ur

ائمہ ھدیٰ علیہم السلام

مصنف
محمدحسین طباطبائی
ائمہ ھدیٰ علیہم السلام ،جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپؐ کے جانشین اوردین ودنیا کے پیشوا ہیں ،بارہ ہیں ۔اس سلسلہ میں شیعہ وسنی دونوں نے پیغمبر اکرم ؐسے بے شمار روایتیں نقل کی ہیں اور ان ائمہ میں سے ہر ایک نے اپنے بعد آنے والے امام کو معین فرمایا ہے۔

ائمہ علیہم السلام کے اسمائے گرامی
١۔حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام
٢۔حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام
٣۔حضرت امام حسین سید الشہداء علیہ السلام
٤۔حضرت امام سجادزین العابدین علیہ السلام
٥۔حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام
٦۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
٧۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
٨۔حضرت امام علی رضاعلیہ السلام
٩۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
١٠۔حضرت امام علی نقی علیہ السلام
١١۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
١٢۔حضرت امام عصر ،حجتہ بن الحسن ،عجل اللہ تعالی فر جہ الشریف

آئمۂ اطہار علیہم السلام کی عام سیر ت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بارہ امام ٢٥٠سال تک لوگوں کے درمیان تھے۔لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے دن سے ہی ان کے مخا لفین پیدا ہوئے اور ہر ممکن وسیلہ سے،خلافت کے عہدے کو غصب کرکے دین کے فطری راستہ کو منحرف کردیا اس کے علاوہ مذکورہ مخالفین کاگروہ ہر احتمالی خطرے کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے اوراپنی حکومت کی حفاظت میں ،اہل بیت پیغمبر اسلام کے نور کو ہر وسیلہ سے بجھانے کے در پے تھے ،ہر بہانہ سے ان پر دبائوڈالتے،جسمانی اذیتیں پہنچاتے ،حتیٰ یہاں تک کہ قتل کرنے کی کوششیںبھی کرتے تھے ۔اسی سبب سے ائمہ ھدی ،علیہم السلام عام اصلاحات کے سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے تھے ، یا اسلامی معاشرہ میں اسلام کے معارف و قوانین اور سیرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیع پیمانے پر پھیلانے سے قاصر تھے ۔
یہاں تک کہ امیرالمو منین حضرت علی علیہ السلام بھی اپنی ظاہری خلافت کے پانچ سال کے دوران ،اندورونی اختلافات اور طلحہ ،زبیر ، جیسے دعویداروں اوردیگر بانفوذ صحابیوں کی رخنہ اندازیوں کی وجہ سے ان سے خونین جنگیں لڑتے رہے اوراپنے عالی مقاصداور اصلاحات تک دلخواہ صورت میں نہ پہنچ سکے ۔
یہی وجہ ہے کہ آئمہ ھدیٰ خدا کی طرف سے اپنی مسئولیت اورذمہ داری کے مطابق معاشرہ میں عمومی تعلیم وتربیت ،خاص افراد کی تعلیم وتربیت اور معاشرہ کی عمومی اصلاحات،جیسے(حتی الامکان) امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے پر اکتفا کی۔یعنی دین کے معارف وقوانین کو کھلم کھلا طور پر معاشرہ میں بیان کرنے اورزمام حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیکر معاشرہ کو دین کی اعلیٰ مصلحتوں کے مطابق چلانے کے بجائے بااستعداد اورخاص افراد کی تربیت پر اکتفا کرتے تھے کیونکہ اس کے علاوہ ان کے لئے ممکن ہی نہیں تھا ۔وہ لوگوں کی خاطر وقت کی حکومتوں کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے قیام کیا کرتے تھے تاکہ اس طرح دین کو نابود ہونے سے بچالیں اورخدا کا نورانی دین ، تدر یجی طور پر خاموشی کے ساتھ نورافشانی کر تا رہے اور آگے بڑھتا رہے اور ایک دن پھر سے پہلی حالت پیدا کرکے دنیا کواپنے نورسے منور کردے ۔
ائمہ ھدیٰ علیہم السلام میں سے ہر ایک کی زندگی کے حالات اور امامت کے زمانے میں ان کی روش کی تحقیقات سے یہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے ۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام
عرف اورلغت میں ”اہل بیت ” اور مرد کا خاندان، مرد کے گھر کے چھوٹے معاشرے کے افرادکو کہا جاتا ہے،جن میں بیوی ،بیٹے،بیٹیاںاور نوکر شامل ہوتے ہیں جو مجموعی طورپر صاحب خانہ کے سائے میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔
بعض اوقات”اہل بیت”کے معنی کوعمومیت دے کراس لفظ کو اپنے قریبی رشتہ داروں جیسے باپ ،ماں ،بھائی،بہن ،چچا ،پھوپھی ،ماموں ،خالہ اور ان کی اولاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
لیکن قرآن مجید اور احادیث میں لفط کلمہ”اہل بیت”سے مذکورہ دو عرفی و لغوی معنی میں سے کوئی بھی معنیٰ مراد نہیں ہے ۔کیونکہ شیعہ و سنی سے منقول متواتر احادیث کے مطابق ”اہل بیت”ایک ایساعطیہ ہے جو حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت علی، حضرت فاطمہ زہرا،حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام سے مخصوص ہے۔اس بنا پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ اور دوسرے رشتہ دار،اگر چہ عرف و لغت کے لحاظ سے اہل بیت شمار ہوتے ہیں، لیکن اس اصطلاح کے اعتبارسے اہل بیت نہیں ہیں، یہاں تک کہ حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا،جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے زیادہ معّززو محترم بیوی اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی والدئہ گرامی تھیں اہل بیت میں شمار نہیں ہوتیں اور اسی طرح آنحضرتۖکے صلبی بیٹے حضرت ابراہیم بھی ”اہل بیت”کے اس زمرے میں شامل نہیں ہیں ۔
لیکن ان روایتوں اور دیگر احادیث کی روسے بارہ اماموںمیں سے دوسرے نو امام ،جو فرزندامام حسین علیہ السلام کی اولاد اورآپ کی نسل میں ہیں ،اہل بیت میں ہیں ۔اس بنا ء پر اہل بیت چودہ معصومین علیہم السلام ہیں اور معمولا ”اہل بیت پیغمبر”وہ تیرہ افراد ہیں جوپیغمبر کے بعدآپۖکی عترت کے طور پر مشہور ہیں ۔
پیغمبرۖکے اہل بیت علیہم السلام،اسلام میں بہت سے فضائل ومناقب اور نا قابل موازنہ مقامات کے مالک ہیں ،کہ ان میں سے درج ذیل دو مقام سب سے اہم ہیں :
١۔آیۂ شریفہ (…انّما یرید اللّہ لیذہب عنکم الرّجس اہل البیت ویطہِّرکم تطہیراً) (احزاب ٣٣)
کی روسے مقام عصمت وطہارت پر فائز تھے ،اس مقام کا تقاضایہ ہے کہ وہ ہرگزگناہ کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔
٢۔حدیث ثقلین،جو متواترحدیث ہے اور اس سے پہلے اسکی طرف اشارہ کیا گیا،کی روسے،عترت ہمیشہ قرآن مجید کے ہمراہ ہیں اور ان میں کبھی جدائی پیدا نہیں ہو سکتی یعنی وہ قرآن مجیدکے معنی اوردین مبین اسلام کے مقاصدکو سمجھنے میں کبھی خطاولغزش سے دوچار نہیں ہوسکتے۔ان دو مقامات کالازمہ یہ ہے کہ اسلام میں اہل بیت علیہم السلام کا قول وفعل حجت ہے (جیسا کہ شیعوں کا عقیدہ ہے)

اہل بیت علیہم السلام کی عام سیرت
اہل بیت علیہم السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم وتربیت کے مکمل نمونہ ہیں اور ان کی سیرت بالکل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے۔
البتہ ٢٥٠سال کا عرصہ ( ١١ھ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے، ٢٦٠ھ یعنی حضرت حجت عج کی غیبت تک ) ائمہ ھدی علیہم السلام نے لوگوں کے ساتھ گزاررا،اس مدت میں ان کی زندگی مختلف حالات اور مراحل سے گزری کہ جن میں ائمہ اطہارکی زندگی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئی،لیکن وہ اصلی مقصد،یعنی اصول دین وفروع د ین کوانحرافات اور تبدیل ہونے سے بچایا اور حتی الامکان لوگوں کی تعلیم وتربیت سے دست بردارنہیںہوئے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ٢٣سال کی تبلیغ کے دوران ، زندگی کے تین مراحل طے کئے ۔ابتدائی تین سال کے دوران مخفیانہ تبلیغ انجام دیتے تھے ،اس کے بعد دس سال تک کھلم کھلا تبلیغ میں مشغول رہے ،لیکن اس مدت کے دوران خود آپۖ اور آپۖکے پیرو انتہائی دبائواور نہایت جسمانی اذیتوں میں زندگی گزارتے تھے اور ہرقسم کی عملی آزادی سے محروم تھے جو معاشرہ کی اصلاح میں اثر انداز ہوتی ہے ،اور اسکے بعد والے دس سال (جو ہجرت کے بعد میں ہیں)،آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے ماحول میں تھے کہ جس کا مقصد حق وحقیقت کو زندہ کرنا تھا،اور اسلام دن بہ دن فاتحانہ طورپر آگے بڑھ رہا تھا اور ہر لمحہ لوگوں کے لئے علم و کمال کا ایک نیا باب کھل رہا تھا ۔
البتہ واضح ہے کہ ان تین مختلف مراحل کے مختلف تقاضے تھے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو۔جس کا مقصد حق وحقیقت کو زندہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ گوناگوں صورتوں میں ظاہر کرتے ہیں۔
ائمہ ھدیٰ کے زمانہ میں جو مختلف اور گونا گوں حالات رونما ہوئے ،وہ تقریباً پیغمبر اسلامؐ کی ہجرت سے پہلے تبلیغی زمانہ سے شباہت رکھتے ہیں ۔ کبھی ائمہ اطہار کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے پہلے تین سال کی طرح کسی بھی صورت میں اظہار حق ممکن نہیں تھا اور(وقت کے)امام بڑی احتیاط سے اپنا فریضہ انجام دیتے تھے،چنانچہ چوتھے امام کے زمانہ میں اور چھٹے امام کی آخری عمرمیں یہی حالت تھی ۔کبھی ہجرت سے پہلے دس سال کے مانند ،کہ جس مین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں اعلانیہ طور پر دعوت دیتے تھے اور آپؐ ہر طرف سے اپنے پیروئوں پر کفار کی اذ یتوں کی وجہ سے پریشان تھے،امام بھی معارف دین کی تعلیم اوراحکام کی اشاعت میں مشغول ہو جاتے تھے،لیکن وقت کے حکام انھیں جسمانی اذیت وتکلیف پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھتے تھے اور ان کے لئے ہردن کوئی نہ کوئی مشکل ایجاد کرتے تھے۔
البتہ ،پیغمبر اکرم ؐکی ہجرت کے بعد والے ماحول کے مانند جو زمانہ کسی حدتک ہے وہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی خلافت ظاہری کے پانچ سال کا زمانہ ، حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہااور امام حسن علیہ السلام کی زندگی کا تھوڑاسا زمانہ اور امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کامختصراور چند روزہ زمانہ تھا ،کہ جس میں حق وحقیقت اورکھلم کھلا طور پر ظاہر ہو رہی تھی اور صاف و شفاف آئینہ کی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے جیسے حالات پیش کئے جارہے تھے ۔
خلاصہ یہ کہ ائمہ اطہار علیہم السلام ، مذکورہ مواقع کے علاوہ وقت کے حکمرانوں اور فرمانروائوں کی آشکارا طور پر بنیادی مخالفت نہیں کرسکتے تھے،اس لئے اپنی رفتار وگفتارمیں تقیہ کا طریقہ اپنا نے پر مجبور تھے تاکہ وقت کے حکام کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آسکے ،اسکے باوجود ان کے دشمن گونا گوں بہانے بناکر ان کے نور کو خاموش کرنے اور ان کے آثار کو مٹانے میں کوئی دقیقہ فرو گزار نہیں کرتے تھے ۔

وقت کے حکّام کے ساتھ آئمہ اطہار کے اختلافات کا اصلی سبب
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے بعد اسلامی معا شرہ میں تشکیل پانے والی مختلف حکو متیں ،کہ جو اسلامی حکومت کا لیبل لگائے ہوئے تھیں ، وہ سب کی سب اہل بیت علیہم السلام سے بنیادی مخالفت رکھتی تھیں اور اس ختم نہ ہونے والی دشمنی کی ایک ایسی جڑتھی جو کبھی خشک نہیں ہوتی تھی ۔یہ سچ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل بیت علیہم السلام کے فضائل اور منا قب بیان فرمائے تھے کہ ان میں سے اہم ترین فضیلت معارف قرآن اور ان کا حلال و حرام کا جاننا تھا،جس کی وجہ سے ان کے مقام کا احترام اور تعظیم کرنا تمام امت پرواجب تھا ،لیکن امت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس نصیحت اور تاکید کا حق ادا نہ کیا ۔
بیشک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب پہلے دن دعوت دی تو سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دی اورحضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا اوراپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی غدیر خم میں اور دوسرے مقامات پر آپ کی جانشینی کا علان کیا ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں نے دوسروں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین منتخب کیا اور اہل بیت علیہم السلام کو ان کے مسلم حق سے محروم کردیا ،لہذا وقت کے حکام اہل بیت کو ہمیشہ اپنا خطر ناک رقیب سمجھتے رہے اور ان سے خائف رہتے تھے ،اور ان کا خاتمہ کرنے کے لئے گونا گوںامکانات اور وسائل سے استفادہ کرتے تھے ۔
لیکن اہل بیت علیہم السلام اور اسلامی حکومتوں کے درمیان اختلا فات کا سب سے بڑا سبب کچھ اور تھا اگر چہ حکومت اسلامی مسلۂ خلافت کے فروعات میں سے تھی۔
اہل بیت اطہار علیہم السلام امت اسلامیہ کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی اطاعت کو ضروری سمجھتے تھے اور اسلامی حکومت کو اسلام کے آسمانی احکام کی رعایت ،تحفظ اورنفاذ کے لئے ذمہ دار سمجھتے تھے ،لیکن جو اسلامی حکو متیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تشکیل پائیں ،جیسا کہ ان کی کار کردگی سے ظاہر ہے ،وہ اسلامی احکام کو مکمل طور پر نافذ کرنے کی رعایت اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی اطاعت کرنے کی پابند نہیں تھیں ۔
خدائے متعال اپنے کلام پاک میں کئی جگہوں پر،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور اسی طرح امت کو آسمانی احکام میں تبدیلی ایجاد کرنے سے منع فرماتا ہے یہاں تک کہ دینی احکام اور قوانین میں چھوٹی سے چھوٹی خلاف ورزی کی تنبیہ فرماتا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہی ناقابل تغییر احکام وقوانین کی روشنی میں ،لوگوں کے درمیان ایک ایسی سیرت اختیار ہوئے تھے کہ دینی قوانین کو نافذ کرنے میں زمان ومکان اوراشخاص کے لحاظ سے کسی قسم کا فرق نہیں کرتے تھے۔آسمانی احکام کی رعایت کرنا ہر ایک کے لئے یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے واجب تھا اور یہ احکام ہرایک کے حق میں لازم الاجرا ءتھے اورشریعت ہر حال میں اورہر جگہ پر زندہ اور نافذ تھی ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مساوات و عدالت کے نتیجہ میں لوگوں سے ہرقسم کے امتیاز وفرق کو ہٹایا تھا ۔خود آنحضرت ؐجو خدا کے حکم سے واجب الاطاعت حاکم و فرمانروا تھے ،اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تمام لوگوں کی نسبت اپنے لئے کسی قسم کے امتیاز کے قائل نہیں تھے ،عیش وعشرت سے پر ہیز فرماتے تھے ،اپنی حکومتی حیثیت میں کسی قسم کے تکلف سے کام نہیں لیتے تھے ،اپنی حیثیت کی عظمت کو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں فرماتے تھے اور جاہ وحشم کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے اور آخر کار دوسروں سے ایک معمولی اورظاہری امتیاز سے بھی پہچانے نہیں جاتے تھے ۔
لوگوں کے مختلف طبقات میں سے کوئی طبقہ امتیاز کے بل بوتے پر دوسروں پرفضیلت نہیں جتلاتا تھا ،عورت ومرد،اونچے اور نچلے طبقہ کے لوگ ،غنی و فقیر،قوی وکمزور ،شہری ودیہاتی اور غلام وآزاد سب ایک صف میں تھے اور کوئی بھی اپنے دینی فرائض سے زیادہ کا پابند نہ تھا اور معاشرہ کے قوی لوگوں کے سامنے جھکنے اور ظالموں کے سامنے حقیر ہونے سے معاشرہ کا ہر فرد محفوظ تھا۔
تھوڑا غورو فکر کرنے سے ہمارے لئے واضح ہو جاتا ہے ( خصوصاًپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد سے آج تک جو ہم نے اندازہ کیا ہے) کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی سیرت سے صرف یہ مقصد تھا کہ اسلام کے آسمانی احکام لوگوں میں عادلانہ اور مساوی طورپر نافذ ہو جائیں اور اسلام کے قوانین انحراف اورتبدیل ہو نے سے محفوظ رہیں ،لیکن اسلامی حکومتوں نے اپنی سیرت کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے مطابق وہم آہنگ نہیں کیا اور روش کو بدل دیا جس کے نتیجہ میں :
١۔اسلامی معاشرہ میں نہایت کم وقت کے اندر شدید ترین صورت میں طبقاتی اختلافات رونما ہوئے اور مسلمان طاقتور اور کمزور دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور اس طرح ایک گروہ کی جان و مال اور عزت دوسرے گروہ کے ہوا وہوس کا کھلونا بن گئی ۔
٢۔اسلامی حکو متیں اسلامی قوانین میں تدریجی طور پر تبدیلیاں پیدا کرنے لگیں اور کبھی اسلامی معاشرہ کی رعایت کے نام پر اور کبھی حکومت اور حکومت کی سیاسی حیثیت کے تحفظ کے عنوان سے دینی احکام پر عمل کرنے اوراسلامی قوانین کے نفاذ سے پہلوتہی کی گئی ۔
یہ طریقہ دن بدن وسیع تر ہوتا گیا ۔یہاں تک کہ اسلامی حکومت کے نام پر چلنے والے ادارے اسلامی قوانین کی رعایت اور انہیں نافذ کرنے میں کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس نہیں کرتے تھے۔معلوم ہے جب عام قوانین وضوابط کو نافذ کرنے والے افراد ہی مخلص نہ ہوں گے توان قوانین کاکیاحشر ہوگا!

خلاصہ اور نتیجہ
مذ کورہ گفتگوسے معلوم ہواکہ اہل بیت علیہم السلام کی معاصراسلامی حکو متیں وقت کی مصلحتوں کے پیش نظر اسلامی قوانین میں تصرف کرتی تھیں اور ان ہی تصرفات کی وجہ سے ان کی سیرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے بالکل مختلف ہوتی تھی۔لیکن اہل بیت علیہم السلام قرآن مجید کے حکم کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے احکام کو ہمیشہ کے لئے ضروری جانتے تھے۔
انہی اختلا فات اور تضاد کے سبب وقت کی طا قتورحکو متوں نے اہل بیت علیہم السلام کا خا تمہ کر نے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ان کے نور کو بجھانے کے لئے ہر ممکن وسیلہ سے استفادہ کرتے تھے ۔
اہل بیت اطہار علیہم السلام بھی اپنی الہٰی ذمہ داری کے مطابق ،اپنے سخت اور منحوس دشمنوں کی طرف سے فراوان مشکلات سے دو چارہونے کے باوجود ،دین کے حقائق کی تبلیغ کر رہے تھے اور صالح افراد کو تعلیم دینے اور ان کی تربیت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے ۔
اس مطلب کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ہم تاریخ کی طرف رجوع کر یں اور حضرت علی علیہ السلام کی پانچ سالہ حکو مت میں شیعوں کی اکثریت کو ملا حظہ کریں،کیونکہ تھوڑا غور کرنے سے ہم سمجھ لیں گے کہ،یہ اکثریت حضرت کی اسی٢٥سالہ گوشہ نشینی کے دوران وجود میں آئی ۔اسی طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے گھر پر گروہ درگروہ آنے والے شیعہ تھے جو خاموشی کے ساتھ حضرت امام سجاد علیہ السلام کے تر بیت یافتہ تھے ،یہ حقائق کے ایسے خوشہ چین تھے کہ حضرت امام موسی ابن جعفر علیہ السلام حتی زندان کے ایک تاریک گوشہ میں بھی ان کی اشاعت فرماتے تھے ۔
آخر کاراہل بیت علیہم السلام کی مسلسل تعلیم وتربیت کے نتیجہ میں ، شیعہ جو پیغمبر اکرم کی رحلت کے وقت ایک معمولی تعداد میں تھے ،ائمہ اطہار علیہم السلام کے آخری زمانے میں ایک بڑی تعداد میں تبدیل ہوئے ۔

اہل بیت علیہم السلام کے کردار میں ایک استشنائی نکتہ
جیسا کہ بیان کیا گیا ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام نے اپنی زندگی کا زمانہ مظلو میت اور محکو میت میں گزارا اور اپنی ذمہ داریوں کو تقیہ کے ماحول اور انتہائی سخت حالات میں انجام دیا ۔ان میں سے چار معصومین کی زندگی بہت کم مدت کے لئے نسبتاًآزادانہ اور بلا تقیہ نظر آتی ہے۔ لہذا ہم ان چار شخصیتوں،یعنی حضرت علی ، حضرت فاطمہ اور حسنین علیہمااسلام کی تاریخ زندگی اور کردار کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہیں ۔

اہل بیت علیہم السلام کے فضائل
شیعہ اورسنی راویوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپۖکے اہل بیت کے مناقب میں ہزاروں احادیث نقل کی ہیں ہم یہاں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل میں سے تین کو بیان کرتے ہیں کہ جن کے پہلے خود آنحضرت ؐہیں :
١۔ ٦ ہجری میں ،شہر نجران کے نصرانیوں نے اپنے چند بزرگوں اورد انشوروں کو چن کر ایک وفد کی صورت میں مدینہ بھیجا ۔اس وفد نے پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ اور کٹ جحتی کی ،لیکن مغلوب ہوئے ، اور خدائے متعال کی طرف سے آیۂ مباہلہ نازل ہوئی :
(فمَن حاجَّک فیہ من بعد ماجا ء ک من العلم فقل تعالَوا ندع ابنا ء نا وابنا ء کم ونساء نا ونساء کم وانفسنا و انفسکم ثم نبتہل فنجعل لعنت اللّہ علی الکاذبین ) (آل عمران ٦١)
”پیغمبر!علم کے آجانے کے بعدجو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہدیجئے کہ آئو ہم لوگ اپنے اپنے فرزند ،اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خداکی بارگاہ میں دعاکریں اور جھوٹوں پرخدا کی لعنت قراردیں ۔”
اس آیہ شریفہ کے حکم کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے وفد کو مباہلہ کی دعوت دیدی ، اس طرح سے کہ آپ ؐ،عورتوں اور فرزندوں کے ساتھ حاضر ہو کر جھوٹوں پر لعنت کریں تاکہ خدائے متعال ان کے لئے عذاب نازل کرے۔
نجران کے وفد نے مباہلہ کی تجویز کو قبول کیا ، اور دوسرے ہی دن مباہلہ کا وقت مقرر کیاگیا ۔ دوسرے دن مسلمانوں کی بڑی تعداداور نجران کاوفد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریف لانے کا منتظر تھاکہ دیکھیں ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس شان و شوکت کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور کن لوگوں کو مباہلہ کے لئے اپنے ساتھ لا رہے ہیں ۔
انہوں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شان سے تشریف لارہے ہیں کہ آپ کی آغوش میں حسین علیہ السلام ہیں اور حسن علیہ السلام ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں، آپؐ کے پیچھے آپ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے پیچھے علی علیہ السلام ہیں اور آپؐ ان سے فرمارہے ہیںکہ جب میں دعاکروں توتم لوگ آمین کہنا ۔
اس نورانی وفد، جن کے وجود سے حق وحقیقت نمایاں تھی ،جو خدا کی پناہ گاہ کے سواکسی پناہ گاہ پر بھروسہ کئے ہوئے نہیں تھے ،نے نجران کے وفد کو لرزہ بر اندام کردیا ،ان کے سردار نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا:
”خدا کی قسم !میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ بارگاہ الہٰی میں دعا کریں گے تو روئے زمین پر تمام نصاریٰ نابود ہو جا ئیں گے،اسکے بعد وہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورمباہلہ سے دست بردار ہونے کی عذرخواہی کی ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لہٰذا اسلام لائو۔
انہوں نے کہا :اسلام لانے سے بھی معذورہیں ۔
آپۖنے فرمایا : تو پھر ہم تم لوگوں سے جنگ کریں گے۔
انہوں نے کہا:مسلمانوں سے لڑنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ،لیکن سالانہ جزیہ دیں گے اوراسلام کی پناہ میں زندگی کریں گے اسطرح اختلاف ختم ہوا ۔
مباہلہ میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت علی ،حضرت فاطمہ زہرااور حسنین کے آنے سے واضح ہوا کہ آیہ شریفہ(ابنا ئنا ونسائنا وانفسنا )، پیغمبرۖ،علی ،فاطمہ،اورحسن وحسین علیہم السلام کے علاوہ کوئی اورنہ تھا ۔دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا ئے کہ جوپیغمبر نے”اپنے نفس” فرمایا اس سے مقصودخودآپۖاور علی تھے ،اوریہ جو فرمایا”اپنی عورتیں ”اس سے مقصود فاطمہ تھیں اوریہ جوفرمایا”اپنے فرزند” اس سے مقصود”حسنین”تھے ۔
یہاں پر اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام بمنزلۂ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔اوریہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام چار افراد تھے ،کیونکہ شخص کے ہر اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ جن کاتعارف وہ خود کلمہ ”انفس ،نسائنا وابنائنا” (ہمارے نفس، ہماری عورتیں ،اور ہمارے بچوں) سے کرائے ہیں .اگر اہل بیت میں ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا توپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کوبھی مباہلہ کے لئے ہمراہ ضرورلے آتے ۔
اس سے ان چار ہستیوں کی عصمت ثابت ہوتی ہے،کیونکہ خدائے متعال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کی عصمت وطہارت کی گو اہی دے رہا ہے :
(…انّما یرید اللّہ لیذہب عنکم الرّجس اہل البیت و یطہّرکم تطہیراً) (احزاب٣٣)
”بس اللہ کا ارادہ ہے اے اہل بیت ! تم سے ہر برائی کودور رکھے اور تم کو ا س طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔”
٢۔جیسا کہ عامہ وخاصہ (سنی وشیعہ )نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے :
”مِثْلُ اَہْلُ بَیْتِیْ کَمِثْلِ سَفِیْنةُ نُوْحَ مَنْ رَکَبَہَا نَجٰی وَمَنْ تَخَّلّف عَنھا غَرَق”
”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کے مانند ہے ،جواس میں سوار ہوااس نے نجات پائی اور جس نے اس سے رو گردانی کی وہ غرق ہو گیا۔”
٣۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک اور متواترہ روایت میں،جسے عامہ وخاصہ نے نقل کیا ہے،فرمایا ہے :
”انی تارک فیکم الثقلین :کتاب اللّہ وعترتی اہل بیتی لن یفتر قا حتی یردا علیَّ الحوض ما ان تمسَّکُتم بِہما لن تضِلُّوابعدی”
میں تمہارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ،جو کبھی ایک دسرے سے جدا نہیں ہو ں گی ،یہ دو چیزیں خدا کی کتاب اور میرے اہل بیت ہیں جب تک ان دو نوں سے متمسّک رہو گے ،گمراہ نہیں ہو گے۔

آئمہ علیہم السلام کی تقرری
حضرت علی علیہ السلام کی امامت (جیسا کہ معلوم ہوا)خدا کی طرف سے اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نص سے تھی،اور اسی طرح دوسرے ائمہ علیہم السلام جو حضرت علی کے بعد تھے ،ہر امام نے اپنے بعد والے امام کا خدا کے حکم سے لوگوں میں تعارف کیاہے۔ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام پہلے امام اورمسلمانوں کے پہلے پیشوا تھے ،آپۖنے اپنی شہادت کے وقت اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کا تعارف کرایا اور امام حسن علیہ السلام نے بھی اپنی شہادت کے موقع پر اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعارف کرایا اوراسی طرح بارہویں امام تک سلسلہ رہا ۔
ہرامام سے اپنے بعد والے امام کے بارے میں نص کے علاوہ ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی (عامہ وخاصہ سے نقل کی گئی بہت سی حدیثوں کے مطابق )اماموں کے بارہ ہونے کے بارے میں یہاں تک کہ بعض حدیثوں میں ان کے ناموں کے ساتھ تعارف کرایا ہے ۔