ur

معلم عدالت : امیر المؤمنین امام علی ابن ابی طالبـ

(روشن علی)

امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب [ع] کی ذات گرامی سراپا عدل ہے، یہاں تک کہ ایک مشہور قول ہے کہ
قد قتل لشدة العدل :آپ عدل میں سخت ہونے کی وجہ سے قتل کئے گئے ہیں۔جس کے متعلق اﷲ کے پیارے رسول حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی ۖ نے ارشاد فرمایا : ”اقضا کم علی۔”(١) تم سب سے زیادہ انصاف کرنے والا علی ـ ہے۔ اور ”اعلمکم علی۔”(٢) تم میں سب سے زیادہ علم والا علی [ع] ہے۔
اور ”انا دار الحکمة و علی بابہا” (٣) میں حکمت کا گھر ہوں اور علی ـ اس کا دروازہ ہے:”انا مدینة العلم و علی بابہا من ارادالعلم فالیات بالباب”۔(٤)میں علم کا شہر ہوں اور علی ـاس کا دروازہ ہے ، جو علم چاہتا ہے وہ دروازہ کے پاس آئے ۔ حضرت ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ جب میں اور رسول اکرم ۖ شب ہجرت غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو اس وقت رسول اﷲ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ:” کفی و کف علی فی العدل سواء” ۔ (٥) میرا ہاتھ اور علی ـ کا ہاتھ عدل میں برابر ہے۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپۖ کے سامنے کچھ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ ۖ نے ان میں سے ہاتھ بھر کر مجھے عطا کیں وہ ٧٣ تھیں۔ اس کے بعد میں حضرت علی ـ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے بھی کھجوریں رکھی ہوئی تھیں اور آپ نے بھی مجھے ہاتھ بھر کر کھجوریں عطا کیں میں نے گنتی کی وہ بھی ٧٣ نکلیں۔ مجھے تعجب ہوا اور میں نے رسول اﷲ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ ۖ نے فرمایاکہ ”ان یدی و ید علی ابن ابی طالب فی العدل سوائ۔”(٦) بے شک میرا ہاتھ اور علی ابن ابی طالبـ کا ہاتھ عدل میں برابر ہے۔آپ کے متعلق حضرت عمر ابن خطاب نے بارہا فرمایا :
”لو لا علی لہلک عمر”۔(٧) اگر علی ـ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتے۔
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ـ فرماتے ہیں:
٭ انّ اﷲ فرض علی الائمّة العدلِ ان یقدّروا انفسہم بضعفة النّاس کیلا یتبیّغ بالفقیرِ فقرہ۔ (٨)
اﷲ نے عادل اماموں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مفلس و نادار لوگوں کی سطح پر رکھیں تاکہ فقیر لوگ اپنے فقر کی وجہ سے پیچ و تاب نہ کھائیں۔
٭ ولعلّ بالحجاز او الیمامة من لا طمع لہ فی القرص ولا عہد لہ بالشّبعِ ، او ابیتُ مبطاناً و حولی بطون غرثی و کباداً حرّی او اکون کما قال القائل :
و حسبک داء ان تبیت ببطنةوحولک اکباد تحن الی القد۔(٩)
حجاز و یمامہ میں شاید ایسے بھی لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی کے ملنے کی بھی آس نہ ہو ، اور انہیں پیٹ بھر کھانا کبھی نصیب نہ ہوا ہو۔ کیا میں اپنا پیٹ بھر کر سویا رہوں اس حالت میں کہ میرے گرد بھوکے اور پیاسے جگر تڑپتے ہوں ۔ کیا میں کسی شاعر کے اس شعر کا مصداق بن سکتا ہوں؟: تیری بیماری کے لیے یہی کافی ہے کہ تو پیٹ بھر کر سو جائے ، اور تیرے اطراف وہ جگر بھی ہو جو سوکھے چمڑے کو بھی ترس رہے ہوں ۔
٭ ”أقنعُ من نفسی بان یقال لی امیر المؤمنین ولا اشارکہم فی مکارہِ الدّہر۔او اکون اسوةً لہم فی جشوبة العیش ۔ فما خُلقتُ لیشغلنی اکل الطیّبات کا لبہیمةِ المربوطةِ ہمّہا علفہا ، او المرسلةِ شغلہا تقمّمہا ، تکترشُ من اعلافہا و تلہو عمّا یرادُ بہا۔”(١٠)
کیا میں اسی میں مگن رہوں کہ مجھے امیر المؤمنین کہا جاتا ہے ؟ مگر میں زمانے کی سختیوں میں مؤمنوں کا شریک نہ بنوں۔اور زندگی کی بدمزگیوں میں ان کے لیے نمونہ نہ بنوں ۔ میں اس لیے تو پیدا نہیں ہوا ہوں کہ اچھے اچھے کھانوں کی فکر میں لگا رہوں ۔ اس بندھے ہوئے چوپایہ کی طرح جسے صرف اپنے چارے ہی کی فکر لگی رہتی ہے یا اس کھلے ہوئے جانور کی طرح کہ جس کا کام منہ مارنا ہوتا ہے ، وہ گھاس سے پیٹ بھر لیتا ہے اور جو اس سے مقصد پیش نظر ہوتا ہے اس سے غافل رہتا ہے ۔
٭ واﷲِ لان ابیت علی حسک السعدان مسہّداً او اجّر فی الاغلال مصفدًا احبّ الیّ من ان القی اﷲ و رسولہ یوم القیامة ظالما لبعض العباد وغاسباً لشیئٍ من الحطام و کیف اظلم احداً لنفس الی البلیٰ قفولہا ویطول فی الثریٰ حلولہا۔”(١١)
خدا کی قسم! اگر مجھے سعدان کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنی پڑے ،اور مجھے زنجیروں میں جکڑ کر کھینچا جائے تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں خدا اور اس کے پیغمبر ۖ سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے خدا کے بندوں پر ظلم کیا ہو یا مالِ دنیا میں سے کوئی چیز غصب کی ہو اور میں اس نفس کی آسودگی کے لیے کسی پرکیونکر ظلم کر سکتا ہوں جو فنا کی طرف پلٹنے والا ہے اور مدتوں مٹی کی تہوں میں پڑا رہے گا۔

عدل کی حیثیت اور مقام
عدل اور انصاف کو اسلام کا سب سے بڑا مقصود سمجھا جاتا ہے ، انبیاء کرام کی بعثت اور ادیان کی آمد ،انسانی نظام ِحیات میں وسیع پیمانے پراسی عدل کو قائم کرنے کے لیے عمل میں آئی ہے :۔
” لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِا لْبَیِّنَاتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَھُمْ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ہ”(١٢)
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم رہیں۔
بنیادی طور پر کوئی بھی قوم یا مکتبِ فکر، سماجی انصاف کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ سماجی عدل اور انصاف براہ راست قوموں اور حکومتوں کی بقا سے جڑا ہوا ہے ۔قرآنی آیات کی تعبیر میں میزان جسے دوسرے لفظوں میں عدل کہا جاتا ہے، ایک طرف تو کائنات اور پورے نظامِ ہستی پر حاکم ہے:۔
”وَ السَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ۔”(١٣)اور اسی نے اس آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کیا۔
اسی آیہ کریمہ کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ فیض کاشانی لکھتے ہیں:’ووضع المیزان و العدل بان وفّر علی کلِّ مستعدٍّ مستحقّہ ووفی کلّ ذی حقٍّ حقّہ حتّٰی انتظم امر العالم واستقام کما قال رسول اﷲ صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلّم بالعدلِ قامت السّمٰوات والارضُ۔”(١٤)
اﷲ تعالی نے میزان اور عدل کوقائم کیا اس طرح کہ ہر صاحب استعداد ،جو حقدار ہے ،پر عنایت کرے اور ہر حقدار کو اس کا حق دے یہاں تک کہ امرِ عالَم منتظم ہو کر سیدھا ہوجائے ۔جیسا کہ رسول اکرم ۖ نے ارشاد فرمایاعدل ہی کی وجہ سے ساتوں آسمان اور زمین قائم ہیں۔
اور امیر المؤمنین ـ نے ارشاد فرمایا :”العدل اساس بہ قوام العالم”۔(١٥) عدل بنیاد ہے
اور اسی پر پوری کائنات کا سہارا ہے ۔اور:” العدل اقوی اساس۔”(١٦) عدل قوی ترین بنیاد ہے۔
یہ عدل کی اسلامی تعبیر ہے ، جس پر تمام کائنات کا سہارا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عدل نہ ہوتا تو اس کائنات کا وجود بھی نہ ہوتا پس یہ کائنات اسی عدل کی وجہ سے قائم ہے۔ آسمان سے پانی برسنا اور زمین سے اناج کا پیدا ہونا یہ سب عدل ہے۔
دوسری طرف عدل انسانی حیات کے نظام پر حکمراں ہونا چاہیے تاکہ وہ عدل کے دائرہ سے خارج نہ ہو
” اَلّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ۔ (١٧) تاکہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو۔پس اسی آیہ کریمہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عدل انسانوں کی زندگی کے نظام کو افراط اور تفریط سے محفوظ کرتا ہے۔ یعنی نہ اپنے دائرہ حدود سے خارج کرتا ہے اور نہ ہی اپنی حدود سے گھٹاتا ہے۔جب حضرت علی ـ سے عدل اور سخاوت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ:۔
” العدل یضع الامور مواضعہا و الجود یخرجہا عن جہتہا والعدل سائس عام والجود عارض خاص والعدل اشرفہما و افضلہما۔”(١٨)
عدل امور کو اپنی جگہ پر برقرار کرتا ہے ، لیکن سخاوت امور کو ان کی اپنی جہت سے خارج کر دیتی ہے ، عدل ایک عام اور وسیع سیاست گر ہے لیکن سخاوت اُسی سے مخصوص ہوتی ہے جس سے سخاوت کی جاتی ہے لہٰذا عدل سخاوت سے اشرف اور افضل ہے۔
اس قول کو نقل کرنے کے بعد علامہ مرتضی مطہری شہید تحریر کرتے ہیں کہ: ۔” علی ـ کی نظر میں وہ اصول جو معاشرے کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اور جس کے ذریعے سب کو خوش رکھاجا سکتا ہے وہ عدل ہے، معاشرے کے جسم کو سلامتی اور اس کے روح کو سکون دے سکتا ہے تو وہ عدل ہے۔ ظلم وجور اور تجاوز میں اتنی طاقت نہیں کہ جو خود ظالم کی روح کو یا اس شخص کو جس کے فائدے کے لیے ظلم کیا جارہاہے اس کو سکون دے سکے، تو کہاں ہو سکتا کہ وہ معاشرے کے مظلوم اور پامال شدہ طبقے کو مطمئن کرسکے۔ عدل وہ وسیع راستہ ہے جو سب کو شامل کئے بغیر کسی مشکل کے ان کو اپنی منزل ِمقصود تک پہنچا دیتا ہے اور ظلم وہ تنگ اور پیچیدہ راستہ ہے جو خود ظالم کو بھی اس کی منزل مقصود تک نہیں پہنچاسکتا۔ “(١٩)
امام نے اس قول میں عدل اور سخاوت کا موازنہ کرتے ہوئے عدل کو ترجیح دیتے ہیں یہ استدلال کرتے ہوئے کہ سخاوت اگرچہ پسندیدہ اور قابلِ ستائش عمل ہے لیکن ہر جگہ یہ سخاوت مؤثر نہیں ہوتی اور نہ ہمیشہ بخشش کی صفت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بخشش اور سخاوت معاشرے میں نظامِ عدل کے درہم برہم ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ بعض افراد کے حق میں سخاوت سے کام لینا بعض افراد کا حق غصب ہونے کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن عدل ایسا نہیں ہے ۔اگر ہر انسان کو اس کا واقعی اور حقیقی حق دیدیا جائے تو کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہوتا اور نہ کسی کا حق ضائع ہوتاہے۔ لہٰذا عدل سیاست میں، معاشرہ میں ، حکم اور قانون میں ، فیصلہ میں ،حقوق ِمالی اور سزا وغیرہ کے مسائل میں ایک ایسا عمومی محور ہے، جس کے پرتو میں سب امان محسوس کرتے ہیں اور اپنے حقوق ضائع ہونے سے متعلق وحشت اور اضطراب کا احساس نہیں کرتے ۔
حضرت علی ـ ایک اور مقام پر قرآن کی آیة:” انّ اﷲ یامربالعدل والاحسان”کی تشریح کرتے ہیں :”العدل الانصاف والاحسان التفضل۔”(٢٠) عدل کا مطلب انصاف ہے اور احسان کا مطلب بخشش کرنا ہے۔ ایک اور مقام پر عدل کے مفہوم کو واضح کرتے ہیں:۔
”انّ العدل میزانُ اﷲِ سبحانہ الذی وضعہ فی الخلق و نصبہ لاقامة الحقّ فلا تخالفہ فی میزانہ ولا تعارضہ سلطانہ۔”(٢١)
بیشک عدل اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا ترازو ہے ،جس کو اس نے اپنے بندوں کے لیے وضع کیا ہے اور حق کو قائم کرنے کے لیے اس کو نصب کیاہے ،پس اﷲ سبحانہ سے اس ترازو کے بارے میں مخالفت نہ کرنا اور نہ ہی اس کی حکومت میں اس سے ٹکرانا۔

عدل زندگی ہے
اب یہاں پر عدل کے متعلق حضرت علی ـکے چند اقوال نقل کئے جا رہے ہیں جو عبد الواحد الآمدی التمیمی نے اپنی کتاب” غرر الحکم و دررالکلم “میں تحریر کئے ہیں:
”العدل حیاة الاحکام۔” عدل احکام کی زندگی ہے۔(٢٢)
“العدل حیاة”۔ عدل زندگی ہے۔”(٢٣)
امام موسی کاظم ـاﷲ تعالیٰ کے قول” یحی الارض بعد موتہا” کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:”لیس یحییہا بالقطر، و لکن یبعث اﷲ رجالا فیحیون العدل فتحی الارض لاحیاء العدل، و لاقامة الحد ﷲ انفع فی الارض من القطر اربعین صباحا۔”(٢٤)
اﷲ تعالی زمین کو (صرف) بارش کے قطروں سے زندہ نہیں کرے گا لیکن (زمین کو زندہ کر نے کے لیے) لوگوں کو مبعوث کرے گا جو عدل کو زندہ کریں گے پھر زمین زندہ ہو جا ئے گی عدل کے زندہ ہونے سے اور حدود اﷲ کے قیام سے زمین سے فائدہ حاصل کیا جائے گا۔
عدل سیاسی کے متعلق آپ کے چند اقوال
” العدل فضیلة الانسان۔”(٢٥) عدل انسان کی فضیلت ہے۔
اور :۔ “العدل فضیلة السلطان۔”(٢٦) عدل حکمران کی فضیلت ہے۔
“العدل نظام الامرَةِ ۔”(٢٧) عدل حکومت کا نظام ہے۔
:۔”العدل قوامُ الرعیّة ۔”(٢٨) عدل رعیت کا قوام ہے۔
”العدل یصلح البریة۔” (٢٩) عدل مخلوق کی اصلاح کرتا ہے۔
”الرعیة لا یصلحہا الا العدل۔ ” (٣٠) عوام کی اصلاح عدل کے ہی ذریعی ہو سکتی ہے۔
”اعدل فیما ولیت۔”(٣١) جن لوگوں کا حکمران بنو ان میں عدل قائم کرو۔
”اعدل تدم لک القدرة۔”(٣٢) عدل قائم کرو تاکہ تمہاری طاقت دوام حاصل کر سکے۔

عدل کی بنیاد، ایمان ہے
اس میں شک نہیں کہ ہر شخص ،خاص طور سے اگر وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، عدل کا مدعی ہے لیکن ان میں سے کون سچا ہے ؟ اس کا معیار کیا ہے ؟ کون عدل پسندی کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ جس کی بات حجت ہو۔
اصولاً عدل کا سرچشمہ کیا ہے ؟ عدل کی نمودانسان کی باطن سے ہے یا اس کے وجود کے باہر سے؟
ان تمام سوالوں کا صرف ایک ہی جواب ہے ، وہ یہ ہے کہ : عدل انسان کے باطن سے نمود حاصل کرتا ہے ، اور اس کا سرچشمہ صرف ایمان ہے اور دوسری شاخیں اسی سرچشمہ سے نکلی ہوئی ہیں جیسا کہ حضرت علی ـ ایک خطبے میں مؤمن کی صفات بیان کرتے ہیں:”قد الزم نفسہ العدلَ فکان اوّل عدلِہ نفی الہوٰی عن نفسہ۔”(٣٣)
اس نے اپنے لیے عدل کو لازم کرلیا ہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہشات کو اپنے نفس سے دور رکھنا ہے ۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدل متقی و پرہیز گا ر انسان کی صفات میں سے ایک اہم صفت ہے جو اسے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنے سے روکتی ہے ۔ اور خواہشات پر قابو اس وقت پایا جاتا ہے جب انسان کا اندر صاف ہو اور اس کا ایمان مضبوط ہو۔اسی طرح ایک اور قول میں ارشاد فرماتے ہیں:۔
“العدل رأس الایمان ، جماع الاحسان و اعلی المراتب الایمانِ۔ (٣٤)
عدل ایمان کا سر، احسان کا مجموعہ اور ایمان کے اعلیٰ مراتب میں سے ہے ۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عدل کی بنیاد ایمان ہے۔حضرت علی ـ عدل کو ایمان کاستون سمجھتے ہیں کہ:۔
”الایمانُ علیٰ اربع دعائم :علی الصبرِ و الیقینِ والعدل والجہاد۔۔۔۔ العدلُ منہا علی اربع شعب: علی غائص الفہم، و غور العلم ، وزہرة الحکم و رساخة الحلم۔”(٣٥)
ایمان کے چار ستون ہیں صبر ، یقین، عدل اور جہاد اس میں سے عدل کی بھی چار شاخیں ہیں (اول)عدل تہوں تک پہنچنے والی فکرہے (دوم) علم کی گہرائی ہے ، (سوم)فیصلہ کی خوبی ہے اور(چہارم) عقل کی
پا ئد اری ہے ۔ان چاروں شاخوں کا ایک دوسرے سے ربط بیان کرتے ہیں کہ :۔
”فمن فہم علم غور العلم و من علم غور العلمِ صدر عن شرائع الحکم و من حلم لم یفرِّط فی امرہ و عاش فی الناسِ حمیدا۔”(٣٦)
چنانچہ جس نے غور وفکرکیا ، وہ علم کی گہرائیوں سے آشنا ہوا اور جو علم کی گہرائیوں میں اترا، وہ فیصلے کے سرچشمہ سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی ۔
یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدل کی دو قسمیں ہیں اوّل اخلاقی عدل ،جس کی بنیاد ایمان اور نیک وصالح اعمال ہیں اور دوّم سماجی عدل اور انصاف ہے۔ ان دونوں قسموں میں سے عدلِ اخلاق ،سماجی عدل کی اساس قرار پائے گا کیونکہ اگر افراد ِ معاشرہ اخلاق کی صفت سے آراستہ نہ ہونگے تو معاشرے میں سماجی عدل کا قیام مشکل ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر جبکہ افراد میں ایمان ، اخلاق ، خدا ترسی اور تقویٰ نہ ہو اسی صورت میں اجتماعی عدل کی توقع ایک خام خیال ہے ۔ انسانی معاشرہ کی مشکلیں ، جابروں اور ظالموں کا تسلط ، طبقہ بندیاں اور نا انصافیاں یہیں سے ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔ اسی لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ انسان کا تزکیہ نفس کر کے اسے صحیح انسان بنایا جائے اوریہ انبیاء کرام کی آمد کا بھی مقصد ہے جیساکہ ارشاد ربّانی ہے:۔
”ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِیْنَ رَسُوْلًا مِنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیَاتِہ وَ یُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَةَ۔” (٣٨)
اس نے ان پڑھ لوگوں میں رسول بھیجا جو ان پر اﷲ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور تعلیم دیتا ہے کتاب اور حکمت کی۔
اس آیہ کریمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے پہلے انسان کے اخلاق درست ہوں اور اس کااندر پاک و پاکیزہ بن جائے اس کے بعد ان کے ہاتھوں میں معاشرے کی باگ ڈور سونپی جائے تاکہ علم اور حکمت کی بدولت معاشرے میں عدل کی حاکمیت اور سماجی انصاف کا صحیح قیام کرے۔

ظلم اوراس کی اقسام
چونکہ عدل کی ضد ظلم ہے اس لیے ضروری ہے کہ ظلم کی بھی وضاحت کی جائے ۔ حضرت علی ـ ظلم کی تین اقسام بیان کرتے ہیں:۔
”اِنَّ الظُّلم ثلاثة فظلم لایُغفرُ و ظلم لاَیُترَکُ و ظلم مغفور لاَیُطلبُ۔” (٣٩)
بے شک ظلم کی تین اقسام ہیں، ایک وہ ظلم ہے جو بخشا نہیں جائے گا، دوسرا ظلم وہ ہے جو چھوڑا نہیں جائے گا۔تیسرا ظلم وہ ہے جو بخشا جائے گا اور اس کی باز پرس نہیں ہوگی۔
پہلاظلم:”فامّا ظلم الذی لا یُغفَر فالشِّرکُ باﷲ قالَ اﷲُ تعالیٰ ۔”انَّ اﷲ لا یغفرُ ان یُشرک بہ”۔ (٤٠) لیکن وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، جیسا کہ اﷲ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: اﷲ اس ظلم کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے ۔
دوسرا ظلم :” امّا ظلمُ الذی لا یترک فظلمُ العبادِ بعضہم بعضاً۔ القصاصُ ہُناک شدید لیس ہو جرحاًبالمدیٰ ولا ضرباً بالسِّیاطِ ، ولٰکنَّہ ما یُستصغَرُ ذالک معہ۔(٤١)
وہ ظلم جو چھوڑا نہیں جائے گا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے، جس کا آخرت میں سخت بدلہ لیا جائے گا۔ وہ چھریوںسے کچوکے دینا اور کوڑوں سے مارنا نہیں ہے بلکہ ایک سخت عذاب ہے جس کے مقابلے میں یہ چیزیں بہت ہی کم ہیں۔
تیسراظلم :” امّا ظلمُ الذی یُغفرُ فَظُلمُ العبدِ نفسہ عندَ بعضِ الہناتِ۔”(٤٢)
وہ ظلم جو بخشا جائے گا وہ ہے جو بندہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کا مرتکب ہو کر اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔
حضرت علی ـ ظلم ،بے عدالتی اور ناانصافی کو معاشرہے کی سب سے بڑی مصیبت اور بلا سمجھتے ہیں یہاں پر آپ علیہ السلام کے ظلم کے متعلق چند اقوال بیان کئے جا رہے ہیں۔
ظلم کوآخرت کا بد ترین توشہ کہتے ہیں: “بئس الزاد الی المعاد العدوان علی العباد۔ ” (٤٣) آخرت کا بدترین توشہ اﷲ کے بندوں پر ظلم اور ستم کرنا ہے۔ظا لم کو ظلم کی سزا ہر صورت میں ملے گی :
”و لئن امہل الظالم فلن یفوت اخذہ وہولہ بالمرصاد علی مجاز طریقہ و بموضع الشّجا من مساغ ریقہ۔” (٤٤)
ا گر ظالم کو مہلت دی جائے تب بھی وہ انتقام کے پنجے سے بچ نہیں سکتا اﷲ اس کی کمین گاہ اور گذرگاہ پر ہے اور ظلم کی سزاہڈی کے مانند ظالم کے گلے میں پھنس جائے گا۔
ظلم کی اقسام میں سے سرکشی اور جھوٹ ہیں جو انسان کو ذلیل کرتے ہیں:”وانّ البغی والزور یذیعان المرء فی دینہ و دنیاہ ویبدیان خللہ عند من یعیبہ۔” (٤٥)
سرکشی اور جھوٹ انسان کو دین اور دنیا میں خوار اور ذلیل کردیتے ہیں اور نکتہ چینی کرنے والے کے سامنے ان کی خامیاں کھول دیتے ہیں۔ اور:
“و ظلم الضعیف افشح الظلم ۔(٤٦) ضعیف پر ظلم کرنا سب سے بدترین ظلم ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کااپنے گورنروں کوعدل اور انصاف کا حکم
امام علی علیہ السلام کے خطبوں ، خطوط اور اقوال میں عدل اور انصاف کا حکم موجود ہے اور اپنے تمام گورنروں کو عدل اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ جب زیاد ابن ابیہ کو عبداﷲ ابن عباس کی قائم مقامی میںفارس اور اس کے ملحقہ علاقوں کا گورنر مقرر کیا تو اسے یہ ارشاد فرمایا:
”استَعمِلِ العدلَ واحْذَرِ العسفَ والحَیفَ ؛ فاِنَّ العسفَ یعدُ بالجلائِ والحیفَ یدعو الیٰ السّیفِ۔”(٤٧)عدل کی روش پر چلوبے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو، کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گااور ظلم انہیں تلوار اٹھانے پر مجبور کرے گا۔”
ایک اور مقام پر اپنے گورنر مالک اشترکو ارشاد فرمایا:” انصف اﷲ و انصف النّاس من نفسک و من خاصة اہلک و مَن لک فیہ ہوٰی من رعیّتک،فاِنّک ان لا تفعلْ تظلمْ ،و من ظلم عباداﷲِ کان اﷲ ُ خصمہ دون عبادہ و من خاصمہ اﷲ ادحض حجتہ و کان اﷲ لہ حرباً حتّٰی ینزع او یتوب، و لیس شیء ادعیٰ الی تغییر نعمة اﷲ و تعجیل نقمتہ من اقامة علی ظلمٍ ، فاِنّ اﷲ سمیع دعوة المضطہدین و ہو بالظالمین بالمرصاد۔”(٤٨)
اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افرادکے معاملے میں اﷲ تعالیٰ اورانسانوں سے متعلق انصاف کرتے رہنا۔عدل اور انصاف نہ کرنا ظلم ہے، پس اگر تم نے انصاف نہ کیا تو ظالم ٹھہروگے۔اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کے بجائے اﷲ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور جس کا اﷲ دشمن ہو وہ اس کی ہر دلیل کو کچل دیتا ہے اور اﷲاس سے برسر پیکار رہے گا، یہاں تک کہ باز آجائے اور توبہ کر لے ۔اور اﷲ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی اور اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم و ستم پر باقی رہا جائے ۔بے شک اﷲ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کے لیے موقع کا منتظر رہتا ہے۔
ظالم سے مظلوم کا حق لینا اور اسے حق کے راستے پر لے آنا حاکم اسلامی کی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں کہ:” ایم اﷲ لانصفنّ المظلوم من ظالمہ و لاقودنّ الظالم بخزامتہ حتّٰی اوردہ منہل الحق و ان کان کارہاً۔(٤٩)
خدا کی قسم میں مظلوم کا حق ظالم سے لوں گا اور ظالم کوگریبان سے پکڑ کر اسے حق کے راستے پر لے آئوں گا چاہے اسے برا ہی کیوں نہ لگے۔ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اپنے عاملین کے نام ایک مکتوب میں ارشاد فرمایا:” و لو لم یکن فیما نہی اﷲ عنہ من البغیِ والعدوانِ عقاب یُخافُ لکان فی ثوابِ اجتنابہ ما لا عذرَ فی ترکِ طلبہ فَاَنصفوا النّاسَ من انفسِکم۔”(٥٠)
خدا نے ظلم اور سرکشی سے جو روکا ہے اس پر سزا کا خوف نہ بھی ہوتا جب بھی اس سے بچنے کا ثواب ایسا ہے کہ اس کی طلب سے بے نیاز ہونے میں کوئی عذر نہیں کیا جا سکتا ۔ لہٰذا لوگوں سے عدل اورانصاف کا رویہ اختیار کرو۔

حضرت علی ـ کی نگاہ میں عدل کا دائرہ
حضرت علی ـ کی نگاہ میں عدل کے دائرے کی وسعت اتنی تو پھیلی ہوئی ہے کہ اس کی شعاع انسانی زندگی کے دائرے سے نکل کر تمام حیوانات ، نباتات اور جمادات تک کو گھیرے ہوئے ہے :
”واتّقوا اﷲ فی عبادہ و بلادہ فاِنّکم مسئولونَ حتّٰی عن البقاع و البہائم۔”(٥١)
اے لوگو! خدا کے بندوں اور اس کے شہروں کے معاملے میں تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تم سے حتیّٰ کہ زمین کے خطوں اور جانورو کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا ۔
حضرت علی ـ کا نظریہ عدل انسان تو کیا حیوانات ، نباتات اور جمادات تک کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ خداوند عالم کی بارگاہ میںان کے حقوق کے متعلق سوال ہوگا۔

حضرت علی [ع] کاعدل
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ـ ارشاد فرماتے ہیں:
”واﷲِ لان ابیت علی حسک السعدان مسہّداً او اجّر فی الاغلال مصفدًا احبّ الیّ من ان القی اﷲ و رسولہ یوم القیامة ظالما لبعض العباد وغاسباً لشیئٍ من الحطام و کیف اظلم احداً لنفس الی البلیٰ قفولہا ویطول فی الثریٰ حلولہا۔”(٥٢)
خدا کی قسم! اگر مجھے سعدان کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنی پڑے ،اور مجھے زنجیر وںمیں جکڑ کر کھینچا جائے تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں خدا اور اس کے پیغمبر ۖسے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے خدا کے بندوں پر ظلم کیا ہو یا مالِ دنیا میں سے کوئی چیز غصب کی ہو اور میں اس نفس کی آسودگی کے لیے کسی پرکیونکر ظلم کر سکتا ہوں جو فنا کی طرف پلٹنے والا ہے اور مدتوں مٹی کی تہوں میں پڑا رہے گا۔
“”سعدان ”:ایک خار دار جھاڑی ہے جسے اونٹ چرتا ہے۔”(٥٣ )
امیر المؤمنین علی ـ عدل کو اتنا پسند کرتے ہیں اور ظلم سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اگرانہیں ساری رات اسی سعدان کے کانٹوں کے اوپر گزارنی پڑے یا زنجیروں کے طوق بنا کر آپ کی گردن میں ڈال کر آپ کو گھسیٹا جائے صرف اس وجہ سے کہ اﷲ کے بندوں میں سے کسی پرظلم اورناانصافی کریں تو ذرہ برابر بھی ظلم اور ناانصافی نہیں کریں گے ۔یہ صرف ادعا نہیں ہے ، بلکہ انہوں نے عملی طور سے ثابت بھی کردیا کہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ منزلِ عمل میں اس سے زیادہ پابند ہیں ۔ اس کے بعد سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے اپنے بھائی عقیل کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :۔
“واﷲِ لقد رأیتُ عقیلا و قد املق حتّی استماحنی من برّکم صاعاً و رأیتُ صبیانہ شعث الشعورِ غبر الالوانِ من فقرہم کاَنّما سوّدت وجوہہم بالعِظْلِمِ۔”(٥٤)
اﷲ کی قسم میں نے عقیل کو سخت فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا ، یہاں تک کہ وہ تمہارے حصہ کے گیہوں میں سے ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے۔ میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھرے ہوئے تھے اور فقر و بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکے تھے گویا ان کے چہرے نیل چھڑک کر سیاہ کر دیے گئے ہیں۔
آپ عقیل اور ان کی اولاد کی کیفیت اور حالت بیان کرنے کے بعد عقیل کے اصرارِ طلب کو اور اپنے جواب کو بیان کرتے ہیں :
” وعاودنی مؤَکّداً و کرّر علیّ القول مردّداً فاَصغیتُ الیہ سمعی فظنّ انّی ابیعہ دینی و اتّبع قیادہ مفارقاً طریقی۔ فاحمیتُ لہ حدیدةً ثمّ اذنیتہا من جسمہ لیعتبر بہا فضجّ ضجیج ذی دنفٍ من المہا ، و کاد ان یحترق من میسمہا فقلتُ لہ ثکلت الثواکلُ یا عقیلُ اتئنُّ من حدیدةٍ احماہا انسانہاللعبہ ، وتجرّنی الی نارٍ سجرہا جبّارہا لغضبہ۔ اتئنُّ من الاذی و لا ائنُّ من لظٰی ۔”(٥٥)
وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو بار بار دہرایا ، میں نے ان کی باتوں کو کان لگا کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھوں اپنا دین بیچ ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہو جاؤں گا ۔مگر میں نے کیا یہ کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ عبرت حاصل کرے، چنانچہ وہ اس طرح چیخے جس طرح کوئی بیمار درداور کرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس داغ دینے سے جل جائے پھر میں نے ان سے کہا اے عقیل رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم اس لوہے کے ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں تپایا ہے اور تم مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو کہ جسے خدائے قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے تم تو اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں ۔
حضرت علی ـ کی یہ عدل پسندی جو ان کے اپنے خاندان کے عزیزترین افراد پر بھی پوری قاطعیت کے ساتھ عمل میں آتی ہے یہ آپ علیہ السلام کے بے مثال زہد و تقوٰی کا نتیجہ ہے ۔
اسی سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے امام علی علیہ السلام ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ:۔’
‘و اعجبُ من ذالک طارق طرقنا بملفوفةٍ فی وعائہا ، و معجونةٍ شنِئْتُہا کانّما عجنت بریقِ حیّةٍ او قیئہا ، فقلتُ اَصِلَة ام زکوٰة ام صدقة فذالک محرّم علینا اہل البیت ، فقال لا ذا و لا ذاک ولٰکنّہا ہدیة ۔ فقلت ہبلتْک الہبولُ ، أَ عن دین اﷲِ اتیتنی لتخدعنی ، أَ مختبَِط انت ام ذو جِنّةٍ ام تہجر۔”(٥٦)
اس سے عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گوندھا ہوا حلوہ ایک سر بند برتن میں لیے ہوئے ہمارے گھر پر آیا جس سے مجھے ایسی نفرت تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سانپ کی تھوک میں یا اس کی قے میں گوندھا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کیا یہ صلہ ہے یا زکوٰة ہے یا صدقہ ہے کہ جو ہم اہل بیت پر حرام ہے ۔ تو اس نے کہا نہ یہ ہے نہ وہ ہے بلکہ یہ تحفہ ہے ۔ تو میں نے کہا رونے والیاں تجھ پر روئیںکیا تو دین کے راستے سے مجھے فریب دینے کے لیے آیا ہے یا بہک گیا ہے ؟ یا پاگل ہوگیا ہے یا یونہی ہذیاں بک رہا ہے۔
عدل حضرت علی ـ کی رگ رگ میں موجود تھا جس کی وجہ سے ظلم سے بیحد نفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کی چھوٹی سی معصیت سے بھی نفرت کرتے ہیں چاہے اس کے مقابلہ میں کتنا ہی بڑا انعام کیوں نہ ملے
“واﷲِ لو اُعطیتُ الاقالیمَ السبعةَ بما تحت افلاکہا علی ان اَعصِیَ اﷲَ فی نملةٍ اسلبہا جلبَ شعیرةٍ ما فعلتُ ۔”(٥٧)
خدا کی قسم ! اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ہیں مجھے دے دیے جائیں ، اس بدلے میں کہ صرف اﷲ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جَو کا چھلکا چھین لوںتو کبھی بھی ایسا کبھی نہیں کروں گا ۔
اور اپنی نظر میں دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں :”و انّ دنیاکم عندی لاہونُ من ورقةٍ فی فمّ جرادةٍ تقضمہا۔” (٥٨)اور بے شک یہ تمہاری دنیا تو میرے نزدیک اس پتی سے بھی زیادہ بے قدر و قیمت ہے جو ٹڈی کے منہ میں ہو کہ جسے وہ چبا رہی ہو۔
دنیا کے عیش و عشرت کوسخت ناپسند کرتے ہیں اور اس سے بچنے کی اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ :
” مَا لِعلیٍّ و لنعیم یفنی و لذّةٍ لا تبقیٰ ،نعوذُ باﷲِ من سبات العقلِ وقبح الذّللِ و بہ نستعینُ ۔”(٥٩) علی ـ کو فنا ہونے والی نعمتوں اور باقی نہ رہنے والی لذتوں سے کیا واسطہ ہم عقل کے خوابِ غفلت میں پڑ جانے اور لغزشوں کی برائیوں سے خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسی سے مدد کے خواستگار ہیں ۔

تقسیم بیت المال میں عدل
امیر المؤمنین علی ابن طالب ـجب ظاہری خلافت کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالا بیت المال کی تقسیم میں پیغمبر اکرم ۖ کی سنت کے مطابق جس شہر میں جو مال جمع ہو تا اسی شہر کے مستحقین میں تقسیم کر دیتے اور اگر وہاں سے کچھ بچ کر آتا تو بیت مال میں سمیٹ رکھنے کے بجائے اسے مستحقین میں تقسیم کر کے بیت المال خالی کر دیتے:
”ما کان یدع فی بیت المال مالا یبیت فیہ حتی یقسمہ الا ان یشغلہ شغل فیصبح الیہ۔”(٦٠)آپ نے یہ نوبت نہیں آنے دی کہ رات گزاریں اور مال بیت المال میں پڑا رہے بلکہ رات سے پہلے اسے تقسیم کر دیا کرتے تھے ۔ البتہ اگر کوئی مانع ہو تا تو صبح ہونے دیتے۔
امیر المؤمنین ـ نے بیت المال کی تقسیم میں اعلی و ادنی ، قرشی اور غیر قرشی ، آزاد و غلام سب کا حق مساوی سمجھتے تھے ۔ اور رنگ و نسل اور قومیت و وطنیت کی بنا پر امتیاز گوارا نہ کرتے تھے اور یہ اعلان کر دیا تھا کہ میں سب امتیازات ختم کر دوں گا ۔عقیل نے یہ اعلان سنا تو حضرت سے کہا کہ آپ مجھے اور مدینہ کے ایک حبشی غلام کو ایک سطح پر رکھیں گے ۔ تو حضرت نے انہیں فرمایا :
اجلس رحمک اﷲ و ما فضلک علیہ الا بسابقة او تقوی۔بیٹھئے خدا تم رحم کرے اگر تم کو اس پر فضیلت ہو سکتی ہے تو سبقت اور تقوی کی بنا پر (نہ کہ بیت المال کی تقسیم میں۔) (٦١)
ایک مرتبہ دو عورتیں حضرت کے پا س آئیں حضرت نے ان دونوں کو برابر برابر ددیا اس پر ایک نے کہا میں عربیہ اور آزاد ہوں اور یہ غیر عربیہ اور کنیز ہے ۔ اور آپ نے ہم دونوں کو ایک ہی درجہ پر سمجھ لیا حالانکہ میں مرتبہ کے اعتبار سے بلند تر ہوں۔ حضرت نے زمیں سے مٹی اٹھائی اور اس پر نظر کرنے بعد فرمایا :۔
”ما اعلم ان اﷲ فضل احدا من الناس علی احد الا با لطاعة و التقوی۔”
میرے علم میں نہیں کہ اﷲ نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہو مگر اسے جو طاعت و تقوی میں بڑھا ہوا ہو۔(٦٢)
ایک مرتبہ سہل ابن حنیف اپنے حبشی غلام کو لے کر حضرت کی خدمت میں آئے اور کہا کہ یہ بیت المال میں سے اپنا حصہ لینے کے لیے آیا ہے، آپ اسے کیا دیں گے ۔ فرمایا کہ تمہیں کیا ملا ہے کہا کہ سب کو تین تین دینار ملے ہیں ۔ فرمایا کہ اسے بھی تین دینار دیئے جائیں گے۔(٦٣)
ایک مرتبہ آپ کی ہمشیرہ ام ہانی بنت ابی طالب آپ کے ہاں آئیں آپ نے بیت المال میں سے بیس درہم انہیں دیئے ۔ انہوں نے واپس پلٹ کر اپنی ایک عجمیہ کنیز سے دریافت کیا کہ تمہیں امیر المؤمنین نے کیا دیا ہے ،اس نے کہا بیس درہم ۔ یہ سن کر جناب ام ہانی حضرت کے پاس آئیں اور کہا کہ آپ نے جو کنیز کو دیا ہے وہی مجھے دیا ہے حالانکہ میرا حق فائق ہے۔ حضرت نے فرمایا :۔
انی و اﷲ لا اجد لبنی اسمٰعیل فی ہٰذا الفیٔ فضلا علی بنی اسحٰق۔
خدا کی قسم میں نے کہیں نہیں پایا کہ اس مال میں بنی اسماعیل کو بنی اسحاق پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔ (٦٤)
امیر المؤمنین کی بلند نفسی اس کی قطعاً روادار نہ ہو سکتی تھی کہ وہ قرابت و عزیز داری کی بناء پر اپنے نظریہ تقسیم بیت المال میں تبدیلی پیدا کریں اور جانبداری سے کام لے کر اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے امتیازی برتاؤ روا رکھیں خواہ بہن ہو یا بھائی بیٹا ہو یا بیٹی۔آپ نے تقسیم بیت المال میں وہی طرز عمل اختیار کیا جو پیغمبر اکرم ۖ کا تھا ۔ نہ بیت المال میں مال جمع کر رکھا اور نہ تقسیم میں رنگ ونسل کا امتیاز کیا بلکہ عدل و مساوات کے جو پیمانے وضع کئے اور حق و انصاف کے جو معیاری نمونے پیش کئے دنیا اس کی مثال پیش کرنے قاصر ہے

حضرت علی [ع] کا حکام کو عدل کا حکم
امام علی ـ کے خطبوں ، خطوط اور اپنے عمال نیز مددگاروں کو دیے گئے فرامین میں ہمیشہ عوام کے ایک ایک فرد کے ساتھ عدل اور انصاف سے پیش آنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے
” انّ افضل قرَّةَ عین الولاةِ استقامة العدل فی البلاد وظہور مودّةِ الرّعیّة ، و انّہ لا تظہرُ مودّتہم الّا بسلامة صدورہم۔”(٦٥)
بے شک حکمرانوں کے لیے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل اور انصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر ہوتی رہے۔ ان کی محبت اس وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو۔
حکمرانوں کو عوام کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آنے کا حکم دیتے ہیں کہ:۔
“ولاتصحُ نصیحتہم الّا بحیطتہم علی ولاة الامورو قلّةِ استثقالِ دولہم و ترک استبطائِ مدّتہم ۔”(٦٦)
اور ان کی خیر خواہی اسی صورت ثابت ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کے لیے گھیرا ڈالے رہیں ۔ ان کا اقتدار سر پر پڑا بوجھ نہ سمجھیں اور نہ ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے گھڑیاں گنتے رہیں۔
حکمرانوں کو عوام کے کارناموں کی تعریف کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ” فافصح فی آمالہم وواصل فی حسن الثنائِ علیہم و تعدید ما ابلیٰ ذووالبلائِ منہم ، فاِنّ کثرة الذکر لحسن افعالہم تہزُّ الشجاع و تحرض النّاکل ان شاء اﷲ۔”(٦٧)
لہٰذا ان کی امیدوں میں کشائش اور وسعت رکھنا انہیں اچھے لفظوں میں سراہتے رہنا اور ان کے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا اس لیے کہ ان اچھے کارناموں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے انشاء اﷲ۔
حضرت علی ـ حکمرانوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ لوگوںکو اپنی ذات سے بھی انصاف دلائیں: فاَنصفوا النّاس من انفسکم واصبروا لحوائجہم ۔”(٦٨) پس اپنے معاملے میں لوگوں سے عدل اور انصاف کرو اور ان کی ضرورتیں پوری کرنے میں برداشت سے کام لو۔ حکمران عوام کے نمائیندے ہیں اور ان کی دولت کے خزانچی ہیں:” فاِنّکم خزّان الرّعیّة و وکلاء الامّةِ وسفراء الائمّةِ۔”(٦٩) اس لیے کہ تم رعیت کے خزانچی اور امت کے نمائندے اور اماموں کے سفیر ہو۔

سیاسی نظام میں عدل
دینی حکومت کا فلسفہ ہی قیامِ عدل ہے۔ لہٰذا اس قسم کی حکومت میں ظالم اورستمگر کو رہبری کی کوئی اجازت نہیں اور نہ ہی ظالم حاکمیت کی کوئی شرعی حیثیت ہے ۔ عدل اور قیامِ عدل ایک الٰہی عہد و پیمان اور شرعی تکلیف و ذمہ داری ہے۔ آپ نے حکومت کو قبول کرنے کا مقصد یوں بیان کرتے ہیں:۔
” ما اخذاﷲ علی العلمائِ ان لا یقارّوا علی کظّة ظالمٍ ولا سغب مظلومٍ۔ “(٧٠)
اﷲ تعالی نے علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک پر راضی نہ ہوں ۔
اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ اﷲ کے نیک ، مخلص اور اہلِ علم بندوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ظالم کے ظلم اور مظلوم کی مظلومیت پر خاموش نہ رہیں بلکہ عدل اور انصاف قائم کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہیں۔حکام کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل عدل اور انصاف کا قیام ہونا چاہیے :۔
“ولیکن احبّ الامور الیک اوسطہا فی الحقّ و اعمّہا فی العدل واجمعہا رضا الرعیّةِ ۔” تمہارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہونا چاہیے، جو حق کے لحاظ سے سب سے زیادہ درمیانی ہو اور عدل کی رُو سے سب زیادہ عام ہو اور رعا یا کو سب سے زیادہ رضامند کرنے والا ہو۔(٧١)

قرآن و سنت سے حصول عدل کا حکم
قرآن کریم اﷲ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس میںعلم ا ور عدل کے چشمے موجود ہیں جس سے انسان وابستہ ہو کر عدل کا خوگر بن جاتا ہے لہٰذا اسی باغ اور چمن میں داخل ہوکر سیاسی نظامِ عدل کو قائم رکھا جا سکتا ہے :۔ “فہو معدن الایمان وبحبوحتہ وینابیع العلمِ وبحورہ و ریاض العدلِ و عذرانہ۔”(٧٢)
وہ ایمان کا معدن و مرکز ہے اس سے علم کے چشمے پھوٹتے اور دریا بہتے ہیں اس میں عدل اور انصاف کے چمن اورحوض ہیں ۔
قرآن کریم کے بعد عدل کا مرکز اور محور آپۖ ہی کی ذات گرامی ہے ، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں عدل اور انصاف ہی کو قائم رکھا ، اس لیے ہدایت ِعدل آپۖ ہی سے حاصل کی جائے ،جس طرح نہج البلاغہ میں ارشاد ہے
: “فہو اماممن اتّقٰی و بصیرة من اہتدیٰ سرج لَمَعَ ضؤوہ و شہاب سطع نورہ و زند برق لمعہ، سیرتہ القصد و سنّتہ الرشد و کلامہ الفصل ، حکمہ العدل۔”(٧٣)
آپ ۖ پرہیز گاروں کے امام ہیں ہدایت حاصل کرنے والوں کے لیے بصیرت ہیں ، آپۖ ایسا چراغ ہیں، جس کی روشنی لو دیتی ہے، اور ایسا روشن ستارہ ہیں، جس کا نور ضیاء پاش ہے ، اور ایسا چقماق ہے، جس کی ضو شعلہ فشاں ہے ، آپۖ کی سیرت سیدھی راہ پر چلنا اور سنت ہدایت کرنا ہے ، آپ ۖکا کلام حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا ہے اور حکم عین عدل ہے ۔
حضرت علی ـامام مہدی کی عادلانہ حکومت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:۔
“فیریکم کیف عدل السیرة و یحیی میت الکتاب و السنّة۔”(٧٤)
پس وہ تمہیں دکھائے گا کہ حق و عدل کی روش کیا ہوتی ہے اور وہ دم توڑ چکنے والی کتاب اور سنت کو پھر سے زندہ کردے گا۔

قیام عدل کے عوامل
عدل دو صورتوں میں قائم ہو سکتا ہے ،ایک یہ کہ انسان کا اندر پاک اور صاف کیا جائے جیساسورة جمعہ کی آیة نمبر ٢ میں گذر چکا ۔ اور لوگوں کے ذہنوں میں ایک ایسی طاقت و قوت کا خوف دلایا جائے کہ کبھی نہ کبھی اس کی گرفت میں جانا ہے اور اس کی عدل کے کٹہڑے سے نکلا نہیں جا سکتا ۔ اس بات کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح موجود ہے :” انّما تنذر من اتّبع الذکر و خشی الرّحمٰن بالغیب۔”۔(٧٥)
بے شک آپ ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی اتباع کرتے ہیں اور غیب میں رحمان سے ڈرتے ہیں
اسی طرح حضرت علی ـمؤمن کی صفات بیان کرتے ہیںکہ:” فکان اوّل عدلِہ نفی الہوٰی عن نفسہ۔”(٧٦)پس سب سے پہلا اس کا عدل یہ ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کی نفی کرے ۔اور اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم رکھے۔

حضرت علیؑ کی نظر میں قیام عدل کے موانع
وہ اعمال جو اجرائے عدل میں رکاوٹیں بنتے ہیں ان کی وضاحت درج ذیل پیش کی جا رہی ہے۔

(الف) جانبداری کرنا
اقتدار ایک ایسی چیز ہے ،جو کسی کو مل جائے تو وہ اس منصب کی وجہ سے جانبداری کرنے لگ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ عدل اور انصاف قائم نہیں کر سکتا:” من ملک استاثر۔ “(٧٧)جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے جانبداری کرنے ہی لگتا ہے۔لہٰذا حضرت علی ـاپنے گورنر مالک اشتر کو اس جانبداری سے روکتے ہیں کہ :
”ایّاک والاستیثار بما النّاس فیہ اسوة والتغابی عما تعنی بہ ممّا قد وضح العیونُ فاِنّہ مأضوذ منک لغیرک و عما قلیل تنکشف عنک اغطیة الامور و ینتصف منک للمظلومِ۔” (٧٨)
دیکھو! کسی چیز کو اپنے لیے مخصوص نہ کر لینا ،جس میں سب کا حق برابر ہے، اور نہ ایسی باتوں سے انجان بن جانا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ خودغرضی سے جو کچھ حاصل کروگے تمہارے ہاتھ سے چھن جائے گا اور دوسروں کو دیدیا جائے گا ۔جلد ہی تمہاری آنکھو پر سے پردے اٹھ جائیں گے اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کی جائے گی۔

(ب)نا انصافی
نا انصافی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ ہے کہ حقوق میں تمام عوام کو برابر نہ سمجھا جائے اور بعض کو بعض پر ترجیح دی جائے :۔
” فاِنّ الوالی اذا اختلف ہواہ منعہ ذالک کثیراً من العدل فلیکن امر النّاس عندک فی الحقّ سواء فاِنّہ لیس فی الجور عوض من العدل۔”(٧٩)
بے شک جب حاکم کے رجحانات مختلف ہوں گے تو یہ امر اس کو اکثرعدل اور انصاف پروری سے مانع ہوگا ، لہٰذا حق کی رُو سے سب لوگوں کا معاملہ تمہاری نظروں میں برابر ہونا چاہیے ، کیونکہ ظلم کبھی بھی عدل اورانصاف کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔
اپنے ہر عمل کو اچھا سمجھنا ،چاہے وہ براہی کیوں نہ ہو اور دوسروں کے اعمال کو براسمجھنا، چاہے اچھا ہی کیوں نہ ہو ، وہ عدل اور انصاف کے قیام میں رکاوٹ اور ناانصافی کا سبب بنتا ہے ۔اسی لیے حضرت علی ـ اس طرح کے فعلِ قبیح سے منع کرتے ہیں کہ:۔
” فاجتنب ما تنکر امثالہ ، وابتذل نفسک فیما افترض اﷲ علیک ، راجیا ثوابہ ، و متخوِّفا عقابہ۔”(٨٠)
اور دوسروں کے جن کاموں کو تم برا سمجھتے ہو ، ان سے اپنا دامن بچا کر رکھو، اور جو کچھ خدا نے تم پر واجب کیا ہے، اسے انہماک سے بجا لاتے رہو ، اور اس کے ثواب کے امیدوار اوراس کی سزا کا خوف قائم رکھو۔
حق سے بھاگنا عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے:۔
“فلا تأسف علی ما یفوتک من عددہم و یذہب عنک من مددہم فکفٰی لہم غیّاً و لک منہم شافیًا فرارہم من الہدٰٰی و الحق وایضاعہم الی العمٰی والجہل۔(٨١)
اس تعداد پر جو نکل گئی ہے اور اس کمک پر جو جاتی رہی ہے ذرا افسوس نہ کرو ، ان کے گمراہ ہو جانے اور تمارے اس اندوہ سے چھٹکارا پانے کے لیے یہی بہت ہے کہ وہ حق اور ہدایت سے فرار کر رہے ہیں اور گمراہی
و جہالت کی طرف دوڑ رہے ہیں ۔
دنیا کی طرف جھکنا بھی عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے :۔
” وانّما ہم اہل دنیا مقبلون علیہا ومہطعون الیہ۔”(٨٢)
یہ دنیا دار ہیں ، جو دنیا کی طرف جھک رہے ہیں اور اسی کی طرف تیزی سے لپک رہے ہیں ۔
حق کو چھوڑ کر ظلم کا ساتھ دینا بھی عدل کے قیام میں مانع ہوتا ہے :۔
” قدعرفوا العدل و رأوہ و سمعوہ و علموا انّ النّاس عٍندنا فی الحق اسوة فہربوا الی الاثرةِ فبعدًا لہم و سحقا ، انہم واﷲِ لم ینفروا من جورٍ ولم یلحقوا بعدل۔”(٨٣)
انہوں نے عدل کو پہچانا ، دیکھا ، سنا اور محفوظ کیا اور اسے خوب سمجھ لیا کہ یہاں حق کے اعتبار سے سب برابر سمجھے جاتے ہیں ۔ لہٰذا وہ ادھر بھاگ کھڑے ہوئے جہاں جنبہ داری اور تخصیص برتی جاتی ہے ۔ اﷲ کی قسم یہ لوگ ظلم سے نہیں بھاگے اور عدل سے جا کر نہیں چمٹے ۔

(ج) کسی کو کسی پر ترجیح دینا
اپنے خاص لوگوں کو ہر معاملے میں ترجیح دینے سے عدل قائم نہیں ہوسکتا اسی وجہ حضرت علی ـ اپنے ایک گورنر کو اس طرح کے فعل سے روکتے ہیں کہ :۔
“انّ للوالی خاصة و بطانة فیہم استئثار و تطاول و قلّة انصاف فی معاملة ۔ فاحسم مادّة اولئک بقطع اسباب تلک الاحوال۔”(٨٤)
حاکم کے کچھ خاص اور سر چڑھے لوگ ہوا کرتے ہیں جن میں خود غرضی ، دست درازی ، بد معاملگی ہوا کرتی ہے۔ تمہیںان حالات کے پیدا ہونے کی وجوہات ختم کر کے اس گندے مواد کو ختم کردینا چاہیے ۔
اپنے قریبی لوگوں کو جاگیریں عطا کرنا بھی عدل اور انصاف کے قیام میں مانع ہوتا ہے جس سے منع کرتے ہیں کہ:
“ولا تقطعنّ لاحد من حاشیتک وحامتک قطیعة و لایطمعنّ منک فی اعتقاد عقدة تضرّ بمن یلیہا من النّاس فی شرب او عمل مشترک یحملون مؤونتہ علی غیرہم “(٨٥)
اپنے کسی حاشیہ نشین اور قرابت دار کو جاگیر نہ دینا اور اسے تم سے توقع نہ باندھنا چاہیے، کسی ایسی زمین پر قبضہ کرنے کی جو آبپاشی یا کسی مشترکہ معاملے میں اس کے آس پاس کے لوگوں کے لیے ضرر رساں ہو ،یوں کہ اس کا کچھ بوجھ دوسرے پر ڈال دے۔
اوراپنے قریبی لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دینے سے حکمرانوں پر ایک قسم کا دھبہ لگ جاتا ہے جو کبھی اترتا نہیں : “فیکون مہناً ذالک لہم دونک وعیبہ علیک فی الدنیا والآخرة ۔”(٨٦)
اس صورت میں اس کے خوش گوار مزے تو اس کے لیے ہوں گے نہ تمہارے لیے ، مگر اس کا بد نما دھبہ دنیا اور آخرت میں تمہارے دامن پر رہ جائے گا۔

(د)ضعف نفس (کمزوری و سستی دکھانا)
کمزوری دکھانے سے نہ صرف عدل اور انصاف قائم نہیں ہو تا بلکہ اس سے ذلت اور مصیبت ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
“فمن ترک رغبة عنہ البسہ اﷲ ثوب الذلِ و شملة البلآئِ ودیّث بالصغار والقمائِ و ضرب علی قلبہ بالاسداد۔”(٨٧)
جس نے اس کو چھوڑ دیا اﷲ اسے ذلت اور خواری کا لباس پہنا تاہے اور مصیبت و ابتلا کی چادر اوڑھا دیتا ہے ، اور ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ ٹھکرا دیا جاتا ہے اور مدہوشی و غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے۔اور ۔
” وادیل الحق منہ بتضییع الجہادِ وسیم الخسف ومنع النصف۔”(٨٨)
اور جہاد کو ضایع اور برباد کرنے سے حق اس کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے ،ذلت اسے سہنا پڑتی ہے اور انصاف اس سے روک لیا جاتا ہے۔اسی طرح ایک اور خطبے میں سستی اور کاہلی کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: “لایمنع الضیم الذلیل ولا یدرک الحق الا بالجدِّ۔”(٨٩)
ذلیل آدمی ذلت آمیز زیادتیوں کی روک تھام نہیں کر سکتا اور حق تو بغیر کوشش کے نہیں ملا کرتا۔
اس سے ظلم اور زیادتیوں کو روکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی عدل اور انصاف قائم ہو سکتا ہے :۔
“وکانّی انظرُ الیکم تکشون کشیش الضباب لا تاخذون حقا ولا تمنعون ضیما۔”(٩٠)
گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس طرح کی آوازیں نکال رہے ہو جس طرح سوسماروں کے اژدہام کے وقت ان کے جسموں کے رگڑ کھانے کی آواز ہوتی ہے ، نہ تم اپنا حق لیتے ہو اور نہ توہین آمیز زیادتیوں کی روک تھام کر سکتے ہو ۔ ظلم سے نجات نہیں ملتی :” قد خلّیتم والطّریق فالنجاة للمقتحم والہلکة للمتلوّم۔”(٩١)
تمہیں راستے پر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے، نجات اس کے لیے ہے، جو اپنے آپ کو جنگ میں جھونک دے اور جو سوچتا ہی رہ جائے اس کے لیے ہلاکت و تباہی ہے۔اور نہ ہی عدل اور انصاف قائم ہو سکتا ہے :۔
“أَظأرُکم علی الحق و انتم تنفرون عنہ نفور المعزی من وعوعة الاسد ہیہات ان اطلع بکم سرار العدل او اقیم اعوجاج الحق ۔”(٩٢)
میں تمہیں نرمی و شفقت سے حق کی طرف لانا چاہتا ہوں اور تم اس سے اس طرح بھڑک اٹھتے ہو جس طرح شیر کی گرج سے بھیڑ بکریاں ۔ کتنا دشوار ہے کہ میں تمہارے سہارے پر چھپے ہوئے عدل کو ظاہر کروں یا اس حق میں پیدا کی ہوئی کجیوں کو سیدھا کروں۔
………………………………………

حوالہ جات
(١)النعمان بن محمد التمیمی المغربی(متوفی ٣٦٣ھ): شرح الاخبار فی فضائل الائمة الاطہار، ج١ ،ص٩١، ناشر موسسة النشر الاسلامی قم ،ایران۔ اور مناقب آل ابی طالب، لابن شہر آشوب(متوفی ٥٨٨ھ)ص ٣١٢ ، مطبعة الحیدریة النجف الشرف۔
(٢) الشیخ محمدبن یعقوب الکلینی(متوفی ٣٢٩ھ)، الکافی، ج ٧ ، ص ٤٢٤، طبع الثالث ١٣٦٧ھ، دارالکتب الاسلامیہ، ایران تم
(٣)محمد بن عیسی الترمذی ، سنن الترمذی ،ج٥، ص ٣٠١،الطبعة الثانیہ ١٤٠٣ھ ، دارالفکر البیروت لبنان)ابن بطریق الاسدی الحلی(٦٠٠ھ)، العمدة، ص ٢٨٥، طبع الاولی ١٤٠٧ھ، مؤسسة النشر الاسلامی قم)
(٤) محمد ابن محمد الحاکم النیشاپوری(٤٠٥ھ) مستدرک الحاکم ، ج٣، ص ١٢٧، دارالمعرفة بیروت، ١٤٠٦ھ )
(٥) الشیخ المفید(٤١٣ھ) الامالی، ص ٢٩٣، قم ایران۔ابن عساکر(٥٧١ھ) تاریخ مدینة دمشق، ج ٤٢، ص٣٦٩، دارلفکر ،١٤١٥ھ )
(٦)تاریخ مدینة دمشق، ص ٣٦٩)
(٧)الشیخ الصدوق(٣٨١ھ)من لا یحضرہ الفقیہ، ج٤،ص ٣٦طبع الثانیہ ١٣٠٣ھ ایران۔ )
(٨)نہج البلاغہ، خطبہ ١٠٧ ، ص ٥٨٥)ا
(٩)ایضا مکتوب ٤٥ ، ص ٧٣٧)(ترجمہ جوادی، مکتوب ٤٥، ص ٥٥٨) )
(١٠)ایضا مکتوب ٤٥ ، ص ٧٣٧)(ترجمہ جوادی، مکتوب ٤٥، ص ٥٥٨)
(١١)(٥٣)نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)، خطبہ٢٢١،ص٢٢٤)
(١٢)سورة الحدید٥٧ آیة ٢٥)
(١٣) سورة الرحمان٥٥ آیہ٧)
(١٤)فیض کاشانی، تفسیرالصافی، ج ٥، ص ١٠٧ ناشر موسس الاعلمی للمطبوعات بیروت لبنان ،بدون سال و طبع)
(١٥) محمد ی رے شہری ، میزان الحکمة، ج٣، ص١٨٣٨، طبع الاولی ، دارالحدیث )
(١٦) غرر الحکم و دررالکلم، قول١٠٢٠٣، ص ١٠٣، ناشر مکتبة الاعلام الاسلامی قم، سنة ١٣٦٦ھ ش
(١٧) سورة الرحمان٥٥ آیہ٨)
(١٨)نہج البلاغہ، قول ٤٣٦، ص ٩٤٤۔٩٤٥)
(١٩)مرتضیٰ مطہّری ،سیری در نہج البلاغہ ،ص ١١٣،
(٢٠)نہج البلاغہ ،قول٢٣١،ص ٨٧٨)
(٢١)شرح درر الحکم و غرر الکلم، ج ٢ ،ص ٥٠٨)
(٢٢)(غرر ١٧٠٢،ص ٤٤٦)
(٢٣)عبد الواحد آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج اول قول ٩، ص ١١)
(٢٤)(اصول کافی، ج٧،ص١٧٤)
(٢٥)عبد الواحد آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج اول ،قول نمبر ٣٠٩،ص ٢١ )
(٢٦)عبد الواحد آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج اول ،قول ٦٣٦ ،ص ٣٣)
(٢٧) عبد الواحد آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج اول ،قول ٨٢٤ ،ص ٤٠)
(٢٨)عبد الواحد آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج اول ،قول ٧٤٩)
(غرر ٧٧٤٨،ص٣٣٩)
(٣٠)(٧٧٥٤، ص٣٤٠)
(٣١)میرزا حسین ا لنوری الطبرسی، مستدرک الوسائل،ج١١،ص ٣٣٩
(٣٢) ایضا
(٣٣)نہج البلاغہ، خطبہ ٨٥، ص ٢٥٩
(٣٤)محمد ی رے شہری ،میزان الحکمة ،ص ٨١
(٣٥) نہج البلاغہ، قول٣٠ ،ص ٨١٨
(٣٦)ایضا)
(٣٨)سورة الجمعہ آیہ ٢)
(٣٩) نہج البلاغہ، خطبہ ١٧٤، ص ٤٧٧
(٤٠)ایضا
(٤١)ایضا
(٤٢)ایضا
(٤٣)نہج البلاغہ، قول نمبر ٢٢١، ص ٨٧٥
(٤٤)ایضا خطبہ ٩٥ ،ص ٢٩٨
(٤٥)ایضا مکتوب ٤٨ ،ص٧٤٩
(٤٦)ایضا مکتوب ٣١ ،ص ٧١٦
(٤٧)ایضا قول ٤٧٦ ،ص ٩٥٥)
(٤٨)ایضامکتوب ٥٣، ص ٧٥٦
(٤٩)یضا خطبہ ١٣٤ ،ص ٣٨٣)
(٥٠)ایضا مکتوب ٥١، ص ٧٥٢
(٥١)خطبہ ١٦٥ ،ص ٤٥٦)
(٥٢)ایضاً خطبہ٢٢١،ص٢٢٤)
(٥٣)مفتی جعفر حسین، مترجم نہج البلاغہ، ص ٦٢٤
(٥٤ )نہج البلاغہ، خطبہ ٢٢١،ص ٦٢٤
(٥٥)نہج البلاغہ، خطبہ ٢٢١،ص ٦٢٤
(٥٦)نہج لابلاغہ خطبہ ٢٢١، ص ٢٢٤۔٢٢٥
(٥٧)نہج لابلاغہ خطبہ ٢٢١، ص ٢٢٤۔٢٢٥
(٥٨)نہج لابلاغہ خطبہ ٢٢١، ص ٢٢٤۔٢٢٥
(٥٩)نہج لابلاغہ خطبہ ٢٢١، ص ٢٢٤۔٢٢٥
(٦٠)(مناقب اہل البیت، المولی حیدر الشیروانی، ص ٢١٩
(٦١)مفتی جعفر حسین :سیرت امیر المؤمنین، جلد اول ، ص ٤٣٦
(٦٢)ایضا
(٦٣)ایضا
(٦٤)ایضا
(٦٥ )ایضا مکتوب ٥٣ ،ص ٧٦٢
(٦٦ )ایضا مکتوب ٥٣ ،ص ٧٦٢
(٦٧ )ایضا مکتوب ٥٣ ،ص ٧٦٢
(٦٨)ایضا مکتوب ٥٣ ،ص ٧٦٢
(٦٩)ایضا مکتوب ٥١، ص ٧٥٢
(٧٠)ایضا خطبہ ٣، ص ١٠٣
(٧١)مکتوب ٥٣ ،ص ٧٥٦
(٧٢)ایضا خطبہ ١٩٨
(٧٣)ایضا خطبہ ٩٤ ، ص ٢٩٦
(٧٤)ایضا خطبہ ١٣٨، ص ٣٨٦
(٧٥)سورہ یٰس آیہ نمبر ٨
(٧٦)خطبہ ٨٥ ،ص ٢٥٩
(٧٧)نہج البلاغہ قول ١٦٠ ،ص ٨٦٢
(٧٨)ایضا مکتوب ٥٣ ،ص ٧٧٦
(٧٩)ایضا مکتوب ٥٩ ، ص ٧٨٤
(٨٠)ایضا مکتوب ٥٩ ، ص ٧٨٤
(٨١)ایضا مکتوب ٧٠ ص ٨٠١
(٨٢)ایضا مکتوب ٧٠ ص ٨٠١
(٨٣) ١یضاص۔٨٠٢
(٨٤)یضا مکتوب نمبر ٥٣، ص ٧٧٢
(٨٥)یضا مکتوب نمبر ٥٣، ص ٧٧٢
(٨٦)یضا مکتوب نمبر ٥٣، ص ٧٧٢
(٨٧)شرح ابن ابی الحدید ،ج١، ص ٢٠٠
(٨٨) نہج البلاغہ، خطبہ ٢٧، ص ١٦٦
(٨٩) نہج البلاغہ، خطبہ ٢٧، ص ١٦٦
(٩٠)ایضاخطبہ٢٩ ،ص ١٧٢
(٩١)ایضاخطبہ١٢١ ،ص ٣٥٣۔٣٥٤
(٩٢)خطبہ ١٣٠، الف، ص ٣٧٦
…………………………

المراجع و المصادر
(١)القرآن الکریم
(٢)امام علی : نہج البلاغہ(مترجم مفتی جعفر حسین)، امامیہ پبلیکیشنز لاہور
(٣)ابن بطریق الاسدی الحلی(٦٠٠ھ): ”العمدة،”طبع الاولی ١٤٠٧ھ، مؤسسة النشر الاسلامی قم)
(٤) ابن شہر آشوب(متوفی ٥٨٨ھ) :”مناقب آل ابی طالب”، مطبعة الحیدریة النجف الاشرف۔
(٥) ابن عساکر(٥٧١ھ) : ”تاریخ مدینة دمشق”، دارلفکر ،١٤١٥ھ )
(٦)الشیخ الصدوق(٣٨١ھ):”من لا یحضرہ الفقیہ”الطبعةالثانیہ ١٣٠٣ھ ایران۔ )
(٧)الشیخ محمد یعقوب الکلینی(متوفی ٣٢٩ھ)، طبع الثالث ١٣٦٧ھ، دارالکتب الاسلامیہ، ایران قم
(٨) الشیخ المفید(م٤١٣ھ) الامالی، ص ٢٩٣، قم ایران۔
(٩)عبد الواحد آمدی: ”غرر الحکم و دررالکلم” ، ناشر مکتبة الاعلام الاسلامی قم، سنة ١٣٦٦ھ ش
(١٠)فیض کاشانی: ” تفسیرالصافی”، ناشر موسس الاعلمی للمطبوعات بیروت لبنان ،بدون سال و طبع)
(١١)محمدبن عیسی الترمذی : ” سنن الترمذی” ،الطبع الثانیہ ١٤٠٣ھ ، دارالفکر البیروت لبنان)
(١٢) محمد بن محمد الحاکم النیسابوری(٤٠٥ھ) مستدرک الحاکم ، ج٣، ص ١٢٧، دارالمعرفة بیروت، ١٤٠٦ھ )
(١٣) محمدی رے شہری: ” میزان الحکمة”، طبع الاولی ، دارالحدیث )
(١٤)مرتضیٰ مطہّری : ”سیری در نہج البلاغہ” ،طبع انتشارات صدرا ایران ،طبع اول ،سال ١٣٧١ھ ش)
(١٥)مفتی جعفر حسین :”سیرت امیر المؤمنین”، ناشر امامیہ کتب خانہ مغل حویلی لاہور۔)
(١٦)المولی حیدر الشیروانی : ”مناقب اہل البیت”،طبع ١٤١٤ھ، المطبعة: المنشوراة الاسلامیة)
(١٧)میرزا حسین ا لنوری الطبرسی: ” مستدرک الوسائل”، مؤسسہ آل بیت،قم، سنة ١٤٠٨ھ )
(١٨)النعمان بن محمد التمیمی المغربی(متوفی ٣٦٣ھ): شرح الاخبار فی فضائل الائمة الاطہار، ج١ ،ص٩١، ناشر موسسة النشر الاسلامی قم ،ایران۔