سیرت رسول اکرم (ص) اور افکار امام خمینی ()

(سید رضا نقوی )

امام خمینی ()جن کی پیغمبرانہ سیرت اور مرسلانہ کرادر، عہد حاضر میں اسلام و قرآن کی تجدید حیات کا موجب بنا، اس بات میں کسی کو شک نہیں کہ امام خمینی ()نے اسلام کے نیم جاں پیکر میں نئی روح پھونک کر اسلام اور مسلمانوں کو سربلندی اور سرفرازی عطا کی۔ امام خمینی ()نے پرچم توحید کو اتنا بلند کر دیا کے کفر و منافق کے نجس ہاتھ اس تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ آخر ایک نحیف انسان کے اندر اتنی طاقت و ہیبت، عزم و حوصلہ، عزت و وقار، رعب و دبدبہ، شجاعت و شہامت، پامردی و ثابت قدمی، عاجزی و انکساری، بے نیازی و سربلندی، غیرت و حمیت، دیانت اور للّٰہیت کہاں سے آئی؟ اور اس راز کا جواب یہ ہے کہ امام خمینی ()نے اپنی ذات میں سیرت طیبہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات میں اس طرح سمو لیا تھا کہ جب انکی زندگی، تبلیغات، کامیاب نصب العین، انکی صلح و جنگ اور اس کے درخشان نتائج پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں سیرت طیبہ کے انمٹ نقوش ملتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام نے اپنے آقا و سردار کی سیرت کو اپنی روح میں جذب کرنے کیلئے "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ” کا مصداق بن گیا تھا۔

جو لوگ انقلاب اسلامی کے بارے میں ابھی تک تردد کا شکار ہیں، دراصل انہوں نے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کو سمجھنے میں کوتاہی کی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس دن سیرت طیبہ کو سمجھ لیا گیا اور اپنا لیا گیا، اس دن نہ صرف انقلاب اسلامی سمجھ میں آجائے گا بلکہ اس دن سے دنیا میں صرف اور صرف اسلام و قرآن کا بول بالا ہوگا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف دنیا بلکہ مسلمانوں سے بھی اسلام کے حقیقی نقوش پوشیدہ رہے، یا دانستہ طور پر

رکھے گئے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے تابندہ اور درخشاں نقوش کو جاننے اور اپنانے کی کوشش نہیں کی۔

اماخمینی ()فرماتے ہیں؛
’’انہوں نے برسوں اس بات کی کوشش کی ہے کہ اسلام کو مخفی رکھیں ۔۔۔۔ اسلام اپنی حقیقی شکل میں سامنے نہ آنے پائے ۔۔۔۔اگر اسلام اپنی حقیقی شکل میں پیش کیا گیا تو دوسرے تمام ادیان پیچھے رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔ انہوں نے طویل منصوبہ بندی کے بعد اسلام کی حقیقی شکل کو لوگوں سے چھپایا، حتی خود مسلمانوں سے بھی پوشیدہ رکھا۔۔۔‘‘
صحیفہ نور جلد ۵ صفحہ ۲۸۱
چشم و ابرو، رخ و رخسار سے ہٹ کر مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدق و گفتار اور حسن کردار جو انسان ساز ہے اور حیات بخشنے والا ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظلم و جور کا شکار، حالات کے مارے توہمات میں گرفتار ابن الوقتوں کے اسیر انسانوں کو نجات دلانے کیلئے تشریف لائے تھے
’’اور ان پر سے احکام کے سنگین بوجھ اور قیدوبند کو اٹھا دیتا ہے۔ سورہ اعراف ۱۵۷‘‘

وہ کفر و ظلمت کی اندھیری راتوں میں بھٹکتے انسانوں کو نور کی تابناک و دلفریب دنیا میں لانے اور خدا کی نشانیاں پیش کرنے، انکے نفوس کو پاک کرنے اور علم و حکمت کی دولت سے مالا مال کرنے کیلئے تشریف لائے تھے۔
’’یقینا خدا نے صاحبانِ ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر آیات الٰہیٰہ کی تلاوت کرتا ہے، انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ یہ لوگ پہلے سے بڑی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے‘‘ آل عمران ۱۶۴

ولادت پیغمبر (ص) دراصل ظلم و شرک کی شکست ہے
کائنات میں لاکھوں افراد روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور زیادہ تر ولادتیں ماحول و معاشرے پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال رہی ہوتی ہیں، لیکن کچھ ولادتوں کا اثر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جاسکتا ہے، جیسے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ۔۔۔۔۔ایک طرف ان کی ولادت خیر و برکت کا منبع اور رحمتوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتی ہے اور دوسری طرف ظلم و شرک کی نابودی کا مظہر بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ کی ولادت کیونکہ عدل و توحید کا سرچشمہ تھی، اس لئے ظلم و شرک پر کاری ضرب لگی۔
امام خمینی فرماتے ہیں:
’’ولادتیں مختلف ہوتی ہیں، ایک ولادت خیر و برکت کا مبدا ہے، ظلم کو نابود کرنے کا ذریعہ، بت کدوں کو ڈھانے اور آتش کدوں کو خاموش کرنے کی بنیاد ہے۔۔۔۔ جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت۔۔۔۔۔ اس زمانہ میں دو قوتیں تھیں، ظالم حکومت اور دوسری آتش پرست روحانی طاقتیں ۔۔۔۔ پیغمبر اسلام کی ولادت ان دونوں قوتوں کی شکست کا سرچشمہ بنی۔۔۔۔ صحیفہ نور جلد ۲، صفحہ ۲۱۴‘‘

بعثت رسول اکرم
انبیائےالہٰی کو کن بنیادوں پر مبعوث کیا گیا اور کس لئے اس دنیا میں بھیجے گئے، یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ جس کے جواب سے ہم نے پہلو تہی کی، اس کی وجہ یا تو ہماری کوتاہ فکری رہی یا پھر دشمن کی عیاری۔۔۔۔۔ کتابوں میں لکھے تاریخی واقعات، ضمنی اخلاقی کردار اور سیرت کو انکی رسالت و نبوت کا مقصد سمجھتے رہے حالانکہ قرآن ہمیں بار بار آواز دیتا رہا کہ
’’بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے۔ سورۃ حدید‘‘

اور امام خمینی ()نے اپنے افکار میں بعثت انبیاء (ع) کی تجلیات کو اجاگر کیا ہے اور مختلف مقامات پر فرمایا ہے کہ انبیاء (ع) ظلم سے ٹکرانے اور اس کا قلع قمع کرنے اور دیانت و عدالت قائم کرنے کیلئے تشریف لائے تھے۔ امام خمینی ()مقصد بعثت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جناب ابراہیم علیہ السلام کو ملاحظہ کریں کہ انہوں نے تمام بتوں کو توڑ ڈالا تھا اور اپنے زمانے کے قوی لوگوں سے عوام کی بھلائی کیلئے ٹکرا گئے تھے، تاکہ یہ لوگ عام انسانوں پر ظلم نہ کرنے پائیں۔‘‘ ’’حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور بادشاہ مصر فرعون سے ٹکرا گئے اور بادشاہ مصر کی طرح عوام کو خواب خرگوش میں سلایا نہیں بلکہ اپنے اسی عصاء اور تبلیغات کے ذریعہ اپنے عہد کے ظالم بادشاہ کے خلاف عوام کو لاکھڑا کیا‘‘

پیغمبر اسلام (ص) بھی انبیاء سلف کی مانند اسی مقصد کے تحت مبعوث ہوئے اور پوری زندگی جہاد و کارزار میں مصروف رہے۔ مکہ میں بعثت سے لیکر مدینہ ہجرت تک اور مدینہ میں زندگی کے آخری لمحات تک، اسی مقصد کو پیش نظر رکھا کہ ظلم کے خلاف قیام کریں اور دیانت و عدالت معاشرے میں قائم ہو۔
امام خمینی فرماتے ہیں:
’’جب پیغمبر اسلام (ص) حجاز میں تھے تو ابتدا میں جن طاقتور افراد سے مسابقہ تھا، ان میں سے ایک گروہ مکہ میں بہت مضبوط اور قوی تاجروں کا تھا اور ایک گروہ طائف میں تھا۔۔۔۔ابو سفیان اور اسکے جیسے سب حکام و سلاطین کی مانند تھے ۔۔۔۔ پیغمبر اسلام (ص) ان سے ٹکرا گئے۔۔۔۔۔اور پیغمبر (ص) نے انہی غریب انسانوں کو ان امیروں کے خلاف صف آراء کر دیا، جو عوام پر ظلم کرتے تھے‘‘ صحیفہ نور جلد ۲
یہی وہ سیاستالہٰیہ تھی جو مقصد مبعث انبیا (ع) رہی ہے اور افسوس کے ساتھ آج کا مسلمان اسی مقصد کو فراموش کرچکا ہے، مقصد رسالت بھول گیا ہے، اسلام مخالف طاقتوں نے اور ہماری نادانی نے ہمیں اسلام و قرآن سے اتنا دور کر دیا ہے کہ اب خود مسلمان ۔۔۔۔۔ اسلام کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوگیا ہے۔