سیرت نبی اعظم (ص) میں پیغام وحدت

(ندیم عباس )

آپ (ص) کی آمد سے پہلے کے عرب معاشرے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو انسان بہت جلد اس نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ آج کی دنیا میں ہم جسے معاشرہ کہتے ہیں، اس کی روشنی میں اس کو معاشرہ کہنا ہی درست نہ ہوگا، کیوں کہ انسانوں کے مفادات کے مشترک ہونے کی وجہ سے باہمی مل جل کر رہنے کو معاشرہ کہا جاتا ہے، زمانہ جاہلیت کے لوگ داخلی انتشار کی انتہا کو چھو رہے تھے، ان میں قبائلی تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، وہ جنگ میں حق و انصاف کی بجائے ہمیشہ اپنے قبیلہ کا ساتھ دیتا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسی جنگ چھڑتیں، جو صدیوں جاری رہتیں۔ مسافروں کو لوٹنا اور راستے بند کرنا معمول کی بات تھی، رنگ و نسل کا امتیاز موجود تھا، گورے کو کالے پر ترجیح دی جاتی تھی۔ رنگ کی بنیاد پر تذلیل کی جاتی تھی، عرب وعجم کا لسانی تعصب اور نسلی امتیاز بھی پایا جاتا تھا۔ عرب خود کو دوسروں پر برتر خیال کرتے تھے۔ عربوں میں ایک مذہبی تقسیم بھی موجود تھی۔

اس وقت عرب معاشرے میں بت پرست، عیسائی اور یہودی موجود تھے، ان کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات تھے، یہ اختلافات کبھی کبھی جنگ کی صورت اختیار کر لیتے، اس حوالے سے ابرہہ کا خانہ کعبہ پر حملہ اسی مذہبی اختلاف کا نتیجہ تھا۔ اس معاشرے میں ایک بڑی تعداد غلاموں کی تھی، یعنی ایک طرح سے یہ لوگ غلام اور آقا کی تقسیم کا شکار تھے، جہان آقا کا کام حکم دینا اور غلام کا کام اطاعت کرنا ہوتا تھا، ان کے حقوق کی بات کرنا بھی اس معاشرے کے لئے ناقابل فہم تھا، عورت کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہ تھا، معاشرے کا یہ نصف حصہ کسمپرسی کا شکار تھا، سیاسی طور کوئی مرکزی حکومت نہ تھی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ماحول تھا، کچھ عرب ایرانی دربار سے منسلک تھے اور کچھ رومن دربار سے منسلک تھے، اس طرح اس وقت کی دو سپر پاورز کی حمایت میں بٹے ہوئے تھے۔
جب ظلم و بربریت اپنی انتہا کو پہنچ گئی، معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی آہوں اور سسکیوں نے عرشالہٰی کو ہلا دیا، زمین پر ظلم کا شکار انسانیت کی آہ و بکا سن کر رحمت خداوندی جوش میں آئی، اپنے آخری رسول (ص) کو بھیجا، جس نے اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیا، ظلمت کا دور ختم ہوا اور نور کا سورج چمک اٹھا، بجھے چہرے کھل کھلا اٹھے، پریشان حال انسانیت کو سکون ملا، باطل کے محلات میں زلزلہ طاری ہوگیا، ایسا کیوں نہ ہوتا، مظلوموں کا دادرس، بےکسوں کا سہارا، دنیا میں تشریف لائے، وہ ہستی آئی ہے، جس کی برکت سے پوری دنیا نے ہدایت پانی ہے، امن کا پیغمبر، امن کا دین لے کر بکھری ہوئی انسانیت کو وحدت کی لڑی میں پرونے آیا۔ اختلاف کو اتحاد میں بدلنے آیا، دشمنوں کو دوست بنانے آیا، غلاموں کے حقوق کا علمبردار آیا، زندہ درگور کر دی جانے والی بیٹوں کو عزت و احترام کی زندگی دینے والا آیا، کالے اور گورے، عربی و عجمی کے فرق کو ختم کرکے امت کی لڑی میں پرونے والا آیا۔

آپ (ص) کی سیرت میں یہ بات انتہائی توجہ طلب ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر سینکڑوں سال باہم جنگیں کرنے والی قوم مذہبی، سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی طور پر انتشار کا شکار قوم ،کس طرح 23 سال کی مختصر مدت میں پورے جزیرہ عرب کی حکمران بن گئی اور 50 سالوں میں دنیا کی دو سپر پاورز کو شکست دے کر آدھی دنیا کی حکمران بن گئی۔ آخر ہوا کیا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بھائی بن گئے اور ایک دوسرے پر جان قربان کرنے لگے، غلام اور آقا کی زندگی برابر ہوگئی، ننگ عار سمجھی جانے والی بیٹیاں رحمت قرار پائیں، ایسی مضبوظ حکومت معرض وجود میں آئی کہ اگر ایک عورت نیل کے ساحل سے چلی اور مکہ آئی اور یہاں سے واپس اکیلی چلی گئی، ایسا امن کہ اس پہلے اس کا تصور تک نہ تھا۔

ہمیں بھی آج وہی مسائل درپیش ہیں جو عرب معاشرے کو درپیش تھے، ان میں رسول (ص) آئے، خدا کی کتاب آئی، انہوں نے خدا اور رسول خدا (ص) کے کی باتوں کو سنا، سمجھا اور تسلیم کر لیا، جان جاتی ہے تو چلی جائے مگر اسلام پر عمل کو نہ چھوڑا، اپنی عزت اور ذلت کا معیار فقط اسلام کو قرار دیا، آج ہم محکوم اس لیے ہیں کہ تفرقہ بازی میں پڑے ہوئے ہیں، رنگ، نسل اور علاقہ کی بات کرتے ہیں، عرب کے جاہل معاشرے میں پیغام اسلام آیا تو انہوں نے ان تمام تفاریق کو مٹا کر وحدت کی راہ کو اپنا لیا، آج ہمارے پاس خدا اور رسول (ص) کا پیغام موجود ہے، کیا ہم جو خود کو پڑھا لکھا اور مہذب سمجھتے ہیں، اس پیغام وحدت کو نہیں لیں گے، کیونکہ امت مسلمہ کی کامیابی کا راز فقط وحدت امت میں پوشیدہ ہے، ہماری موجودہ حالت بقول اقبال
فرقہ بندی ہے کہیں تو کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آپ (ص) کی پوری زندگی وحدت انسانیت کا عظیم نمونہ ہے، آپ (ص) نے دوسرے مذہب کو گفتگو اور سوالات کی مکمل آزادی دی، آپ (ص) نے خود دوسرے مذاہب سے ڈائیلاگ کیا، ان سے معاہدے کیے، اس حوالے سے میثاق مدینہ کو بہت اہمیت حاصل ہے، یہ معاہدہ یہود سے کیا گیا، جس میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا۔ اسی طرح نجران کے عیسائی کئی دن تک آپ (ص) سے گفتگو کرتے رہے، آپ (ص) نے ان کو مکمل آزادی دی اور جب دلیل کے باوجود انہوں نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا تو بھی جنگ نہیں کی بلکہ مباہلہ کی دعوت دی، دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں جیسا عظیم نظریہ دیا، اہل کتاب کو خدا کی وحدانیت کے عقیدہ کو بنیاد بنا کر اتحاد و و حدت کی دعوت دی۔

آپ (ص) کی سیرت تو تمام انسانوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے کی ہے، افسوس صد افسوس کہ آج عالم اسلام کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے، ہم نے دیگر قوموں کے ساتھ اتحاد کی بات کیا کرنی ہے، ہم آپس میں ایک دوسرے کو اسلام کے نام پر قتل کر رہے ہیں، اسلام جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا، اس کے ماننے والے اپنے ہی بھائیوں کو مسجدوں میں قتل کر رہے ہیں، وہ اسلام جو فقط عقیدہ توحید کی بنیاد پر اہل کتاب سے اتحاد وحدت کی بات کرتا ہے، اس کے ماننے والے ۹۹ اعشاریہ ۹۹ فیصد مشرکات کو بنیاد بنا کر اتحاد نہیں کرتے، بلکہ اعشاریہ ایک فیصد اختلاف کو بنیاد بنا کر آپس میں دست گریبان ہو جاتے ہیں۔ آج ہمیں سیرت کے ان پہلوں پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ مشرکات کی بنیاد پر وحدت امت کے لیے کام کیا جائے اور اختلاف کو پھیلانے والوں کی بیج کنی کی جائے۔

آپ (ص) تفرقہ پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے، ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، انصاری نے اپنےقبیلے کو اس طرح مدد کے لیے پکارا جیسے زمانہ جاہلیت میں پکارا جاتا تھا، جب آپ (ص) کو پتہ چلا تو بہت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا، کسی بھی زمانہ اور کسی بھی جگہ مدد کے لیے بلانے کا اور مدد کرنے کا معیار فقط اسلام ہے اور صرف اسلام کی بنیاد پر مدد کے لیے بلایا جائے گا۔ قرآن کا پیغام بھی یہی ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں، عرب کے گھوڑے بڑھنے بڑھانے پر لڑنے والے، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے والے، غلاموں کو جانور سمجھنے والے لوگوں کے پاس یہ پیغام آیا تو وہ اتحاد و وحدت کا نمونہ بن کر دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگئے۔ آج وہی پیغام ہمارے پاس آیا، امت مسلمہ کے تمام مسائل کی جڑ وحدت کا نہ ہونا ہے، اگر ہم سیرت نبی (ص) سے اتحاد و وحدت کو لے لیں اور عملی طور پر اپنی زندگیوں میں نافذکر دیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

علمائے اسلام نے اتحاد و وحدت کے لیے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں، بعض علماء نے اپنی زندگیاں صرف اسی کام کے لیے وقف کر دی ہیں، ان میں سید قطب، حسن البنا، سید جمال الدین افغانی اور امام خمینی نے اہم کردار ادا کیا۔ حسن البنا جیل کی دیواروں سے کہتے رہے، مسلمانوں متحد ہو جاؤ۔ سید جمال الدین افغانی نے پوری زندگی امت کی وحدت کے لیے صرف کر دی۔ امام خمینی نے 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول کے پورے ہفتے کو ہفتہ وحدت قرار دیا،
علامہ اقبال وحدت امت کے عظیم داعی تھے، انہی کے اشعار پر ختم کرنا چاہوں گا،
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک