ur

محرم باہمی احترام کا مہینہ

(ثاقب اکبر )

محرم حرمت والا مہینہ ہے۔ اس کی حرمت عربوں میں ظہور اسلام سے پہلے بھی تھی۔ پیغمبر اسلامؐ نے اس کے احترام کو باقی رکھا۔ 61 ہجری کے آغاز میں واقعۂ کربلا پیش آیا تو مسلمانوں میں اس مہینے کے احترام کی ایک اور نوعیت پیدا ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ نواسۂ رسولؐ کی المناک شہادت کی یاد بھی وابستہ ہوگئی۔ آنحضرتؐ کی نسبت سے اور اپنے تاریخ ساز حریت پسندانہ اقدام کی نسبت سے امام حسینؑ کو مسلمانوں میں ایک خاص طرح کی محبوبیت حاصل ہوگئی۔ یہاں تک کہ محرم کا مہینہ آپ ہی کی یاد سے منسوب ہوکر رہ گیا۔ اس مہینے میں آپ کی شجاعانہ شہادت کی یاد کو مسلمان طرح طرح سے مناتے ہیں۔ اس یاد کے منانے کے انداز مختلف علاقوں اور مختلف گروہوں میں جدا جدا ہیں۔

شاید عجیب نہ ہو کہ فرزند رسولؐ کی یاد منانے والوں میں دیگر مذاہب و ادیان کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں۔ بہت سے غیر مسلم اکابر نے امام حسینؑ کی غم انگیز قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ آپ کی یاد منانے کے طریقوں میں علاقائی روایات و رسوم بھی داخل ہوگئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان، شام، سعودی عرب، عراق، خلیج، ایران، آذربائیجان، افغانستان، پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں ہمیں اس کے مختلف انداز دکھائی دیتے ہیں، بلکہ ایک ملک کے مختلف حصوں میں بھی اس یاد سے وابستہ مختلف رسوم دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم اس کا اصل مقصد سبط پیغمبرؐ اور آپ کے اقربا و انصار کی اس عظیم الشان قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے، جس نے حق و باطل میں رہتی دنیا تک حد فاصل قائم کر دی اور جس نے دینی مظاہر کو بے روح ہونے سے بچا لیا۔ یہی سبب ہے کہ مسلمان عام طور پر سیدالشہداؑ کو محافظ دینِ مصطفٰیؐ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

محبت و نسبت کے مختلف مظاہر میں بظاہر کوئی عیب نہیں۔ اظہار محبت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں لیکن محبوب کے ایک ہونے کی وجہ سے باہم اختلاف بلکہ افتراق کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ روحانی و معنوی محبوب کی یگانگت تو اتحاد و وحدت کی راہ دکھاتی ہے انتشار اور افتراق کی نہیں۔ مادی و دنیاوی محبوب رقیبوں میں عداوت کا باعث بنتا ہے۔ غالبؔ نے اس حوالے سے ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے:

سب رقیبوں سے ہیں ناخوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہوگئیں

امام حسینؑ تو سب مسلمانوں کو عزیز ہیں اور کیوں نہ ہوں رسول اسلام سرکار دوجہاںؐ کے محبوب نواسے ہیں، جن کی جلالتِ شان کو آنحضرتؐ نے طرح طرح سے بیان فرمایا ہے۔ کبھی ان کے جوانانِ جنت کے سردار ہونے کی خبر دی اور کبھی فرمایا کہ میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہیں۔ آنحضورؐ اپنے اس نواسے سے طرح طرح سے اظہار محبت کرتے رہے۔ آپ کو اپنے دوش مبارک پر سوار کرکے بازار میں لے جاتے، دوران نماز اگر پشت پر سوار ہوجاتے تو سجدہ طویل کرلیتے۔ آنحضرتؐ کی یہ ساری ادائیں مسلمانوں نے جان و دل سے لگا رکھی ہیں، اس لئے وہ امام حسین ؑ سے والہانہ پیار کرتے ہیں۔

جب حقیقت یہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے تو محرم کو وحدتِ امت کے اظہار کا مہینہ بن کر طلوع کرنا چاہیے۔ اس میں اِدھر اُدھر بھولے بھٹکوں کو بھی ایک مرکز پر واپس آجانا چاہیے، لیکن یہ بات کہے بغیر چارہ نہیں کہ اِدھر محرم نزدیک آتا ہے اور اُدھر حکومت کے ذمہ داران اور امت کے خیر خواہ عامۃ المسلمین سے اتحاد کی اپیلیں شروع کر دیتے ہیں۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور وحدت کے تقاضے ہونے لگتے ہیں۔ افتراق ہی کا دھڑکا نہیں ہوتا، دنگا فساد کے خطرات بھی منڈلانے لگتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تو خوف و دہشت کی فضا ہلالِ محرم کے ساتھ ہی مطلع کشور پر نمودار ہوجاتی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ سب ہم آہنگی کی باتیں کرتے ہیں۔ اس کے باوجود گاہے المناک حادثات جنم لیتے ہیں۔

گذشتہ برسوں میں بھی ہم نے دیکھا کہ امام حسینؑ کی یاد منانے والوں پر خودکش حملے ہوئے۔ بہت سے افراد خون میں نہا گئے۔ دھماکوں نے وحشت برپا کر دی۔ جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ کئی گھر اجڑ گئے۔ خاندان برباد ہوگئے۔ یہ سفاک کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ انسان تو معاشرتی حیوان ہوتا ہے۔ جنگل میں اکیلا تو زندگی نہیں گزارتا۔ کسی کنبے اور قبیلے میں پروان چڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو بم سے اڑا کر دوسروں کی جان لینے والا بھی کسی خاندان کا فرد ہوتا ہے۔ کسی کا دوست ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد ہوں گے، جن سے تبادلۂ خیال کرتا ہوگا۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ اکیلا سوچتا ہے اور پھر اچانک کہیں سے اسے بارود سے بھری جیکٹ مل جاتی ہے اور پھر وہ ’’دشمن‘‘ کا تعین کرتا ہے اور خود ہی پورا منصوبہ بنا کر خود بھی چیتھڑوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اور بہت سے دیگر ہم نوع انسانوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیتا ہے۔

وحشت آفریں بات تو یہی ہے کہ کیا اتنے ڈھیر سارے لوگ اس طرح سے دوسرے انسانوں کو کسی بھی اختلاف کی بنیاد پر قتل کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ ہمارا فہم دین ہمیں نہیں بتاتا کہ قرآن کریم اور صاحب قرآن پیغمبر عظیمؐ کی تعلیمات ایسے قتل و غارت کی اجازت دیتی ہیں۔ عدم برداشت کا یہ رویہ “لا اکراہ فی الدین” کی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ خدا کی رضا کا یہ راستہ نہیں ہے۔ چھپ کر اور اچانک نہتے انسانوں پر ایسے قاتلانہ حملوں کی اجازت رحمۃ للعالمین کا مکتب ہرگز نہیں دے سکتا۔ حرمت کے مہینے میں تو احترامِ آدمیت کا جذبہ اور بھی بڑھ جانا چاہیے۔

اس موقع پر امام حسینؑ کی یاد منانے والے مختلف گروہوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں یاد رکھنی چاہئیں۔ رسوم و رواج کو اصل دین سمجھ لینا بھی کوتاہئ فکر کے سوا کچھ نہیں۔ روایت و عادت کو اپنی حد میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اپنا دین دوسروں پر ٹھونسنا درست نہیں تو اپنی رسوم کو دوسروں کے لئے لازمی سمجھنا کیسے درست گردانا جاسکتا ہے۔ ہر مسلمان اپنے انداز سے سیدالشہداؑ کی یاد مناتا ہے اور وہ اس کا حق رکھتا ہے۔ امت کا اتحاد ہمارے طور طریقوں سے زیادہ اہم ہے۔ ’’لا تفرقوا‘‘ کا حکم، الٰہی حکم ہے، کسی عالم دین کا فتویٰ نہیں کہ جس سے دوسرے عالم دین کو اجتہادی رائے کی بنا پر اختلاف کا حق ہو۔ یہ یاد مناتے ہوئے ہمیں نبی کریمؐ کا یہ فرمان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

امام حسینؑ نے جس دین کی بقا کے لئے قربانی دی ہے، اُسی دین کی یہ تعلیمات ہیں۔ ہمیں امام حسین کی یاد کے نام پر دین کی ایسی تعلیمات کو پامال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمیں فرزند رسولؐ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دوسروں کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔ خطباء اور ذاکروں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ اُن کی زبان سے دوسرے مسلمانوں کو ہرگز اذیت نہیں پہنچنی چاہیے۔ یزید کے ظلم اور امام حسینؑ کی مظلومیت کو آشکار کرنا تو ضروری ہے کہ اس سے دین کی حقیقت آشکار ہوتی ہے، لیکن اختلافات کو اچھالنا اور کثیر مشترکات کو چھوڑ کر قلیل امتیازات پر ایسا اصرار کرنا، جس سے مسلمانوں میں دوریاں اور نفرتیں پیدا ہوں، اللہ کے غضب کو آواز دینے کے مترادف ہے۔

قرآن حکیم نے مسلمانوں کو تبلیغ و دعوت کے جو طریقے بتائے ہیں، ہمیں ہمیشہ انھیں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ تو غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام دینے کے لئے بھی ضروری ہیں، چہ جائیکہ مسلمانوں کے اندر اختلافی مسائل کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کی طرف دعوت دینا۔ اس سلسلے میں تو بیشتر محبت و رواداری کی فضا کی ضرورت ہے۔ اختلافات برداشت کرکے اور ایک دوسرے کا احترام کرکے زندگی گزارنے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہنر سیکھے بغیر امت اسلامیہ زوال و انزوا کی کیفیت سے نہیں نکل سکتی۔ کیا ہی خوب ہے کہ اس کار خیر کا آغاز اس حرمت والے مہینے میں کر دیا جائے جسے ’’محّرم‘‘ کہتے ہیں، جو قمری کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور جس میں اس دین کی بقا کے لئے فرزند رسول نے قربانی پیش کی۔ آیئے سبط رسولؐ سے ایثار و قربانی کا سبق لیں اور دین کی بقا و ارتقا میں اپنا حصہ ڈالیں۔