ur

حقیقت استعاذہ

مصنف:
شھید عبدالحسین دستغیب

حقیقت استعاذہ:
اگر اس آیہ شریفہ میں جوہماری بحث کاعنوان ہے،غور کیاجائے اور اس میں مذکورہ حقائق میں فکر کی جائے تو معلوم ہوگا یہی آیت حقیقت استعاذہ کی پورے طور سے آئینہ دار ہے.
وہ لوگ جنہوں نے‌ہوس پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کی وہ گویا شیطان کے‌گھر سے نکل کر حریم خداونددی میں پہنچ گئے .وہ لوگ جن کے دلوں میں شیطان کابسیرانہیں ہے،جب بھی شیطان ان کے دل پر حملہ آور ہونے کے لئے ان کے گرد گھومتاہے تووہ ذکر خدا میں مشغول ہوجاتے ہیں جس سے ان کے دل میں روشنی آجاتی ہے اور وہ اس کی وسوسہ اندازی پر مطلع ہوکر استعاذہ کی قوت سے اسے بھگادیتے ہیں.

دعائے حضرت امام سجادؑ:
حضرت زین العابدین ؑ صحیفہ سجادیہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض گذار ہیں:
“وَ إِذَا ہَمَمْنَا بِہَمَّیْنِ یُرْضِیکَ أَحَدُہُمَا عَنَّا، وَ یُسْخِطُکَ الْآخَرُ عَلَیْنَا، فَمِلْ بِنَا إِلَى مَا یُرْضِیکَ عَنَّا”
اے پروردگار جس وقت ہمارے سامنے دو مقصد ہوں کہ ایک میں تیری رضا اور دوسرا تیری ناراضگی کاباعث ہو.ایک تیری خوشنودی اور دوسرا تیرے غیظ وغضب کاموجب ہو تو ہمارے دل کو اس کی طرف پھیردے جس میں تیری رضا اور خوشنودی ہو اور اس سے متفرق فرمادے جس سے توناراض اور ناخوش ہو.
جب اللہ تعالیٰ دل کو کس طرف متوجہ کردے تو انسان اپنی سوچ بدل دیتاہے لیکن جب تک ہم تقویٰ کو اپنا شعار نہ بنائیں گے ہمارے دلوں پر شیطان کی حکومت رہے گی ایسی حالت مین ذکر الہیٰ سے ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوگا جب دل پر شیطان کا غلبہ و تسلط ہو تو انسان کیسے اپنی راہ عمل متعین کرسکتاہے.
اس مطلب کی وضاحت کے لئے پھر ایک حکایت پیش کرتاہوں.

بتی بجھا نے والاچور:
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں جب گھروں میں روشنی کے لئے موم یا چربی وغیرہ جلانے کا رواج تھا ایک رات ایک چور کسی گھر میں گھس گیا اور کمرے میں داخل ہو کر چیزیں اکٹھی کرنے لگا.
گھرکے مالک نے پیر کی آہٹ سنی تو اسے چوری کی موجودگی کا شک ہوا بستر پرسے اٹھا او رچراغ جلانے لگا چور کو جب معلوم ہوا کہ مالک بیدار ہوچکاہے تو اس کے سرہانے کی طرف کھڑا ہواگیا اور جب اس نے چراغ کو دیا سلائی دکھائی تو آہستگی سے پھونک مارکر اسے بجھادیا.
جب اس نے دوبارہ چراغ جلانا چاہاتو چورنے اپنی انکلی لعاب دہن سے ترکرکے اس سے چراغ کی بتی کو گیلا کردیا تاکہ بتی جل ہی نہ سکے.
نادان صاحب خانہ نہ سمجھ سکا کہ کوئی موجود ہے جو یہ حرکت کررہاہے وہ یہی سمجھتا رہا کہ ہواہے جوچراغ کو روشن نہیں ہونے دیتی آخر کار جب چراغ روشن ہوا اور پیروں کی آہٹ بھی اس کے بعد سنائی نہ دی تو مطمئن ہوکر سوگیا اور چور اپنا کام کرکے رخصت ہوا.

خانہ دل میں چور:
یقین کیجئے کہ عالم باطنی کی بھی یہی صورت ہے اگر شیطان دل میں جاگزین ہوجائے تو انسان کو اس قابل نہیں رہنے دیتاکہ وہ ذکر خدا کرسکے کیونکہ ذکر الہیٰ صرف اہل تقویٰ کا خاصہ ہے اگر تقویٰ نہ ہو تو انسان ہزرذکر کرے بصیرت حاصل نہیں کرسکےگا.
آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ جھگڑے فسادکے دورا ن غیظ و غضب کے عالم میں ذکر خدا کے باوجود انسان نہیں سمجھتا کہ وہ شیطان کے دام فریب میں جکڑاہواہے اور اس کے قلب وروح پر اس کا تسلط و تصرف ہے .اس حالت میں کتناہی اس کے لئے اللہ رسول اور ائمہ کا نام لیں،کوئی فائدہ نہ ہوگا شیطان اسے ذکر الہیٰ پر آنے ہی نہیں دے گا کیونکہ وہ صاحب تقویٰ نہیں.

حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے بچئے:
حضور ﷺ کاارشاد ہے کہ حق پرہوتے ہوئے بھی اگر کوئی جھگڑے سے بچے گا تومیں اس کے جنت میں اعلیٰ مقام کا ضامن ہوں اور اگروہ حق پر نہیں اور جھگڑابھی نہیں کرتا تو جنت کے پست ترین درجہ میں اس کا مقام ہوگا.

جھگڑے کو ترک کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان ہوس پرست نہ ہو ورنہ شیطان اسے کبھی بچنے دے گا.اور وہ اسی حالت میں مرجائے تو شیطان کےبندوں میں مشہور ہوگا.
نماز کے دوران بھی کیا پتہ ہے کہ انسان کس کے حکم سے حرکات نماز بجالاتا رہا اور کیا معلوم کہ اللہ کے گھر میں شیطان کی انگیخت پر ارکان عبادت نہیں ادا کرتارہا کیا وہ واقعی امر خداوندی سے مسجد میں آیا اگر اللہ ہی کے حکم سے مسجد میں آیا تو خود پرستی کیوں جھگڑے سے بچے گا تو تقویٰ کی کیفیت اس میں پیدا ہوگی اور اس کی بصیرت ونجات کا سبب بنے گی.

ذوالکفل کا پیمان:
حضرت ذوالکفلؑ انبیائے سلف میں سے تھے ان کی قبر شریف حلہ کے قریب ہے اور ان کا ذکر کلام پاک الہیٰ میں موجود ہے بحار الانوار میں آپ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں یہ روایت بیان کی گئی ہے.
ان سے پہلے ایک پیغمبر تھے جن کانام یسع تھا ان کا ذکر بھی کلام مجید میں موجود ہے> وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْکِفْل‏<جناب ذوالکفل حضرت یسعؑکے اصحاب اور حواریوں میں سے تھے اپنی زندگی کے آخر ی ایام میں جناب یسع نے اپنے اصحاب سے کہا: آپ میں سے وہ شخص جو اس عہد پر جو میں‌آپ لوگوں سے کررہاہوں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناضر جان کر قائم رہے گا،میرا وصی وجانشین ہوگا.میرا عہد یہ ہے کہ غصے کے وقت اپنے آ پ پر قابور کھؤ اپنے آپے میں رہو اور شیطان کی انگیخت کاشکار نہ ہوجاؤ .جناب ذوالکفل نے پورے یقین و اعتماد سے وعدہ دیا اور دل میں عہد کرلیا کہ کبھی غضب شیطانی میں مبتلا نہ ہونگے یہی وجہ تھی کہ وہ منصب نبوت پر فائز ہوئے اور اس کے بعد پیش آنے والے امتحانات سے بھی بخوبی عہدہ برہوئے.
یہ بھی ملحوظ رہے کہ جتناز یادہ کوئی انسان اپنے عہد پرسختی سے قائم رہتاہے ،شیطان ملعون اتنا ہی زیادہ دباؤ اس پر اس عہد کو توڑنے کے لئے ڈالتا ہے حضرت ذوالکفل نے غضب شیطانیت سے ہر قیمت پر دوررہنے کا عہد کیا ہوا تھا لہذا شیطان نے بھی اس عہد کو توڑ نے کے لئے بڑی چوٹی کازورلگایا لیکن آپ اس کی ہرکوشش کے سامنے پہاڑکی طرح ثابت قدم رہے.

شیطان مدد طلب کرتاہے:
ایک روز شیطان نے اپنے چیلوں کو پکارا جب وہ اس کے گرد اکٹھے ہوگئے تو ان سے کہنے لگا ذو الکفل کے ہاتھوں عاجز ہوگیا ہوں جو کوشش بھی میں انہیں غیظ وغضب میں لاکر ان کے عہد کو توڑ نے کے لئے کرتاہوں ،ناکام ہوجاتی ہے.
ایک شیطان جس کانام ابیض تھا بولامیں ذوالکفل کو غصے میں لاؤں گا شیطان نے اسے اس کام پر مامور کردیا.
جناب ذوالکفل کی یہ خاص عادت تھی کہ رات کوسوتے نہیں تھے اور ساری رات ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے دن کو بھی ظہر سے پہلے اپنے اور دوسرے لوگوں کے کاموں میں مصروف رہتے، ظہر سے ذراپہلے سوجاتے اور عصر کے وقت بیدار ہوکر پھر خلق خدا کےکاموں میں مصروف ہوجاتے.

شیطان کا دق الباب:
ایک دن جبکہ آپ قبل ظہر سوئے ہوئے تھے اس شیطان نے دروازہ پیٹا ،دربان نے پوچھا تجھے کیا کام ہے ؟کہنے لگا میری ایک فریاد ہے دربان نے کہا صبح آنا اس وقت وہ سوئے ہیں .
شیطان نے چیخ وپکار اور فریاد شروع کردی کہ میں دور رہتاہوں کل نہیں‌آسکتا آخر کار جناب ذوالکفل اس شورسے بیدار ہوگئے اور انہوں نے نہایت ٹھنڈے دل سے اسے کہا اب چلاجا اپنے مدعا علیہ سے کہدے کہ کل آجائے میں بھی پہنچ جاؤں گا.
شیطان کہنے لگا وہ نہیں آئے گا آپ نے فرمایا یہ میری انگوٹھی نشانی کے طورپر لے جا اور اسے کہہ کہ ذوالکفل نے تجھے بلایا ہے ا س دن آپ نہیں سوسکے.
شیطان چلاگیا اور دوسرے روزپھر اسی وقت جبکہ حضرت ذوالکفل ابھی سوئے تھے آکر پھر اس نے چیخ وپکار شروع کردی جناب پھر نیندسے بیدار ہوئے اور بڑی نرمی اور ملامت سے اس کے ساتھ پیش آئے اور اسے مدعا علیہ کے نام ایک چھٹی لکھ دی کہ اسے بلالائے.
ابیض چلاگیا اور اس دن بھی آپ نہ سوسکے اور ساری رات بھی جب معمول عبادت میں مشغول رہے.

شیطان عاجز ہوگیا:
جب کوئی انسان تین دن رات نہ سوئے تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنا چڑچڑا اوربد مزاج ہوجاتاہے لیکن تیسرے روزبھی شیطان نے عین اسی وقت جناب ذوالکفل کی نیند میں خلل ڈالا اورشور مچانے لگا کہ اس شخص نے آپ کے خط کی بھی کوئی پروانہیں کی اور یہاں آنے سے انکار کردیا .اور پھر آپ کے سامنے بے تحاشا چیخنےلگا کہ آپؑکو غصہ دلائے اور غیظ و غضب میں لائے آخر کار کہنے لگا اگر آپ خود اس وقت میرے ساتھ چلیں تو میراکام ہوسکتاہے .
روایت میں ہے کہ اس دن دھوپ اتنی سخت تیز تھی کہ گوشت کاٹکڑا اس میں جل کے کباب ہوجائے .اس نے اتنا شور مچایا کہ کہ آخر کار آپ اس کے ساتھ جانے پر رضامند ہوگئے.
اس جلادینے والی دھوپ میں جب انہوں نے کچھ راستہ طے کیا توشیطان کو یقین ہوگیا کہ آپؑ کو غصہ میں لانا ناممکن ہے.
چنانچہ وہ فریاد کناں وہاں سے فرار ہوگیا.

بے تقویٰ دل میں ذکر الہیٰ کاالٹااثر ہوتاہے:
کبھی ذکر الہیٰ بے تقویٰ دل کی حالت کومزید خراب کردیتاہے اور اس کی بے دینی کو اشکار کردیتاہے.
کیا آپ نے سنا نہیں کہ ملعوں شقی ابن زیاد جب سرمقدس جناب سید الشہداءؑ کو پکڑ اہواتھا تو سراقدس سے ایک خون کا قطرہ ٹپکا اور اس ملعون کی ران کو چھیدتا ہوا دوسری طرف نکل گیا اس ملعون نے سرکو نیچے رکھ دیا اور ہاتھ میں جو چھڑی پکڑی تھی اس سے‌آپ ؑکے لب ودندان سے گستاخی کرنے لگا.
زیدبن ارقم صحابی رسول نے شہادت دی کی اے ابن زیاد میں بارہا نبیﷺ کو ان لب و ندان کو چومتے ہوئے دیکھا ہے اس سے بڑھ کر یاد دہانی اور کیا ہوسکتی ہے لیکن یہ ملعون بجائے اس کے کہ اس گواہی سے نصیحت حاصل کرےکہنے لگا افسوس ہے توبوڑھا ہوچکا ہے ورنہ اسی وقت تیری گردن اڑادیتا اور زیدبن ارقم کو اپنے دربار سے نکا ل دیا.
ابن زیاد ہیں پر منحصر نہیں ہر وہ شخص جودل کاندھا اور بہرا ہوتاہے اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی یاد دہانی کی نابینائی اور بہرے پن میں اضافے کا سبب بنتی ہے.