اسلام کا اصول ملاپ اور میل جول ہے

(علامہ سید محمد حسین فضل اللہ)

اسلام کا اصول ملاپ اور میل جول ہے جدائی اور قطع تعلق نہیں۔ کیونکہ انسانوں کا ایک دوسرے سے میل ملاپ ربط و تعلق معاشرے میں موجود دراڑوں کو پرکردیتا ہے۔اور بعض اوقات باہمی ربط و تعلق نہ ہونے اور دوریوں کی وجہ سے انسان ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان خلیج گہری ہو جاتی ہے۔ لیکن باہمی میل ملاپ قربت اور گفتگو کے ذریعے پتا چلتا ہے کہ سامنے والے کی فکر کیا ہے؟اسکے اہداف و خواہشات کیا ہیں؟ اسکے خواب اور تمنائیں کیا ہیں؟ اسکا نکتہ نظر کیا ہے؟ اور اسی طرح فریق ثانی آپ کے متعلق تمام شناسائی حاصل کر لیتا ہے اور یوں ایک انسان دوسرے انسان کوسمجھنے لگتا ہے۔ اور یہ اسلامی معاشرے کی تنظیم کے اسرار میں سے ایک راز ہے۔ لہٰذا معاشرے میں نظر آنے والی یہ بات کہ بعض لوگ ایک دوسرے سے قطع تعلق کئے ہوئے ہیں اور بعض ایک دوسرے سے گفتگو تک کے روادار نہیں اسلامی اصولوں کے برخلاف ہے۔دوستی کے متعلق ایک حدیث میں حضرت امام موسی کاظمؑفرماتے ہیں:

لاٰتَذہَبِ الحِشَمۃََ بَینَکَ وَبَینَ اَخِیکَ وَابقِ مِنہَا فَاِنَّ ذَہَابَہٰا ذَہٰابُ الحَیٰاءِ اپنے اور اپنے دوست کے درمیان شرم و حیا کا پردہ ختم نہ کرنا کیونکہ اس پردے کے اٹھ جانے سے حیا کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔

دو افراد جن کے درمیان دوستی اور رفاقت کا رشتہ قائم ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ دو انداز سے پیش آ سکتے ہیں:
1۔ ایک انداز اور طریقہ یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی پاس و لحاظ نہ ہو کوئی پردہ نہ رہے، سارے حجاب پارہ ہوجائں اور دونوں کے درمیان ایسی کوئی بھی چیز باقی نہ بچے۔ اس بات سے روکا گیا ہے ۔ حضرت امام کاظم ںنے تاکید فرمائ ہے کہ دو افراد کے درمیان کچھ نہ کچھ حیا باقی رہنی چاہئے جس سے پتا چلے کہ وہ ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے احترام کے قائل ہیں۔ کیونکہ اگر سارے حجاب پارہ ہوجائں اورکوئی حد باقی نہ بچے تو دونوں کی دوستی کو نقصان پہنچے گا ۔

2۔ دوسرا انداز و اسلوب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایک حدِ فاصل قائم ر ہے وہ ایک دوسرے کے تمام رازوں سے واقف نہ ہوں اور ان کے درمیان باہمی پاس و لحاظ برقرار رہے۔ اور یہی انداز مطلوب ہے۔ ایک حدیث میں حضرت امام صادق ںفرماتے ہیں:اِن اَرَدتَ اَن یَصفُوَلَکَ وُدَّ اَخِیکَ فَلاٰ تُمٰازِحَنَّہُ (ا گر تم چاہتے ہو کہ تمہارے بھائی کے ساتھ تمہاری دوستی خالص ہو تو اس سے ہنسی مذاق نہ کرنا) ۔یہاں مذاق سے مراد گھٹیا اور غیر مہذب مذاق ہیں۔ وَلاٰتُمٰارِیَنَّہُ (اس کے ساتھ جھگڑا نہ کرنا) ۔مراد یہ ہے کہ ایسی بحث نہ کرنا جس میں بدکلامی ہو جو دوستی کو خراب کر دیتی ہے۔ وَلاٰ تُبٰاہِیَنَّہُ (اور اس کے سامنے شیخی نہ بگھارنا) ۔ یعنی اسے اپنے رتبے و مقام مال ودولت سے مرعوب کرنے کی کوشش نہ کرنا اور اپنے اس عمل کے ذریعے اس کی شخصیت کو نیچا مت دکھانا۔ وَلاٰتُشٰارَنَّہُ (اور اسے نقصان نہ پہنچانا) ۔یعنی اس کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرنا جس سے فتنہ و فساد سر ابھارے یاایسا عمل نہ کرنا جس سے اس کے اورتمہارے درمیان اختلاف پیدا ہو ۔

حضرت امام علی نقیؑ فرماتے ہیں: اَلمِرَاءُ یُفسِدُ الصَّدَاقۃََ القَدِیمۃََ وَیُحلِّلُ العِقدۃََ الوَثِیقۃََ وَاَقَلُّ مٰا فِیہِ اَن تَکُونَ فِیہِ المُغٰالبۃََ جدال پرانی دوستیوں کو خراب کر دیتا ہے مضبوط رشتوں کو توڑ دیتا ہے اور اس میں کم از کم یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جدال میں کیونکہ ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسرے کو مغلوب کرے لہٰذا یہ عمل دوستی پر منفی اثرات چھوڑتا ہے ۔ وَالمُغٰالبۃُ اُسُّ اَسبَابِ القطعیۃَِ اور ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کے لئے کوشش ہر برائ کی جڑ ہے۔ کیونکہ مغلوب شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ غالب کی نظر میں حقیر ہو چکا ہے جبکہ غالب رہنے والا خود کو مغلوب پر برتر محسوس کرتا ہے۔ یہ احساسات دوستانہ تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں اور دوستی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔حضرت علی ںنے ہمیں متوجہ فرمایا ہے کہ اگر چغل خور لوگ ہمارے بارے میں ہمارے دوستوں کی کہی ہوئی ناروا باتیں ہمیں آ کر بتائں تو ہمیں ان کی بتائ ہوئی باتوں کو قبول نہیں کرنا چاہئے: مَن اَطٰاعَ الوٰاشِی ضَیَّعَ الصَّدِیقَ (جوبھی چغلخور کی بات مانتا ہے وہ اپنے دوست کوضائع کر دیتا ہے) کیونکہ چغلخور کا توکام ہی منفی اور بری باتوں کو ایک دوسرے سے بیان کرنا ہے اور اس طرح وہ دوستوں کے درمیان قائم پرانی دوستیوں کو بھی نابود کردیتا ہے اور بنیادی طور پر چغلخور کا مقصد بدی پھیلانے اورایک دوسرے کے درمیان جدائ ڈالنے کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

حضرت علی ؑنے اپنی وصیت میں محمد بن حنفیہ سے فرمایا: اِیّٰاکَ وَالعُجبَ (خود پسندی سے پرہیز کرنا) ۔یعنی ایسا نہ ہو کہ تم اپنے آپ پر ناز کرنے لگو اور اپنی شخصیت کو بزرگ و برتر سمجھنے لگو۔ وَسُوءُ الخُلقِ (بد اخلاقی سے پرہیز کرنا) ۔ایسا نہ ہو کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ برے اخلاق سے پیش آؤ بد کلامی کرو اور سخت رویہ اختیار کرو۔ وَقِلَُّۃ الصَّبرِ (کم حوصلگی اوربے صبری سے پرہیز کرنا) ۔ یعنی کہیں ایسانہ ہو کہ تم دوسروں کی بد سلوکی اور ان کی اذیت وآزار (خواہ عمداً ہو یا بھولے سے) کوبرداشت نہ کرو اور خبردارکہیں ایسا نہ ہو کہ اگر کوئی تمہیں اذیت پہنچائے تمہارے ساتھ بد سلوکی کرے اور تم ایک مدت تک حقیقت واضح ہونے کا انتظار نہ کرو۔ فَاِنَّہُ لاٰیَستَقِیمُ لَکَ عَلَی ہِذِہِ الخِصٰالِ الثَّلاٰثِ صَاحبٌ (اس لئے کہ (تم میں) ان تین صفات کے ہوتے ہوئے کوئی تمہاری دوستی پر باقی نہیں رہے گا۔) کیونکہ اگر تم اپنے دوستوں کے سامنے اپنی برتری اور فوقیت جتائو گے اور یہ کہو گے کہ میں تم سے برتر ہوں اورتم پست ہو یا ان کے ساتھ بد سلوکی کرو گے یا تعلقات کے دوران پیش آنے والی کمزوریوں کو برداشت نہ کرو گے تو پھر دوستی اور رفاقت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ وَلاٰیَزَالُ لَکَ عَلَیہٰا مِنَ النّٰاسِ مُجٰانِبُ ان صفات اورایسی شخصیت کی بناپر لوگ تم سے گریز کریں گے اورتم لوگوں سے کٹ کے رہ جائو گے۔

بدگمانی کی ممانعت
امام علی ؑ نے ہمیں دوستوں کے بارے میں بدگمانی سے منع فرمایا ہے کیونکہ بعض اوقات ہم دوستوں سے یا اسی طرح دوسرے افراد سے ایسا عمل سرزد ہوتے دیکھتے ہیں جسے ہم نیکی اورحسن نیت پر مبنی بھی سمجھ سکتے ہیں اور اسے شر اوربدی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں ۔ اسی موقع کے لئے امام علی ؑنے فرمایا ہے: اِیّٰاکَ وَسُوءَ الظَّنِّ (بدگمانی سے پرہیز کرو) یعنی کہیں ایسانہ ہو کہ کسی کے منفی پہلو کو اس کے مثبت پہلو پر ترجیح دو ۔ کیونکہ اس طرح تم دوسروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دو گے ۔اورتم اگر دوسروں پر اعتماد سے محروم ہو جائو بالخصوص جبکہ وہ تمہارے دوست بھی ہوں تو یہ بد اعتمادی ممکن ہے تمہاے تعلقات کا خاتمہ کر دے اور تمہاری دوستی میں شگاف ڈال دے اور دوسرے لوگوں سے تمہارے روابط کو پیچیدگیوں کا شکار کر دے۔ حضرت علی ؑ سے ایک جملہ نقل ہوا ہے جو انسان کو ایک اصول فراہم کرتا ہے جو بتاتا ہے کہ انسان جب بھی کسی دوسرے انسان کے کسی قول یا عمل کا سامنا کرے تو اس کے بارے میںمثبت رائے رکھے۔حضرت فرماتے ہیں: ضَع اَمرَ اَخِیکَ عَلیٰ اَحسَنَہُ (اپنے بھائی کے عمل کی توجیہ بہترین گمان سے کرو) ۔ یعنی اگر تمہارا دینی بھائی کوئی ایساکام انجام دے جو مختلف احتمالات اور پہلوئوں کا حامل ہو۔ یعنی اس میں اچھا احتمال بھی پایا جاتا ہو اور برا احتمال بھی تو برے احتمال پر اچھے احتمال کو فوقیت دو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس پر برائی کا حکم نہ لگائو جبکہ اس سے اچھائ کا پہلو نکلالنا بھی ممکن ہو۔ وَلاٰتَظُنَّنَّ بکلمۃٍ خَرَجَت مِن اَخِیکَ سُوء اً وَاَنتَ تَجِدُلَہَا فِی الخَیرِمَحمِلاً اپنے بھائی کے منھ سے نکلنے واے الفاظ کے متعلق بدگمانی سے کام نہ لو جبکہ تم اس کلام کے متعلق اچھا احتمال بھی دے سکتے ہو۔ بالفرض اس کی بات میں ۹۹ فی صد بری نیت نظر آ رہی ہو اور صرف ایک فی صد اچھی نیت کا امکان دکھائی دے رہا ہو تو کہو کہ شاید یہی ایک فی صد والا پہلو اس کی مراد ہو۔

اور اسلام اسی نظریے پر اپنے ماننے والوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے جو اسلام کے عدالتی اصولوں سے ساز گار ہے۔ اگر ملزم پر الزام ثابت نہ ہو سکے تو ایسے مواقع پر وہ بری ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کے ہاتھ میں ریوالور ہو اوراس کے سامنے ایک لاش پڑی ہوئی ہو، تو فوراً ہی یہ فیصلہ نہیں کر لینا چاہئے کہ جس شخص کے ہاتھ میں ریوالور ہے وہی قاتل ہے۔ اسلامی عدالت کہتی ہے کہ یہ شخص ملزم ہے اسے مجرم نہ کہو جب تک کہ دلائل اور ثبوت اس کے جرم کو ثابت نہ کردیں کیونکہ ممکن ہے کچھ نامرئی اور پوشیدہ عوامل سامنے آئیں جن کی بنیاد پر وہ شخص جرم سے بری ہوجائے۔ البتہ قدرتی بات ہے کہ حسنِ ظن رکھنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم ملزم کو جرم سے سوفی صد بری سمجھیں،بلکہ مراد یہ ہے کہ نہ اسے صد فی صد مجرم سمجھیں اورنہ ہی اسے صد فی صد بے گناہ جانیں۔ بلکہ اس جگہ اوراس سے ملتی جلتی صورتوں میں فرد کو صرف ملزم سمجھیں یہاں تک کہ حقیقتِ امرواضح ہوجائے ۔اور اصولاً ملزم ومجرم میں فرق ہے دونوں بالکل علیحدہ مقولے ہیں۔
چنانچہ حضرت علی ؑ فرماتے ہیں: لاٰیَغلَبَنَّ عَلَیکَ سُوءُ الظَّنِّ فَاِنَّہُ لاٰیَدَعُ بَینَکَ وَبَینَ صَدِیقٍ صَفحاً کہیں ایسانہ ہو کہ تم پر بدگمانی غالب آجائے۔
اس صورت میں تمہارے اورتمہارے دوست کے درمیان بخشش اور در گزر کی کوئی گنجائش نہ رہے گی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر کسی کے منھ سے کوئی اچھا کلمہ سنیں تو اسے برے کلمے میں تبدیل کردیتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں میں کوئی خوبی نہیں دیکھ سکتے۔ ایسے لوگ ان بدبخت افراد کی مانند ہیں جن کی نظر میں زندگی کا صرف تاریک پہلو ہوتا ہے ۔

مثلاً عباسی دربارکے معروف شاعر ابن رومی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز میں سے منفی پہلو نکالنے میں ماہر تھا۔ ایک مرتبہ اس کے کچھ دوستوں نے تفریح کا پروگرام بنایا اور اسے مدعو کرنے کے لئے ایک شخص کو جس کا نام حسن تھا اس کے پاس بھیجا ۔جب حسن ابنِ رومی کے پاس پہنچا تو ابن رومی نے اس سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: حسن۔ یہ سن کرابن رومی نے لفظ حسن کے الفاظ کی جگہوں کو تبدیل کر دیا اورکہا: نَحساً یعنی تم نحس اور بد شگون ہو اور یہ کہہ کر دروازہ بند کرلیا۔اس کے دوستوں نے دوسرے شخص کو بھیجا جس کا نام اقبال تھا۔ ابنِ رومی نے اس کے نام کے حروف کو ادل بدل دیا اورکہا: لابقا (نہ رہنے والا) اور دروازہ بند کرلیا۔ جی ہاں! بعض افراد ابنِ رومی کی طرح نفسیاتی الجھائو (Complex) کا شکار ہوتے ہیں اورلوگوں کے بارے میں بدگمان رہتے ہیں۔بعض اوقات لوگ کوئی ایسی بات کرتے ہیں جس میں خیر کا احتمال پایا جاتا ہے نیز بہت سے صحیح معنی موجود ہوتے ہیں لیکن اس قسم کے لوگ اس بات میں سے برے احتمال کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکے بارے میں اچھے احتمال کا اظہار نہیں کرتے ۔ یہ بات ہمیں سیاسی اعتقادی اجتماعی اور شرعی مسائل میں بھی نظر آتی ہے۔ ایسے افراد کے نزدیک بدگمانی سے زیادہ کوئی دوسری چیز اہم نہیں ہوتی اور جب انھیں ٹوکا جاتا ہے کہ اس درجہ بدگمانی نہ کرو تو جواب میں کہتے ہیں: سو ء الظن من حسن الفطن (بدگمانی ذہانت اور چالاکی میں سے ہے) جبکہ انھیں معلوم نہیں کہ بدگمانی نہ صرف ذہانت کی علامت نہیں بلکہ عدالت عقل اورحکمِ شرعی کے برخلاف ہے بالخصوص اس وقت جب بد گمانی کسی فرد کے متعلق حکم کی بنیاد واساس بن جائے۔ دوستی کے رشتے میں استحکام اور مضبوطی سے متعلق حضرت امام علی ؑکی ایک حدیث ہے: مَن نَاقَشَ الاِخوَانَ قَلَّ صَدِیقُہُ جو کوئی اپنے دوستوں سے کڑا حساب لیتا ہے ان پر سخت نکتہ چینی کرتا ہے اس کے دوست کم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوشش نہیں ہونی چاہئے کہ اپنے دوستوں کی بات بات پر نکتہ چینی کرو اور ان کی ایک ایک سانس تک شمار کروکیونکہ کوئی چیز ایسی نہیں جس میں سے خامیاں نہ نکالی جا سکیں۔بقول شاعر

اِذٰاکُنتَ فی کُلِّ الاُمُورِ مُعَاتِباً
صَدِیقَکَ لَم تَلقِ الَّذِی لاٰتُعٰاقِبُہُ

اگر طے ہوکہ دوست اوردوستی کی دنیا میں تحقیق کی جائے تو تمہیں کوئی ایسا دوست نہ ملے گا جس کی سرزنش نکتہ چینی اور باز پرس ممکن نہ ہو۔ ہر انسان سے لغزش انحراف اور بے فائدہ عمل سرزد ہو سکتے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔اسی بنا پر امام علی ؑنے فرمایا ہے: مَن نَاقَشَ الاِخوَانَ قَلَّ صَدِیقُہُ جو بھی اپنے دوستوں پر نکتہ چینی کرتا ہے اس کے دوست کم ہوجاتے ہیں۔ جی ہاں نکتہ چینی ایک ایسا عمل ہے جو دوستوں کی تعداد کم کردیتا ہے ۔

دوست بڑھانے کے طریقے

کیا چیزیں ہیں جو دوستوں میں اضافے کا باعث ہوتی ہیں؟ یہاں ہم یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ اجتماعی مسائل میں بھی اہلِ بیت ہمارے معلم ہیں۔

حضرت امام حسن عسکری فرماتے ہیں: مَن کَانَ الوَرَعُ سَجِیَّتُہُ وَالکَرَمُ طَبِیعتُہُ وَالحِلمُ خُلَّتُہُ کَثُرَ صَدِیقُہُ وَالثَّنٰائُ عَلَیہِ وَانتَصَرَ مِن اَعدَائِہِ بِحُسنِ الثَّنٰائِ عَلَیہِ
پرہیز گاری جس کی عادت بن جائے کرم وبخشش جس کی سرشت ہو اور حلم و بردباری جس کی شان ہو اس کے دوست زیادہ ہوتے ہیںاور اس کی تعریف کثرت سے کی جاتی ہے اوراسی تعریف کی مدد سے وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہوجاتا ہے۔

یعنی ان صفات اورخصوصیات کی وجہ سے وہ لوگوں کے دل جیت لیتا ہے اس کے دوست زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کی محبوبیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے دشمنوں پر کامیابی حاصل کرتا ہے اوراس کے دشمن بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ امام زین العابدین ؑ نے زُہری کو جو نصیحتیں کیں ان میں ہے کہ: ایک روز آپ نے زہری کو دیکھا کہ وہ حاسدوں اور ان لوگوں کی وجہ سے غمگین اور رنجیدہ خاطر ہیں جن پر انہوں نے احسانات کئے تھے (یاد رہے کہ زہری امام سجادؑکے اصحاب میں سے تھے اور انہوں نے حضرت سے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں) امام نے زہری سے غم و اندوہ کا سبب دریافت کیا تو زہری نے عرض کیا: میں لوگوں کے ساتھ نیکی کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کے درمیان زندگی بسر کررہاہوں کہ جو ان چیزوں کی وجہ سے مجھ سے حسد کرتے ہیں جو پروردگارعالم نے مجھے عطا کی ہیں اورمیرے لئے بہت سی انفرادی اور اجتماعی مشکلات پیداکرتے ہیں۔ (بالکل ویسی ہی مشکلات جیسی حاسداور احسان فراموش بد خواہ افراد کی طرف سے بہت سے انسانوں کو اٹھانی پڑتی ہیں۔)

امام سجادؑ نے ان سے فرمایا: اَمَّا عَلَیکَ اَن تَجعَلَ المُسلِمِینَ مِنکَ بِمَنزِلَةِ اَہلِ بَیتِکَ
تمہیں چاہئے کہ تم تمام مسلمانوں کو اپنے اہلِ خانہ کی طرح سمجھو۔

یعنی اگر مشکلات سے نجات چاہتے ہو تو اپنی فکر ونظر کوتبدیل کرو اوراسلامی سماج کے ہر فرد کواپنے افراد خانہ کی طرح سمجھو اور دیکھو کہ انسان اپنے گھر کے چھوٹوں اور بڑوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے؟ پس تمام مسلمانوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آؤ ۔ پروردگارِعالم نے ہم سے مطالبہ کیا ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ مہر ومحبت سے پیش آئں اور ان سے برادرانہ سلوک کریں ۔

ارشاد الٰہی ہے: اِنَّمٰا المُؤمِنُونَ اِخوَةٌ (بلاشبہ تمام مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں)
یعنی پروردگارِ عالم نے ان کے درمیان قائم ایمانی رشتے کو سب سے مضبوط رشتہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم بھی تمام مسلمانوں کو ایک کنبے کے افراد شمار کرو جس میں سب مل جل کر رہتے ہیں ۔ فَتَجعَلَ کَبِیرَ ہُم بِمَنزِلَةِوَالِدِکَ (ان کے بڑوں کو اپنے والد کا درجہ دو) اور ان کا اسی طرح احترام کرو جیسے اپنے والد کا احترام کرتے ہو۔ وَتَجعَلُ صَغِیرَہُم بِمَنزِلَةِ وَلَدَکَ (اور ان کے چھوٹوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھو) ۔لہٰذا ان کے ساتھ اسی طرح شفقت اور محبت سے پیش آؤ جیسے اپنے بچوں سے پیش آتے ہو۔ وَتَجعَل تِربَکَ بِمَنزِلَةِ اَخِیکَ فَاَیُّ ہٰؤُلاٰئِ تُحِبُّ اَن تُظلِمُ (اور اپنے ہم سن وسال افراد کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھو۔جب صورتحال یہ ہو تو تم خود ہی بتائو کہ ان میں سے کس پر ظلم و زیادتی کرنا پسند کرو گے؟) ۔

کیا عقلِ سلیم رکھنے والے کسی انسان کو یہ بات پسند ہو گی کہ وہ اپنے والد اپنے بچوں یا اپنے بھائیوں پر ظلم کرے ؟ واضح ہے کہ جب مسلمانوں کو اس نگاہ سے دیکھوگے اوران کے متعلق اس طرح کا شعور و احساس رکھوگے تو لازماً ان کے ساتھ اس طرح پیش آئو گے کہ ان پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہ ہو کیونکہ انسان ہرگز نہیں چاہتا کہ خود سے وابستہ افراد میں سے کسی پر ظلم کرے۔وَاِن عَرَضَ لَکَ اِبلِیسُ (لَعنَةُ اللّٰہِ) اَنَّ لَکَ فَضلاً عَلَی اَحَدٍ مِن اَہلِ القِبلَةِ (اور اگر شیطان (لعنتہ اللہ) تمہارے سامنے یوں ظاہر کرے کہ تم مسلمانوں میں سے کسی سے برتر اور افضل ہو) ۔ممکن ہے کہ شیطان تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تمہیں دوسروں پر برتری حاصل ہے۔ صرف تم نیک کام انجام دیتے ہو دوسروں کی خدمت کرتے ہو اورسماج کی اصلاح کے لئے کوشاں ہو لہٰذا سب پر لازم ہے کہ تمہاری اطاعت کریں اور تمہارے سامنے سرِ تعظیم خم کریں۔ ہاں بعض لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے ۔ جتنی ان کی شہرت بڑھتی ہے اتنا ہی وہ یہ تصور کرنے لگتے ہیں کہ وہ لوگوں پر حق رکھتے ہیں جبکہ لوگوں کو ان پر کوئی حق حاصل نہیں۔ لہٰذا وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی خدمت کریں اوروہ کسی کی خدمت نہ کریں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ نیکی اور احسان ہو لیکن وہ کسی کے ساتھ نیکی واحسان نہ کریں۔ پس اگر شیطان تمہارے دل میں یہ خیال پیدا کر دے کہ تمہیں کسی پر فوقیت حاصل ہے تو : فَاِن کَانَ اَکبَرُ مِنکَ فَقُل قَد سَبَقنِی بِالاِیمٰانِ وَالعَمَلِ الصَّالِحِ (اگر وہ شخص تم سے عمر میں بڑا ہے تو اپنے آپ سے کہو کہ وہ ایمان اورعملِ صالح میں مجھ سے سابق ہے) ۔یعنی شیطان کے اس فریب اور وسوسے کے متعلق خود اپنے آپ سے کلام کرو اور اس شخص کے بارے میں معلومات کرو اگر وہ تم سے عمر میں بڑا ہو تو اپنے آپ کو سمجھائو کہ اسے مجھ پر فضیلت حاصل ہے۔

کیونکہ اگر مجھ میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جن کی بنیاد پر میں اس سے بہتر ہوں تب بھی وہ مجھ سے پہلے دنیا میں آنے کی وجہ سے ایک باایمان اور صالح زندگی گزارنے میں مجھ سے سبقت رکھتا ہے۔ جب میں پیدا بھی نہ ہوا تھا وہ اس سے قبل ہی ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا: فَہُوَ خَیرٌ مِنِّی (لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے) ۔ وَاِن کَانَ اَصغَرُ مِنکَ فَقُل قَد سَبَقتَہُ بِالمَعٰاصِی وَالذُّنُوبِ فَہُوَ خَیرٌ مِنِّی (اوراگر وہ عمر میں تم سے چھوٹا ہے تو اپنے آپ سے کہو کہ گناہ اور نافرمانی میں میںاس پر سبقت رکھتا ہوں لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے) میں معصوم تو ہوںنہیں نیز اس سے پہلے بالغ اور سنِ شعور کو پہنچا ہوںاور اس سے پہلے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ میرے گناہ اس سے زیادہ ہیں ۔ وَاِن کَانَ تِربَکَ فَقُل اَنَا عَلَی یَقِینٍ مِن ذَنبِی وَفِی شَکٍّ مِن اَمرِہِ فَمٰا اَدَعُ یَقِینِی لِشَکِّی (اور اگر وہ سن وسال میں تمہارے برابر ہے تو اپنے آپ سے کہو کہ اپنے گناہوں کے بارے میں تو مجھے یقین ہے لیکن اس کے گناہوں کے متعلق شک رکھتا ہوں۔ پس میں شک کی بنیاد پر یقین کو نہیں چھوڑ سکتا) مجھے اپنے گناہوں کا تو علم ہے لیکن اس کے گناہوں کے بارے میں نہیں جانتا۔ مجھے اپنے انجام دیئے ہوئے گناہوں کے بارے میں تو یقین ہے لیکن اس کے گناہوں کا علم نہیں اور اس بارے میں شک کا شکار ہوں لہٰذا کیسے اپنے یقین کوترک کرکے شک پر تکیہ کروں۔ یوں اس طرح وہ مجھ سے بہتر ہے ۔ وَاِن رَائتَ المُسلِمِینَ یُعَظِّمُونَکَ وَیُوَقِّرُونَکَ وَیُحِبُّونَکَ فَقُل ہٰذا مِن فَضلٍ اُخِذُوبِہِ (اوراگر دیکھو کہ مسلمان تمہاری تعظیم و توقیر کررہے ہیں اورتم کو چاہتے ہیں تو کہو کہ (ان کا یہ طرزِ عمل) ان کی حاصل کردہ فضیلت ہے) ۔ بعض لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ انہیں بڑا سمجھتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں ان کی تعظیم کررہے ہیں یا ان کے لئے راستہ چھوڑ رہے ہیں یا ان کے نام کے نعرے بلند کر رہے ہیں تو خود میں نے سماتے اپنے آپ کو دوسری ہی دنیا کی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں جبکہ اگر حقیقت امر جاننا چاہیں تو حقیقت یہ ہے کہ احترام کرنے والے یہ افراد ان پر برتری رکھتے ہیں کیونکہ ان لوگوں پر ان کا احترام کرنا واجب نہ تھا (یہ تو ان لوگوں کے عظمت ہے کہ انہوں نے ان کا احترام کیا) حتیٰ بعض مواقع پر تو یہ لوگ اس قابل بھی نہ تھے کہ ان کا احترام کیا جاتا۔

ہمیں امیر المومنین حضرت علی ؑ سے عاجزی اور انکساری کا درس لینا چاہئے جبکہ آپ مقامِ عصمت پر فائز تھے اور اگر اس سے بھی بلند کوئی مقام فرض کیا جا سکتا ہے تو آپ اس پر فائز ہیں لیکن اسکے باوجود آپ خدا اور بندگانِ خدا کے سامنے تواضع اور انکساری کے ساتھ پیش آتے تھے اور جب بھی کوئی آپ کی تعریف کرتا تھا خوف خدا کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے تھے:
اَللّٰہُمَّ اجعَلنِی خَیراً مِمّٰا یَظُنُّونَ وَاغفِر لی مَالاٰیَعلَمُونَ
پرودگار ا ! یہ جیسا مجھ کو سمجھتے ہیں اس سے بہتر قرار دے اورمیری جن لغزشوں کوتو جانتا ہے اور یہ نہیں جانتے ان کو بخش دے۔ اور حضرت امام سجادؑ دعائے مکارم الاخلاق میں ہمیں تعلیم دیتے ہیں (میری نصیحت ہے کہ اس دعا کو روزانہ پڑھئے کیونکہ یہ دعا ہمارے سامنے بہترین انداز میںاخلاقی اور تربیتی راہ و روش کی نشاہدہی کرتی ہے۔ اور کوئی اخلاقی مسئلہ ایسا نہیں جس کا ذکر اس دعا میں نہ کیا گیا ہو۔ لیکن افسوس ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم امام سجاد کی معرفت نہیں رکھتے نہ صرف امام سجاد بلکہ تمام ہی ائمہ کو ہم نے صرف عزاداری تک محدود کر کے رکھ دیاہے ایک مدرسۂ فکر اور وسیع افق کی حامل ہستیوں کے طور پر ان سے استفادہ نہیں کرتے۔)

بہر حال امام سجاد اس دعا کے ایک حصے میں فرماتے ہیں:
اَللّٰھُمَّ لَاتَرفَعنِی فِی النّٰاسِ دَرَجَۃً اِلاّٰ حَطَطتَنِی عِندَ نَفسِی مِثلَہَا وَلاٰ تُحدِث لی عِزاً ظٰاہِراً اِلاّٰ اَحدَثتَ لی ذِلَّۃً بَاطِنَۃً عِندَ نَفسِی بِقَدرِھٰا
بار الٰہا ! لوگوں کے درمیان میرے کسی درجے میں اس وقت تک اضافہ نہ فرمانا جب تک اسی مقدار میں مجھے اپنی نگاہوں میں حقیر نہ کر دے اور کوئی بھی ظاہری عزت و شوکت مجھے نصیب نہ فرما جب تک اسی مقدار میں مجھے خود میری نظروں میں ذلیل نہ کر دے۔

لوگوں سے روابط و تعلقات کے بارے میں امام سجاد نے اپنے صحابی زہری کو جو نصیحتیں فرمائیں ہم ایک مرتبہ پھر ان کی طرف آتے ہیں۔ امام نے فرمایا:
وَ اِن رَأیتَ مِنہُم جَفٰائً اَو اِنقِبَاضاً عَنکَ فَقُل ہٰذا الذَّنبُ اَحدَثتُہُ

(اور اگر دیکھو کہ لوگ تم پر ظلم کر رہے ہیں تم سے بے توجہی برت رہے ہیں تو کہو کہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے۔) پس اگر دیکھو کہ لوگ تمہاری تعظیم و تکریم نہیں کرتے تم سے محبت سے پیش نہیں آتے تو اسکا قصور وار بھی خود اپنے آپ ہی کو سمجھو یعنی لوگوں کو الزام نہ دو انہیں برا نہ کہو بلکہ خود کو موردِ الزام ٹھہرائو کہ تم کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہو یا لوگوں کے حق میں تم نے کوئی کوتاہی کی ہے جس کی وجہ سے وہ تم سے دور ہو گئے ہیں اور یہ خود تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ فَاِنَّکَ اِن فَعَلتَ ذٰالِکَ سَہَّلَ اللّٰہُ عَلَیکَ عَیشَکَ وَکَثَّرَ اَصدِقَائُکَ وَقَلَّ اَعدَائُ کَ (اگر تم نے اس طرح عمل کیا تو پروردگار عالم تمہاری زندگی کو آسان کر دے گا تمہارے دوستوں میں اضافہ اور تمہارے دشمنوں میں کمی کر دے گا) ۔ یعنی اگر اس فکر اور ذہنیت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی بسر کرو گے تو نہایت عمدہ نتائج دیکھو گے۔ یہاں ہم لوگوں کے ساتھ پیش آنے اور ان کے ساتھ اختیار کئے جانے والے طرزِ عمل سے متعلق ائمہ علیہم السلام کی ہدایات و رہنمائوں کے صرف ایک گوشے کو سامنے لائے ہیں۔

دوستی کی حدود
اس حصے میں ہم دوستی اور اس کی حدود کے متعلق گفتگو کرنے جا رہے ہیں اور اس گفتگو کا آغاز حضرت امام جعفر صادق ؑکے ایک خوبصورت کلام سے کریں گے: لَاتَکُونُ الصِّدَاقَةُ اِلَّا بِحُدُودِ ہَا فَمَن کَانَت فِیہِ ہٰذِہِ الحُدُودُ اَو شَییٌٔ مِنہَا وَ اِلَّا فَلَا تَنسِبہُ اِلیٰ شَییئٍ مِنَ الصِّدَاقَة
ِ بغیر حدود کے دوستی نہیں ہوتی۔ پس جس کسی میں یہ حدود یا ان کا کوئی حصہ پایا جائے وہ دوستی کے لائق ہے اوراگر یہ حدود یا ان میں سے کچھ اس میں نہ پائےجائیں تو ہرگز اسے اپنا دوست مت سمجھنا۔

فَاَوَّلُہَا: اَن تَکُونَ سَرِیرَتُہُ وَ عَلاَنِیَّتُہُ لَکَ وَاحِدَةٌ پہلی شرط یہ ہے کہ: تمہارے لئے اس کا ظاہر و باطن ایک ہو ۔
ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے تو تمہیں گلے لگائے لیکن پیٹھ پیچھے سے خنجر گھونپے۔ بلکہ سامنے اور پیٹھ پیچھے دونوں مواقع پر تمہارے لئے اس کی محبت ا ور اس کا خلوص یکساں ہونا چاہئے۔

الثانیۃ: اَن یَرَی زَینَکَ زَینَہُ وَ شَینَکَ شَینَہُ دوسری شرط یہ ہے کہ: تمہاری اچھائی کو اپنی اچھائی سمجھے اور تمہاری برائی کو اپنی برائی۔ یعنی تمہاری پسندیدہ صفات اور فضائل کو اپنے لئے خوبی سمجھے اور اگر تمہارے اندر کوئی برائ دیکھے تو اسے تکلیف ہو۔

والثالثۃ: اَن لاَ تُغَیِّرَہُ عَلَیکَ وِلَایَةٌ وَ لَا مَالٌ تیسری شرط یہ ہے کہ: اقتدار اور مال و دولت تمہارے ساتھ اسکے طرزِ عمل میں تبدیلی نہ لا سکے۔
یعنی اگر وہ ایک معمولی فرد تھا نہ اسکے پاس مال تھا نہ منصب و مقام اور تمہارے ساتھ دوستی میں کسی امتیاز کا قائل نہ تھا۔ پھر اس کی قسمت نے یاوری کی اسے منصب و مقام حاصل ہو گیا وہ مال ودولت کا مالک ہو گیا اس کے باوجود اس نے رشتہ ٔ دوستی استوار رکھا اور ایسے رہا جیسے کچھ بدلا ہی نہ ہو تو ایسا شخص تمہارا سچا دوست ہے اسکی دوستی کی حفاظت کرو اور اس سے ہم نشینی کے مشتاق رہو۔

والرابعة: لَا یَمنَعُکَ شَئاً تَنَالُہُ مَقدَرَتُہ چوتھی شرط یہ کہ :جو چیز اسے حاصل ہو اور تمہیں اس کی ضرورت پڑ جائے تو اسے دینے سے منع نہ کرے۔
والخامسۃ: وَ ہِیَ اللتی تَجمَعُ ہٰذِہِ الخِصَال: اَن لَایُسَلِّمُکَ عِندَ النَّکبَاتِ۔ پانچویں شرط جو گزشتہ تمام شرائط کو اپنے اندر شامل کئے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ: مصیبت میں تمہیں تنہا نہ چھوڑے ۔ یعنی جب گردشِ زمانہ تمہیں جکڑ لے اور تم مصائب و مشکلات میں پھنس جائو تو تم سے آنکھیں نہ پھیر لے بلکہ تمہارے سخت حالات کو دیکھنے کے بعد خنداں پیشانی کے ساتھ ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے تمہیں تقویت پہنچائے اور مشکلات کے بھنور سے تمہیں صحیح و سالم باہر نکال لے۔ آج کے زمانے میں بھلا ایسے دوست کہاں ملتے ہیں؟ امام علی ؑکے کلام میں بھی ملتا ہے کہ: لَایَکُونُ الصَّدِیقُ صَدِیقاً حَتَّی یَحفَظَ اَخَاہُ فِی ثَلاَثٍ فِی نَکبَتِہِ وَ غَیبَتِہِ وَ وَفَاتِہِ کوئی دوست اس وقت تک دوست نہیں ہو سکتا جب تک کہ تین مواقع پر اپنے بھائی کا خیال نہ رکھے۔ مشکلات میں اس کی عدم موجودگی میں اور اس کی وفات کے بعد۔ زمانے کی مشکلات اور ان کے حملوں سے اسے محفوظ رکھے اور اگر لوگ پسِ پشت اس کی غیبت کریں تو نہ کرنے دے اور کوشش کرے کہ دوسرے اس کے دوست کو صرف اچھے الفاظ سے یاد کریںاور موت کے وقت اور موت کے بعد اس کے اہل و عیال کا خیال رکھے۔نیز آپ ہی نے فرمایا ہے: اَلصَّدِیقُ الصَّدُوقُ مَن نَصَحَکَ فِی عَیبِکَ سچا اورمخلص دوست وہ ہے جو تمہارے نقص و عیب کی اصلاح کے لئے تمہیں نصیحت کرے ۔ پس جیسے ہی تمہارے اندر کوئی عیب دیکھے تمہیں اس سے آگاہ کرے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ مخلص دوست کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا دوست ہر طرح کے عیب سے پاک ہو۔

مشہور ومعروف حدیث ہے: اَلمُؤمِنُ مِرآةُ اَخِیہِ (مومن اپنے بھائ کے لئے آئینہ ہے) مراد یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اپنے بھائی کے اندر دیکھو۔ یعنی بعض اوقات تمہارا بھائی تمہارے بارے میں کچھ ایسی چیزوں کو جانتا ہے جن سے خود تم بھی واقف نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح جیسے تمہارے چہرے کی خوبصورتی جسے تم خود نہیں دیکھ سکتے آئینہ دکھا دیتا ہے۔وَ حَفَظَکَ فِی غَیبِکَ وَ آثَرَکَ عَلیٰ نَفسِہِ (تمہارا حقیقی دوست و ہ ہے جو تمہاری عدم موجودگی میں تمہاری حفاظت کرے اور اپنے آپ پر تمہیں ترجیح دے) لہٰذا جب کبھی ایسا ہو کہ ایک چیز بیک وقت تمہاری بھی ضرورت ہو اور اس کی بھی ضرورت تو اپنے آپ پر تمہیں ترجیح دے۔

نیز آپ ہی دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: اَلصَّدِیقُ مَن کَانَ نَاھِیّاً عَنِ الظُّلمِ وَ العُدوَانِ (تمہارا دوست وہ ہے جو تمہیں ظلم اور سرکشی سے روکے) ۔یعنی اگر وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دوست گھر میں اپنے اہلِ خانہ پر ظلم کر رہا ہے یا باہر لوگوں پر ستم ڈھا رہا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس ظلم میں اس کی مدد نہیں کرتا بلکہ اسے ظلم و ستم سے روکتا ہے۔ نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے معروف عربی جملے:اُنصُراَخَاکَ ظَالِماً اَو مَظلُوماً (اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے ظالم ہو یا مظلوم) کے متعلق پیغمبرِاکرم سے سوال کیا اور آنحضرت سے عرض کیا کہ مظلوم کی مدد کے معنی تو ہمیں معلوم ہیں لیکن ظالم کی مدد کے کیا معنی ہیں؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا: ظالم کی مدد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے ظلم کرنے سے روکو نفسِ امارہ پر غلبے کے سلسلے میں اسکی مدد کرو تاکہ اس طرح وہ دوسروں پر ظلم کا مرتکب نہ ہو۔ حضرت علی ؑنے فرمایا: اَلصَّدِیقُ مَن کَانَ نَاہِیّاً عَنِ الظُّلمِ وَ العُدوَانِ مُعِیناً عَلَیٰ البِرِّ وَ الِاحسَانِ تمہارا دوست وہ ہے جو ظلم اور سرکشی سے تمہیں روکے اور بھلائی و نیکی میں تمہاری مدد کرے۔ اسی طرح دوسرے مقام پر بھی حضرت سے نقل ہوا ہے کہ: اِنَّمَا سُمِّیَ الصَّدِیقُ صَدِیقاً ِلنَّہُ یَصدُقُکَ فِی نَفسِکَ وَ مَعَایِبِکَ فَمَن فَعَلَ ذَالِکَ فَاستَنَمَ اِلَیہِ فَاِنَّہُ الصَّدِیق دوست کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ وہ تمہاری ذات اور تمہارے عیوب کے متعلق صداقت کا اظہار کرتا ہے ۔ لہذا جو شخص ایسا کرے تم اسکے ساتھ مطمئن رہو اس لئے کہ وہ تمہارا مخلص دوست ہے۔

قارئن محترم! ان کلمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام علیؑ اجتماعی زندگی کی باریکیاں سمجھنے میں عظیم مرتبے پر فائز تھے۔ یہی وہ راز ہے کہ جس کی بنا پر ہم مسلسل حضرت علی کو سمجھنے اور آپ کو پہچاننے کی دعوت دیتے ہیں۔ البتہ ہم اس دعوت کے ذریعے یہ نہیں چاہتے کہ آپ یہ جاننے میں لگ جائیں کہ حضرت نے عرب کے بہادروں اور مشرک سرداروں جیسے مرحب ، عمرو بن عبدود وغیرہ کو کیسے زیر کیا بلکہ ہماری دعوت کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ آپ کس طرح تاریکیوں اور جہل سے پردہ اٹھاتے تھے اور کس طرح عام اذہان کے لئے حقائق کی وضاحت فرماتے تھے۔ نہیں پتا اگر آج امام علی ؑہمارے درمیان موجود ہوں تو ہم ان کے ساتھ کیا کریں؟ کس طرح پیش آئیں اور ہمارا رویہ آپ کے ساتھ کیا ہو۔۔۔؟ عمر بن خطاب نے حضرت علی ؑکی عظمت ِفکر اور دور اندیشی کے متعلق کہا ہے:لَو وَلِیَھَا عَلِیٌّ لَحَمَلَھُم عَلٰی المَحَجَّةِ البَیضَائِ (اگر حکومت علی کے ہاتھوں میں ہوتی تو وہ لوگوں کو حق اور روشن راستے کی طرف لاتے) ۔ لیکن کون اس درست اور روشن راستے کو قبول کرتا؟ خود آنحضرت نے فرمایا ہے: مَا تَرَکَ لِیَ الحَقُّ مِن صَدِیقٍ (حق نے میرے لئے کوئی دوست باقی نہ چھوڑا) ۔یعنی میں حق پر عمل کرنے میں اس قدر باریک بین سنجیدہ اور سخت گیر تھا کہ میرے دوست بھی مجھ سے منھ موڑگئے۔ نیز حضرت دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: صَدِیقُکَ مَن نَہَاکَ عَن ارتِکَابِ المَآثِمِ وَ الذُّنُوبِ وَ عَدُوُّکَ مَن اَغرَاکتمہارا دوست وہ ہے جو تم کو لغزشوں اور گناہوں سے روکے اور تمہارا دشمن وہ ہے جو تمہارے گناہوں اور عیوب پر تمہیں فریب دے اور تمہیں گستاخ کر دے۔ معروف مثل ہے: مَن اَبکَاکَ بَکَیٰ عَلَیکَ وَ مَن اَضحَکَکَ ضَحِکَ عَلَیکَ (جو تم کو رلائے تم پر رویا اور جو تم کو ہنسائے وہ تم پر ہنسا) ۔یعنی اگر تم سے رونے کو کہا اور تم روئے تو وہ خودبھی تمہارے ساتھ تم پر رویا اور اگر تم سے ہنسنے کو کہا تم کو ہنسایا اور خود بھی تمہارے ساتھ ہنسا ۔یعنی خوشی و غمی کے تمام مراحل میں تمہارا ہمدل و ہمدم رہا۔ لیکن افسوس بعض افراد صرف اس کے دوست ہوتے ہیں جو ان پر ہنستے ہیں اور جو ان کے لئے روتے ہیں ان کو نہیں چاہتے اور دوست نہیں رکھتے۔

دوستی سے پہلے آزمائش
لوگوں کی اکثریت کا ظاہر و باطن یکساں نہیں ہوتا ان کا ظاہر کچھ ہوتا ہے اور باطن کچھ۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرے اور ان کو اچھی طرح پہچانے اور یہ شناخت خواہ ان لوگوں سے میل جول کے دوران ذاتی تجربے کے ذریعے حاصل کرے یا ان قابلِ اعتماد اشخاص کے ذریعے حاصل کرے جو ان کے یہاں رفت و آمد رکھتے ہیں اور ان کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ اور یہ امر صرف دوستی و رفاقت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام تعلقات شادی بیاہ اوردیگر روابط میں اسے پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ شادی کے مسئلے میں ضروری ہے کہ مرد غور کرے کہ اپنی ہونے والی بیوی سے کیا چاہتا ہے اور شادی سے قبل اسکی شخصیت کے مختلف عناصر کے متعلق تحقیق کرے اور یہی باتیں عورت کو بھی ہونے والے شوہر کے متعلق ملحوظ رکھنی چاہئیں ۔ اسے بھی جاننا چاہئے کہ اس کے ہونے والے شوہر میں کن صفات کا ہونا ضروری ہے؟ اور وہ خصوصیات اس مرد میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ شادی سے پہلے کی یہ تحقیق و معلومات ان کی آئندہ ازدواجی زندگی کی سلامتی کی ضامن ہیں۔ میرے عزیز و! یہی وجہ ہے کہ شادی میں والدین کو لڑکے اور لڑکی پر اپنی رائے مسلط نہیں کرنی چاہئے اور ان سے تحقیق اور انتخاب کا حق نہیں چھین لینا چاہئے۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ والدین خاندانی مصلحتوں اور خاندانی روابط یا دوستیوں کو مستحکم کرنے کی خاطر اپنے لڑکوں یا لڑکیوں کی شادی ان کی رضامندی کے بغیر کر دیں۔ کیونکہ زندگی ماں باپ نے نہیں گزارنی بلکہ انہیں لڑکے اور لڑکی کی زندگی کی مصلحتوں کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔اگر انسان سوچے تو شادی واقعی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کیونکہ شادی کے ذریعے ایک شخص آپ کے دن رات کا ساتھی بن جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کے تمام اسرار سے آگاہ ہو جاتا ہے اور زندگی کے طویل سفر کے تمام مراحل میں آپ کا ہم سفر قرار پاتا ہے۔ بتایئے کیسے ممکن ہے کہ بغیر تحقیق کے ایسے شخص کا انتخاب کر لیا جائے؟لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کے متعلق یا تو خود ذاتی طور پر تحقیق کرے یا صاحبِ نظر افراد اور مخلص اور خیر خواہ دوستوں سے مشورہ کرے۔ یہ تحقیق اور معلومات کا حصول نہ صرف شادی کے مسئلے میں بلکہ تمام روابط میں ضروری ہے خواہ وہ معاشی روابط ہوں یعنی کسی کو کاروباری شریک بنانا چاہتے ہوں یا سیاسی روابط ہوں اورآپ کسی پارٹی یا تنظیم کا رکن بننا چاہتے ہوں اور خواہ کوئی دوسرا انسانی رابطہ ہو۔ ہر چیز سے قبل افراد کے بارے میںتحقیق کرنا چاہئے اور ان کے متعلق مطلوبہ معلومات حاصل کرنی چاہئں۔

احادیث آزمائش کی تاکید کرتی ہیں
آیئے سب مل کر اس باب میں ائمہ علیہم السلام کے کلام کی جانب چلتے ہیں اور بغور اسے سنتے ہیں۔ کتاب غرر الحکم میں حضرت علی ؑفرماتے ہیں: قَدِّمِ الِاختِبَارَفِی اتِّخَاذِ الاِخوَانِ فَاِنَّ الاِختِبَارَ مِعیَارٌ تَفرُقُ بِہِ بَینَ الاَخیَارِ وَ الاَشرَارِدوست بنانے سے پہلے اس کی آزمائش کرو کیونکہ آزمائش اچھے اور برے کے درمیان تمیز کا پیمانہ ہے۔ یعنی آزمائش وہ پیمانہ ہے جو آپ کے سامنے واضح کر دیتی ہے کہ کون نیک ہے اور کون بد۔ لہٰذا جب تک کسی انسان کی آزمائش نہ کر لو اور اس کے اخلاق افکاراور طور طریقوں کو پرکھ نہ لو اسے دوست نہ بنائو۔ ایک دوسری حدیث میں امام علیؑ فرماتے ہیں:قَدِّمِ الِاختِبَارَ وَ اَجِدِ الِاستِظہَارَ فِی اِختِیَارِ الاِخوَانِ وَ اِلاَّ اَلجَاَکَ الاِضطِرَارَ اِلٰی مُقَارَنَةِ الاَشرَارِ پہلے آزمائش کرو پھر دوست بنائو اور دوست بنانے میں احتیاط سے کام لو (و گر نہ گردشِ زمانہ اور) مجبوری تمہیں اشرار کی ہم نشینی پر مجبور کر دے گی۔ کتاب کنز العمال میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث ہے: اِذَا رَاَیتَ مِن اَخِیکَ ثَلاَثَ خِصَالٍ فَارجُہُ الحَیائُ وَ الاَمَانَةُ وَ الصِّدقُ وَ اِذَا لَم تَرَہَا فَلاَتَرجُہ۔ جب بھی اپنے بھائی میں یہ تین خصوصیات دیکھو تو اس کی دوستی اور محبت کے امید وار رہو۔ ١۔ حیاء ۔ ٢۔امانت داری ۔ ٣۔ صداقت ۔اور اگر یہ چیزیں اس میں نظر نہ آئیں تو وہ دوستی کے قابل نہیں ہے۔ یعنی ہوشیار رہوکہ جس کو دوست بنا رہے ہو وہ کہیں بے شرم و بے حیا نہ ہوبلکہ اسے با حیا معزز اور لوگوں کے ساتھ تعلقات میں حیا کا پابند ہونا چاہئے۔ کیونکہ ایسا شخص لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آتا ہو۔ حضرت امام صادق ؑسے منقول ہے: اِختَبِرُوا اِخوَانَکُم بِخَصلَتَینِ فَاِن کَانَت فِیہِم وَ اِلاَّ فَاعزُب ثُمَّ اعزُبدو خصوصیات سے اپنے بھائیوں کی آزمائش کرو ۔اگر یہ خصوصیات ان میں پائی جائیں تو انہیں اپنا دوست اور بھائی بنائو و گر نہ چھوڑ دو۔ (وہ خصوصیات ہیں:) ۔

1. اَلمُحَافَظَةُ عَلَی الصَّلاَةِ فِی مَوَاقِیتِہَا (نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنے کا پابند ہو) ۔ ایسے فرد کی دوستی خدا کی بندگی اور اطاعت میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اسی طرح اطاعت الٰہی میں مسلسل انہماک اور پابندی ٔ وقت کا احترام لوگوں کے ساتھ اجتماعی میل ملاپ میں انسان کی طبیعت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

2. وَ البِرُّ بِالاِخوَانِ فِی العُسرِ وَ الیُسرِ (تنگی اور فراخی دونوںحالتوں میں اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک) ۔یعنی مددا ور معاونت کے ذریعے حتیٰ المقدور اپنے بھائ کی ضروریات پوری کرے۔ امام صادق ؑکی ایک دوسری حدیث میں ہے: اِذَا کَانَ الزَّمَانُ زَمَانُ جَورٍ وَ اَہلُہُ اَہلَ غَدرٍ فَالطَّماَنِینَةُ اِلٰی کُلِّ اَحَدٍ عَجزٌ جب ایسا زمانہ ہوجس میں ظلم و جور کا دور دورہ ہو اور جب اہلِ زمانہ دھوکہ باز اور فریبی ہوں تو ایسے دور میں ہر ایک پر بھروسہ کر لینا عجز و ناتوانی (کاموجب) ہے۔ یعنی جب کبھی ایسا دور ہو کہ افرادِ معاشرہ ایک دوسرے پر ظلم و ستم کریں ایک دوسرے کی حق تلفی کریں ایک دوسرے کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان نہ نبھائں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ و فریب کے مرتکب ہوں تو ایسے دور میں کسی پر اطمینان و اعتماد نہ کرنا خود کو دست بستہ کسی کے حوالے نہ کر دینا بلکہ ہر ایک کو آزمانا تاکہ اس کی حقیقت تم پر واضح ہو جائے کہ ظالم و ستم گر ہے یا وفادار اور عادل؟ ایک حدیث میں حضرت علی ؑفرماتے ہیں: لاَ تَثِق بِالصِّدِیقِ قبَلَ الخِبرَةِ کسی دوست پر اس وقت تک بھروسہ نہ کرو جب تک اسے پرکھ نہ لو۔ اگر مخصوص حالات اور روز مرہ زندگی میں سماجی تعلقات کے دوران آپ کی کسی سے شناسائ ہو جائے پھر وہ آپ کا دوست بن جائے تو فوراً ہی اس پر اعتماد نہ کر لیجئے اپنی زندگی کے رازوں اور پوشیدہ باتوں سے اسے آگاہ نہ کردیجئے اور اسے اپنی زندگی میں شامل نہ کیجئے جب تک کہ اسے آزمانہ لیجئے اور اچھی طرح پرکھ نہ لیجئے کہ وہ ایک قابلِ اعتماد دوست کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں؟ حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں: تَجَنَّب عَدُوَّکَ وَ احذَر صَدِیقَکَ مِنَ الاَقوَامِ اِلاَّ الاَمِینَ مَن خَشِیَ اللّٰہَ اپنے دشمن سے دوررہو اور قوم وقبیلے سے تعلق رکھنے والے دوست سے محتاط رہو سوائے اس امین شخص کے جو خوفِ خدا رکھتا ہو۔ قدرتی بات ہے کہ جو شخص کھلا اور آشکارا دشمن ہے اس سے انسان کو دور رہنا چاہئے کیونکہ دشمن کی توذہنیت ہی نقصان پہنچانا ہے۔ لہٰذا اس سے فاصلہ رکھنا چاہئے تا کہ اس کی طرف سے پہنچنے والے نقصان سے محفوظ رہے لیکن وہ دوست جس کی امانت داری کو پرکھ نہیں سکے ہو اس سے محتاط رہو۔ یہاں اس نکتے پر توجہ دلانا ضروری ہے کہ احتیاط پر عمل کرنے کے معنی یہ نہیں کہ دوستی ترک کر دی جائے ۔

لہٰذا امام نے دو مختلف الفاظ تَجَنَّب اور اِحذَر یعنی دوری اختیار کرو اور احتیاط برتو کا استعمال کیا ہے ۔اور احتیاط کے معنی یہ ہیں کہ محتاط رہو اور خود کو مکمل طور پر اس کے حوالے نہ کردو تا کہ اگر بعد میں معلوم ہو کہ وہ امانت دار اور رازوں کا محافظ نہیں ہے تو اس کے ساتھ دوستی اور تعلقات پر نظر ثانی کرسکو ۔ کیونکہ ممکن ہے وہ تمہارا دشمن ہو اور اس نے تم سے اپنی دشمنی کو چھپایا ہوا ہو۔ بقول شاعر: اِحذَر عَدُوَّک َمَرَّةوَ اِحذَرصَدِیقَکَ اَلفَ مَرَّةً فَلَرُبُّ مَا انقَلَبَ الصَّدِیقُ فَکَان َ اَدرِی بِالمَضَرَّةِ یعنی اپنے دشمن سے ایک بار احتیاط کرو اور اپنے دوست سے ہزار بار۔ ممکن ہے دوست بدل جائے اس صورت میں تمہیں نقصان پہنچانے کے طریقوں سے دوسروں سے زیادہ واقف ہو گا۔ بے شک جو دوست آپ کے تمام اسرار سے واقف ہے اگر آپ کے اور اس کے درمیان کدورت پیدا ہو جائے یا کوئی اختلاف جنم لے لے تو وہ آپ کے تمام اسرار جن کے انکشاف سے آپ کونقصان پہنچے گا آپ کے دشمنوں کے سامنے کھول کر بیان کر دے گا۔جس طرح پہلے بھی ہم نے عرض کیا احتیاط برتنے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے نہ کر دیں اس بات کو ہم نے بارہا حضرت علی سے نقل کیا ہے۔ ایک مقام پر فرماتے ہیں: لَاتَثِقَنَّ بِاَخِیکَ کُلِّ الثِّقَةِ فَاِنَّ صَرعۃَ الاِستِرسَالِ لاَتُستَقَالُ اپنے بھائ پر مکمل اعتماد نہ کرو اس لئے کہ خوش فہمی کی وجہ سے پہنچنے والا نقصان ناقابلِ تلافی ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اندھے اعتماد کی ممانعت کی گئ ہے ۔آپ کے اور آپ کے دوست کے درمیان کچھ فاصلے کا ہونا ضروری ہے۔ تا کہ اگر پتا چلے کہ اس کی دوستی آپ کے ساتھ حقیقی اور مخلصانہ نہیں ہے یا اسکی دوستی دشمنی میں تبدیل ہوجائے تو آپ اس سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ اسی بارے میں امام علی نے فرمایا ہے: اُبذُل لِصَدِیقِکَ کُلَّ مَوَدَّةٍ وَ لَاتَبذُل لَہُ کُلَّ الطُّماَنِینَۃِ اپنے دوست پر اپنی پوری محبت نچھاور کر دو لیکن اس پر مکمل بھروسہ نہ کرو ۔ احتیاط کو اپنا شعار بنانے کی کوشش کرو تاکہ اگر اس کی دوستی ناقابلِ اعتماد نظر آئے تو خود کو اس سے محفوظ رکھ سکو۔ آپ ہی دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: لَاتَرغَبَنَّ فِی مَوَدَّةٍمَن لَم تَکشِفہُ جس کو پہچانا نہیں ہے اور جس کی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے اس کی محبت کی خواہش نہ کرو۔

آزمائش کے طریقے
ائمہ علیہم السلام کی بہت سی احادیث میں دوست کی آزمائش کے طریقے بیان ہوئے ہیں۔ حضرت امام علی ؑکی ایک حدیث ملاحظہ ہو:
عِندَ زَوَالِ القُدرَةِ یَتَبَیَّنُ الصَّدِیقُ مِنَ العَدُو
اقتدار کے خاتمے پر دوست اور دشمن کا پتاچلتا ہے ۔

اگر شان و شوکت قدرت و قوت کے اعتبار سے تمام معاملات اچھی طرح چل رہے ہوں اورتمہیں علمی سیاسی سماجی اور مذہبی حیثیت حاصل ہو تو اس صورت میں سبھی اپنے آپ کو تمہارا دوست بتائں گے۔لیکن اگر اقتدار کا خاتمہ ہو جائے اور منصب و مقام مال و دولت تمہارے ہاتھ سے جاتے رہیں تب تمہارے دوست اور دشمن کی شناخت ہو گی۔ جو دوست ہو گاوہ تمہارے ساتھ رہے گا خواہ دولت مندی کے بعد تم فقیر اور قلاش ہی کیوں نہ ہو جائو اور قدرت و قوت کے بعد تم عاجز و ناتواں ہی کیوں نہ ہو جائو۔

حضرت امام صادق فرماتے ہیں:
یَمتَحِنُ الصَّدِیقُ بِثَلاَثِ خِصَالٍ فَاِن کَانَ مُوَاتِیّاً فِیہَا فَہُوَ الصَّدِیقُُ المُصَافِی وَ اِلاّٰ کَانَ صَدِیقُ رَخَاءٍ لاَصَدِیقَ شِدَّةٍ
تین چیزوں سے دوست کی آزمائش کی جاتی ہے۔ اگر وہ آزمائش پر پورا اترے تب تو مخلص اور سچا دوست ہے وگرنہ اچھے وقتوں کا دوست ہو گابرے اور مشکل وقت کا رفیق نہیں۔ (وہ تین چیزیں یہ ہیں)

1. تَبتَغِی مِنہُ مَالاً (اس سے مال طلب کرو) ۔اگر وہ مثبت جواب دے تو تمہارا دوست ہے اور اگر مالی یا اسی نوعیت کی کوئی دوسری قربانی دینے میں ہچکچاہٹ کا اظہارکرے تو اس سے امیدبے کار ہے۔

2. اَو تَامَنہُ عَلٰی مَالٍ (یااسے مال پر امین بنائو) ۔ اپنا کچھ مال اسکے سپرد کرو اور دیکھو کہ اس کی حفاظت کرتا ہے یا تمہارے ساتھ خیانت کرتا ہے۔

3. او تشارِکُہُ فِی مَکرُوہٍ (یا اپنی مشکلات میں اسے شریک کرو) ۔مصائب و مشکلات میں اسے شریک کرو تاکہ پتا چلے کہ ابتلا بلا اور مصیبت کے وقت کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔ اسی طرح دوست کی پرکھ او پہچان کا ایک راستہ یہ ہے کہ یہ دیکھو کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ حضرت سلیمان سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: لاٰتَحکَمُوا عَلیٰ رَجُلٍ فی شَیئٍ حَتّٰی تَنظُرُوا مَن لِصَاحِبُ فَاِنَّمَا یُعرَفُ الرَّجُلُ بِاَشکَالۃٍِ وَاَقرٰانِہِ وَیُنسَبُ اِلٰی اَصحٰابِہِ وَ اَخوٰانِہِ کسی کے بارے میں بھی اس وقت تک کوئی فیصلہ نہ کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا میل جول کن لوگوں کے ساتھ ہے۔ کیونکہ انسان اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ذریعے ہی پہچانا جاتا ہے ۔ اور اسے اس کے ساتھیوں اور دوستوں کی طرف نسبت دی جاتی ہے۔
حضرت علی ؑنے فرمایا: لاَیُعرَفُ النَّاسُ اِلاّٰ بِالاِختِبَارِ فَاختَبِر اَہلَکَ وَ وَلَدَکَ فِی غَیبَتِکَ لوگ آزمائے بغیر پہچانے نہیں جاتے ۔
لہٰذا اپنے اہلِ خانہ اور آل اولاد کو اپنی غیر موجودگی میں آزماؤ۔ یعنی دیکھو کہ یہ لوگ تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے متعلق کیا باتیں کرتے ہیں تمہارا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے ہیں یا برے لفظوں میں؟ وَ صَدیِقَکَ فِی مُصِیبَتِکَ اپنے دوست کو مصیبت کے وقت (آزمائو) ۔ یعنی دوست کو اس وقت آزمائو جب تم پر تمہارے اہل و عیال پر اور تمہارے مال و دولت پر کوئی مصیبت نازل ہو اور دیکھو کہ اس مصیبت کے وقت جب کہ تمہارے قدم لرز رہے ہیں تمہارا دوست کہاں کھڑا ہے؟ وَ ذَا القَرَابۃِ عِندَ فَاقَتِکَ رشتے داروں کو اپنی ناداری میں (آزمائو) ۔ اعزہ و اقربا کو فقر و تنگ دستی کے دنوں میں آزمائو۔ اگر تمہاری مدد اور معاونت کریں تو سچے دوست اور مخلص عزیز ہیں وگرنہ نہیں۔ وَ ذَا التَّوَدُّدِ وَ المَلَقِ عِندَ عُطلَتِکَ اور اپنی محبت کا دم بھرنے والوں اور خوشامد کرنے والوں کو اپنی بیکاری کی حالت میں (آزمائو) ۔ جو شخص اپنی شیریں بیانی کے ذریعے تمہاری خوشامد کرتا ہو اسے بے کاری اور پریشانی کے ایام میں آزماؤ۔ لِتَعلَمَ بِذاَلِکَ مَنزِلَتَکَ عِندَہُم اس طرح تمہیں ان کے نزدیک اپنی قدر و منزلت کا علم ہو جائے گا۔