اتحاد اور اسلام

(سید رضا نقوی )
یہ مسلّم حقیقت ہے کہ آج عالم اسلام جن اہم مشکلات سے دوچار ہے ان میں سے ایک اسلامی اتحاد کا فقدان ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ آئمہ علیہم السلام اپنی پوری زندگی میں قرآن کریم اور سنت نبوی(ص) کی بنیاد پر جس چیز کے تحقیق کی سعی و کوشش کرتے رہے وہ اسلامی قوانین کے دائرہ میں امت اسلامی کا اتحاد تھا تو بےجا نہ ہو گا، ان عظیم ہستیوں کا مقصد یہ تھا کہ کمین گاہ میں چھپے دشمن سے اسلام کی عظمت و عزت کی حفاظت کریں، امت اسلامی کو رشد کی منازل طے کرنے

کی راہ کی طرف راہنمائی اور اسلام کے دشمن سے مقابلے کیلئے آمادہ کریں اور اسلام کی نصرت و فتح کی جانب پہلے قدم کا نام ہی وحدت ہے۔ اسلامی اتحاد یا دوسرے لفظوں میں اسلام پر عمل پیرا مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد و وحدت ہی وہ طاقت ہے جو خدا کے بعد مسلمانوں کے لئے تہذیب اور تمدنوں کے مقابلہ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اتحاد ہی اسلام کی عظمت و سربلندی کا ضامن ہے، مسلمانان عالم کے درمیان اتحاد کا فقدان اور ایک دوسرے سے نبرد آزمائی دشمن کو مضبوط کریگی، اس بات سے شاید ہی کوئی ہو جو اس حقیقت سے ناآشنا ہو۔ دوسری جانب اگر کوئی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا مخالف نظر آئے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اسلام کا نہیں بلکہ دشمنان اسلام کا خیرخوا ہ ہے۔

امت مسلمہ کے پاس اپنے وجود اور اپنے حقوق کے دفاع کے تمام وسائل موجود ہیں۔ مسلمان آبادی کے لحاظ سے زیادہ تعداد میں ہیں، وہ قدرتی وسائل کی نعمتالہٰی سے مالا مال ہیں۔ روحانی اور توکل خدا سے سرشار روحانی ہستیاں مسلمانوں کو استعمار وقت کے سامنے ڈٹ جانے کی نہ صرف ترغیب دیتی ہیں بلکہ حوصلہ و جذبہ بھی بیدار کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس قدیم تہذیب و تمدن ہے جو دنیا میں کم نظیر ہے، ان کے پاس لا محدود وسائل ہیں، بنابریں صلاحیت کے اعتبار سے مسلمان اپنے دفاع پر قادر ہیں۔لہٰذا عالم اسلام کو عظمت رفتہ کے حصول کیلئے پیش قدمی کرنی چاہیئے، خودمختاری اور آزادی کیلئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ "وعداتک لعبادک منجزہ” (اپنے بندوں سے کیا جانے والا تیرا وعدہ بالیقیں پورا ہونے والا ہے،) یہ وعدہ الہٰی ہے۔ یہ حتمی وعدہالہٰی ہے کہ "ولینصرن اللہ من ینصرہ” (اللہ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی نصرت کرے گا، ( اس وعدے پر یقین کامل کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھیں۔ میدان عمل میں قدم رکھنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ ہتھیار اٹھا لئے جائیں۔ اس سے مراد فکری، عقلی، علمی، سماجی، سیاسی میدانوں میں ایک ساتھ جدوجہد کا آغاز ہے، اور یہ سب خالصتاً صرف اور صرف خدا کیلئے ہونا چاہیئے یہ سب کچھ اللہ تعالی کے لئے اور عالم اسلام کے اتحاد کی راہ میں انجام پائے۔ اس عمل سے نہ صرف مسلمانان عالم کو فائدہ ہوگا بلکہ اسلام کو بھی تقویت ملے گی۔

قرآن مجید نے اتحاد و وحدت کے نظریہ اور اختلاف کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، جہاں اس نے انسانی تاریخ میں اختلاف کے نتائج کی وجوہات کو بیان کیا ہے وہیں ان وجوہات کو دور کرنے کے طریقے بھی بیان کئے ہیں۔ اسی طرح وحدت کے مسئلہ کا راہ حل بھی بیان کیا ہے، گویا اسلامی معاشرے میں اتحاد اور اختلاف کا مسئلہ اور مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنے کی راہیں، قرآن کی نظر سے دور نہیں رہی ہیں۔ ”اگر تیرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت قرار دیتا، حالانکہ وہ ہمیشہ اختلاف میں رہے ہیں مگر وہ لوگ جن پر تیرے پروردگار نے رحم کیا اور اسی کے لئے ان کو پیدا کیا ہے“۔(القرآن)۔ جیسا کہ آیت قرآن سے واضح ہو جاتا ہے کہ اول روز سے اختلاف کا عنصر موجود رہا ہے اور وہ خود کسی دوسری علت کا معلول ہے جس کو خدا نے انسان کی زندگی پر مسلط کیا ہے اور وہ قانون وہ ہی قانون امتحان اور آزمائش ہے، ایسے قانون کو ہی امتوں اور صالحین کے کمال و رشد تک پہنچنے کی راہ قرار دی جا سکتی ہے۔

قرآن کی نظر میں تفرقہ اور اختلاف کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو ایک سبب شیطان کی ولایت اور اس کو قبول کرنا جس کو سورہ نساء کی ۱۱۹ ویں آیت میں ابدی اور آشکار نقصان بیان کیا گیا ہےـ’’ اور جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا ولی اور سرپرست بنائے گا وہ کھلے ہوئے خسارہ میں رہے گا۔‘‘ دوسرے سبب کو سورہ انعام، شعراء، مومنون، سبا اور توبہ میں بیان کیا ہے یعنی طاغوت اور استکبار کی اطاعت۔ تیسرا سبب اہل کتاب، کفار اور ظالمین کی ولایت جس کو سورہ ممتحنہ، آل عمران، نساء میں بیان کیا گیا ہے۔ اہل کتاب اور کفار کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے کو منع کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ دوستی کو مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب بیان کیا ہے۔ خود قرآن کی نظر میں اگر انسان توحید اور دینی تعلیمات سے تمسک اختیار کرے تو ان کے درمیان اختلاف نہیں رہے گا اور دین کے تمام احکام آدم سے لیکر خاتم تک سب کے ہدف کی ایک ہی بنیاد رہی ہے۔ سورہ آل عمران اور بقرہ میں آدم، نوح ،ابراہیم اور عمران کی اولاد کو ایک دوسرے کی نسل سے جانا گیا ہے اور ”لا نفرق بین احدھم“ اور ”لا نفرق بین احد من رسلہ و نحن لہ مسلمون“ کے عنوان سے سب کو یاد کیا گیا ہے۔

مشاہدہ کرنے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ سب قرآن پر عمل پیرا ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں، اسلام کی تعلیمات کو مانتے بھی ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان تعلیمات کا پابند ہونے کے دعویدار بھی ہیں لیکن جس چیز کا فقدان نظر آتا ہے وہ ہے وحدت ۔۔۔۔۔ بھائی چارگی کا دور دور تک نام و نشاں نظر نہیں آتا ہے، عیاش، جاہل اور توسیع پسند حکمرانوں سے دوستی کو فخر سمجھتے ہیں، استعمار کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیا ہوا ہے۔۔۔۔۔کیسے مسلمان ہیں ہم؟ امام خمینی ()نے فرمایا، "تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد و وحدت کلمہ رحمان کی طرف سے”۔ کاش مسلمان یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کی سربلندی اورمسلمانوں کی سربلندی کا راز صرف اور صرف اتحاد میں مضمر ہے۔