کربلا شناسی

اسلام زندہ ھوتا ھے ھر کربلا کے بعد
اسلام زندہ ھوتا ھے ھر کربلا کے بعد

أحیاء اسلام کی ضرورت
احیائے تفکر اسلامی کی بحث کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ تب ہی ہو تا ہے جب ہم اپنا ، اپنے معاشرے اور اپنی سوسائٹی کے تشخص اور پہچان کو تفکر اسلامی کے مدیون جانیں ۔اس حقیقت سے انکار کی قطعی گنجائش نہیں کہ دین اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو نہ صرف تھیوری اور نظریہ سازی کرتا ہے بلکہ معاشرے اور سوسائٹی میں عملی جامہ پہننے اور میدان عمل میں سرگرم رہنے پر بھی زور دیتا ہے ۔ کیونکہ اسلام انسان کے انفرادی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ا س کے اجتماعی ، سیاسی، ثقافتی پہلوؤں وغیرہ میں عمل دخل رکھتاہے۔ ایک سچا مسلمان ہونے کے واسطے اپنے اوپر صرف اسلام کا لیبل چڑھانا کافی نہیں ہے بلکہ ان سارے میادین میں اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، گویا اسلام ان سارے میادین میں عملی صورت پا کے زندہ رہتا ہے و رنہ بنا عمل کے مسلمانیت کی چادر اوڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔عملی میادین میں اسلامی مفاہیم کو زندہ نہ کرنے کی صورت میں اسلام کی حیثیت ایک شناختی کارڈ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگی ۔
اس کے علاوہ زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور مفاہیم سطحی طور پرظاہری شکل میں باقی تو رہیں گے لیکن ا س کے اصلی اہداف اور حقیقی اغراض یا تو نابود ہوکے رہ جائیں گے یا پھر آہستہ آہستہ پھیکے پڑجائیں گے جب ایسا وقت آتا ہے تو اسلام کے اندر بدعت اور انحرافات، سنت حقیقی اور تفکرناب کی جگہ لے کے دین کومکمل طور پر مسخ کردیتے ہیں اور اسے ایک بے جان لاش بنا کے چھوڑ دیتے ہیں۔

جب مسلمان معاشرہ اوراسلامک سوسائٹی ایسی حالت سے دوچار ہوجائے اور اسلام اور مسلمان کی حقیقی پہچان اورتشخص ختم ہوجائے اور اس پر حاکم ناب اسلامی تفکراپنی اصلی نہج سے ہٹ کے مردہ حالت پیدا کرے توایسے میں اسلام کے اصلی تفکر کوزندہ اور احیاء کرنے والے محیی کی ضرورت پڑتی ہے جو اسلام کو حیات بخشنے کا فریضہ انجام دے اورپھرسے اسلام کے حقیقی اور خالص تفکر کے جوہر کوتمام میادین میں نمایاں کرکے بدعت ، انحرافات ، خرافات اور بدعت گزار افراد کو پہچنوائے اور اسلام ناب اور اس کی حقیقی روح کو دوبارہ زندہ کرکے اسے ہر طرح کی گمراہی اور کجروی ، بدعت اور تحریف سے نجات دلائے ۔

کربلا نہضتِ احیاء اسلام ناب
کربلا کی نہضت ہوبہو اسی فریضہ کو ادا کرتی ہے یہ اسلام کی واحد اور پہلی نہضت ہے جو ناب اسلامی تفکرکے احیاء کے واسطے وجود میں آئی ۔ تاریخ پڑھ کے دیکھیں تو مورخین اوردانشمند حضرات امام حسین کے قیام اور نہضت کے مختلف عوامل اور اسباب کی جانب اشارہ کرتے ہیں بعض آپ کے قیام کی وجہ کو یزید کی بیعت سے انکار بتلاتے ہیں اور بعض امر بہ معروف اور نہی از منکراجرا کرنے کا منصوبہ بیان کرتے ہیں ، بعض کوفیوں کی دعوت اور اسلامی حکومت کی تشکیل، اوربعض اجتماعی ذمہ داریوں اور امت اسلامی کی حمایت اور حفاظت ، بنی امیہ کے انحرافات اور بدعات کی مخالفت ، اسلام ناب محمدی کی محافظت ، بنی امیہ کی جانب سے شیعوں پر بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کی روک تھام ، امت اسلامی کی احیاء اور بدعت کی نابودی ، اہلبیت کے نام مقدس کو محو ہونے سے بچانا ، بیت المسلمین کو تاراج ہونے سے روکنا، دینی، شرعی وظیفہ اور ذمہ داری کو انجام دینا، اتمام حجت اور دین کی تبلیغ وغیرہ وغیرہ ایسے بہت سارے دلائل ہیں جنہیں اس تحریک کے علل وجودی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے لیکن اگرایک عمیق زاویے سے ان سارے عوامل اور دلائل پر غور کیا جائے توانہیں احیائے تفکر اسلامی جیسے عنوان میں سمیٹ سکتے ہیں اور یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ یہ سارے علل و اسباب اسی احیائے اسلام کی ہی عکاسی کرتے ہیں۔

مقصد قیام امام حسین
امام حسین ـ نے مدینہ سے حرکت کرتے ہی اپنے قیام اور تحریک کے مقصد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نہ مقام اور جاہ طلبی کے لئے قیام کررہا ہوں اور نہ ہی ظلم و فساد برپا کرنے لئے ، میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے واسطے قیام کر رہا ہوں میں چاہتا ہوں کہ امر بمعروف اور نہی از منکر کو احیاء کروں اور اپنے نانا رسول خدا(ص) اور بابا علی بن ابیطالب کی سیرت کو زندہ کروں”(مجلہ حکومت اسلامی شمارہ ٢٦)

آپ اپنی تحریک کے اس منشور میں صاف اور واضح الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں یہ اصلاح آج کے علم سیاست اور سماجیات میں استعمال ہونی والی اصلاح جو انگریزی میں (reform) کے نام سے استعمال ہوتی ہے، نہیں ہے جس سے عام طور پر سماجی اور سیاسی امور میں تدریجی تبدیلی لانا مراد ہوتی ہے اور ارباب سیاست اسے لفظ انقلاب کے مقابلے میں استعمال کرتے ہیں، بلکہ بقول استاد شہید مرتضی مطہری اصلاح سے اسلامی اور ثمر بخش بنیادی تبدیلیاں مراد ہیں۔( نہضتہای اسلامی صد سالہ اخیر، ص١٠٦)

اسی طرح مرحوم ڈاکٹر شریعتی اسے”فکر اور شہود میں عمیق اور بنیادی انقلاب، احساسات اور عواطف میں انقلاب ، آئیڈیالوجک ، ثقافتی اور اصلاحی انقلاب ” کا نام دیتے ہیں۔ ( ما واقبال ، ص٤١ )

امر بالمعروف أحیاء اسلام کا ذریعہ
اس امت میں ایک ایسے انقلاب اور اصلاح کی ضرورت ہے جو سیرت محمدیہ اور علوی تفکر پر مبنی ہو اور اس کے لئے مجھے سب سے پہلے امر بہ معروف اور نہی از منکر کو اجرا اور احیاء کرنا ہوگا آپ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو اس لئے سرنامہ تحریک قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کا دائرہ اسلامی تفکر کے تمام جوانب کو شامل ہوجاتا ہے جس کی وضاحت میں آپ منیٰ کے خطبہ میں یوں فرماتے ہیں:

” اگر واجبات ادا اور احیاء ہوجائیں دوسرے فرائض بھی چاہے آسان ہوں یا مشکل ، خود ہی اقامہ ہوجائیں گے کیونکہ امر بہ معرو ف اور نہی از منکر اسلام کی جانب دعوت ہے جو رد مظالم ، ظالم کی مخالفت ، عمومی آمدنی اور مال غنیمت کی صحیح تقسیم ، مقامات سے زکات اور صدقات کی جمع آوری اور پھرصحیح مصرف کرنے کے مواضع ۔۔۔کو شامل ہوجاتا ہے” ( تحف العقول، ١٦٧ )

امام حسین ایک اور قول میں واضح طور پر اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ ہماری تحریک، اسلام اور اسلامی تفکرکی حقیقت کو حیات بخشنے کے واسطے ہی عمل میں آرہی ہے۔

”اے خدا! تو جانتا ہے جو ہم اظہا ر کررہے ہیں وہ نہ ہی سلطنت کے لئے ہے اورنہ ہی دنیاطلبی کے واسطے، بلکہ ہم چاہتے ہیں تیرا دین استوار اور قائم ہوجائے ، تیری سرزمین کی اصلاح ہوجائے تیرے مظلوم بندے امنیت حاصل کریں ، تیرے فرائض ، سنت اور احکام کی پیروی ہوجائے”( الکامل التواریخ ،ج٤و ١٧ بہ نقل از احیاء گری و اصلاح طلبی در نھضت حسینی ،ص ٤٩ )

آپ بصرہ کے اشراف کو لکھے گئے ایک خط میں کتاب خدا ، اور رسول ۖکی سنت پائمال ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے زندہ کرنے پر تاکید کرتے ہیں :
” میں تمہیں کتاب خدا اور پیغمبر کی سنت کی پیروی کرنے کی دعوت دیتا ہوں کیونکہ پیغمبر کی سنت مردہ ہو چکی ہے اور بدعتیں پیدا ہوئی ہیں پس اگر اس پیغام پر عمل کرو گے تومیں راہ سعادت کی جانب تمہاری راہنمائی کروں گا”
( تاریخ طبری؛ ج٥ ص ٣٥٧، بہ نقل از حکومت اسلامی ،شمارہ٢٥ ، ص٤١٢)
اسی طرح اہل کوفہ کی دعوت قبول کرنے کی سب سے اہم وجہ بھی اسلام کا احیاء ہی بتلاتے ہیں:
” ان اهل الکوفة کتبوا الیّ یسألوننی ان اقدم علیهم
لما رجعوا من احیاء معالم الحق و اماتة البدع”
(احمد بن داؤد دینوری ، اخبارالطوال ، دار احیاء الکتاب العربیہ، ج٥)
” اہل کوفہ نے مجھے خط لکھے کہ میں معارف حق و حقیقت کو احیاء اور بدعتوں کا قلع قمع کرنے کے واسطے اقدام کروں”
پس یہ سب اسی بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیام حسینی کا ایک اہم مقصد احیائے اسلام ہی تھا کیونکہ آپ دیکھ رہے تھے کہ اسلامی معاشرے میں ہر زاویے سے انسانی اقدار منحرف ہوچکی ہیں اور دور جاہلیت کی قدروں کو زندہ کیا جارہا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ رسالت مآب ۖ کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد ہی مختلف وجوہات کی بنا پر اسلامی معاشر ے میں اخلاقی اقدار گرنے لگیں دینی عقائد کی تحریف، جاہلیت کے اخلاق کا احیاء ، آنحضورۖ کی تعلیمات کی فراموشی کا سلسلہ آغاز ہو گیا، اسلامی تعلیمات پر مبنی اقدار پرخاندانی، نسلی اور قومی تعصبات کاغلبہ پانا، معنویات کا مادیات اور ثروت اندوزی میں تبدیل ہونا ، اسلامی زہد کی جگہ تجمل پرستی اورعیش پرستی کا رواج پانا، طالبانِ حق کو طرح طرح سے ستا کر عوامی سطح پر رعب و وحشت ایجاد کرکے صدائے حق کا گھلا گھونٹنا ، ارباب سیاست ، ناقص قیادت اور رہبریت کی بے عدالتی و نا انصافی اورفسق و فساد وغیرہ جیسے دیگر متعدد عوامل اسلامی فکرکو دیمک کی طرح چاٹ کے اندر ہی اندر سے کھوکھلا بنا رہے تھے۔

بنو امیہ اور أحیاء جاہلیت
دور یزید میں اسلام کے حقیقی تفکر کو جاہلیت کے ذریعہ سے ختم کرنے کا بنو امیہ لانگ ٹرم پلان اپنے آخری مراحل کوطے کر رہا تھا جاہلیت کے افکار، مفاہیم اور اقدار کو اسلامی فکر کی شکل دے کے ملت اسلامیہ میں عام کیا جا رہا تھا، اسلام کا فقط نام اور لیبل تھا لیکن اس کی حقیقی روح مردہ ہوکے جاہلیت کی روح میں تبدیل ہو چکی تھی بظاہرمسلمان توتھے لیکن ان کی فکر غیر مسلمانوں سے بھی بدتر ہوچکی تھی با لکل عصر حاضر کے مسلمان معاشروں اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کی طرح جو اسلام کا سہارا لے کے اسلامی آئیڈیالوجی اور اقدار الہی کو ماڈرن جاہلیت میں تبدیل کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور مسلمان بس نام کا مسلمان ہے، اسلام کو فقط شناختی کارڈ کی طرح استعمال کرتا ہے۔ جی ہاں بنی امیہ کی مکاری اور فریب کے سایہ میں تمام اسلامی اقدار مسخ ہوچکی تھیں جاہلیت کودوبارہ زندہ کرکے اسلام کی تشییع جنازہ کی آخری رسومات انجام دی جارہی تھی اس بات کا اندازہ امام کے اس کلام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
” فان السنة قد امیتت و ان البدعة قد احییت”
” سنت پائمال ہوچکی ہے اور بدعتیں زندہ ہوچکی ہیں”
امام حسین ملت اسلامیہ میں اسی جاہلیت کی جگہ اسلام کا حقیقی اور حیات بخش نظام احیاء کرنے کے لئے اپنی نہضت کا آغاز کرتے ہیں آ ئیے پہلے مختصر طور پر دور جاہلیت کے مردہ تفکر کے احیاء کے لئے اہم ترین انحرافات ، تحریفات اور بدعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کے تناظر میں احیائے اسلام میں کربلا کے عظیم اور بے مثال کردار کو صحیح معنوں میں سمجھا جا سکے۔

١۔ عقائد میں تحریف
اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح اور خالص اسلامی عقیدہ اور ایمان کی بنیا د پر ظلم و جور کی بقاء اور دوام ناممکن ہے اس بناء پرہر دور میں ظالم حکمران ، استعماری اور سامراجی طاقتیں اپنی سلطنت اور حکومت کی بقاء کے لئے لوگوں کے دینی عقائد منحرف کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں بنی امیہ نے بھی اپنے ظلم و جور اور استبدادی نظام کی ترویج کے لئے لوگوں کے عقائد کو ہی نشانہ بنایا لہٰذا ہر طرح سے جبر اور مرجئیت کی ترویج و تبلیغ میں اکثریہی کہتے تھے :”کہ خدا کی جانب سے بنی امیہ کی حکومت، اہل زمین کے واسطے اللہ کا سایہ ہے اور وہ لوگوں کے حاکم ہیں ” مدینہ کے گورنرکو لکھے گئے ایک خط میں یزید لکھتاہے: ” خدا نے معاویہ کو خلافت کے لئے چن اہے ” اسی طرح معاویہ بھی خود اہل کوفہ سے کہتاہے : ”میں نے صرف حکومت حاصل کرنے کے لئے تم لوگوں سے جنگ کی حالانکہ تم اس پرراضی نہ تھے لیکن تم لوگوں پر یہ حکومت مجھے خدا نے عطا کی ہے”۔

بنی امیہ کی حکومت کی بنیاد جبر اور مرجئیت پر قائم تھی حکومت کی جانب سے یہی کوشش رہی کہ جبرکا تفکر عوام کے اذہان پر پوری طرح مسلط رہے عوامی سطح پر یہ عقیدہ کچھ اس قدر راسخ ہوا تھا کہ امام حسین کے قتل کے عوضِ شہری معاوضے میں لینے پراعتراض کے جواب میں عمر بن سعد کہتاہے: ” یہ مسائل خدا کی جانب سے قطعی ہوچکے ہیں ، کربلا کے وقوع سے پہلے میں نے اپنے چچازاد بھائی سے ان واقعات پر معذرت چاہی اور بیعت کے لئے کبھی بھی حاضر نہ ہوا ، ” ( بحوث فی الملل والنحل ، ج٣ ص ٢٤١ )

مرجئیت کا دوسراعقیدہ ایمان اور عمل کے درمیان فرق تھا وہ ایمان الگ اور عمل کو ایک جدا چیزمانتے تھے، حقیقت ایمان میں عمل کی کوئی شرط نہیں تھی یہ تاریخ کی ایک مسلّم حقیقت ہے کہ بنی امیہ بہت ہی فاسق اور فاسد افراد تھے مر جئیت کا عقیدہ ان کے فسق اور فجور کی توجیہ کے لئے بہترین ذریعہ تھا۔

٢۔ خاندانی تعصّب
قریش نے شروع سے ہی دوسری اقوام اور قبائل پر فضیلت جتلانے کی غرض سے نبی اکرم (ص) کی جانب سے جھوٹی اور جعلی حدیثیں نقل کیں۔ مثال کے طور پر: ” دیکھو قریش کو ہر چیز میں مقدم رکھو اور ان پر برتری مت ڈھونڈو” ان جعلی اور من گھڑت روایات کے ذریعے اسلام کے حقیقی اورخالص، آزادی، مساوات اور اخوت کے نظام کہ جس میں فقط تقوی ٰاور پرہیز گاری ہی برتری اور فضیلت کا معیار تھی، کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔

٣۔ بیت المال کی غیر منصفانہ تقسیم
اس میں کوئی شک نہیں کہ تیسری دہائی کے بعد سے ہی بیت المال کی غیر منصفانہ تقسیم کا کام بڑے زور و شور سے ہونے لگا اسلامی مملکت میں نبی اکرم ۖ کی طرف سے ملک بدر اوردھتکارے گئے افراد کو نہ فقط دوبارہ مدینہ واپس بلایا گیا بلکہ حکومت کے کلیدی عہدے اور حساس منصب ان کے حوالے کر دئیے گئے، بہت سا مال غنیمت اور بیت المال ان کوبخش دینا اس بات کے واضح ثبوت ہیں اس موضوع پر تفصیل سے قلم فرسائی کی گنجائش نہیں ہے تاریخ اسلام میں اس کے بے شمار شواہد پائے جاتے ہیں۔

٤۔ اقرباء پروری
زمانے کی گردش کے ساتھ ساتھ حکومت اسلامی کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی آنے لگی تقریباً بنی امیہ کے دور حکومت کے کلیدی عہدوں پر بنی امیہ ہی کے افراد فائز تھے جس اسلام نے عالمی تفکر کی صورت میں حکومت کی بنیاد رکھی تھی ہر کام اور عہدے کے لئے تقویٰ اور عمل صالح کی شرط رکھی تھی اسی انسان ساز تفکر کا گلا گھونٹ کر جاہلیت کے انسان سوز اورپلید تفکر کی ترویج کی جانے لگی۔

٥۔ حق کشی
حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف بہت تیز مہم چلائی گئی ابوذرغفاری، عمار یاسر اور عبد اللہ بن مسعود جیسے برجستہ صحابہ کو سخت سزائیں دی گئیں معاویہ کے دور میں قتل و غارت عام ہوگئی تھی اور تفکر علوی یعنی اسلام کے تفکر ناب کے حامیوں کو دیکھتے ہی قتل کرکے مال وجائیداد کو ضبط کر لیا جاتا (cach and kill)۔ دیگر تاریخی شواہد کے علاوہ امام حسین کی جانب سے معاویہ کو لکھے گئے ایک خط میں اس بات کی جانب اشارہ موجودہے : ” کیا تو نے حجر بن عدی اور اس کے دوستوں ، عمر بن حمق ۔۔۔ کو قتل نہیں کیا ، کوفہ اوربصرہ پر جلّاد اور ستمگر ( ابن زیاد) افراد کو مسلط کیا ہے جومسلمانوں کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالتا ہے ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں ڈال کے پھانسی پر لٹکاتا ہے تو نے اسے حکم دیا کہ جو بھی علی کا ماننے اور چاہنے والا ملے اسے قتل کرو ، اور اس نے علی کے چاہنے والوں کو قتل اور مثلہ کیا ”
(الامامة و السیاسة ج١، ص ١٤٦)

٦۔ عنوان خلیفہ کا تقدّس پان
خلفائے راشدین میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو خلیفة اللہ نہیں کہلاتے تھے ،خلیفہ دوم کے دور میں کسی نے آپ کو ”خلیفة اللہ ” کے عنوان سے پکارا تو انھوں نے اس پراعتراض کیا ( تاریخ طبری ج٤، ص ٢٠٩) لیکن معاویہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے اپنے آپ کو خلیفة اللہ کہا اور اس عنوان کو اتنا مقدس بنایا گیا کہ آہستہ آہستہ خلیفة اللہ کو رسول اللہۖ سے بھی برتر سمجھا گیا ، خالد بن عبداللہ قسری بنی امیہ کے عہدہ داروں کو اولو العزم پیغمبروں سے بھی افضل جانتا ہے وہ کہتا ہے: ”حجاج اپنے ایک خطبہ میں لوگوں سے کہتا ہے خلافت کی وجہ سے زمین اور آسمان اپنی جگہ پر قائم ہے خدا کے نزدیک خلیفہ ، فرشتوں ، پیغمبروں اور مرسلوں سے برتر ہے۔ (زندگانی امام حسین ، شھیدی ٩٩)لہٰذا اس مقدس عنوان کے لحاظ سے خلیفہ کی اطاعت ہر حال میں واجب قرار پائی اور اس کی مخالفت ،بغاوت اور اسلام سے خروج کے برابر تصور ہونے لگی اسی لئے تاریخ میں ملاحظہ کیا جاتا ہے کہ بعض درباری اور کج فہم علماء ،امام کے قیام پر اعتراض کرتے ہیں اور خلیفہ وقت کے خلاف اٹھائے جانے والے کسی بھی طرح کے اقدام کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی بصیرت پر اسی عنوان ”تقدس خلیفہ” کا اندھا حجاب پڑچکا تھا جس کی وجہ سے وہ حقیقی تفکر کی پہچان نہیں کر پاتے تھے چہ جائیکہ اس کے اصلی وارثوں کو پہچانتے۔۔۔؟!

احیائے اسلام کے لئے امام کا طریقہ کار
تحریک کربلا کے قائد اور رہبر، ناب اسلام کے حقیقی وارث امام حسین اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے سنت اسلامی ، تفکر قرآنی اور اسلام کی حقیقی آئیڈیالوجی کو احیا ء کرنے کے لئے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اس مقصد کے لئے امام ـ نے نہ ہی کوئی لشکراور سپاہ تشکیل دی ، نہ ہی جنگی ساز و سامان کا سہارا لیا اورنہ ہی انڈرگرأونڈ اور روپوش ہوئے آپ نے برملا طور پر اپنی تقاریر ، ملاقاتوں ، خطوط اور سفیروں کے اعزام کے ذریعہ سے اسلامی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے بے خبر اور جاہل عوام کی مردہ فکر میں نئی روح اورتازہ جان ڈالنا چاہی، انہیں بدعت اور تحریفات کی نابود ی ، سنت اسلامی اور تفکر ناب کی حیات نو کے لئے آمادہ کرنا شروع کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین نے تبلیغ اورپیغامات سے ہی کام لیا آپ نے اپنے بھائی امام حسن کی شہادت سے لے کر معاویہ کی موت تک اور اسی طرح معاویہ کی موت سے لے کر عصر عاشورا تک صرف گفتگو اور تبلیغ کا ہی سہارا لیا اس سلسلے میں تاریخ کے صفحات نے آپ کی بہت ساری تقاریر ، خطوط ، جلسات ، ملاقاتوں اور بیانات کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے ان سب میں آپ تفکر اسلامی کے بنیادی محور اور ارکان کی جانب ہی اشارہ فرماتے ہیں ۔

١۔ اسلام کے حقیقی وارثوں کا تعارف کرانا
یہ تاریخ اسلام کی ایک تلخ اور ناقابل انکا رحقیقت ہے کہ حکومت کی زیادتیوں کی بنا پرنقل و کتابت حدیث کی ممانعت ہوچکی تھی جس کی وجہ سے لوگ اچھی طرح سے پیغمبر اسلام ۖ کے حقیقی اہلبیت سے آشنا اور واقف نہیں تھے معاویہ کے دورسے ہی امام کی تمام کوشش یہی رہی کہ اسلام کے صحیح ترجمان اور رہبروں یعنی اہلبیت رسول کا حقیقی تعارف کرایا جائے تاکہ لوگ اسلام کے اصلی اور حیات بخش تفکر کو اس کے حقیقی وارثوں سے ہی اخذ کریں اور اپنے آپ اور اسلامی معاشرے کو زندہ کریں آپ ایک مجلس میں اہلبیت رسول کے فضائل بیان کرتے ہوئے معاویہ سے مخاطب ہو کرفرماتے ہیں :

” ہم خدا کی حزب غالب ، پیغمبر کے قریبی رشتہ دار، پاکیزہ اہلبیت اور رسول کی چھوڑی ہوئی گرانبہا میراث اور قرآن کے ہم پلہ ہیں۔۔۔ہم تفسیر قرآن کے محور ہیں۔۔۔ ہم قران کے حقائق کے تابع ہیں لہٰذاہماری اطاعت کرو کیونکہ ہماری اطاعت واجب ہے خدا اور رسول کی اطاعت کے برابر ہے”
سرزمین منی میں دئیے گئے خطبہ میں اپنا اور اپنے اہلبیت کا تعارف کراتے ہوئے لوگوں سے اس بات کی تصدیق لیتے ہیں۔ ( الامامة والساسة ج١ ص ١٤٦)
آپ نہضت کربلا میں طے ہونے والی راہوں میں قدم قدم پر ایسے ہی خطبے دیتے رہے جس کا مقصد وارثان رسول اورناب اسلامی فکر کے وارثوں کا تعارف تھا ۔

حضرت امام سجاد کے بیدار گر خطبے
اسی طرح امام سجاد بھی اسیری کی حالت میں اہل کوفہ کی سرز نش کرتے ہوئے اہلبیت رسول ۖکا تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں: ”میں حسین بن علی کا فرزند ہوں ہماری حرمت پائمال کی گئی ہے، مال و جائیداد لوٹا گیا ، خاندان کو اسیر کیا گیا۔۔۔ تم لوگ کل کس منہ سے پیغمبرۖ سے ملو گے جب وہ تم سے پوچھیں گے تم لوگوں نے میرے جگر کے ٹکڑوں کو قتل کر ڈالا۔۔۔”

اسی طرح ابن زیاد کی جبریت کے مردہ تفکر کی مخالفت کرتے ہوئے موت و حیات کو اللہ کی مشیت بتلاتے ہوئے گناہکاروں اور ظالموں سے بدلہ لینے کوایک حتمی امر قرار دیا، بازار شام میں ایک شامی مرد کے سوال کے جواب میں قرآن سے مودت ، ذی القربی اور تطہیر کی آیات لا کر اس کے مردہ ذہن کو جھنجھوڑتے ہیں۔ ( مقتل الخوارزمی ج٢ ص٦١)

آپ یزید کے دربار میں بے مثال خطبہ دے کر اپنے خاندان کی برتری اور افضلیت پر دلیل لاکرسامعین اور دیکھنے والوں کو اسلام کے حقیقی وارثوں سے آشنا کراتے ہیں۔

حضرت زینب کے طاغوت شکن خطبے
اسی طرح کربلا کے اسیروں کی قافلہ سالار حضرت زینب بھی بھرپور طریقے سے تحریک احیائے اسلام میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہیں آپ نے عاشورا کے دوسرے دن کربلا کے میدان سے ہی اس کام کو شروع کیا، جب گیارہو یں محرم کی صبح کو اسیر وں کا قا فلہ کو فہ کے لئے روانہ کیا گیا اور قتلگا ہ کی طرف سے لے جا یا گیا حضرت زینب نے انپے بھائی کے بغیر سرکے بدن کو دیکھ کے مر ثیہ پڑھنا شروع کیا جس میں آپ نالہ و فغان کی صورت میں امام حسین کی شخصیت کو بیان کرکے اسلام کے وارثان حقیقی کا تعارف کرارہی ہیں۔ ”میری جان اس پر قربان، جو خدا کے راستے میں پیاسا شہید ہوا جسں کا نانا محمد مصطفے ۖور باپ علی مرتضی ہے جو خدیجہ کی نسل سے ہے اورفا طمہ کا جگر گو شہ ہے” اور بازار کو فہ میں کہتی ہیں:

”کیا تم لو گ جا نتے ہو اپنے ہا تھوں کو کس کے خون سے رنگین کیا ہے؟ ّ!کیا تم جا نتے ہو کہ کن خواتین اور بچوں کو اسیر کر کے کو چہ وبازار میں لائے ہو ؟! تم جا نتے ہو کہ رسول کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہیں ؟!”

مردہ تفکر کے حامی لوگوں سے خطاب کر کے کہتی ہیں” تمام تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے ہمیں پیغمبر محمد ۖ کی وجہ سے عزت وکرا مت عطا کی اورہمیں ساری آلو دگی اور نجاستوں سے پاک کیا”
تم نے ”محمد ۖکی ذریت اور نسل کا خون بہایا”
اسی طرح دربار یزید میں حسین کے سر اطہرسے یزید کی بے احترامی اورباطل کامیابی پہ مغروراورمسرور ہو کے اپنے خاند ان پہ فخرو مبا ہات اوراسیروں کو ذلیل کر نے کی ناکام کوشش اور ذلیل حرکات کے جواب میں خا ندان نبو ت سے لو گو ں کو آشنا کراتی ہیں۔
”کہ دیکھو جس کا تم کلمہ پڑ ھتے ہو یہ سراسی کے نو اسے کا ہے ، یہ سر فاطمہ اور علی کے لال کا ہے اور یہ اسیر محمد ۖ کی نواسیاں اورخاندان نبوت کی بیٹیاں ہیں جنہیں یزید نے بے پردہ مجلس میں کھڑا کیا ہے”
اور اسی طرح یز ید سے کہتی ہیں کہ
” تم اپنے آپ کو حا کم کہتے ہو کیا یہی عدالت ہے کہ تمہارے خاندان کی عورتیں پردہ میں رہیں اور جن کے خاندان سے پردہ کا حکم رائج ہوا وہ بے پردہ ہو ں …” ۔

مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت زنیب نے یز ید کو اسی کی مجلس میں رسوا کیا اور مجلس کا سارا کنٹرول اپنے ہا تھ میں لیا، حضرت زینب یزید سے کہتی ہیں کہ تم کچھ بھی کرسکتے ہولیکن وحی اور اسلام کو نہیں مٹا سکتے یہ سب اس بات کی نشاندہی ہے کہ تمہیں خلیفہ رسول تو درکنار مسلمان بھی نہیں کہا جاسکتا، اس طرح سے محفل میں بیٹھے ہوئے سارے افراد اس حقیقت سے باخبر ہوئے کہ یہ دیلم کے اسیر نہیں بلکہ اسلام کے حقیقی وارث ہیں اور جس تفکر کو درباریزید ترویج کر رہا ہے وہ غیراسلامی تفکرہے اسلام کی حقیقی شناخت اور پہچان تو ان اسیروں اور قیدیوں کے پا س ہے ۔

٢۔ بنی امیہ کا تعارف
امام حسین نے اپنی سیاسی بصیرت کے اعتبار سے اسلام کی آڑ میں ظلم و ستم اور بربریت کی ترویج کرنے والے گروہ کا تعارف بھی کرایا اوران کے چہرے سے نقاب ہٹا کے ان کا منحوس اور فاسق روپ لوگوں کو دکھایا، آپ منیٰ کے میدان میں بنی امیہ کے حاکموں کے بارے میں فرماتے ہیں:

” تم لوگوں ( علماء ) نے اپنی جگہ ظالموں کو دے دی اور حکومت کے امور ان کے حوالے کردئیے تاکہ شبہات ایجاد کریں اور اپنی ہوس کے مطابق آگے بڑھیں ۔۔۔ تاکہ لوگوں کو اپنا غلام بنائیں اور بعض دوسروں کو ایک روٹی کے نوالے کے لئے تڑپا کر اور کمزور بنا کر حکومت کواپنے انداز سے تہہ وبالا کریں۔۔۔ ( تحف العقول، ٢٤٢ )

امام اس زمانے کے مشہور شاعر فرزدق کی زبان سے حکام زمان کی خصوصیات کے بارے میں فرماتے ہیں:
”یہ ایسی قوم ہے جنہوں نے شیطان کی اطاعت مول لی ہے اور خداوند رحیم کی اطاعت کو ترک کیا ہے ، زمین پرکھلم کھلا فساد کیا اور خدا کے حدود اور قوانین کو معطل کردیا ، یہ شراب پیتے ہیں اور فقراء اور مسکینوں کے مال کو اپنے خزانوں میں جمع کرتے ہیں”۔ ( موسوعة، ٣٣٦ )

امام حسین اور لوگوں کوآنحضو ر ۖ کے فر امین یاد لاتے ہوئے فرماتے ہیں:
” میں نے رسول خدا ۖ کو فرماتے سنا ہے کہ آل ابو سفیان اور آزاد شدہ غلاموں پر خلافت حرام ہے اگر ان کو میرے منبرپر دیکھا تو ان کا پیٹ پھاڑڈالنا خدا کی قسم مدینہ والوں نے ان کو میرے جد بزرگوار کے منبر پر دیکھا لیکن اپنی ذمہ داری کو انجام نہیں دیا لہٰذا خدا نے انہیں اس کے فاسد بیٹے کی حکمرانی میں مبتلا کردیا ”۔ ( موسوعة، ٣٠٥ )

یزید کی طرز حکومت اور غیر شرعی امورکی ترویج اور احکام خدا کی مخالفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”ایها الناس ان رسول اللّه قال: من رأی سلطانا جائرا مستحلّاً لِمحارم اللّه بالاثم والعدوان فلم یغیّر علیه بفعلٍ ولا قولٍ کان حقّاً علی اللّه ان یدخله مدخله آلا و انّ هؤلاء قد لزموا طاعة الشیطان و ترکوا طاعة الرحمان و اظهروا الفحشاء و عطّلوا الحدود واستأثروا بالفی و احلّوا حرام اللّه و حرّموا حلاله وا نا احقّ من غیره”( تاریخ طبری؛ ج٥ ص ٤٣٧؛ مقتل الخوارزمی ج١ ص٢٣٥ )

”اے لوگو! بیشک رسول خدا ۖ کا فرمان ہے :
”کہ جوکسی ظالم حکمران کوگناہ اور طغیان کی وجہ سے خدا کی حلا ل شدہ چیزوں کو حرام کرتے ہوئے دیکھے اوراپنے فعل اور عمل سے اس کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی نہ لائے تو خدا کو یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے اسی ظالم کے ٹھکانے میں دھکیل دے ۔ خبر دار اس قوم ( بنی امیہ ) نے شیطان کی اطاعت اپنے لئے فرض کرلی ہے اور خدائے رحمن کی اطاعت کو ترک کردیا ہے ، فحشا کی تشہیر کی ہے اور حدود الٰہی کو معطل کردیا ، خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیا میں دوسروں کی نسبت حکومت اور خلافت کے لئے زیادہ سزاوار ہوں ”۔

”انّاللّه وانّا الیه راجعون و علی الاسلام السّلام اذقد بلیت الامّة براع مثل یزید” ( مقتل الخوارزمی ص١٨٢ ،بہ نقل از مدرسہ حسینیی)
” ہم خدا کے لئے ہیں اور اسی کی طرف واپس پلٹنا ہے اور اسلام کو تو خیر آباد کہنا چاہیے جب امت یزید جیسے شخص کی حاکمیت میں مبتلا ہوجائے”۔
سرزمین کربلا پر دئیے گئے پہلے ہی خطبہ میں آپ حق اور حقیقت کی پائمالی اور باطل و گمراہ تفکر کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

” الا ترون ان الحق لایعمل به وان الباطل لایتناهی عنه …”
( تاریخ طبری ،ج٥ ص ٤٠٤، بہ نقل از مدرسہ حسینی )
” کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پہ عمل نہیں ہورہا ہے اور باطل سے دوری نہیں برتی جارہی ہے”۔
امام حسین سرزمین منیٰ میں عالم اسلام سے آئے ہوئے حاجیوں کے درمیان ایک اہم خطبے میں اسی امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”آپ لوگوں نے دیکھا اور اس بات سے بھی آگاہ ہو کہ اس طاغی ستمگر نے ہمارے اور ہمارے پیروکاروں کے ساتھ کیا کیا اس وقت میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ کہوں تو تکذیب کرنا ۔ میری باتوں کو سنو! اور میرے قول کوقلمبند کرو پھر جب اپنے اپنے شہراور دیار کی طرف واپس لوٹوگے تب جاکے حق اور حقیقت کے بارے میں ہم سے سیکھی ہوئی باتوں کو اپنے قابل اعتماد اور باوثوق افراد تک پہنچانا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہیں آئین فراموش نہ ہو جائے اور حق و حقیقت نابو د نہ ہو جائے اور باطل اپنا غلبہ جما بیٹھے ” ۔ ( الاحتجاج ج٢ ص ٢٩٦؛بہ نقل از مدرسہ حسینی ص ٢٠١ )

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
” آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ خدا کے عہد و پیمان کو توڑا جارہا ہے اسلامی قوانین پائمال کئے جا رہے ہیں لیکن تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں…”
مسلم بن عقیل، عبید اللہ ابن زیاد سے مخاطب ہوکر جاہلیت کی ترویج میں ا س کے ناپاک کردارکی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”تم لوگوں نے صرف برائیوں کو جنم دیا اور نیکیوں کو دفنا دیا ہے، احکام الٰہی اور لوگوں کی مرضی کے خلاف ان پر حکومت کی اور قیصر و کسریٰ کی مانند ان سے برتاؤ کیا” ۔
( اللھوف ص ١٢٢)

امام حسین نے بار بار اپنے خطبات میں یزید کی اصلی شخصیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کے فسق و فجورسے لوگوں کوآشنا کرایا آپ اس فاسد اور فاجر شخص کی بیعت سے انکار کرتے ہوے اپنے موقف پر ڈٹے رہے معاویہ کو بھی چند بار خطوط لکھ کے یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ یزید جیسے شرابی اور بدکردار آدمی کو جانشین بنانے سے باز رہے یہ مختصر چند نمونے تھے جن میں امام نے بنو امیہ کی جانب سے اسلام کو محو کرنے اور جاہلیت کی ترویج میں ان کے کردار کو بیان کیا ہے ۔

٣۔ امام حق اور حاکم عادل کی شناخت
ایسے حالات اور ماحول میں جب کہ عام لوگوں میں یہ تفکر رائج تھا کہ مسند خلافت پر بیٹھنے والے ہر شخص کی اطاعت واجب اور اس کی مخالفت حرام ہے وہ
ہرجہت سے مقدس اور قابل احترام ہے امام حسین شدت سے اس جاہلانہ اور غیر معقول تفکر کو رد کرتے ہیں امامت اورخلافت یا دوسرے الفاظ میں حقیقی رہبر اور حاکم عادل کا صحیح معیار پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

” لوگوں کے امام اور رہبر دو طرح کے ہیں ایک ہدایت کرنے والے امام جو ہدایت کی دعوت دیتے ہیں اور ایک گمراہ ا مام جو گمراہی کی دعوت دیتے ہیں جو اوّل الذکر امام کی اطاعت کرے وہ جنت میں جائے گا اور جو ثانی الذکر کی پیروی کرے وہ دوزخ میں جائے گا” ۔ ( موسوعة، ٣٣٧ )

حقیقی امامت کے نظریہ کو اجاگر کرنے کے لئے امام حسین ،خلیفہ یا حاکم عادل کے معیار کو یوں بیان فرماتے ہیں:
” امام فقط وہ ہے جو کتاب خدا پر عمل کرے ، عدل و انصاف کرنے والا ہو، حق کا پابند ہو اور جواپنی ذات کو حق تعالیٰ کے لئے وقف کرے ۔۔۔ کتا ب خداپر عمل کرنے والا اور حاکم عادل کبھی نا حق حکم نہیں دیتا ہے” ۔
( موسوعہ ٣١٢ ، طبری ج٤ ص، ٥٦١ )

آپ اپنے بیانات سے ملت اسلامیہ کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ خلافت اور حاکمیت اسلامی کے بارے میں بنی امیہ ک اتفکر بالکل غلط اور بے بنیاد ہے حاکمیت اسلامی کے صحیح معیار یہی ہیں جوحقیقی وارثانِ اسلام بیان کررہے ہیں چونکہ یہ معیار یزید میں نہیں پائے جاتے ہیں لہٰذا امامت اور خلافت کے لائق بھی نہیں ہے اس بنا پر لوگوں سے لی گئی اجباری بیعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ایسی صورت حال میں اس کی اطاعت حرام اور مخالفت واجب ہوجاتی ہے۔ اسی لئے امام حسین اپنے اوپرلگے تفرقہ افکنی کے اتہام کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

” جو خداوند متعال کی جانب دعوت دے اور عمل صالح بجا لائے اور اعلان کرے کہ میں مسلمان ہوں، وہ تفرقہ افکن نہیں ہے”۔ ( موسوعة ،٣٣٢)

٤۔ ظلم وجورکی حکومت کا خاتمہ
امام حسین لوگوں کورسول اللہ ۖ کا فرمان یاد دلا کر ظلم و ستم اور فسق و فجور کی حکو مت کے خلاف قیام کرنے کی دعوت دیتے ہوے فرماتے ہیں:
”ایّها النّاس انّ رسول اللّه قال: من رأی سلطاناً جائراً مستحلاً محارم اللّه بالاثم والعدوان فلم یغیّر علیه بفعلٍ ولا قولٍ کان حقّاً علی اللّه ان یدخله مدخله ألا و انّ هؤلاء قد لزموا طاعة الشیطان و ترکوا طاعة الرحمٰن و اظهروا الفحشاء و عطّلوا الحدود واستأثروا بالفی و احلّوا حرام اللّہ و حرّموا حلاله وا نا احقّ من غیره”
(تاریخ طبری؛ ج٥ ص ٤٣٧؛ مقتل الخوارزمی ج١ ص٢٣٥)
اے لوگو! بیشک رسول خدا ۖ کا فرمان ہے کہ:

” جوکسی ظالم حکمران کوگناہ اور طغیان کی وجہ سے خدا کی حلا ل شدہ چیزوں کو حرام کرتے ہوئے دیکھے اوراپنے فعل اور عمل سے ا س کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی نہ لائے تو خدا کو یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے اسی ظالم کے ٹھکانے میں دھکیل دے، خبر دار اس قوم ( بنی امیہ ) نے شیطان کی اطاعت اپنے لئے فرض کرلی ہے اور خدا ئے رحمن کی اطاعت کو ترک کردیا ہے ، فحشاء کی تشہیر کی ہے اور حدود الہی کو معطل کردیا ، خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کردیا اورمیں دوسروں کی نسبت حکومت اور خلافت کے لئے زیادہ سزاوار ہوں ”۔

”یہ ایسی قوم ہے جنہوں نے شیطان کی اطاعت مول لی ہے اور خداوند رحیم کی اطاعت کو ترک کیا ہے ، زمین پرکھلم کھلا فساد کیا اور خدا کی حدوداور قوانین کو معطل کردیا ، یہ شراب پیتے ہیں اور فقراء اور مسکینوں کے مال کو اپنے خزانوں میں جمع کرتے ہیں”۔ ( موسوعة ، ٣٣٦)

5۔ عزت اور شجاعت کی روح کو زندہ کرن
ایک اور غیر اسلامی تفکرجسے لو گوں میں عام کیا جا رہا تھا وہ یہ ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے ہر حال میں جیسے تیسے انسان کو فقط اپنی جان بچانی چاہیے، چاہے ظلم و ستم کی حکومت اور ذلت سے ہی زندگی کیوں نہ گزارنی پڑے ایسی فکر اور غیر منطقی تفکر کواسلام مردود سمجھتا ہے اسی لئے امام حسین نعرہ
( هیهات منّا الذّلة )

دے کے ذلت کی زندگی سے دوری اور عزت کی موت کا سامنا کرنا اسلام کی حقیقی روح کے طور پر پیش کیا امام فرماتے ہیں:
” میری شان ایسی نہیں ہے کہ موت سے ڈروں عزت اور حق کی راہ میں موت جاوید انہ زندگی ہے اور ذلت کی زندگی موت ہے”پس کربلا کی تحریک کا بنیادی مقصد اسلام کو زندہ کرنا اور بدعتوں کو نابود کرنا تھا ۔

” فان السّنّة قد اُمیتت و انّ البدعة قد اُحییت ”
” سنت پائمال ہوچکی ہے اور بدعتوں نے جنم لیا ہے ” ۔

قیام کربلا کے اثرات
ایک انقلاب یا تحریک کی کامیابی کا راز اس کے اثرا ت اور تسلسل سے معلوم ہوجاتا ہے تحریک کربلا نے ناب اسلامی تفکر کو اتنی جلا بخشی اور اس طرح سے مسلمانوں کے مردہ تفکر کو حیات عطا کی کہ اب ہر دور میں ظلم اور ستم ، استعمار و استکبار ، انحراف و خرافات اور ایسے ہی دیگر غیر اسلامی وغیر انسانی نظاموں سے مقابلہ کرنے کی ہمت اور شجاعت کی روح مسلمانوں کے اندر زندہ ہوگئی اس مکتب فکر کا اس قدر اثر ہوا کہ روزعاشورا سے ہی بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متأثر ہوکرحسین سے جنگ کرنے والوں کی صفوں سے ہی آپ کے قاتلین سے انتقام لینے کی صدائیں بلند ہونے لگیں دشمنوں کی صف میں موجود ایک فوجی کی شریک حیات خاتون جس کا تعلق قبیلہ بکر بن وائل سے تھا جب خیام حسینی کی جانب دشمنوں کی یلغار دیکھتی ہے تو ہاتھ میں تلوار لے کرخیموں کی جانب بڑ ھ کے اپنے قبیلہ والوں کو آواز دیتی ہے ” اے قبیلہ بکر کے لوگو! کیا رسول خدا کی بیٹیوں کے لباس لوٹ لئے جائیں گے اس غیر الٰہی حکومت پر خدا کی موت ہو” اسی طرح کوفہ اور شام کے درباروں میں کہرام مچ گیا ظالم حکومت کو خطرے کا احساس لاحق ہوا کچھ مدت گزرنے کے بعد انقلابیوں کی قطاریں لگ گئیں ہر کوئی اپنی قوت و حیثیت اور قدرت کے مطابق مشن حسینی یعنی احیائے اسلام کو آگے بڑھانے کی انتھک کوشش میں لگ گیا جن میں سے کچھ قابل ذکر قیام یہ ہیں۔

١۔ سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں کوفہ کے توّابین کاقیام۔
٢۔ مدینہ کے سادات کا قیام۔
٣۔ ٦ ٦ ھ میں مختار ثقفی کا قیام۔
٤۔ ٧٧ ھ میں حجاج کے خلاف مطرف بن مغیرہ کا قیام وجود میں آیا۔
٥۔ ١ ٨ ھ میں عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کا قیام۔
٦۔ زید بن علی اور آ پ کے دو بیٹوں یحییٰ اور عیسیٰ کا قیام۔
٧۔ اور اسی طرح تاریخ میں بہت سارے قیام” یا لثارات الحسین” کے نام سے وجود میں آئے جن میں شہید فخ کا قیام قابل ذکر ہے۔
( فرھنگ عاشورا ، ٢٩٤ )
اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی گذشتہ صدی میں چلنے والی تحریک احیائے اسلام یا تجدید حیات اسلامی کے نام سے وجود میں آئی جس کے بانی سید جمال الدین اسد آبادی افغانی ہیں اور اسی تفکر اسلامی کا نتیجہ عملی صورت میں ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کی شکل میں وجود میں آیا جو آج کروڑوں مستضعف اور ستمدیدہ عوام کے لئے نمونہ ہے جس میں حزب اللہ لبنان کا نام سر فہرست ہے جس کے مجاہدین کا لمحہ لمحہ تفکرکربلا اور اسلام ناب کو زندہ کرنے میں صرف ہورہا ہے ۔

تحریک کربلا کے تقاضے
آخر میں چند اہم سوال قارئین محترم سے پوچھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اس تحریک احیائے اسلام میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کیا ہم اس میراث حسینی اور تفکر اسلامی کے وارث نہیں ہیں؟ اگر جواب مثبت ہے تو پھر آج کے دور میں، جہاں صرف نظریاتی جنگ ہورہی ہے استکبار بھی اپنے شیطا نی روپ میں اور کبھی اسلام کے لباس میں تفکر اسلامی سے نبرد آزما ہوکے ماڈرن جاہلیت کی ترویج اور تبلیغ میں لگا ہوا ہے ایسے میں مسلمان اپنے ہی ہاتھوں اسلام کے ناب تفکر کو ناخالص تفکر کے ساتھ مخلوط کرکے حقیقی فکر اور آئیڈیالوجی کاخون بہا رہے ہیں، ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کیا آج مشن حسینی کو صد برابر آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ؟ کیا آج ناب ِاسلامی فکرکو دوسری غیر اسلامی فکر سے جدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا آج حقیقی تفکر اسلامی کو تفکر امریکائی ، تفکر طالبانی سے جدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا تحریک احیائے اسلام کے لئے ایک نہیں سینکڑوں معرکہ کربلا کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا آج کے یزیدی تفکر کا قلع و قمع کرنے کے واسطے خالص حسینی تفکر کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا آج سامراج اور استعمارکی ثقافتی، علمی، سیاسی اور فوجی طاقت اور یلغار سے مقابلہ کرنے کے لئے عالمی سطح پر ناب اسلامی تفکر کی تبلیغ ، ترویج اور تبیین کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا آج۔۔۔ ۔

یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کا تقاضا کربلا کی تابناک اور احیائے تفکر اسلامی کی خالص تحریک ہر دور میں ہم سے کرتی رہے گی منیٰ میں دئے گئے امام کے خطبے کا جواب ہر سال جمع ہونے والے بیس لاکھ حاجیوں کے مجمع کودینا ہوگا، کوفہ اور بصرہ جیسے حالات سے دوچار ہونے والے عالم اسلام کے قریہ قریہ ، شہر شہر اور ملک ملک کو دینا ہوگا، عالم اسلام کے ذرائع ابلاغ سے وابستہ ہرصحافی کومسلم بن عقیل اور قیس بن مسہر جیسے عظیم صحافیوں کی طرح ، پیغام اور مشن حسینی کو جاہل اور بے خبر عوام تک پہچانا ہوگا، المختصریہ کہ اسلامی معاشرے کے فرد فرد کی ذمہ داری ہے کہ تحریک احیائے اسلام کی بقا اور دوام کے لئے باطل اوراستعماری تفکر کے ساتھ اپنی جدجہد اور مبارزہ کو جاری رکھے۔۔۔۔

منابع و حوالہ :

۔ الاخبار الطوال ،ابو حنیفہ احمد بن محمد الدینوری ،لطبعتہ الاولی ،دار احیاء الکتب العربیہ ،بیروت ۔
۔ الملھوف علی قتلی الطفوف ،رضی الدین علی بن موسی بن طاووس، الطبعةالاولی، دار الاسوء ١٤١٤ق
۔الکامل فی التاریخ ،عزالدین ابوالحسن علی بن محمد المعروف بابن الاثیر ( ت٢٣٠ق) دار صادر ،بیروت ،١٣٨٥ق
۔الامامة و السیاسة ،الاحتجاج الطبرسی ۔
۔ احیاء گری و اصلاح طلبی در نھضت حسینی، محمد جواد صاحبی، موسسہ انتشارات احیاگران، قم ١٣٧٩ش
۔ بحوث فی الملل والنحل ، جعفر سبحانی ۔
۔ تاریخ طبری؛ محمد بن جریر طبری ، دارالتراث العربی،۔
۔ تحف العقول عن آل الرسول ،ابو محمد الحسن بن علی الحرانی طبعة،مکتب بصیرتی ،قم ،١٣٩٤ق ۔
۔ زندگانی امام حسین ، شھیدی ؛ مقتل الخوارزمی ۔
۔ مجلہ حکومت اسلامی ، شمارہ ٢٥،قم ١٣٨١۔ موسوعة۔
۔ ما واقبال ، ڈاکٹر شریعتی ،تھران ،حسینہ ارشاد۔
۔ مدرسہ حسینی ،مصطفی دلشاد تھرانی ،انتشارات دریا ،تھران ،چاپ ١٣٨١ ہ۔ش
۔ نہضتہای اسلامی صد سالہ اخیر، مرتضی مطہری ، صدرا تہران
۔ فرھنگ عاشورا ، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ١٣٨٥ ھ۔ش