ur

رنج وراحت اللہ کی طرف سے


رنج وراحت اللہ کی طرف سے
مصنف:شھیدآیت اللہ عبدالحسین دستغیب

توکل کالازمہ یہ ہے کہ انسان سمجھ لے کہ> لَہُ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ اور وَ تَبارَکَ الَّذِی لَہُ مُلْک‏<کہ ہرچیزپر اس کی بادشہای ہےاور کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیزکلی اور جزئی طور پر اس کی ملکیت ہے اور اس کے مشئیت واردہ کے زیر اثر ہے جیساکہ سورہ نجم میں بعض جزی افعال کو اپنی طرف نسبت دیتے ہوئے فرماتاہے:> وَ أَنَّہُ ہُوَ أَضْحَکَ وَ أَبْکى‏<اور وہی ہے جس ہنساتابھی ہے اور رلاتا بھی.مطلب یہ ہے کہ تمام اسباب خندہ وگریہ کوبھی وہی فراہم فرماتاہے اور:> وَ أَنَّہُ ہُوَ أَغْنى‏ وَ أَقْنى‏< وہی مال و دولت عطا کرتاہے اور صاحب ثروت بناتاہے.
جس زمین پر آپ چلتے ہیں وہ بھی اس کی ہے جس گھر میں آپ رہتے ہیں وہ بھی اور ہر وہ چیز جوآپ کی ملکیت میں ہے آپ کی دولت وغیرہ وہ بھی اسی کی ہے .آپ کو اس کے علی الاطلاق مالک ہونے پر پختہ ایمان ہونا چاہئے.

علم کے بغیر عقیدہ توحید افعالی نہیں:
تاوقیتکہ آپ ان حقائق پر یقین نہ کریں ناممکن ہے کہ” لاحول ولاقوة الاباللہ” کے حقیقی مفہوم کو سمجھ سکیں.انسان کو چاہئیے کہ تمام وسائل واسباب کو کلی اورجزی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھے اس حقیقت پر یقین کامل ہونے سے اسے صحیح مفہوم میں معلوم ہوگا کہ” لاحول ولاقوة الاباللہ”کا مطلب غیر اللہ کی قدرت وطاقت کی مطلقا نفی ہے.لفظ لا”نفی جنس”کا معنی دیتاہے کہ ہرگز ہرگز کوئی بھی قوت اللہ کے سواکسی کو حاصل نہیں سب قوتوں کامنبع وسرچشمہ اور خالق ومالک وہی ہے.
مراتب وجود میں سے کوئی مرتبہ بھی اپنی ذات میں مستقل نہیں ہے.انسان کا زبان کو خیش دینا اور اس سے لفظ اداکرنا بھی صرف اسی کی مشیئت سے ممکن ہے.

منہ کھل کے بند نہیں ہوا:
چنددن ہوئے ایک خاتوں کوعلاج کے لئے لایاگیا.ان کے منہ کاجبڑالٹکا ہواتھا ان کا کہنا تھا کہ جمائی کے لئے منہ کھولاتھا لیکن پھربندنہ ہوسکا.
سچ ہے کہ دونوں جبڑوں کو باہم ملانا بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے خلاصہ بحث یہ ہے کہ امور میں اسباب کے صرف مستقل بالذات ہونے کی نفی کریں.لیکن انہیں بالکل ہی نظر انداز نہ کردیں.
اسباب غیب کے زیر اثر ہیں جوکچة غیب میں اللہ کی مشئیت میں ہوگا وہی ظہور میں آئے گا.اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے بہت تفکر وتدبر کی ضرورت ہے.

سورۀ توحید کی اہمیت:
قرآن مجید کا تقریباًایک تہائی توحید کے بارے میں ہے اور سورۀ توحید کی اتنی اہمیت ہے کہ معتبر روایات کے‌مطابق اس کی تلاوت کاثواب ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے یعنی اگر کوئی شخص قرآن مجید کے ایک تہائی کا جمال چاہئے تو سورۀتوحید ہے جس کی تفصیل ایک تہائی قرآن کی حامل ہے.
یہ ثواب کس کے لئے ہے صرف اس کے لئے ہے جواہل توحید ہو.سورۀتوحید کو ایک بارپڑھ کر ثلث قرآن اور اسے تین مرتبہ تلاوت کرکے پورے قرآن مجید کی تلاوت کے ثواب کامالک بن جاتاہے.
جیساکہ ہم نے بیان کیا کہ حوقلہ”لاحول ولاقوة الاباللہ”بہشت کے دروازے کی چابی ہے لیکن صرف اس کے لئے جوتوحید کی عملی حقیقت کوجان چکاہو ورنہ ایک جاہل انسان جس کی عقل درست نہ ہو جاہلانہ طورپر لاحول ولاکا ورد کرکےجنت کی چابی کیسے حاصل کرسکتاہے.

ابراہیم خلیل اللہ متوکلین کے لئے سرمایہ افتخار ہیں:
توکل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کو کسی دنیا وی وکیل سے کم تر نہ جانے دوسرا درجہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پرکم از کم اتنا انحصار کرے جتنا ایک بچے کااپنی ماں پرہوتاہے.اس کا تیسرا درجہ خاصان خداسے مخصوص ہے جن کی ملکیت اور اوڑھنا بچھونا صرف رضائے الہیٰ ہے وہ صرف وہی کچھ کرتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی مشیئت ہوتی ہے.
توکل کے اس مقام پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ فائز تھے کہ جس وقت نمرود یوں نے آپ کو آگ میں پھنکنا چاہا تو جبرئیل نازل ہوئے اور انہوںت نے آپ سے کہا کہ اگر آپ کی کوئی حاجت ہو تو فرمائیں .فرمایا ہے تو سہی لیکن تم سےنہیں جبرئیل نے کہا پھر کس سے ہے؟آپ نے جواب دیا “(حسبى عن سؤالى‏علمہ بحالى “اس کو میرے حال کی خبر ہے ،سوال کی ضرورت نہیں وہ خود دانا وبینا ہے جوکچھ وہ چاہتاہے میں بھی وہی چاہتاہوں.

کیاہم نے کبھی سچ بولا؟:
ہم نے زندگی میں ہزاروں با حسبی اللہ ونعم الوکیل کہا ہوگا میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اوروہ بہترین وکیل ہے.لیکن کیا عملی طور پر کبھی ہم نے اسے اپنے دنیاوی یا خروی امور میں کلی ای جزئی طور پر اپنا وکیل سمجھا؟.
کیا ہم نے قرآن مجید کے فرمان> فَاتَّخِذْہُ وَکِیلا<کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا وکیل بناؤ.پر کبھی عمل کیا ؟اور اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر اغراض واضطراب اور ترددوتذبذب کیسا؟یقین جانیے کہ اس سب کچھ کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ عقیدہ ویقین کی کمی اور ضعف ایمان ہے.

متوکل لالچی نہیں ہوتا:
لیکن مقام عمل میں اگر کسی کو توکل نصیب ہوجائے تو اپنے لوازمات امور میں بھی وہ حرص اورلالچی سے باز رہتاہے.
عدة الداعی میںہے،حجة اولوداع کے موقعہ پر نبیﷺ نے خانہ کعبہ کی چوکھٹ کو پکڑا او رصحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:روح الامین نے میرے دل میں الہام کیا ہے کہ کوئی شخص نہیں مرےگا تاوقتیکہ اس کا اس دنیاسے رزق ختم نہ ہو یعنی کوئی شخص اپنے مقدر رزق کا آخری لقمہ کھانے سے پہلے نہیں مریگا.لہذا خدا سے ڈرو اور حرص نہ کرو مبادا احرامخوری میں مبتلا ہوجاؤ” أَلَا وَ إِنَّ الرُّوحَ الْأَمِینَ نَفَثَ فِی رُوعِی أَنَّہُ لَنْ تَمُوتَ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَکْمِلَ رِزْقَہَا فَاتَّقُوا اللَّہَ وَ أَجْمِلُوا فِی الطَّلَب‏”لیکن اگر کسی شخص کا تکیہ اسباب دنیا پر ہو تو اسے جتنا بھی ملے سرنہ ہوگا گویا اسے کچھ ملا ہی نہیں.
میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ اپ روزگار کی تلاش میں نہ نکلیں ضرور جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کے توکل پر جائیں،صرف سبب کے آسرے پر نہ جائیں.

وکیل کی اطاعت ضروری ہے:
توکل اور سبب کو جمع کرنے کے بارے میں اس مثال پر غور کیجئے آپ کسی سخت قانونی الجھن سے دوچار ہیں جس سے نمٹنا آپ کے اپنے بس کا روگ نہیں ہم نے آپ کو مشورہ دیا کہ کوئی دانا ہوشیار اور ہمدرد وکیل تلاش کیجئے اور اس کے مشورے پر عمل کیجئے تو آپ کا یہ عمل نہ صرف یہ کہ توکل کے منافی نہیں ہوگا ،بلکہ آپ کے لئے اس کے مشورے پر عمل بھی ضروری ہوگا کیونکہ وکیل خودایسا چاہتاہے اور آپ کا عمل اس کے حکم کے مطابق ہے نہ کہ اس کی مخالفت میں اور اس تدبیر سے وکیل آپ کے کام کودرست کرنا چاہتاہے.
اس مثال سے ثابت ہوگیا کہ وکیل کے حکم کی تعمیل میں اسباب کی پیروی توکل کے منافی نہیں اوریہی اللہ تعالیٰ کی بہمی سنت ہم کہ وہ اسباب کے ذریعے اپنے بندوں کے امور کی اصلاح فرماتاہے.” ابى اللَّہ ان یجرى الامور الّا باسبابہا”بیماری سے شفاء اللہ تعالیٰ دیتاہے لیکن طبیب کے پاس جانے اور دوالینے کی ہدایت بھی فرماتاہے اور اس امر میں اس نے غفلت کی مذمت بھی فرمائی ہے.اسی طرح امرآخرت کے بارے میں فرمااہے کہ بہشت میں جانے کے لئے انسان کا توکل اللہ تعالیٰ پر ہے سچ تویہ ہے کہ آپ کا وکیل خود فرمارہاہے کہ آپ کا جنت میں جانا آپ کے اعمال پر موقوف ہے.
> أَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى‏<لیکن آپ اپنی نجات کا انحصار صرف عبادت پر نہ رکھیں بلکہ اس میں بھی بھروسہ اس کے لطف وکرم پرکریں انپے عمل کو نہ دیکھیں کہ اس سے غرور وعجب پیدا ہوگا جو ہلاکت کا سبب بن سکتاہے لہذا جو اس کا حکم ہو بسر وچشم اس کی تعمیل کریں.

خالی دوکان میں اللہ کے سہارے:
یہی وجہ ہے کہ مزدور لوگ جب کسب معاش کے لئے گھر سے نکلتے ہیں تو کہتے ہیں اسے پروردگار رزق کے لئے حرکت و کوشش ہم کرتم ہیں اس میں برکت توعطافرما یہ الفاظ تو حیدی ہیں.ان کی تکرار وتعمیل سے انسان موحدبن سکتاہے.
روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک شخص نے حضرت امام جعفرصادق سے تندگدستی کی شکایت کی آپ نے فرمایا:جب تو کوفہ واپس پہنچے تو ایک دوکان کرایہ پر لے اور اس میں بیٹھ .اس نے عرض کیا میرے پاس سرمایہ نہیں آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا؟جوکچھ تجھ سے کہا گیا ہے اس کی تعمیل کر.اس نے ایساہی کیا اور ایک دکان میں بیٹھ گیا ایک شخص کوئی جنس لے کر اس کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا .اسے خرید وگے وہ بولا میرے پاس پیسے نہیں ہیں صاحب جنس نے کہا:پیسےبیچنے کے بعددے دینا اور اپنا حق عمل بھی وصول کرلینا.
ایک دوسرا شخص کوئی اور جنس لے کر آگیا پھر تیسرا پھر چوتھا .دوسری طرف سے خریدار بھی آگئے اور تھوڑی ہی مدت اس کے پاس کافی سرمایہ ہوگیااور اس کے حالات سنور گئے.

بے کار جوان خدا کادشمن ہے:
بعض لوگ ایسے ہیں کہ کہیں سےسن لیا کہہ اللہ پر توکل ضروری ہے اورمغالطہ میں مبتلا ہوکرہاتھ پرہاتھ دھر کربیٹھ گئے کہ خدادے گا لیکن توکل کیا معنی نہیں ہے .ہم کہتے ہیں کہ کام ضرور کرنا چاہئے لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نہ کم کویا مثلا فیکڑی یا کراگاہ کو رازق سمجھ کر.
سچا مسلمان جوکام بھی کرتاہے محض اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ بمطابق فرمان نبوی:” إِنَّ اللَّہَ یُبْغِض‏الشَّابُّ الْفَارِغَ “بےکار نوجوان خدا کا دشمن ہے اس لئےت وہ کسب معاش کے لئے کام تلاش کرتاہے اور اس کے لئے ضروری اسباب اختیار کرتاہے.

اہل علم کی روزی غیب سے!:
کوئی شخص یہ اعتراض نہ کرے کہ پھر اہل علم کیوں دوسروں کی طرح کسب معاش نہیں کرتے؟کیونکہت حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں طالب علمی کاکام کسب معاش کے تمام کاموں سے منافات رکھتاہے یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص مختلف کام بھی کرے اور صحیح معنوں میں فقیہ بھی بن سکے.
بلکہ اسم‌ساراوقت حقائق دینی کی تحصیل میں خرچ کرنا چاہئے.اللہ تعالیٰ ان کے رزق کو> مِنْ حَیْثُ لا یَحْتَسِب‏<وہاں سے جہاں کا سان گمان نہ ہو،مہیا فرماتاہے .چنانچہ روایا میں ہے”طالبعلم کے سواا ہرشخص کارزق اللہ تعالیٰ نم اسبا دنیامیں منحصر فرمایا ہے”.کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ اپنا ساراوقت دینی امور کے لئے وقف کرے.

توکل اسباب پر منحصر نہیں:
توکل کی علامات میں سے ایک علامت عدم حرص ہے.دوسری علامت یہ ہے کہ ملنے سے اس کی کیفیت میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا.بعض اوقات انسان خود کو اہل توکل سمجھتا اور اپنا تمام ترتیکہ ذات الہیٰ پر جانتاہے لیکن عملاً جب وہ کسی کی پیروی کرکے حصور مقصود میں ناکام ہوتاہے تو رنجیدہ ہوجاتاہے یہ علامت اس حقیقت کی ہے کہ اس کا تکیہ سب پر تھانہ کہ اللہ تعالیٰ پر اگر توکل محض خدا ئے تعالیٰ پر ہو تو سبب کی ناکامی کومشیئت ایزدی سمجھ کر زبان شکایت درازنہ کرے کیونکہ عین ممکن ہے اس بب میں مصلحت نہ ہو نے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے سبب سے اس کےمقصد کا حصول مقدر فرمایا ہو.دوسری طرف ارگ اسے اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی ہوئی لیکن اسے اس نے صرف سبب کا مرہوں منت سمجھا اور شکرخدا سے قطع نظر کرکے سبب ہی کی مدح وثنا کی تویہ علامت اس حقیقت کی ہے کہ سارم کا سارتکیہ سب پر تھانہ کہ مسبب الاسباب پر.

ضعف ایمان کی باتیں:
اسبا ب کی تعریف یا مذمت میں مبالغہ بھی عدم توکل کی علامت ہے اور توحید پر عدم ایمان یا ضعف ایمان کی دلیل ہے .کیونکہ اگر توحید پر ایمان ہوتو توکل بخی درست ہے اور اگر توکل درست ہوجائے تو انسان کے کردار و گفتار میں جھلکنے لگتاہے اور اس کی پندوناپسند میں منعکس ہوتاہے.
اگر کسی کو کسی سبب سے کوئی فائدہ حاصل ہولیکن وہ مشیئت ایزدی کاشکرگذارہونے کی بجائے سب کا احسان مند ہو اور صرف اسی کی تعریف میں رطب السان ہو تو وہ مشکر ہے اور اگر سب سےمایوس ہوکر اس کی مذمت کرنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنا مشکل کشااللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کو سمجھا ہواتھا اور جب اس سے مایوس ہوا تو اس کی مذمت کرنے لگا یہ خصلت انسانوں میں عموماً پائی جاتی ہے.
لیکن جس کی امید صرف اللہ تعالیٰ سے ہو اور وہ حصول مقصد کے لئے کسی سبب کاسہار لے کر اس میں ناکام ہوتو سمجھ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشئیت نہیں تھی اور اگر اس مین کامیاب ہو تو بھی اللہ تعالیٰ ہی کا شکرگذا ہوتاہے اور اسباب کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے جدا سمجھ کر انہیں مورد مدح وذم نہیں سمجھتا.

توکل کا حصول واجب ہے:
توکل واجبات میں سے ہے اور اس سے بے اعتنائی برتنے ولا ترک واجب کامرتکب ہے جس طرح توحیدپر ایمان لازم ہے اسی طرح توکل بھی ضروری ہے .اور حقیقت یہ ہے جو انسان صحیح معنوں میں موحد ہوجائے ،اسے توکل کا مقام بھی حاصل ہوجاتاہے .اور ایمان کے تمام لوازم سے بھی آراستہ ہوجاتاہے .ایمان بالتوحید کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان جملہ امور کو مشئیت ایزدی سےوابستہ سمجھے اسی سے امید وار ہو،اسی سے خائف رہے اور اسی پر توکل رکھے.
محقق اردبیلی زبدھ البیان میں فرماتے ہیں کہ توکل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا جوحکم وارد ہواہے وہ نبیﷺ سے مخصوص نہیں ہے کیونکہ آیۀ شریفہ> فَاتَّخِذْہُ وَکِیلا<سب کے لئے ہے اور اس کی شاہد دوسری آیات کریمۀ ہیں جن میں عوام النسا سے ایسا خطاب کیاگیا ہے مثلاً> فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ‏< یعنی تم سب اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اگر مومن ہو لہذا یہ حکم عمومی ہے.
یہاں ممکن ہے کہ یہ کہاا جائے کہ اس طرح کے یہ قرآنی احکام اخلاقی دستور کی حیثیت رکھتے ہیں.لیکن اس صورت میں پھر “لا الہ الا اللہ” کوبھی یہی کچھ ماننا پڑے گا.” لا الہ الا اللہ”کامطلب یہ ہے کہ رب،معبود،مدبر مدیر لائق پرستش اورقادر مطلق ہے صرف اللہ تعالیٰ ہے کوئی دوسرا نہیں ہم یہی توحید افعالی ہے تو کیا اس پر بھی ایمان نہ لانے والے کے لئے مواخذہ نہیں ہےت پس ہر امر میں توحید پر ایمان لازمی ہے.

مشورہ اور توکل:
محقق اردبیلی فرماتے ہیں کہ آیہ شریفہ:> وَ شاوِرْہُمْ فِی الْأَمْرِ فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّہ‏< کی روسے ضروری ہے کہمومن ہر امر میں دوسروں سے مشورہ کرے لیکن یہ بھی سمجھے کہ اس کے امر کا صحیح ترین اور مناسب ترین حل صرف اس مشورے ہی میں ہے بلکہ حقیقت میں اس کا تکیہ خدائے تعالیٰ پر ہونا چاہئے جو مشورہ دینے والوں کی زبانوں پر اس حل کو جاری فرماتاہے.
اگر مشورے کی وجہ سے اس امر میں آپ کاکیابی ہوئی تو یہ نہ کہئے کہ مشورے ہی وجہ سے ہے بلکہ یوں سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کی برکت سےمشورہ دینے والوں نے درست رائے دی اور اگر کامیابی نہ ہوئی تو جان لیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نہیں تھی.
غرضیکہ رائے آپ کی اپنی ہو یا کسی دوسرے کی،صرف مشورے پر انحصار نہ کیجئے بلکہ اللہ تعالیٰت سے بہتری کی امید رکھ کر اپنے معتمدین سے مشورہ کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مشیئت کے مطابق صحیح رائے دیں.

توکل نہیں تو ایمان نہیں:
بلکہ فرماتے ہیں کہ جسے توکل حاصل نہیں وہ ایمان سے محروم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:> وَ عَلَى اللَّہِ فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِین‏<اگر مومن ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرو.
لہذا اگر توکل نہیں تو ایمان بھی نہیں .اس کا مطلب یہی ہے کہ ایمان کی حقیقت اللہ تعالیٰ کو مسبب الاسباب ماننا ہے اور اس کا اولین اوربینادی تقاضا تکیہ برخاہے پس اگر آپ نے اپنی یا کسی دوسرے کی رائے کو مشیئت الہیٰ سے صرف نظر کرکے صرف فہم وفراست کی نظر سے دیکھا تو جان لیجئے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے جدائی اختیار کی او ر اس صورت میں جب آپ مومن ہی نہیں تو کل آپ کو کیسے نصیب ہوجائے گا.

ادّعابازرسواہوتا ہے:
ایک ساٹھ سالہ شخص جسے ہر علم میں استاد ہونے کا دعویٰ تھا اور خاص طور پر طب میں خود کو ارسطوئے زماں سمجھتا تھا اور عام طور پر کہتا تھا کہ قواعد طب کے مطابق اپنے جسم کے بارے میں اتنا محتاط ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ چالیس سال اور جیوں گا.
دوسرے روز ظہرکم وقت اس نے دہی اور کھیراکھایا(دانتوں سے یہ حضرت محروم ہی تھے)اس کے دل میں درد اٹھا بجائے اس کے یہ سمجھے کہ یہ دردسردی سے ہے،اس نے درد کی تشخیص یوں کی کہ چونکہ وہی صفراء کا تریاق ہے اور مجھے صفراء کا غلبہ ہے لہذا ممکن ہے کہ دہی پورے طور پر اسے درست نہ کر سکا ہو لہذا اس نے اوپر سے لیموں کارس پی لیا تاکہ اپنے خیال کے مطابق اعتدال مزاج قائم ہوجائے لیکن اسی روز عصر کے وقت اس کا نتقال ہو گیا.

پس محض اپنے فہم پربھروسہ نہ کریں:
جوشخص صرف اپنے فہم پر تکیہ کرتاہے باالفاظ دیگر یہ سمجھتا ہے کہ کوئی بالائی طاقت موجود نہیں جو کائنات کے امور کے مدبر ہو اور اس کے فہم یا ارادے پر غالب آسکے ایسی کیفیت میں مبتلا انسان ایمان سے بے نصیب ہے.
آپ کو چاہئے کہ جب بھی کوئی ارادہ کریں تو اپنے عقل و فہم یا دوسروں کے مشورے کی مددسے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں صرف سبب کو مستقل نہ سمجھیں کیونکہ نہ جانے اللہ تعالیٰ کی مصلحت اور اس کی مشئیت کیا ہے.
خلاصہ یہ کہ توکل نہ ہو تو ایمان بھی ممکن نہیں تو کل کامعنی دوسرے پر اعتماد ہے جوشخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتاہے وہ اپنے دوسروں کے‌اور ہر چز کے عجز کو خوب سمجھ کراپنا کام اللہ کے سپر کرتاہے اور اگر متوکل نہ ہو تو خدا کے سواسب کو کراکشاسمجھتاہے.
اعاذنا اللہ من ذلک ولاسلام