ur

خودپسندی اور خودخواہی تمام مفساد کی جڑ ہے


خودپسندی اور خودخواہی تمام مفساد کی جڑ ہے
مصنف:ابراھیم امینی

انسان دو وجود اور دو خود اور دو میں رکھتا ہے ایک حیوانی وجود اور میں اور دوسرا انسانی وجود اور میں _ اس کا انسانی وجود اور میں اللہ تعالی کی ایک خاص عنایت ہے جو عالم ملکوت سے نازل ہوا ہے تا کہ وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ ہو_ اس لحاظ سے وہ علم اور حیات قدرت اور رحمت احسان اور اچھائی اور کمال کے اظہار سے سنخیت رکھتا ہے اور انہیں کا چاہنے والا ہے لہذا اگر انسان اپنے آپ کو پہچانے اور اپنے وجود کی قیمت کو جانے اور اسے محترم رکھے تو وہ تمام خوبیوں اور کمالات کے سرچشمہ کے نزدیک ہوگا اور مکارم اخلاق اور فضائل اور اچھائیوں کواپنے آپ میں زندہ کرے گا لہذا اس طرح کی خودپسندی اور خودخواہی کو برا نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس قسم کی خودپسندی اور خودخواہی قاتل مدح ہوا کرتی ہے کیونکہ در حقیقت یہ خودخواہی والی صفت نہیں ہے بلکہ در حقیقت یہ خدا خواہی اور خدا طلبی والی صفت ہے جیسے کہ پہلے بھی تجھے معلوم ہو چکا ہے اور آئندہ بھی تجھے زیادہ بحث کر کے بتلایا جائیگا، انسان کا دوسرا وجود اور مرتبہ حیوانی ہے اس وجود کے لحاظ سے انسان ایک تھیک تھاک حیوان ہے اور تمام حیوانی خواہشات اور تمایلات اور غرائز رکھتا ہے اس واسطے کہ اس جہان میں زندہ رہے اور زندگی کرتے تو اسے حیوانی خواہشات کو ایک معقول حد تک پورا کرنا ہوگا_ اتنی حد تک ایسی خودخواہی اور خودپسندی بھی ممنوع اور قاتل مذمت نہیں ہے لیکن سب سے اہم اور سرنوشت ساز بات یہ ہے کہ جسم کی حکومت عقل اور ملکوتی روح کے اختیار میں رہے یا جسم نفس امارہ اور حیوانی میں کا تابع اور محکوم رہے_

اگر تو جسم پر عقل اور انسانی خود اور میں حاکم ہوئی تو وہ حیوانی خود اور خواہشات کو اعتدال میں رکھے گا اور تمام انسانی مکارم اور فضائل اور سیر و سلوک الی اللہ کو زندہ رکھے گا_ اس صورت میں انسانی خود جو اللہ تعالی کے وجود سے مربوط ہے اصالت پیدا کرلے گی اور اس کا ہدف اور غرض مکارم اخلاق اور فضائل اور قرب الہی اور تکامل کا زندہ اور باقی رکھنا ہوجائیگا اور حیوانی خواہشات کو پورا کرنا طفیلی اور ثانوی حیثیت بن جائیگا لہذا خود پسندی اور خودخواہی اور حب ذات کو محترم شمار کرنا قاتل مذہب نہیں رہے گا ہو گیا تو وہ عقل اور انسانی خود اور میں کو مغلوب کرکے _ اسے جدا کر دیگا اور سراسر جسم ہی منظور نظر ہوجائیگا اس صورت میں انسان آہستہ آہستہ خدا اور کمالات انسانی سے دور ہوتا جائیگا اور حیوانی تاریک وادی میں جاگرے گا اور اپنے انسانی خود اور میں کو فراموش کر بیٹھے گا اور حیوانیت کے وجود کو انسانی وجود کی جگہ قرار دے دیگا یہی وہ خودپسندی اور خودخواہی ہے جو اقابل مدمت ہے اور جو تمام برائیوں کی جڑ ہوتی ہے
خود خواہ انسان صرف حیوانی خود کو چاہتا ہے اور بس _ اس کے تمام افعال اور حرکات کردار اور گفتار کا مرکز حیوانی خواہشات کا چاہنا اور حاصل کرنا ہوتا ہے_ مقام عمل میں وہ اپنے آپ کو حیوان سمجھتا ہے_ اور زندگی میں سوائے حیوانی خواہشات اور ہوس کے اور کسی ہدف اور غرض کو نہیں پہچانتا_ حیوانی پست خواہشات کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو آزاد جانتا ہے اور ہر کام کو جائز سمجھتا ہے اس کے نزدیک صرف ایک چیز مقدس اور اصلی ہے اور وہ ہے اس کا حیوانی نفس اور وجود_ تمام چیزوں کو یہاں تک کہ حق عدالت صرف اپنے لئے چاہتا ہے اور مخصوص قرار دیتا ہے اور بس _ وہ حق اور عدالت جو اسے فائدہ پہنچائے اور اس کی خواہشات کو پورا کرے اسے چاہتا ہے اور اگر عدالت اسے ضرر پہنچائے تو وہ ایسی عدالت کو نہیں چاہتا بلکہ وہ اپنے لئے صحیح سمجھتا ہے کہ اس کا مقابلہ کرے یہاں تک کہ قوانین اور احکام کی اپنی پسند کے مطابق تاویل کرتا ہے یعنی اس کے نزدیک اپنے افکار اور نظریات اصالت اور حقیقت رکھتے ہیں اور دین اور احکام اور قوانین کو ان پر منطبق کرتا ہے_
خودپسند اور خودخواہ انسان چونکہ فضائل اور کمالات اور اخلاق حقیقی سے محروم ہوتا ہے لہذا وہ اپنے آپ کو :جھوٹے کام اور مرہوم اور بے فائدہ اور شہوت طلبی مقام اور منصب حرص اور طمع تکبر اور حکومت کھانا پینا اور سنا اور لذات جنسی و غیرہ میں مشغول رکھتا ہے اور اسی میں خوشحال اور سرگرم رہتا ہے اور اللہ کی یاد اور اس کو کمالات تک پہنچانے کے لئے کوشش کرنے سے غافل رہتا ہے_

خودخواہ اور خودپسند انسان چونکہ نفس امارہ کا مطیع اور گروید ہوتاہ ے لہذا زندگی میں سوائے نفس کی خواہشات کی حاصل کرنے اور اسے جتنا ہو سکے خوش رکھنے کے علاوہ اس کی کوئی اور غرض نہیں ہوتی اور ان حیوانی خواہشات کے حاصل کرنے میں کسی بھی برے کام کے انجام دینے سے گریز نہیں کرتا اور ہر برے کام کی تاویل کرکے اسے جائز قرار دے دیتا ہے وہ صرف حیوانی خواہشات تک پہنچانا چاہتا ہے اور اس تک پہنچنے میں ظلم کرنے جھوٹ بولنے تہمت لگانے وعدہ خلافی کرنے دھوکا دینے خیانت کرنے اور اس طرح کے دوسرے گناہوں کے بجالانے کو جائز اور صحیح قرار دیتا ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر گناہ در حقیقت ایک قسم کی خودخواہ یا ور خودپسند ہے کہ جو اس طرح اس کے سامنے ظاہر ہوئی ہے مثال کے طور پر ظلم اور دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا خودخواہی اور خودپسندی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
اسی طرح جھوٹ غیبت بد زبانی عیب جوئی حسد انتقام لینا یہ سب پستیاں خود اور خودپسندی شمار ہوتی ہیں جو ان صورتوں میں نمایاں ہو کر سامنے اتی ہیں اسی لئے تمام برائیوں کی جڑ خودپسندی کو قرار دیا جاتا ہے۔
خودخواہی اور خودپسندی کے کئی مراتب اور درجات ہیں کہ سب سے زیادہ مرتبہ خود پرستی اور اپنے آپ کی عبادت کرنا ہوجاتا ہے۔ اگر اس بری صفت سے مقابلہ نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ شدت پیدا کرلیتی ہے اور ایک ایسے درجہ تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر اپنے نفس امارہ کو معبود اور واجب الاطاتمہ اور خدا قرا ردے دیتی ہے اور عبادت کرنے اور خواہشات کے بجالانے میں اطاعت گذار بنا دیتی ہے۔ خداوند عالم ایسے افراد کے بارے میں فرماتا ہے کہ ‘ وہ شخص کہ جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا قرار دے رکھا ہے اسے تو نے دیکھا ہے؟ _(۱)
کیا عبادت سوائے اس کے کوئی اور معنی رکھتی ہے کہ عبادت کرنے والا اپنے معبود کے سامنے تواضع اور فروتنی کرتا ہے اور بغیر چون و چرا کے اس کے احکام اور فرمایشات کو بجلاتا ہے؟ جو انسان خودپسند ار خود خواہ ہوتا ہے وہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے نفس کو واجب الاطائمہ قرار دیتا ہے اور اس کے سامنے تواضع اور فروتنی اور عبادت کرتا ہے بغیر چون و چرا کے اس کی فرمایشات کو بجالاتا ہے جو انسان خودخواہ اور خودپسند ہوتا ہے وہ کبھی موحد نہیں ہو سکتا۔

(۱)افرایت من اتخذ الہہ ہواہفرقان/ 43_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔