پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اسوہ حسنہ

(قاضی فیاض حسین علوی )

اُسوہ اور آئیڈیل نظریات اور کلیات کو روح عطا کرتا ہے، اچھا نمونہ عمل لوگوں کو بُرے نمونوں کے سراغ میں جانے سے روکتا ہے اور اچھا آئیڈیل ہی عملی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ تربیت کا بہترین اور اہم ترین طریقہ کامیاب اور صحیح نمونوں (آئیڈیلز) کی نشاندہی ہے۔ آئیڈیل اور نمونہ عمل کی تلاش انسان کی اساسی اور طبیعی ضروریات میں سے ہے، جس کا احساس آغاز ِطفولیت سے لیکر زندگی کے آخری لمحات تک مسلسل رہتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماحول، شرائط اور ضروریات زندگی کے پیش نظر نئے نئے آئیڈیل اور نمونہ عمل بنتے رہتے ہیں۔ انہی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ انسان بھی اپنی زندگی میں ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ جن لوگوں کا زندگی کے کسی مرحلہ میں کوئی آئیڈیل یا نمونہ عمل نہ ہو تو وہ اُن کی زندگی کا حیران کُن مرحلہ کہلاتا ہے، کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس سمت حرکت کریں؟ کتنی تیزی سے حرکت کریں؟ کس جہت پہ چلیں اور دورانِ حرکت درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کا کس طرح مقابلہ کریں؟ یہ سب باتیں انسان کو حیران و پریشان کر دیتی ہیں۔

صحیح و مناسب آئیڈیل اور نمونہ عمل کی شناخت ایک اہم مسئلہ ہے۔ انسانوں کی منزلِ مقصود کی طرف ہدایت کے لئے دینِ اسلام الفاظ کے سانچے میں قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوا اور اعمال و کردار کے طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کی شکل میں متجلّی ہوا ہے۔ جب کوئی انسان اسوہ حسنہ کو نہ پہچانے اور اسے زندگی کے تمام پہلووں میں اپنا مقتدا اور راہنما قرار نہ دے تو یقینی طور پر وہ منفی اور جھوٹے نمونوں کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے ان کی پیروی کرے گا، کیونکہ آئیڈیل اور نمونہ عمل کے بغیر زندگی ناممکن ہے۔
آئیڈیل کا انتخاب اتنا اہم مسئلہ ہے کہ چند انبیاء کرام علیہم السلام کا نام لینے کے بعد خداوند متعال آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستور دیتا ہے کہ ان کی ہدایت کی اقتداء کریں (فبھداھم اقتدہ )۔ (سورہ انعام/آیت٩٠)

ایک حدیث میں مذکور ہے کہ جسے محمد بن مسلم نے امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے:
”جو کوئی بھی خداوند متعال کی عبادت کیلئے تکلیفیں اٹھائے، لیکن جو پیشوا اللہ تعالٰی نے اس کیلئے مقرر کیا ہے اسے نہ مانتا ہو تو اس کی یہ تمام تر سعی و کوشش بارگاہِالہٰی میں مقبول نہیں ہے۔ وہ شخص خود بھی گمراہ ہے اور خداوند متعال کو اس کے اعمال ناپسند ہیں۔ (اصول کافی؛ج١ص١٨٢)
جو شخص بغیر اسوہ حسنہ کے سیرتِ طیبہ کو طلب کرتا ہے، وہ چاہے جتنی بھی کوشش کیوں نہ کرلے، پھر بھی کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ آئیڈیل اور نمونہ عمل کا انتخاب کئے بغیر کمال تک پہنچنا اور ترقی کی امید رکھنا بڑے دور کی گمراہی ہے۔ انسان جو ہمیشہ مضطرب اور پریشان ہے، راہ کو چاہ سے تشخیص دینے کیلئے ایک ایسے سرمشق اور آئیڈیل کی تلاش میں رہتا ہے جو اسے اس مشکل سے نجات دلائے۔
خداوند متعال نے متعدد بار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت کے بہترین اور عمدہ نمونوں کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ یہ نمونے فراموشی کے سپرد نہ ہو جائیں۔
ارشاد رب العزت ہے:
(وَاذکُر فی الکتاب اِبراھیم.؛ اور کتابِ خدا میں ابراہیم کا تذکرہ کرو.)۔ (سورہ مریم:آیت٤١)
دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
( وَاذکُر فِی الکِتابِ مَریَم ؛ اور پیغمبر کتاب میں مریم کا ذکر کرو)۔ (سورہ مریم:آیت١٦)
جی ہاں! نمونہ عمل (آئیڈیل ) کو دیکھنا، تخیلاتی اور ناممکن مطالب کو مجسم شکل عطا کرتا ہے۔
ختمی مرتبت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسوہ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ آپ (ص) تمام پہلؤوں اور مراتب کے لحاظ سے انسانِ کامل اور اعلٰی ترین مدارج پرفائز ہیں۔لہٰذا آپ (ص) انسانی معاشرے کیلئے سب سے بہترین، کامل ترین اور اعلٰی ترین اُسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہیں۔

خداوند متعال نے قرآن کریم میں رسولِ گرامی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُسوہ حسنہ ہونے کے عنوان سے یوں شناخت کروائی ہے:
(لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الآخر واذکراللہ کثیراً؛ مسلمانو! تم میں سے اس کیلئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے…)۔ (سورہ احزاب:آیت٢١)
اس آیت کے علاوہ سورہ ممتحنہ کی چوتھی اور چھٹی آیت میں بھی لفظ اسوہ حسنہ ذکر ہوا ہے۔
شیخ الطائفہ محمد بن جعفر طوسی ()مذکورہ آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں:
”اسوہ حسنہ سے مراد کسی شخص میں ایسی حالت یا صفت کا پایا جانا ہے کہ جس کی اقتداء دوسرے لوگ کریں۔ اسوہ حسنہ کا استعمال انسانوں کیلئے نمونہ عمل اور آئیڈیل کے طور پر ہوتا ہے۔ پس جو کوئی کسی اچھے اور اعلٰی نمونے (آئیڈیل) کو اَپناتے ہوئے اس کی پیروی کرے تو اس کے اعمال اور کردار بھی نیک و صالح ہو جاتے ہیں۔ (تفسیر التبیان ؛جلد٨،ص٣٢٨)

اگرچہ سورہ احزاب کی اکیسویں آیت، جنگ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، اور یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استقامت و پائیداری اور مشکلات کے مقابلے میں صبروتحمل سے متعلق ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُسوہ اور آئیڈیل ہونا صرف اسی جنگ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ (ص) کی ذاتِ اقدس قیامت تک پوری انسانیت کیلئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات اور قوانین و مقررات کی شناخت کا معیار ختمی مرتب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ آنحضرت (ص) کی سیرت اور کردار پوری انسانیت کیلئے اسوہ حسنہ اور قابل اتباع ہے۔

مذکورہ آیت کے ذیل میں چند اہم نکات کی جانب توجہ ضروری ہے:
1۔ آیہ شریفہ کا آغاز لفظ ِ”لقد” سے ہوا ہے، جس میں حرفِ ”لام” اور حرفِ ”قد” دونوں حتمی اور یقینی ہونے کے معنی میں ہیں۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے لیے یقینی طور پر اسوہ حسنہ ہیں، جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
2۔ لفظِ ”کان” کسی چیز کے ثابت اور دائمی ہونے کے معنی میں ہے۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام زمانوں میں اقوامِ عالم کیلئے اسوہ حسنہ ہیں۔
3۔ آیہ کریمہ میں خطاب ”لکم” لفظ سے ہوا ہے۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مخاطبین کیلئے یکساں طور پر اسوہ حسنہ ہونے کو ثابت کیا گیا ہے۔ لیکن تعبیر ”لمن کان” اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس اسوہ حسنہ سے صرف ان خاص شرائط کے حامل افراد ہی استفادہ کرسکتے ہیں۔

4۔ خداوند متعال نے یہ نہیں کہا کہ ”لکم رسول اللہ اسوۃ حسنۃ؛ تمہارے لیے رسول اللہ اسوہ حسنہ ہیں” بلکہ ارشاد فرمایا (لکم فی رسول اﷲ اُسوۃ حسنۃ؛ مسلمانو! تمہارے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے) تاکہ اس بات کی بخوبی وضاحت ہو جائے کہ تم لوگ رسول اللہ کی مانند تو نہیں

ہوسکتے، لیکن آنحضرت (ص) کی سیرت و کردار اور اخلاقِ حسنہ سے اپنے لیے اعلٰی نمونے حاصل کرسکتے ہو۔
5۔ لفظِ "اُسوہ” اچھے کاموں میں دوسروں کی پیروی کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ قرآن کریم میں دو عظیم الشان انبیاءِ الٰہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے استعمال ہوا ہے۔
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زندگی کے صرف ایک پہلو (شرک اور مشرکین سے برائت اور دوری اختیار کرنے) میں اُسوہ ہیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس زندگی کے تمام مراحل اور پہلؤوں میں اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہیں (چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی، عسکری ہو یا اقتصادی، معاشرتی ہو یا ثقافتی، دینی ہو یا دنیوی وغیرہ)۔
6۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے صرف باایمان افراد ہی بہرہ مند ہوسکتے ہیں۔ جس کا ذکر مذکورہ آیت کریمہ کے ذیل میں یوں ہوا ہے: (..لمن کان یرجو اﷲ والیوم الآخر واذکراللہ کثیرا…ً؛ جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے اور اللہ کوبہت زیادہ یاد کرتا ہے..)۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نبی گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے لیے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ ہونے کے عنوان سے فرماتے ہیں:
”ولقد کنت اتبعہ اتباع الفصیل أثراُمِّہ یرفع لی فی کل یوم من اَخلاقِہ علماً و یأ مُرنِی
بالاِ قتداء بہ؛ اور بتحقیق میں اُن (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پیچھے یوں رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے، آپ ہر روز میرے لیے اخلاقِ حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے۔”
(نہج البلاغہ خطبہ؛ ١٩٠؛ ترجمہ مفتی جعفر حسین)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام تمام مسلمانوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنے لیے اسوہ حسنہ کے عنوان سے انتخاب کرنے اور ان کی اتباع کرنے بارے فرماتے ہیں:
”فتاس بنبیک الاطیب الاطھر صلی اللہ علیہ وآلہ فان فیہ اسوۃ لمن تاس وعزی لمن تعزی واھب العباد الی اللہ المتاسی بنبیہ المقتص لاثرہ؛ تم اپنے پاک و پاکیزہ نبی کی پیروی کرو، کیونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والے کیلئے نمونہ اور صبر کرنے والے کیلئے ڈھارس ہے۔ اُن کی پیروی کرنے والا اور اُن کے نقش قدم پر چلنے والا ہی اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔” (نہج البلاغہ خطبہ ؛ ١٥٨؛ ترجمہ مفتی جعفر حسین)

آج اس پُرآشوب دور میں تمام مسلمانوں بالخصوص باایمان اور قوم و ملت کا درد رکھنے والے متحرک جوانوں کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا بغور مکمل مطالعہ کریں، اسے اپنے دل و دماغ میں سموئیں، اسے اپنا نمونہ عمل اور اسوہ و راہنما قرار دیں اور اسی کے پرنور سایہ میں اپنی زندگیاں سنواریں، کیونکہ دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی، مسلمانوں کی ترقی، عزت رفتہ کی بحالی اور دین اسلام کی پائیداری کا راز اسی میں مضمر ہے۔ یوں ہماری زندگی کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔ ظلمت و تاریکی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے اور نورانیت و روشنی ہماری پوری زندگی پر سایہ فگن ہوجائے گی۔ ہر طرف امن و سکون، صلح و سلامتی، بھائی چارے اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔

امام حسین علیہ السلام اپنی شیردل بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: ”ان لی ولکِ ولکل مومن ومومنۃ اُسوۃ بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؛ بیشک میرے، تمہارے اور سب مومن مردوں اور عورتوں کیلئے پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ایک مکمل نمونہ، اسوہ اور مکمل معیارِ زندگی ہے۔” ( الفتوح؛ ابن اعثم کوفی،ج٥،ص١٥٠ )
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال اس بارے فرماتے ہیں:
بلاتفریق تمام مسلمانوں کو چاہیے وہ اپنی زندگیوں کو اس معیار محمدی پر پرکھیں، اپنی اصلاح کریں اور دنیا بدل ڈالیں۔
تاکجا بی غیرت دین زیستن ای مسلمان مردن است این زیستن
مردحق باز آفریند خویش را جزبہ نورِ حق نبیند خویش را
برعیارِ مصطفٰی خود را زند تا جہان دیگری پیدا کند
( کلیات اشعار؛ ص٣٩٨)
بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہیں کہ ہمیں محمدو آل محمد علیہم السلام کو اپنے لیے اسوہ ٌحسنہ اور نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے صحیح معنوں میں ان کی سیرت ِ طیبہ پر عمل پیرا ہونےاور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دنیا میں ان کی معرفت و اطاعت، مرتے دم اُن کی زیارت اور آخرت میں ان کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین