احد فان غلبہ صاحبہ بطن و ان لم یغلبہ ظہر۔ غرر الحکم/ ج 1 ص 105۔
۳۲۔ قال علی علیہ السلام: ایّاکم و غلبۃ الشہوات علی قلوبکم فان بدایتہا ملکۃ و نہایتہا ہلکۃ۔ غرر الحکم/ 16۔
۳۳۔ قال علی علیہ السلام: من لم یملک شہوتہ لم یملک عقلہ۔ غرر الحکم/ ج 2 ص 702۔
۳۴۔ قال الصادق علیہ السلام: من ملک نفسہ اذا رغب و اذا رہب و اذا اشتہی و اذا غضب و اذا رضی حرّم اللہ جسدہ علی النار۔ وسائل الشعیہ/ ج 6 ص 123۔
۳۵۔ قال علی علیہ السلام: غالبوا انفسکم علی ترک المعاصی یسہل علیکم مقادتہا الی الطاعات غرر الحکم/ ج 2 ص 508
۳۶۔ قال علی علیہ السلام: اذا صعب علیک نفسک فاصعب لہا تذل لک و خادع نفسک عن نفسک تنقدلک۔ غرر ا لحکم/ ج 1 ص 319۔145۔ قال علی علیہ السلام: الشہوات اعلال قاتلات و افضل دوائہا اقتناء الصبر عنہا۔ غررالحکم/ ج 1 ص 72۔