وحدت، امام خمینی ()کی نظر میں

(سید رضا نقوی )

حضرت امام خمینی ()کے افکار و نظریات سے آگاہی حاصل کرنا، جو انیسویں صدی میں امت مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کے سب سے بڑے داعی رہے ہیں اور جنہوں نے اسلام حقیقی کے چہرے پر پڑی گرد کی دبیز تہہ کو صاف کیا، جس کے بعد اسلام کے درخشان اور پر نور چہرے نے نہ صرف دشمن بلکہ آستین کے سانپوں کی آنکھوں کو بھی خیرہ کر دیا ۔۔۔۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس پیر جماران کی تعلیمات کو سمجھیں اور اس کے آفاقی پیغام کو عام کریں۔ وحدت کا عظیم پیغام انہی پیغاموں میں سے ایک ہے، جس کے عملی مظاہرے نے دشمن کے پائوں اکھاڑ دیئے۔
امام خمینی ()نے فرمایا:
’’میں نے اپنی پوری قوت و توانائی کے ساتھ امت مسلمہ میں اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کی کوشش کی ہےاور کرتا رہوں گا۔‘‘
آپ مزید فرماتے ہیں کہ:
’’ہم اپنے اور دیگر مسلمان بھائیوں کے درمیان جدائی کا احساس نہیں کرتے اور امید ہے کہ دیگر مسلمان بھی اس بات کا احساس کریں گے کیونکہ ہر ملک اسلام اور مسلمانوں کی ملکیت ہے۔‘‘
’’ہم اسلام اور اسلامی ممالک کی آزادی اور استقلال کے لئے ہر حال میں آمادہ ہیں۔‘‘

وحدت اسلامی کے اس تصور نے گویا دنیا کے نظام سیاست میں ہلچل پیدا کر دی۔ شاہوں کے محلات لرزنے لگے، استعمار کے قدم ڈگمگانے لگے اور مسلمانوں کو اپنے کانوں میں آزادی کے نغموں کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ امام خمینی ()کی دعوت وحدت ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی تھی جب استعمار مسلمانوں کو گروہوں میں تقسیم کرکے انکے درمیان فاصلوں کو طول دیتا جا رہا تھا اور اپس میں بھائی چارگی اور اتحاد و وحدت کی پذیرائی کے راستے مسدود ہوتے جا رہے تھے، لیکن امام خمینی ()نے شب دبیز تاریکی کو اپنے اسلامی انقلاب کے انفجار نور سے شکست دی اور طلوع سحر کی نوید سنا دی تھی۔ امام خمینی ()نے صرف وحدت کا نعرہ بلند نہیں کیا تھا بلکہ اسلامی معاشرے سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو نہ صرف اسکی ذمہ داری کا احساس دلایا تھا بلکہ اس کی راہنمائی بھی فرمائی تھی، عالم دین ہو یا قلمکار، سیاست دان ہو یا عوام ۔۔۔۔۔ہر شخص کو اسکی ذمہ داری کا احساس دلا کر معاشرے میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔

مصیبتوں کی ذمہ دار اسلامی حکومتیں
اسلامی ممالک کے سیاستدانوں اور حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’مسلمانوں کی بہت سی مصیبتوں کی ذمہ دار انکی اسلامی حکومتیں ہیں ۔۔۔۔ وہ حکومتیں جنہیں ہم آواز ہونا چاہئے، ہم فکر ہونا چاہئے۔۔۔۔ سب کا دین ایک ہے، کتاب ایک ہے اور سب دیکھ بھی رہے ہیں کہ انکے باہمی اختلافات سے دوسرے فائدہ اٹھا رہے ہیں، درد کا جانتے ہیں لیکن دوا کی کوشش نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ بڑی حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے جدا رہیں بلکہ ایک دوسرے کے دشمن رہیں ۔۔۔۔۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے لئے کوئی اساسی فکر کریں اور اسلامی حکومتوں کو چاہئے کے بنیادی سوچ سوچیں۔۔۔۔ اپنے اس افتراق کے مرض کی دوا کریں ورنہ کوئی اور علاج نہیں۔‘‘

ایک اور جگہ مزید فرماتے ہیں کہ:
’’میرا ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان متحد ہوں اور اسرائیل سمیت اپنے تمام دشمنوں کے خلاف جہاد کریں۔ باعث افسوس ہے کہ مسلمان ممالک میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے میری بات پر کان نہ دھرے، مجھے امید ہے کہ آخر کار ہمارا پیغام سنا جائے گا اور میں اس راستے میں

استقامت کروں گا‘‘

وحدت اور علماء
معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرنے والے علماء سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’تعجب ہے کہ مختلف اسلامی ممالک اور بلاد اسلامی کے علماء اپنی عظیم تاثیر اور اپنیالہٰی و تاریخی ذمہ داری سے آج کیوں غافل ہیں اور قوموں کی تشنگی کو کیوں محسوس نہیں کرتے، جبکہ عصر حاضر میں انسانیت، روحانیت اور اسلام کے نورانی احکام کی پیاسی ہے۔۔۔۔ نسل عصر حاضر پر سائنس اور مادی تہذیب کی حاکمیت کی اسی چکا چوند میں بلاد اسلامی کے علماء، خطیب، آئمہ جمعہ اور مسلمان روشن فکر افراد، وحدت، یگانگت، احساس ذمہ داری اور عوام کی ہدایت و رہبری کے عظیم فریضے سے عہدہ برا ہوکر دنیا کو قرآن کی حاکمیت اور حلقہ اثر میں لاسکتے ہیں۔۔۔۔ چاہئے کہ لاحاصل نوشتن و گفتن، تفرقہ انگیز باتوں، ظالم حکمرانوں کی مدح و ثناء، محروم انسانوں کو مسائل اسلامی سے بدگمان کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں نفاق پیدا کرنے کے بجائے اسلام کے نورانی احکام کی تحقیق اور نشر و اشاعت کے لئے ہمت باندھیں، اسلامی اقوام کے کے بحر بیکراں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی عزت کو بھی اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعتبار کو بھی پائیدار بنائیں۔‘‘

ایک جگہ اور علماء کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’اولین و شرعی وظیفہ یہ ہے کہ انقلابی، دینی طلباء اور علماء کے اتحاد و یگانگت کو باقی رکھا جائے، ورنہ شب تاریک سامنے ہے اور خطرے کی لہریں اور گرداب ارد گرد ہیں‘‘
امام خمینی ()اس بات کو علماء کو باور کرا دینا چاہتے تھے کہ علماء ہی وہ طبقہ ہیں جن کا براہ راست رابطہ عوام سے ہے اور اسی لئے علماء کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے:
’’ علماء و آئمہ جمعہ و جماعت سے میری گزارش یہ ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ عوام میں وحدت کا محور رہے ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج ہمیں ہر دور سے زیادہ وحدت کی ضرورت ہے۔‘‘