ur

حضرت علی علیہ السلام کے ممتاز اخلاق کے چند نمونے

(سیداحمد موسوی)

حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام کھجوروں کی دکان سے گزرے ،
ایک کنیز کو روتے ھوئے دیکھا تو سوال کیا: تو کیوں روتی ہے؟
کہا: میرے آقا نے مجھے ایک درھم دیکر کھجور خریدنے بھیجا تھا،
میں نے اس شخص سےکھجور خریدے اور اپنے آقا کی خدمت میں لے گئی،
لیکن اس کو پسند نھیں آئے اور اس نے مجھے واپس کرنے کے لئے بھیجا ھے
لیکن یہ شخص واپس نھیں کرتا ھے۔
امام علیہ السلام نے دکان والے سے کہا:
اے بندہٴ خدا! یہ ایک خادمہ ھے اور اس کا کوئی اختیار نہیں ہے،
اس کا درھم واپس کردے اورکھجورواپس لے لے، (یہ سن کر) کھجور بیچنے والا اپنی جگہ کھڑا ھوا اور اس نے آپ کو گھونسا مارا۔
لوگوں نے کہا: (یہ تو نے کیا کیا) یہ امیر الموٴمنین علیہ السلام ھیں؟
یہ سنا تو دوکاندار کا سانس پھولنے لگا اور چہرے کا رنگ زرد پڑگیا۔
اور اس نے کنیز سےکھجور واپس لئے اور اس کو درھم لوٹا دیا
اور کہا: یا امیر الموٴمنین مجھ سے راضی ہوجائیں،
حضرت امیر الموٴمنین علیہ ا لسلام نے فرمایا: اس سے زیادہ اور کون
سی چیز مجھے راضی کرسکتی ہے کہ تو نے اپنی اصلاح کرلی ہے؟
”میں اس صورت میں تجھ سے راضی ہوتا ھوں کہ
تو تمام لوگوں کے حقوق کو مکمل طور پر ادا کردے۔
(مناقب، ج۲، ص۱۱۲؛ بحار الانوار، ج۴۱، ص۴۸، باب۱۰۴، حدیث۱)

سبق کیا ملتاہے؟ کہ غریبوں کے کام میں واسطہ بنیں کہ انکے کام بن جائیں۔
کسی غریب کی مدد میں گھونسا بھی کھایا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
جب براآدمی اپنی اصلاح کرلے تو پھر اس کی سرزنش نہ کرنا ۔
اس نے اپکے حق میں جو ظلم کئے ہیں اسے فراموش کردے۔

بہترین بخشش
حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام نے لبید بن عطارد تمیمی کوگرفتار کرنے کے لئے اپنے کارندوں کو بھیجا، کارندے بنی اسد (کی گلی) سے گزر رھے تھے کہ نعیم بن دجاجہ اسدی اٹھا اور لبید کو کارندوں کے ہاتھوں سے چھڑا دیا ( اور وہ بھاگ نکلا)
امیر الموٴمنین علیہ السلام نے نعیم بن دجاجہ کی گرفتاری کے لئے کارندوں کو بھیجا ، جب وہ لایا گیا تو امامؑ نے اس کی تنبیہ کا حکم دیا۔
اس موقع پر نعیم کہتا ھے: جی ہاں، خدا کی قسم آپ کے ساتھ رہنا خواری اور ذلت ھے اور آپ سے دوری اختیار کرنا کفر ہے!
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا، اور خداوندعالم فرماتا ہے:”اور آپ بُرائی کو اچھائی کے ذریعہ رفع کیجئے۔“
(ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ اٴَحْسَنُسورہٴ مومنون (۲۳)، آیت۹۶)
لیکن تیرا یہ کہنا کہ ”آپ کے ساتھ رہنا ذلت ہے“،
یہ ایک بُرا کام ہے جس کو تو نے انجام دیا،
لیکن تیرا یہ کہنا کہ ”آپ سے جدائی کفر ہے“،
ایک نیکی ہے جس کو تو نے انجام دیا ھے، پس یہ اس کے بدلے میں۔

(اصول کافی، ج۷، ص۲۶۸، باب النوادر، حدیث۴۰؛ مناقب، ج۲، ص۱۱۳؛ بحار الانوار، ج۴۱، ص۴۹، باب۱۰۴، حدیث۱؛ امالی، صدوق، مجلس نمبر۵۸، حدیث۶)
سبق کیا ملتاہے؟
جب کوئی مومن برا کام کرے اور مستحق تنبیہ ہوتو اس کے
جو اچھے کام ہیں انکی خاطر اسے معاف کردو۔
بیوی کی غلطیاں ، اس کی اچھائیوں کے مقابلے میں معاف کردیں۔
ہمیشہ برائی کا جواب اچھائی سے دو۔
لوگ جب غلطی کریں تو انکی تمام اچھائیوں کو فراموش نہ کرو۔
بلکہ عین اس وقت جب وہ برے کام کرچکے تو انکے اچھے کاموں کو یاد کریں
اور قابل معاف غلطیوں کو معاف کریں۔

اوج ایثار
امیر الموٴمنین علیہ السلام کسی کام سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے
ایک اعرابی کو دیکھا ۔خانہ کعبہ کے پردے میں لٹکا ہوا کہہ رہا ہے:
اے گھر کے مالک!گھر تیرا گھر ہے، اور مہمان تیرا مہمان ہے،
میزبان اپنے مہمان کی خاطر داری کے لئے کچھ سامان مہیا کرتا ہے،
آج میری مہمانداری میں میرے گناہوں کی بخشش فرمادے!
امیر الموٴمنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
کیا تم اس اعرابی کی باتوں کو نھیں سن رہے ہو؟
انھوں نے کہا: کیوں نہیں، خداوندعالم کریم ہے کہ
اس کا مہمان اس کی بارگاہ سے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹے گا۔
دوسری رات ہوئی اس کو اسی رکن میں لٹکا ہوا دیکھا جو کہہ رہا تھا:
، تجھے تیری عزت کا واسطہ ! مجھے اپنی عزت کے ذریعہ عزیز بنا دے ۔
جس کو کوئی نہیں جانتا کہ وہ عزت کیا ہے! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں بحق محمد و آل محمد، مجھے وہ چیز عطا کرجسے تیرے علاوہ کوئی عطا نھیں کرسکتا، اور مجھ سے اس چیز کو دور کردے جسے تیرے علاوہ کوئی دور نہیں کرسکتا۔
امیر الموٴمنین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
خدا کی قسم! یہ جملے خدا کے عظیم نام ھیں جو سریانی زبان میں ھیں۔
میرے حبیب رسول خدا ﷺ نے مجھے خبر دی ھے کہ اس رات
اس عرب نے اللہ سے بہشت کی درخواست کی اور اللہ نے اس کو عطا کردی
اور آتش دوزخ سے نجات چاہی اور اس کو اس سے نجات مل گئی
تیسری رات ھوئی تو اس کو اسی رکن میں لٹکا ہوا دیکھا جو کہہ رھا ھے:
اے خدا جس کو کوئی جگہ احاطہ نہیں کرسکتی
اور کوئی بھی جگہ اس سے خالی نہیں ،
وہ کیفیت نہیں رکھتا، اس عرب کو چار ھزار روزی عطا فرما
امیر الموٴمنین علیہ السلام نے فرمایا: اے عرب! تو نے
خداوندعالم کی مہمان نوازی چاہی، تیری مہمان نوازی کردی،
جنت کی درخواست کی، تجھے عطا کردی،
آتش جہنم سے نجات چاھی تجھے نجات مل گئی،
آج اس سے چار ھزار کی درخواست کرتا ھے؟
عرب نے کہا: آپ کون ھیں؟ فرمایا: میں علی بن ابی طالب ھوں، عرب نے کہا:
خدا کی قسم! آپ ھی میرے مطلوب و مقصود ھیں
آپ کے ہاتھوں میری حاجت روائی ھوگی،
امام علیہ السلام نے فرمایا: اے اعرابی! سوال کر، اس عرب نے کہا: ایک ھزار درھم، مہر کے لئے چاھتا ھوں، ایک ھزار درھم اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے، ایک ھزار درھم، مکان خریدنے کے لئے اور ایک ھزار درھم اپنے زندگی کے خرچ کے لئے،
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اے عرب! تو نے اپنی درخواست میں
انصاف سے کام لیا ھے، جب مکہ سے روانہ ھو تو مدینہ رسول میں آنا
اور وہاں ھمارا مکان معلوم کرکے آجانا۔
عرب ایک ھفتہ تک مکہ میں رہا اور پھر حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام کی تلاش میں مدینہ منورہ آیا، اور لوگوں سے سوال کیا:
کون ھے جو مجھے علی ابن ابی طالب کے مکان کا راستہ بتائے،
بچوں کے درمیان حضرت حسین بن علی علیہ السلام نے جواب دیا:
میں تجھے امیر الموٴمنین علیہ السلام کے مکان پر لے جاتا ھوں،
میں ان کا فرزند حسین بن علی ہوں، عرب نے کہا: بہت اچھا،
آپ کے والد کون ھیں؟ فرمایا:امیر الموٴمنین علی بن ابی طالب،
سوال کیا: آپ کی والدہ گرامی کون ھیں؟
آپ نے فرمایا: فاطمہ زہرا سیدة نساء العالمین،
اس نے کہا؟ آپ کے جدّکون ھیں؟
آپ نے فرمایا: محمد بن عبد الله بن عبد المطلب،
اس نے کہا: آپ کی جدّہ کون ھیں؟
آپ نے فرمایا: خدیجہ بن خویلد،
اس نے کہا: تمہارے بھائی کون ھیں؟
آپ نے فرمایا: ابومحمد حسن بن علیؑ
عرب نے کہا: تم نے پوری دنیا کو حاصل کرلیا ھے!
جاؤ حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام کے پاس جاؤ اور ان سے کہو:
جس اعرابی کی آپ نے مکہ میں حاجت پوری کرنے کی ضمانت دی تھی
وہ آپ کے دروازہ پر کھڑا ھے۔
امام حسین علیہ السلام بیت الشرف میں داخل ہوئے اور فرمایا
بابا وہ اعرابی جس کو آپ نے مکہ میں وعدہ کیا تھا وہ دروازہ پر کھڑا ھے۔
امیر الموٴمنینؑ نے جناب فاطمہ زہرا سلام الله علیہا سے فرمایا:
کیا کچھ کھانا موجود ہے جو اس اعرابی کو کھلا دیا جائے؟
جناب فاطمہ زہرا سلام الله علیہا نے فرمایا: نہیں، (کچھ بھی نہیں ہے)
علی علیہ السلام نے اپنا لباس زیب تن کیا اور بیت الشرف سے باہر آئے
اور فرمایا: ابوعبد الله سلمان فارسی کو بلاؤ۔
سلمان آگئے تو ان سے فرمایا: اے ابو عبد الله!
پیغمبر اکرم ﷺ نے ہمارے لئے جو باغ لگایا ہے اس کو فروخت کر ڈالو۔
سلمان بازار گئے اور اس باغ کو بارہ ہزار درہم میں فروخت کردیا،
امیرالموٴمنین علیہ السلام نے اعرابی کو دینے کے لئے پیسہ تیار کیا،
اور چار ہزار درہم اس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اور
چالیس درھم اس کے خرچ کے لئے ادا کئے۔
علی علیہ السلام کی عطا و بخشش کی خبر مدینہ کے غریبوں تک پہنچی،
وہ بھی حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام کے پاس جمع ہوگئے۔
حضرت علی علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے اور درہموں کو اپنے سامنے رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب بھی جمع ہوگئے
اور ایک ایک مٹھی بھر کر غریبوں کو دیتے رہے
یہاں تک کہ ایک درہم بھی باقی نھیں بچا
(امالی، صدوق، ص۴۶۷، مجلس ۷۱، حدیث۱۰؛ روضة الواعظین، ج۱، ص۱۲۴؛ بحار الانوار، ج۴۱، ص۴۴، باب۱۰۳، حدیث۱)

علی کی پیروی کرو:اللہ کی راہ میں کچھ دیا کرو۔
علیؑ کی پیروی یہ ہے کہ اللہ کے مہمان کو اپنا مہمان جانو۔
اور اللہ کے مہمانوں کی عزت کرو۔
جب مہمان نوازی کی جارہی ہو تو غریبوں کو فراموش نہ کرنا۔
علی ؑ کی طرح غریب نوازی کیا کرو۔
اگرچہ کچھ بیچنا ہی کیوں نہ پڑے مہمان کو خالی ہاتھ نہ لوٹا۔

کریمانہ بخشش
جنگ جمل کے خاتمہ کے بعد طلحہ کے بیٹے (موسیٰ بن طلحہ) کو حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا،
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
تین بار کھو: ”اٴستغفر الله و اٴتوب إلیہ“ ، اور پھر اس کو آزاد کردیا
اور فرمایا: جہاں جانا چاہو چلے جاؤ، اور لشکر گاہ میں اسلحہ، سواری اور جو چیزیں تمھیں مل جائیں ان کو لے لو، اور اپنی مستقبل کی زندگی میں خدا کا پاس و لحاظ رکھو اور گھر میں رہو۔
( بحار ج۴۱، ص۵۰، باب ۱۰۴، حدیث۲)

علیؑ کی پیروی یہ ہے کہ کریمانہ بخشش رکھتا ھو۔
دشمن کے بیٹے کو باپ کی دشمنی کی بنا پر زیادتی کا نشانہ نہ بنا یا جائے۔
دشمن کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو جب توبہ کریں تو اسے بخش دیا جائے
اچھی بخشش یہ ہے کہ اسے اسباب وسامان کے ساتھ بخش دیاجائے۔

یتیموں پر والہانہ توجہ
امیر الموٴمنین علیہ السلام ملک اور عوام کے حالات سے باخبر تھے
مخصوصاً یتیموں، بیواؤں، غریبوں سے غافل نہیں ہوتے تھے،
لیکن کبھی اپنی حکومت کے کارندوں اور امت اسلامیہ کو سبق دینے کے لئے
ایک عام انسان کی طرح کام کیا کرتے تھے۔
ایک روز آپ نے دیکھا کہ ایک عورت شانوں پر پانی کی مشک رکھے جا رھی ھے،
آپ نے اس سے مشک لی اور اس کے گھرتک پہنچا دی،
اور پھر اس عورت کے حالات دریافت کئے،
اس عورت نے کہا: علی ؑنے میرے شوہر کو کسی سرحد پر بھیجا
جو وہاں قتل ہوگیا، اب میرے یتیم بچے ہیں
اور ان کے خرچ کے لئے بھی میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے،
اس لیے خود ہی کام کرنے پر مجبور ہوں۔
امیر الموٴمنین علیہ السلام اپنے بیت الشرف پلٹ آئے اور پوری رات پریشانی اور بے چینی کے عالم میں گزاری،
جب صبح نمودار ھوئی ، آپ نے کھانے پینے کا کچھ سامان لیا
اور اس کے گھر کی طرف روانہ ھوئے،
آپ کے بعض اصحاب نے کہا: لائیے یہ بوجھ ھمیں دیدیجئے تاکہ
ھم اس کے گھر تک پہنچا دیں، تو امیر الموٴمنین علیہ السلام نے فرمایا
قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟
اس عورت کے گھر کے دروازے پر پہنچے، اور دق الباب کیا،
اس عورت نے سوال کیا: کون ہے جو دروازہ کھٹکھٹاتا ھے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں وہی بندہ ھوں
جس نے کل تمہاری پانی کی مشک تمہارے گھر تک پہنچائی تھی،
دروازہ کھولو کہ میں بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان لایا ھوں،
عورت نے کہا: خدا تم سے خوش ہو،
اور میرے اور علی کے درمیان فیصلہ کرے علیؑ مکان میں وارد ہوئے اور فرمایا:
میں تمہاری مدد کرکے ثواب الہٰی حاصل کرنا چاہتا ہوں ، روٹی بنانے اور بچوں کو بہلانے میں سے ایک کام میرے حوالہ کردو،
عورت نے کہا: میں روٹیاں بنا سکتی ہوں، لہٰذا آپ بچوں کو بہلائیں،
عورت نے آٹے کی روٹی بنانا شروع کی اور علی ؑ گوشت اور خرما بچوں کو کھلانے لگے، جب بچے لقمہ کھاتے توامیر الموٴمنینؑ بچوں سے فرماتے :
میرے بیٹو! علی کی وجہ سے تم پر جو مصیبت پڑی ہے، ان کو معاف کردینا!

جب آٹا گندھ گیا تو عورت نے کہا: اے بندہ خدا! تنور روشن کرو،
علی علیہ السلام تنور کی طرف گئے اور اس کو روشن کیا،
اور جب تنور سے شعلہ نکلنے لگے تو اپنے چہرے کو اس کے نزدیک لے گئے
تاکہ حرارت چہرے تک پہنچے، اور فرماتے تھے
اے علی! بیواؤں اور یتیم بچوں کے حق سے غافل ھونے کی سزا آگ کی حرارت ھے۔
ناگہاں (پڑوس کی) ایک عورت آئی اور اس نے علیؑ کو پہچان لیا
اور بچوں کی ماں سے کہا: وائے ھو تجھ پر یہ امیر الموٴمنین ھیں
یہ سن کر وہ عورت آپ کی طرف دوڑی اور وہ مسلسل کہتی جاتی تھی:
یا امیر الموٴمنین ! میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں!
امیرالموٴمنین علیہ السلام نے فرمایا:
اے کنیز خدا! میں تجھ سے زیادہ شرمندہ ھوں کہ تیرے حق میں کوتاھی کی ھے۔
(مناقب، ج۲، ص۱۱۵؛ بحار الانوار، ج۴۱، ص۵۱، باب ۱۰۴، حدیث۲۔)

شیعہ علیؑ ــ علیؑ کی پیرو کریں۔
معاشرے کے بیواوں ، یتیموں اور محتاجوں کا خیال رکھیں۔
انکے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔انکی عزت کا خیال رکھیں۔
انکے حق کوتاھی کی ھو تو ان سے معافی چاہیں۔
علی والے علیؑ کی طرح یتیموں کے منہ میں روٹی دینے والے ھوں گے ۔
نہ کہ یتیموں کے لقمے چھیننے والے
علیؑ والے ۔ بیواؤں کی مدد کرنے والے
انکے دوش سے بوجھ اٹھانے والے ھونگے
نہ کہ انکے جائداد پہ ہاتھ صاف کرنے
اور نگاہ طمع تیز کرنے والے ۔

ھم علیؑ والے ھیں تو آئیں علیؑ کے
ھم قدم ھو جائیں ۔ ھم راہ ھوجائیں ۔
ھم دم ھو جائیں ۔ ھم نفس ھوا جائیں۔
ھم آواز ھو جائیں ۔ ھم رنگ ھوجائیں۔
ھم سخن ھو جائیں ۔ ھم سو ھو جائیں۔
ھم قدم ھو جائیں ۔ ھم بزم ھو جائیں ۔
ھم درد ھوجائیں۔ ھم دوش ھو جائیں۔
ھم زبان ھو جائیں۔ ھم ساز ھو جائیں۔
ھم سفر ھوجائیں۔ ھم نوا ھو جائیں۔
ورنہ شیعہ نہیں کہلا سکتے ۔