حضرت محمد (ص) کا بیانِ حدیث کیلئے اہتمام

( مہر ۛفرحت حسین )

دنیا کی عظیم ترین شخصیت کہ جسکے لئے رب العزت نے دو جہانوں کو خلق کیا، وہ ہادی برحق کہ جس کا کلمہ آج دنیا کے تمام مسلمانوں کی زبان پر ہے، اس رحمت للعالمین کی شخصیت کی بڑائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ نے کوئی عام سی بات بھی بیان کرنا ہوتی تو اس کو بیان کرنے سے پہلے سننے والے کے سامنے مقدمہ بیان فرماتے، اس بات کے لئے پہلے ماحول پیدا کرتے، اور جب وہ باتیں بیان کرنے کا موقع آیا جو دین و دنیا اور لوگوں کے لئے بہت ہی حیاتی پہلو لئے ہوئے تھیں، تو ان کو موقع کی مناسبت سے بیان کرنے کیلئے آپ نے جو اہتمام فرمایا اس کی نظیر نہیں ملتی، اس لئے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا روان شناس کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے اپنے کردار و رفتار سے سب پر ثابت کر دیا کہ خدا نے آپکا انتخاب افضل الرسل کے طور پر کیوں کیا۔ آپ نے چالیس

سال تک خدا کے پیغامات کو حدیث کی شکل میں بیان کرنے کے لیے اپنے کردار کو منوایا تب جاکر حدیث بیان فرمائی، آپ نے ہر حدیث کو بیان کرنے سے پہلے اس کے بیان کے لئے ماحول فراہم کیا، اور یہ روش نہ صرف انتہائی موثر اور عاقلانہ ہے، بلکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں بھی اپنے ماحول کو دیکھ کر بات کرنے کا ڈھنگ سیکھنا ہو گا تاکہ سنت رسول اکرم (ص) پر بھی عمل ہو سکے اور ہم سنت پر عمل کر کے کمال کے درجات کو حاصل کر سکیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 570ء دنیاوی تاریخ میں اہم ترین شخصیت کے طور پر نمودار ہوئے اور آپ کی یہ خصوصیت عالمی سطح پر (مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں جانب) بطور مصدقہ تسلیم شدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں کہ جنہیں اللہ نے کامل ترین دین کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ اس کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کر سکیں اور انہیں کمال تک پہنچا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570ء مکہ میں پیدا ہونے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ آپ کا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مکہ میں ہوا،۔ مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبدالمناف کے والد کا انتقال آپ کی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب آپ کی عمر مبارک چھ برس تھی تو آپ کی والدہ حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد” کے معنی ہیں "جس کی تعریف کی گئی”۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت اللعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیگرالقابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔

نبوت کی نشانیاں:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد محترم جناب حضرت عبداللہ بن عبد المطلب آپ کی ولادت سے چھ ماہ قبل وفات پا چکے تھے اور آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے کی۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مدت ایک بدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کی جیسا عرب کا رواج تھا۔ اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آب و ہوا میں صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حلیمہ بنت عبداللہ اورحضرت ثوبیہ (درست تلفظ: ثُوَیبہ) نے دودھ پلایا۔ چھ سال کی عمر میں آپ کی والدہ اور آٹھ سال کی عمر میں آپ کے دادا بھی وفات پا گئے۔ اس کے بعد آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے چچا اور بنو ہاشم کے نئے سردار حضرت ابوطالب نے سرانجام دی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضر ت ابوطالب کے ساتھ شام کا تجارتی سفر بھی اختیار کیا اور تجارت کے امور سے واقفیت حاصل کی۔ اس سفر کے دوران بحیرا نامی ایک عیسائی راہب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں قدیم آسمانی کتب میں لکھی تھیں۔ اس نے حضرت ابو طالب کو بتایا۔۔ نبوت کے اظہار سے قبل ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹا کر اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کو ثابت کر دیا، جسکی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القابات سے پہچانے جانے لگے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہیں گذر رہا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں، آپ نبی بھی تھے۔ اس قسم کا ایک واقعہ اس وقت بھی پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدوی قبیلہ میں اپنی دایہ کے پاس تھے۔ وہاں حبشہ کے کچھ عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بغور دیکھا اور کچھ سوالات کیے یہاں تک کہ نبوت کی نشانیاں پائیں اور پھر کہنے لگے کہ ہم اس بچے کو پکڑ کر اپنی سرزمین میں لے جائیں گے۔ اس واقعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ لوٹا دیا گیا۔

رسالت کا پیغام ﴿عملی حدیث﴾ پہنچانے سے پہلے غار حرا کا انتخاب:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز حضرت جبرئیل علیہ السلام ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرئیل علیہ سلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام انسان کو

پہنچایا وہ یہ ہے
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
پڑھ (اے نبی) اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو (نطفۂ مخلوط کے) جمے ہوئے خون سے) پیدا کیا ہے۔ ﴿سورۃ الْعَلَق) ابتدائی آیات بعد میں قرآن کا حصہ بنیں۔ اس واقعہ کے بعد سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسول کی حیثیت سے تبلیغ اسلام کی ابتداء کی اور لوگوں کو خدا کی وحدانیت کی دعوت دینا شروع کی۔آپ نے لوگوں کو روز قیامت کی فکر کرنے کی تعلیم دی کہ جب تمام مخلوق اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیۓ خالق کے سامنے ہوگی۔ اپنی مختصر مدتِ تبلیغ کے دوران ہی آپ نے پورے جزیرہ نما عرب میں اسلام کو ایک مضبوط دین بنا دیا، اسلامی ریاست قائم کی اور عرب میں اتحاد پیدا کردیا جس کے بارے میں اس سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور قرآن کے مطابق کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ آپ کو اپنی جان و مال اور پسندیدہ چیزوں پر فوقیت نہ دے۔ قیامت تک کے لوگ آپ کی امت میں شامل ہیں۔

حدیث کساء سے پہلے چادر کا اوڑھنا:
حدیث کساء (حديث الكساء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے، جس کی سند روایات کی بےشمار کتابوں میں موجود ہے۔ یہ حدیث حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے اور بےشمار لوگوں نے اسے مزید روایت کیا ہے جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم، صحیح ترمذی، مسند احمد بن حنبل، تفسیر طبری، طبرانی، خصائص نسائی اور دیگر کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن حبان، حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت کی وجہ نزول بھی بتاتی ہے جسے آیہ تطہیر کہتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب علیہ السلام تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنہوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔ جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک۔

حدیث منزلت سے پہلے مسجد نبوی کے دروازوں کی بندش:
جس روز حضرت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ جس جس کے دروازے مسجد (یعنی مسجدِ رسول) کے اندر ہیں وہ سب بند کر دیئے جائیں صرف علی علیه السلام کا دروازہ باقی رہے، جابر بن عبدالله انصاری کہتے ہیں کہ اس وقت رسول الله نے علی علیه السلام سے فرمایا:
”انّہ یحل لک من الجسمد ما یحل لی وانّک منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الّا اٴنّہ لا نبیّ بعدی“
جو میرے لئے مسجد میں حلال ہے (اے علی) وہ تمھارے بھی حلال ہے کیونکہ تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے۔

حدیث منزلت غزوہ تبوك سے پہلے:
غزوہ تبوك صرف وہ غزوہ ہے کہ جس ميں حضرت على نے پيغمبر اكرم (ص) كے حكم كی پيروى كرتے ہوئے شركت نہيں كى، چنانچہ اس مرتبہ آپ جانشين رسول خدا كى حيثيت سے اور ان واقعات كا سد باب كرنے كى غرض سے جن كے رونما ہونے كا احتمال تھا مدينہ ميں ہى قيام پذير رہے_ جس وقت منافقوں كو رسول خدا كے ارادے كى خبر ہوئی تو انہوں نے ايسى افواہيں پھيلائيں اور کوشش کی کہ حضرت على اور پيغمبر اكرم كے تعلقات ميں كشيدگى پيدا ہو جائے اور حضرت على كو يہ بات باور كرا ديں كہ اب آپ سے رسول (ص) كو پہلى سى محبت نہيں، چنانچہ جب آپ كو منافقين كى ان شرپسندانہ سازشوں كا علم ہوا تو ان كى باتوں كو غلط ثابت كرنے كى غرض سے رسول خدا كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور صحيح واقعات كى اطلاع دی۔ رسول اكرم (ص) نے على (ع) كو مدينہ واپس جانے كا حكم ديتے ہوئے اس تاريخى جملے سے حضرت على (ع) كے اس مقام و مرتبہ كو جو آپ (ص) كے نزديك تھا اس طرح بيان فرمايا : ”كيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو كہ ميرے اور تمہارے درميان وہى نسبت ہے جو كہ موسى (ع) اور ہارون (ع) كے درميان تھی، مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي نبى نہيں ہو گا۔

مذکورہ بالا مواقع کے علاوہ اور بہت سے مواقع ہیں کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہین جن کو اہل سنّت کی مشہور کتابوں سے نقل کیا سکتا ہے ورنہ شیعہ کتب میں اس سے زیادہ مواقع کا تذکرہ ملتا ہے جہاں حضرت پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے بارہا یہی حدیث حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمائی ہے۔

خطبہ فتح مکہ سے پہلے تطہیر خانہ کعبہ:
صلح حدیبیہ کی مدت دس سال طے کی گئی تھی تاہم یہ صرف دو برس ہی نافذ رہ سکا۔ بنو قزع کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اتحاد جبکہ آپ کے مخالف بنو بکر مکہ کے ساتھ تھے۔ ایک رات بنو بکر کے کچھ آدمیوں نے شب خون مارتے ہوئے بنو قزع کے کچھ لوگ قتل کر دیئے۔ قریش نے ہتھیاروں کے ساتھ اپنے اتحادیوں کی مدد کی جبکہ بعض روایات کے مطابق چند قریش بذات خود بھی حملہ آورں میں شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد نبی اکرم نے قریش کو ایک تین نکاتی پیغام بھیجا اور فرمایا کہ ان میں سے کوئی منتخب کر لیں:
1۔ قریش بنو قزع کو خون بہا ادا کرے،
2۔ بنو بکر سے تعلق توڑ لیں۔
3۔ صلح حدیبیہ کو کالعدم قرار دیں۔

قریش نے جواب دیا کہ وہ صرف تیسری شرط تسلیم کریں گے۔ تاہم جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ابو سفیان کو معاہدے کی تجدید کے لئے روانہ کیا گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی درخواست رد کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت تک قریش کے خلاف چڑھائی کی تیاری شروع کر چکے تھے 630ء میں آپ نے دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ مسلمانوں کی ہیبت دیکھ کر بہت سے مشرکین نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا۔ ایک چھوٹی سے جھڑپ کے علاوہ تمام کارروائی پرامن انداز سے مکمل ہو گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فاتح بن کر مکہ میں داخل ہو گئے۔ داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے آپ نے کعبہ میں موجود تمام بت توڑ ڈالے اور شرک و بت پرستی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد آپ نے خطبہ فتح مکہ دیا۔

حدیث غدیر اور حدیث ثقلین سے پہلے پالان کا منبر بنانا:
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی کا آخری حج سن 10ھ میں کیا۔ اسے حجة الودع کہتے ہیں۔ آپ 25 ذی العقدہ 10ھ (فروری 632ء) کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج آپ کے ساتھ تھیں۔ مدینہ سے 9 کلومیٹر دور ذوالحلیفہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام پہنا۔ دس دن بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ پہنچ گئے۔ حج میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ تھی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک کے چند آخری مہینے ابر رحمت کی طرح لوگوں کے سروں سے آہستہ آہستہ سفر کر رہے تھے۔ جس روز پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ خدا کی ضیافت کا شرف حاصل کرنے والے دیگر کئی ہزار لوگوں کے ہمراہ اپنے علاقے کی طرف لوٹ رہے تھے کہ اچانک سرزمین "جحفہ” کے قریب میقات کے آخری دہانے پر جبرئیل کے پروں کی مسحور کن آواز نے انہیں خداوند تعالی کے تازہ نازل ہونے والے پیغام کی بشارت دی اور امانت میں مشہور اس عرشی پیغام آور نے

نازل ہوکر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو توحید کے بعد پہلی بار رسالت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے سے متعلق خدا کے حکم سے آگاہ کیا؛ رسالت کا وہ پیغام جس کی اہمیت تقریباً تئیس سال کی مسلسل جدوجہد کے برابر تھی۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام رسالت کا ابلاغ کرکے وہاں موجود تمام لوگوں اور آئندہ آنے والی تمام نسلوں پر اپنی حجت تمام کرنے کو کہا۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً اس جمعہ مبارک کے دن جحفہ کے سہ راہے پر حج بیت اللہ سے لوٹنے والے تمام حجاج کو جمع ہونے کا حکم صادر فرمایا۔ حضرت بلال کی اذان نے صحرا کے کانوں میں رس گھولنا شروع کیا جس میں مسلمانوں کو نماز کے لئے جمع ہونے کی گونج صاف طور پر سنائی دیتی تھی۔ پھر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کی صورت میں نازل ہونے والے خدا کے پیغام سے لوگوں کو آشنا کرنے کے لئے غنچہ لب وا کئے تو درج ذیل آیت خوشبو کی طرح مشام جاں کو مہکانے لگی: ” یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیك من ربك و ان لم تفعل فما بلغت رسالته، و الله یعصمك من الناس ان الله لا یهدى القوم الكافرین” (المائدہ: ۶۷)
ترجمہ: اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا خدا کے پیغام کو نہیں پہچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔

لوگوں کے جمع ہونے کے بعد، اونٹوں کے پالان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے منبر بنا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے مخصوص انداز سے کھڑے ہوگئے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے درمیان وحی کا ابلاغ اور انہیں اپنے آخری حج ادا کرنے کے بارے میں بتانا چاہتے تھے اور یہ بتانا چاہتے تھے کہ آج کے بعد رسالت کے خلاء کو امامت پر کرے گی۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ ان کا وصی رہنمائی کا عہدہ اپنے کاندھوں پر سنبھالے گا۔ کیونکہ زمین خدا کی حجت سے کبھی خالی رہنے والی نہیں ہے۔ تم لوگ میرے وصی کی رہنمائی میں ابدی سعادت تک پہنچ جائو گے۔ وہ تمہارے درمیان ایک دینی، سیاسی، معاشرتی اورالہٰی علمبردار بن کر سامنے آئے گا اور نجات کے ساحلوں تک تمہاری رہنمائی کرے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حساس حالات کو دیکھتے ہوئے اور اس خوف سے کہ کہیں چند لوگ ان کے خلاف علم بغاوت نہ بلند کردیں، مدتوں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے وصی ہونے کے راز کو راز ہی رہنے دیا، اور اس امر کے ابلاغ کو کسی اور وقت پر اٹھائے رکھا۔ لیکن اس بار وہ پکا ارادہ کرچکے تھے کہ یہ عظیم پیغام لوگوں تک پہنچا کر رہیں گے۔ اس لئے انہوں نے لوگوں کے سکوت کو توڑتے ہوئے اپنی باتوں کا آغاز اس طرح فرمایا:


’’ایها الناس انى قد نبانى اللطیف الخبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

ترجمہ: اے لوگو! نعمتوں کی ارزانی کرنے والے اور خلقت کے تمام رازوں سے آگاہ (خداوند تعالی) نے مجھے خبر دی ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے سے پہلے والے پیغمبر کی آدھی زندگی جی ہے اور گمان ہوتا ہے کہ مجھے بھی جلد ہی اس کی دعوت پر لبیک کہہ کر کبھی نہ فنا ہونے والے عالم کی طرف کوچ کرنا ہے۔ میں اور آپ ذمہ دار ہیں اس کام کے جو ہم پر لازمی قرار دے دیا گیا ہے؛ کیا میں نے اپنی رسالت تم لوگوں تک پہنچائی ہے؟! سب نے جواب دیا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی رسالت کا ابلاغ فرمایا، ہمیں نصیحت کرنے میں کوتاہی نہیں کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا؛ خدا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس کے بعد سب نے اپنی باتوں کی تصدیق کے لئے خداوند تعالی کو اپنا شاہد قرار دیا۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: کیا تم لوگوں نے اس بات کی شہادت نہیں دی کہ عبادت کے لائق صرف خداوند تعالی کی ذات ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا بندہ اور رسول ہے اور یہ کہ جنت، جہنم اور موت کے بعد زندہ ہونا برحق ہے؟ سب بیک آواز کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو باتیں بتائیں ہم ان تمام کا اقرار اور تصدیق کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: اے خدا! تو خود ان کی تصدیق کا شاہد ہے۔

پھر فرمایا "انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی: کتاب الله فیه‌الهدی والنور حبل ممدود من السماء الی الارض وعترتی اهل بیتی وان اللطیف الخبیر قد اخبرنی‌انهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض وانظروا کیف تخلفونی فیهما”۔

کہ میں آپ کے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کتاب خدا اور عترت پھر اپنی باتیں جاری رکھتے ہوئے یوں گویا ہوئے: خدا میرا مولا ہے اور میں دیگر تمام مومنوں کا مولا اور رتبے میں ان سے بڑھ کر ہوں۔ پس جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی علیہ السلام مولا ہے۔ اے خدا! جو اس کا چاہنے والا ہے، اسے دوست رکھ اور جو اس کا دشمن ہے، اسے اپنا دشمن سمجھ۔

اس تمام اہتمام اور بار بار کی تاکید کے باوجود اہلبیت (ع) رسالت کو ان کا حق دینے میں کوتاہی کی گئی، نہ صرف کوتاہی بلکہ اس دور سے آج تک رسول اللہ (ص) کے فرمان کی خلاف ورزی کرنے والوں نے اپنی روش کو نہیں بدلا، کل وہ خود تھے آج ان کی نسلیں یہ کام انجام دے رہی ہیں، کل علی اور اولاد علی (ع) کو انہوں نے خود خون کے آنسو رلایا، آج ان کی نسلیں اپنے آباو اجداد کی سنت پر چلتے ہوئے اہلبیت کے چاہنے والوں کو خاک و خون میں غلطاں کر رہے ہیں، لیکن جو ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، کم از کم ان سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہیں کہ وہ جہاں تک ہو سکے رسول کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں، اور ان منازل اور درجات کو حاصل کر لیں جن کے لئے انہیں خدا نے اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا نہ ان لوگوں کی مانند کہ جنہوں نے خدا و رسول کی تعلیمات سے روگردانی کی اور اس دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو نہایت سستا بیچ دیا۔ حقیقی کامیابی سنت محمدی (ص) کی پیروی میں ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔