ur

والد ین کی خدمت جہادسے بہتر ہے


شھید عبدالحسین دستغیب
حضرت امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں راہِ خدا میں جہاد کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا:
پس راہ خدا میں جہاد کرو ۔ بے شک اگر تم مارے گئے تو اللہ کے نزدیک زندہ رہو گے اور رزق پاؤ گے اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا، اگر سلامتی کے ساتھ واپس آئے تو گناہوں سے اس طرح پاک ہوگے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔
اس شخص نے کہا:
یا رسول اللہ ﷺ ، میرے والدین زندہ ہیں اور بڑھاپے کی حالت میں ہیں اور مجھ سے کافی انس رکھتے ہیں۔ مجھ سے جدائی ان کو پسند نہیں۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا
اگر ایسا ہے تو ان کی خدمت میں ٹھہر جا، قسم اس خدا کی جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے، والدین سے ایک دن رات انس میں رہنا ایک سال کے مسلسل جہاد سے افضل ہے۔
یہ روایت بھی آنحضرت ﷺ سے منقول ہے کہ فرمایا:
کُنْ بَارَاً وَّ اقْتَصِرْ عَلٰی الجَنَّۃ، وَاِنْ کُنْتَ عَاقاً فَاقْتَصِرْ عَلَی النَّارَ
والدین کے خدمت گار بن کر جنت میں مقام حاصل کر لو اور اگر والدین کے عاق ہو گئے تو جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لو۔
والدین سے نیکی گناہوں کا کفارہ ہے
ماں باپ سے نیکی بہت سارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ، ایسا کوئی بُرا کام باقی نہیں بچا جس کا میں مرتکب نہ ہوا ہوں۔ کیا میرے لیے توبہ ہے؟ آنحضرت نے فرمایا، جاؤ، باپ کے ساتھ نیکی کرو تاکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو ۔ جب وہ نکل گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو اس کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ بہتر ہوتا۔
والدین کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے
آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے:
رِضیٰ اللہِ مَعَ رِضیٰ الْوَلِدَیْنِ وَسَخَطُ اللہِ مَعَ سَخَطِ الْوَالِدَیْنِ (بحارالانوار)
والدین کی رضامندی میں اللہ کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔
آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا:
بَیْنَ الْاَنْبِیَاءِ وَالْبَارِدَرَجَۃٌ وَبَیْنَ الْعَاقِ وَالْفَرَاعِنَہِ دَرَکَۃُ
(مستدرک)
والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بہشت میں پیغمبروں سے صرف ایک درجہ کے فرق پر ہو گا اور والدین کا عاق شدہ جہنم میں فراعنہ سے صرف ایک درجہ نیچے ہو گا۔
والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے کے لیے ملائکہ کی دعائیں
حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں:
بِرُّالوَالِدَیْن اَکْبَرُ فَرِیضَۃٍ۔
والدین کے ساتھ نیکی کرنا واجباتِ الٰہیہ میں سب سے بڑا فریضہ ہے۔
حضرت رسول خدا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کے دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے:
اللّٰھُمَّ احْفِظِ الْبارِیْنَ بِعِصْمَتِکَ (مستدرک)
خدایا! والدین کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو (تمام برائیوں اور آفتوں) سے محفوظ رکھ۔
دوسرا فرشتہ کہتا ہے:
اللّٰھُمَّ اَھْلِکِ العَاقِیْنَ بِغَضَبکَ (مستدرک)
خداوندا! جن لوگوں سے ان کے والدین ناراض ہیں، انہیں اپنے غضب کے ذریعہ ہلاک فرما۔
اس میں شک نہیں کہ فرشتوں کی دعا قبول درگاہ الٰہی ہوتی ہے۔
عا ق کا دنیوی اثر
مذکورہ احادیث میں عاق والدین کے لیے آخرت کے عقوبات بیان ہوئے ہیں۔ عاق ہونا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے وضعی و طبعی آثار اور ردّ عمل آخرت سے پہلے ہی اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت خاتم الانبیاء نے فرمایا:
ثَلَاثَۃٌ مِّنَ الذّنُوْبِ تُعْجِّلُ عُقُوْبَتُھَا وَلَاتُوٴَخِرُ الْآخِرَۃَ عُقُوْقُ الوالِدَیْنِ وَالْبَغْی عَلٰی النَّاس وَکُفْرِ الْاِحسانِ
(بحارالانوار)
گناہوں میں تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا عجلت سے اس دنیا میں دی جاتی ہے اور قیامت تک تاخیرنہیں کی جاتی۔ ان میں سے پہلے والدین کا عاق ہونا، دوسرے اللہ کے بندوں پر ظلم کرنا اور تیسرے احسان پر ناشکری کرنا۔
حضرت امام محمدباقرؑ نے فرمایا:
صَدَقَۃُ السِرِتُطْفِیْءُ غَضَب الرَّبِ وَبِرُّالْوَالِدَیْنِ وصِلَۃُ الرَّحِمِ یَزیدَانِ فِیْ الْاَجَلِ (بحارالانوار)
مخفی طور پر صدقہ دینا پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور والدین کے ساتھ نیکی و قرابت داروں سے صلہٴ رحم عمر کو دراز کرتا ہے۔
ایک اور حدیث میں فرمایا:
البِرُّ وَصَدَقَۃُ السِّرِّ یَنْفِیَانِ الفَقْرَ وَیَزِیْدَان فِیْ العُمرِ وَیَدْفَعَانَ عَںْ سَبْعِیْنَ مَیْتَۃَ سُوْءٍ (بحارالانوار)
ماں باپ سے نیکی اور پوشیدہ خیرات کرنے سے فقر دور ہوتا ہے اور یہ دونوں عمر کو طویل کرتے ہیں اور ستر قسم کی بُری موت اس سے دور ہوتی ہے۔
یہ بھی فرمایا کہ:
مَنْ یَضْمِنُ لِی بِرَّ الْوالِدَیْنِ وَصِلَۃَ الرَّحِمِ اَضْمِنُُ لَہ کَثْرَۃ الْمَالِ وَزِیَارَۃَ الْعُمَر وَالْمَحَبَّۃَ فِی العَشِیْرَۃ (مستدرک)
جو کوئی مجھے یہ ضمانت دے کہ والدین سے نیکی اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے گا تو میں بھی اسے کثرت مال اور درازیٴ عمر کے علاوہ اپنے قبیلہ میں محبوب بننے کی ضمانت دوں گا۔
حضرت امام نقیؑ نے فرمایا:
اَلعُقُوْقُ یُعْقِّبُ الْقِلَّۃَ وَیُوٴَدِّیْ اِلٰی الذِلَّۃِ
والدین کی ناراضگی سے (روزی کی) کمی اور ذلت پیچھا کرتی ہے۔
عاقِ والدین گدائی و بد نصیبی کا سبب بنتا ہے
مدینہ منورہ کے ایک دولت مند جوان کے ضعیف ماں باپ زندہ تھے۔ وہ جوان ان کے ساتھ کسی قسم کی نیکی نہیں کرتا تھا اور انہیں اپنی دولت سے محروم کیے ہوئے تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس جوان سے اس کا سب مال و دولت چھین لیا، وہ ناداری ، تنگ دستی اور بیماری میں مبتلا ہو گیا اور مجبوری و پریشانی انتہا کو پہنچ گئی۔
جناب رسول خدا ﷺ نے فرمایا
جو کوئی ماں باپ کو تکلیف پہنچاتا ہے اُسے اس جوان سے عبرت حاصل کر نی چاہیے۔دیکھو ! اس دنیا میں اس سے مال ودولت واپس لے لی گئی ، اس کی ثروت و بے نیازی فقیری میں اور صحت بیماری میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح جو درجہ اس کو بہشت میں حاصل ہونا تھا ، وہ ان گناہوں کے سبب اُس سے محروم ہو گیا، اس کی بجائے آتشِ جہنم اس کے لیے تیار کی گئی ۔ (سفینۃ البحار)
حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ
جب حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ سے ملاقات کرنے مصر تشریف لائے تو حضرت یوسفؑ اپنی ظاہری سلطنت اور شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے والد بزرگوار کے احترام کے لیے اپنی سواری سے نیچے نہیں اُترے تو حضرت جبرائیلؑ نازل ہوئے اور حضرت یوسفؑ سے کہا کہ اپنا ہاتھ کھو لیے، آپؑ نے جب ہاتھ کھولا تو اس سے ایک روشنی نکلی اور آسمان کی طرف بلند ہوئی۔
حضرت یوسفؑ نے دریافت کیا
یہ نور جو میرے ہاتھ سے نکلا اور آسمان کی جانب چلا گیا ، یہ کیا تھا؟
جبرائیلؑ نے عرض کیا
نبوت کا نور آپؑ کے صلب سے باہر نکل گیا، کیونکہ آپؑ نے اپنے والد کا احترام بجا نہیں لایا تھا اس لیے آپؑ کے بیٹوں میں سے کسی کو پیغمبری نہیں ملے گی۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت یوسفؑ اپنے والد بزرگوار کے احترام میں سواری سے نیچے نہیں اُترے لیکن یہ تکبّر اور بے اعتنائی کی وجہ سے نہیں تھا۔ کیونکہ انبیائے کرام (علیہم السلام) ہر قسم کے گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں، البتہ اپنی سلطنت اور شان و شوکت کا اعلیٰ مقام برقرار رکھنے اور رعایا پر رُعب و دبدبہ بٹھانے کی خاطر تھا۔
عاق والد ین کا بُرا انجام
عاق والدین کے وضعی آثار میں سے ایک اثر بُرا انجام ہے۔ اس کے بر عکس والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے عاقبت سنور جاتی ہے۔ جیسا کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّخَفِّفَ اللہُ عَنْہ سَکَرَاتَ الْمَوْتِ فَلَیْکُنْ لِقَرَابَتِہِ وَصُوْلاً وَّلوَالِدَیْہِ بَارّاً فَاِذَا کَانَ کَذٰلِکَ ھَوَّنَ اللہُ عَلَیْہِ سَکَرَاتَ الْمَوْتِ وَلَمْ یَصبَہُ فِیْ حیٰوتہٍ فَقْرٌ اَبَداً (سفینۃ البحار جلد ۲ ص ۶۸۷)
جس کی خواہش ہو کہ جان کنی کی کیفیت اس پر آسان ہو جائے، اسے اپنے رشتہ داروں سے صلہٴ رحم اور والدین کے ساتھ نیکی بجا لانا چاہیے، جب کوئی ایسا کرے گا تو خداوند عالم موت کی سختیاں اس پر آسان کر دے گااور وہ شخص زندگی بھر کسی پریشانی و تنگ دستی میں نہ ہوگا۔
والدین کی دعا جلد مستجاب ہوتی ہے
ماں باپ اولاد کے حسن سلوک کے یا بد سلوکی کے نتیجے میں جو بھی دعا کرتے ہیں، وہ بارگاہِ الٰہی میں ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک روایت دعائے مشلول کی فضیلت میں نقل ہوئی ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک نوجوان کا اپنے باپ کی بد دعا کے نتیجے میں سیدھا ہاتھ بے کار ہو گیاتھا۔ وہ نوجوان باپ کی وفات کے بعد متواتر تین سال مسجد الحرام میں ساری رات بارگاہِ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعائیں کرتا تھا۔ ایک دن مولائے متقیان حضرت امیر المومنینؑ کو اس نوجوان پر ترس آیا۔ چنانچہ آپ نے اُسے دعائے مشلول تعلیم فرمائی۔ اور وہ نوجوان اس دعا کی برکت سے شفا یاب ہو گیا۔
ماں حسنِ سلوک کی سب سے زیادہ سزا وار ہے
ماں کے ساتھ نیکی کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ چنانچہ حضرت رسول خدا ﷺ نے ماں کے ساتھ اچھے برتاؤ کے سلسلے میں تین مرتبہ تکراراً حکم دیا ہے اور چوتھی مرتبہ باپ سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ
والدین میں کس کا حق زیادہ ہے؟
آپ نے فرمایا:
کیا ماں وہی ہستی نہیں ہے جس نے مدتوں تجھے اپنے رحم میں اٹھائے رکھا اور اس کے بعد وضعِ حمل کی سختیاں برداشت کیں؟ پھر اپنی چھاتی سے تیرے لیے غذا مہیا کی، پس ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔ (مستدرک ۶۲۸)