ur

شبیہ پیغمبر شہزادہ علی اکبرؑ

 

شبیہ پیغمبر شہزادہ علی اکبرؑ
گروہ محققین
حضرت علی اکبر وہ شخصیت جو نواسہ رسول ،باب شہر علم حضرت علی مرتضےٰ اور خاتون جنت سیدہ فاطمۃالزہراکے پوتےاورامام عالی مقام حسین علیہ السلام کے لخت جگرہیں،حضرت علی اکبرخوبصورتی کی لازوال مثال، شبیہ پیغمبر، شجاعت و بہادری میں باکمال اور اپنی مثال آپ تھے۔
آپکی شان بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا کسی بشر کی قدرت میں ہے اور نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے صفحہ قرطاس پر ثبت و ضبط کرسکے!!ان ذوات مقدسہ کی کما حقہ پہچان اہل عصمت ہی سمجھ سکتے ہیں (اہل البیت ادری ما فی البیت)۔
روایات کے مطابق حضرت علی اکبر ابن ابی عبداللہ الحسین (ع)کی ولادت باسعادت سن43 ھجری گیارہ شعبان المعظم کو مدینہ منورہ میں ہوئی (۱)آپ نواسۂ رسول امام حسین (ع) کے فرزند ارجمند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ نام لیلیٰ بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھی جو ام لیلیٰ کے نام سے معروف تھیـ

تاریخی کتابوں میںحضرت علی اکبر کا ذکر
معروف عالم دین طبری نے اپنی کتاب ’’ذیل المذیل‘‘ میں کہا ہے کہ علی اکبرفرزند حسین ابن علی اپنے والد گرامی کے ہمراہ کربلا میں ساحل فرات پر شہید ہوئے۔اسی طرح یعقوبی نے بھی علی اکبر کا ذکر کیا ہے ۔(۲)
نیز صاحب مروج الذھب جناب مسعودی اور سبط بن جوزی نے بھی یہی ذکر کیا ہے۔
واقعہ کربلا میںشھادت کے وقت حضرت علی اکبر (ع) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ـ بعض نے 18 سال ، بعض نے 19 سال اور بعض نے 25 سال کہا ہے.
ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ آپ شہادت کے وقت اٹھارہ سال کے تھے اس کے بعد نقل کرتے ہیں کہ ۲۵ سال بھی آپ کی عمر بتائی گئی ہے۔ شیخ مفید علیہ الرحمہ نے آپ کی عمر مبارک انیس سال بیان کی ہے اور علامہ مقرم لکھتے ہیں کہ آپ کربلا میں شہادت کے وقت ۲۷ سال کے تھے۔
صاحب اعیان الشیعہ نے آپ کا سن ولادت ۳۵ یا ۴۱ ہجری بیان کیا ہے اور علامہ مقرم نے آپ کی ولادت ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری بیان کی ہے۔ جبکہ جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی کتاب الارشاد میں علی بن الحسین علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام صفت جامع الکمالات کے مالک تھے آپ اپنے جدبزرگوارشیرخداحضرت علی مرتضیٰ اور اپنےوالدگرامی امام حسینؑ سے فضيلت و کمالات کے جوہر کسب کرتے رہے اور اس منزل پر پہنچ گئے کہ لوگ ثانی علی کہنے لگے۔(۳)
شکل و شمائل
حضرت علی اکبر(ع) کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ شکل و شمائل کے لحاظ سے کافی حسن الوجہ، خوبصورت ، اور انتہائی شیرین زبان اور پر کشش تھے، آپ علیہ السلام صورت ،سیرت ،حسن خلق اور تمام صفات حسنہ میں شبیہ رسول خداﷺتھےجس کسی نے پیغمبر اسلام (ص) کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا تو گمان کرتا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) ہیں۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری اپنے دادا امیر المومنین علیؑسے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات، اور خصوصیات کے مالک تھے(۴)
علی اکبر علیہ السلام شکل و صورت اور رفتار و کردار میں سب سے زیادہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مشابہ تھے آپ کے اخلاق اور چال چلن کو دیکھ کر لوگوں کو پیغمبرﷺ یاد آ جاتے تھے۔ اور جب بھی خاندان اہلبیتؑکے افراداور اہل مدینہ پیغمبر اسلام ﷺکی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو جناب علی اکبر کا دیدار کرتے تھے۔
رشد و کمال
جناب حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب (ع) کے مکتب اور اپنے والد امام حسین (ع) کے دامن شفقت میں مدینہ اور اسی طرح شہر مقدس کوفہ اور مسجد مقدس کوفہ میں تربیت حاصل کرکے رشد و کمال کے اعلیٰ و ارفع مقام کوحاصل کرلیا تھا۔
امام حسین (ع) نے آپکی قرآن اور معارف اسلامی کے تعلیمات کے مطابق تربیت کی تھی اور تمام معارف اسلامی ،سیاسی اور اجتماعی فرائض وغیرہ سے مجہز کرنے میں نہایت کوشش کی جس کے تمام دوست و دشمن سب معترف ہیں۔
حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے ان تمام کمالات کو میدان کربلا میں نہایت مؤثراور زیرکی سے اپنا کردار نبھایا اور دشمن کے ساتھ شدید جنگ کرتے رہے اور آپ نے اپنی آخری سانس تک امام حسین (ع) کے ساتھ دیے ـ(۵)
معرکہ حق و باطل میںعاشور کے دن یزید کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران حضرت علی اکبر ، اپنے ھاشمی ہونے اور اھل بیت (ع) کے ساتھ نسبت رکھنے پر افتخار کرتے ہوے یوں رجز خوانی کرتے تھے :
أنا عَلي بن الحسين بن عَلي نحن و بيت اللہ اَولي بِالنبيّ
أضرِبكُم بِالسّيف حتّي يَنثني ضَربَ غُلامٍ ہاشميّ عَلَويّ
وَلا يَزالُ الْيَومَ اَحْمي عَن أبي تَاللہِ لا يَحكُمُ فينا ابنُ الدّعي
عاشور کے دن بنی ھاشم کا پہلا شھید حضرت علی اکبر (ع) تھے اور زیارت معروفہ شھداء میں بھی آیا ہے : السَّلامُ عليكَ يا اوّل قتيلٍ مِن نَسل خَيْر سليل

تقوی اور پرہیزگاری
آپ عالم، پرہیزکار، رشید اورشجاع جوان تھے اورانسانی کمالات اوراخلاقی صفات کے عظیم درجہ پر فائز تھے۔ اس بات کی ثبوت یہ ہے کہ جب امام مظوم کربلا نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو ایک مخصوص موذن کا انتخاب فرمایا لیکن جب یہ قافلہ سرزمین کربلا پر پہنچا تو آخری موذن علی اکبر(ع) کو منتخب فرمایا:یہ آپکے بلند و رفیع درجات ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے پس اسی لیے آپ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے:
سلام ہو آپ پر اے صادق و پرہیزگار، اے پاک و پاکیزہ انسان، اے اللہ کے مقرب دوست، ۔۔۔کتنا عظیم ہے آپ کا مقام، اور کتنی عظمت سے آپ اس کی بارگاہ میں لوٹ آئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے راہ حق میں آپ کی مجاہدت کی قدر دانی کی اور اجر و پاداش میں اضافہ کیا اور آپ کو بلند مقام عنایت فرمایا۔ اور بہشت کے اونچے درجات پر فائز فرمایا۔
جیسا کہ اس [خدا] نے پہلے سے آپ پر احسان کیا اور آپ کو اہلبیت میں سے قرار دیا کہ رجس اور پلیدی کو ان سے دور کرے اور انہیں ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک رکھے۔
علی اکبر علیہ السلام کربلا کی تحریک میں اپنے بابا کے قدم با قدم رہے۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ مقام قصر بنی مقاتل پر امام حسین علیہ السلام موجود تھے، رات کے کسی پہر میں تھوڑی دیر کے لیے آپ کی آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو زبان پر کلمہ استرجاع [انا للہ و انا الیہ راجعون] جاری تھا۔
جناب علی اکبر علیہ السلام نے اس کا سبب پوچھا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی سوار یہ کہہ رہا تھا: یہ کاروان موت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ جناب علی اکبر نے پوچھا: بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں بیٹا۔ کہا:
جب ہم حق پر ہیں تو راہ خدا میں مرنے سے کوئی خوف نہیں ہے۔
مشہور ہے کہ بنی ہاشم میں سے پہلے میدان کارزار میں جانے والے جناب علی اکبر ہیں۔ جناب علی اکبر کا میدان میں جانا امام حسین علیہ السلام اور اہل حرم کے لیے بہت سخت تھا لیکن آپ کے جذبہ ایثار اور راہ اسلام میں فداکاری کا مظاہرہ میدان میں جائے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ جب جناب علی اکبر میدان کارزار کی طرف جا رہے تھے تو امام علیہ السلام مایوسی کی نگاہ سے آپ کو دیکھ رہے تھے اور آپ کے رخسار مبارک پر آنسوں کا سیلاب جاری تھا۔ اور فرمایا: بارالہا ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ان لوگوں کی طرف اس جوان کو بھیجا ہے جو صورت میں، سیرت میں، رفتار میں، گفتار میں تیرے رسول کی شبیہ ہے ہم جب بھی تیرے پیغمبر کی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو اس کے چہرے کا دیدار کرتے تھے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اس قوم کو بددعا کی اور فرمایا: پروردگارا ،زمین کی برکات ان سے چھین لے اور ان کی چند روزہ زندگی میں ان کے درمیان تفرقہ پیدا کر دے اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی جان پر ڈال دے۔ اور ان حکمرانوں کو ان سے راضی نہ کر۔ اس لیے کہ اس گروہ نے ہمیں دعوت دی کہ ہماری نصرت کریں لیکن ہمارے مقابلہ میں جنگ کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے عمر سعد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابن سعد خدا تمہاری نسل کو ختم کر دے۔ اور تمہارے کام میں کامیابی نہ ہو اور ایسے کو تمہارے اوپر مسلط کرے جو بستر پر تمہارا سر کاٹ دے۔ جس طریقے سے تم نے ہمارے ساتھ رشتہ کو کاٹا ہے۔ اور ہمارے رسول خدا [ص] کے ساتھ رشتہ کا خیال نہیں کیا۔
اس کے بعد خوبصورت آواز میں اس آیت کی تلاوت فرمائی:إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاہِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ* ذُرِّيَّۃً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّہُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔ (سورہ یونس ،آیت ٧١ )
بیشک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم، اور آل عمران کو تمام عالمین پر منتخب کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ ایسی ذریت ہے جو بعض کی نسل میں سے بعض ہیں۔ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔”
جناب علی اکبر علیہ السلام نے اپنے بابا سے اجازت طلب کی کہ اہل حرم کو الوداع کریں اور میدان کی طرف روانہ ہو جائیں [ مولا نے اجازت دی اہل حرم سے الوداع ہوئے تاریخ خاموش ہے کہ جناب علی اکبر بیبیوں سے کیسے رخصت ہوئے مگر میرا تصور یہ کہتا ہے کہ ایک کڑیل جوان کو مقتل میں جانے کے لیے ماوں بہنوں نے کیسے رخصت کیا ہو گا؟پھوپھی جناب زینب نے اٹھارہ سال جسے اپنی آغوش میں پالا اسے کیسے رخصت کیا ہو گا۔ جناب لیلیٰ نے بیٹے کی رخصتی کے وقت کیسے اسے بانہوں میں لیا ہو گا اور کیسے بین کئے ہوں گے، بہن سکینہ نے بھائی کو قتلگاہ بھیجتے ہوئے کیسے الوداع کیا ہوگا؟ یہ ایسا منظر ہے جسے الفاظ کے قالب میں بند نہیں کیا جا سکتا ہر باپ ماں اور بہن اس کا بخوبی تصور کر سکتے ہیں اور اپنے احساسات کے دائرے میں اس کی منظر کشی کر سکتے ہیں۔] آخر کار جناب علی اکبر علیہ السلام خیموں سے رخصت ہوئے اور میدان کارزار میں روانہ ہوئے اس حال میں کہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
انَا عَلىُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ عَلى نَحْنُ وَبِيْتُ اللَّہِ اوْلى بالنَّبِى
اطْعَنُكُمْ بالرُّمْحِ حَتَّى يَنْثَنى اضْرِبُكُمْ بالسَّيْفِ احْمى عَنْ ابى
ضَرْبَ غُلامٍ ہاشِمِىٍّ عَرَبى وَاللَّہِ لا يَحْكُمُ فينَا ابْنُ الدَّعى
میں علی، حسین بن علی کا بیٹا ہوں خدا کی قسم ہم پیغمبر اسلام ﷺکے سب سے زیادہ نزدیک ہیں۔
اس قدر نیزہ سے تمہارے اوپر وار کروں گا کہ ٹیرھا ہو جائے اور اس قدر تلوار سے تمہاری گردنیں ماروں گا کہ کند ہو جائے تاکہ اپنے بابا کا دفاع کر سکوں۔
ایسی تلوار چلاؤں گا جیسی بنی ہاشم اور عرب کا جوان چلاتا ہے۔ خدا کی قسم اے ناپاک کے بیٹے، تم ہمارے درمیان حکم نہیں کر سکتے۔
آپ نے اپنے شجاعانہ حملوں کے ساتھ دشمن کی صفوں کو چیر دیا اور ان کی چیخوں کو بلند کر دیا۔ نقل ہوا ہے کہ جناب علی اکبر نے سب سے پہلے حملہ میں ایک سو بیس دشمنوں کو ڈھیر کر دیا۔
جناب علی اکبر میدان میں بہادری سے حملہ کرتے اور پھر رجز پڑھتے جس کا مفہوم یہ ہے: جنگ کے حقائق آشکارا ہو گئے اس کے بعد سچے شاہد اور گواہ ظاہر ہوئے اس خدا کی قسم جو عرش کا پیدا کرنے والا ہے میں تمہارے لشکر سے دور نہیں ہوں گا جب تک کہ تلواریں غلاف میں نہ چلی جائیں
آپ نے سخت اور لاجواب جنگ کی اور اسّی لوگوں کو مزید ہلاک کر دیا اور آخر کار منقذ بن مرّہ عبدی کی کڑی ضربت کار آمد ثابت ہوئی دشمنوں نے اطراف میں حلقہ ڈال دیا اور تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
امام علیہ السلام میدان کی طرف دوڑ پڑے اور جناب علی اکبر کے بدن کے کنارے بیٹھ گئے اپنا چہرہ آپ کے چہرے پر رکھا اور کہا: خدا نابود کرے اس قوم کو جس نے آپ کو قتل کیا۔ کس چیز نے حریم خدا اور پیغمبر کو توڑنے کی جرأت دی ؟ اے بیٹا اب آپ کے بعد تف ہو اس دنیا پر۔
قارئین!جناب علی اکبر کی شخصیت اس آیت مجیدہ کے عین مصداق تھے (لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عندربہم یرزقون)
سلام ہو آپ پر اے شہید اول، اولاد ابراہیم کی بہترین ذریت میں سے۔ہمارا سلام ہو اس عظیم شہید پر جس کی شہادت نے بے جان اسلام میں نئی روح پھونک دی اور جس کے مصائب و آلام پر زمین و آسمان ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات نے گریہ کیا
خداوندا! ہمیں بھی اس عظمت ذات کے توسط سے اپنے نزدیک آبرومند قرار دے اور دنیا و آخرت میں آنحضرت کی ہمراہی نصیب فرما نیز روز قیامت آنحضرت اور ان کے باوفا جاں نثاروں کے ساتھ قرار دے ۔آمین یا رب العالمین
حوالہ جات
(۱)مستدرک سفينہ البحار (علي نمازي)، ج 5، ص 388، طبری ،ج٥ ،ص ٤٥٤
(۲)تاریخ یعقوبی، ج٢،ص ٢٣٣، طبع نجف ۔
(۳)منتہي الآمال، ج1، ص 375
(۴)منتہي الآمال، ج1، ص 373
ـ(۵)منتہي الآمال، ج1، ص 373؛ الارشاد (شيخ مفيد)، ص 459
…………………….