ur

وعدہ خلافی


آیت اللہ عبد الحسین دستغیب شہید
گناہان کبیرہ میں سے ایک گناہ ’’وعدہ خلافی ‘‘کرنا ہے، اس بارے میں صحیح روایت موجود ہیں، جیسا کہ صحیح اور مستند روایت میں حضرت عبد العظیم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ امام علیہ السلام نے اس گناہ کے گناہِ کبیرہ ہونے پر قرآنِ مجید کی اس آیت سے دلیل فرمائی ہے :
وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْداللہِ مِنْ بَعْدِ میْثاقِہ ویَقْطَعُوْنَ مَآاَمَرَاللہُ بِہٓ اَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولیٰٓکَ لَھُمْ اللّٰعْنَةُ وَلَھُمْ سُوْآءُ الدَّارِ(۱)
اور جو لوگ خدا سے عہد ِ وپیمان کو پکا کرنے کے بعد توڑڈالتے ہیں اور جن (تعلقاتِ باہمی ) کے قائم رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے انہیں قطع کرتے ہیں اور روئے زمین پر فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ایسے لوگوں کے واسطے برا گھر (جہنّم ) ہے۔
وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی مذمت میں سورہ آل ِعمران میں ارشاد ہوا:
بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہ وَا تَّقٰی فَاِنَّ اللہِ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ، اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللہِ وَاَیْمَا نِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَاخَلاَقَ لَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَةِ وَلَایُکَلِّمُھُمْ اللہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمُ الْقِیٰامَةِ وَلَا یُزَ کِّیھِمْ وَلَھُمْ عَذَابُ اَلِیْمُ (۲)
ہاں!(حکم خدا تو یہ ہے کہ) جو بھی اپنا عہد پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تقویٰ والوں کو یقینا دوست رکھتا ہے،بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اوراللہ قیامت کے دن ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ایک اورجگہ ارشاد ہے:
اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْدَاللہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُْمْ لَا یُوٴْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ عَاھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْفَقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلَّ مَرَّةٍ وَّ ھُمْ لَا یَتَّقُوْنَ (۳)
یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والوں میں بدترین وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے،جس سے آپ نے عہدلیا پھر وہ اپنے عہدکو ہر بار توڑ ڈالتے ہیں اور وہ ڈرتے نہیں ہیں ۔
یہ آیت شریفہ بنی قریظہ کے اُن یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے رسولِ خدا ﷺسے عہد کیا تھاکہ وہ دشمنانِ اسلام کا ساتھ نہیں دیں گے، لیکن جنگِ بدر میں انہوں نے مشرکین کو اسلحہ کی کمک دے کر یہ عہد و پیمان توڑدیا تھا بعد میں رسولِ سے کہا تھا کہ ہم یہ عہدوپیمان بُھول گئے تھے، دوبارہ انہوں نے رسول خدا سے ایسا ہی عہد کیا تھا لیکن جنگ خندق میں ایک بار پھر انھوں نے اسے توڑدیا اور پیغمبرِاسلام کے خلاف جنگ کرنے کے لئے ابوسفیان سے مل گئے۔
قرآنِ مجید میں چند مقامات پر وعدے کی پاسداری کو واجب قراردیا گیاہے اور اس پر تاکید فرمائی ہے،مثلاًارشاد ہے کہ :
وَاَوْفُوْ بِا لْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَکَانَ مَسْوٴُلً(۴)
وعدہ کی وفا ضرور کرو اس لئے کہ وعدہ کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا ایک اور جگہ پر ارشاد ہے۔
یَا اَیُّھَاالّذیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْابالْعَقُوْد (۵)
اے ایمان لانے والو! اپنے وعدوں کو پورا کیا کرو۔
اور سچّے اور متقی لوگوں کی تعریف میں ارشاد ہے۔
وَالمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِنَا عَا ھَدُوْا (۶)
اور یہ وہ لوگ ہیں جو جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو اسے ضرور پورا کرتے ہیں۔
سورئہ صف میں کچھ اس طرح سخت انداز میں ارشاد:
یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ الِمُ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کَبُرَ مَقْتًا عِنَدْاللہِ اَنْ تَقُوْلُوْامَالَا تَفْعَلُوْنَ (۷)
اے ایمان لانے والو! تم ایسی باتیں کیوں کہاکرتے ہو جن کے کرنے کا تمہیں ارادہ نہیں ہوتا، خدا کے نزدیک یہ بڑے غضب کی با ت ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر عمل نہ کرو!
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ:
عِدَةُ الْمُوٴْمِنِ اَخاَہُ نَذْرُ لَہُ فَمَنْ اَخْلَفَ فبِخُلْفِ اللہِ بَدَءَ وَلِمُقْتِہ تَعَرَّضَ(۸)
مومن کا اپنے مومن بھائی سے وعدہ ایک ایسی نذر ہے جس کا کوئی کفارہ تو نہیں ہے لیکن جو شخص وعدہ خلافی کرتاہے وہ خدا کی مخالفت اور دشمنی کاآغاز کردیتا ہے اور خدا کے غضب کو چھیڑ بیٹھتا ہے! اس کے بعد امامؑ نے سورہ صف کی مندرجہ بالاآیت تلاوت فرمائی تھی۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مالکِ اشتر سے ان کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے فرماتے ہیں:
اَلْخُلْفُ یُوْجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللہِ(۹)
وعدہ خلافی خدا کے غضب کا باعث بن جاتی ہے۔
اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام نے بھی اسی آیت کا حوالہ دیا تھا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں۔
عَنْ اَبْی جَعْفَرٍ قَالَ اَرْبَعَةُ اَسْرَعُ شَیْیٴً عُقُوْبَةً
چا ر قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر جلد عذاب نازل ہوتا ہے:
۱۔ رَجُلُ اَحْسَنْتَ اِلَیْہِ وَیُکافِئُکَ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْہِ اِسَائُہ
ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اُس سے وفا کررہے ہو لیکن وہ تم سے بے وفائی کررہاہو، تمہاری نیکی کے بدلے میں اس نے تم سے بدی کی ہو۔
۲۔ وَرَجُلُ لا تَبْغِیْ عَلَیْہِ وَھُوَ یَبْغِیْ عَلَیْکَ
ایسا شخص جس پر تم کوئی ظلم نہیں کرتے (اگرچہ ) اس کے ساتھ کوئی نیکی بھی نہ کرتے ہو) مگر وہ تم پر ظلم کرتا ہو۔
۳۔ وَرَجُلُ عَاھَدْتَّہ عَلٰی اَمْرٍ فَمِنْ اَمْرِکَ الْوَفاءُ بِہ وَمِنْ اَمْرِہِ
الْغَدْرُبِکَ
ایسا شخص جس کے ساتھ تم نے کسی سلسلے میں معاہدہ کیا ہواور تم اس سلسلے میں اس سے وفاکر رہے ہو، لیکن وہ تم سے بے وفائی کرہا ہو۔
۴۔ وَرَجُلُ یَصِلُ قَرٰابَتَہ ویَقْطَعُوْنُہ (۱۰)
اور ایسا شخص جو اپنے رشتہ دار سے صلہ رحمی برقرار رکھنا چاہتا ہے مگرہ قطع رحمی کرتا ہو۔
عَن اَبی مَالِکٍ قَالَ قُلْتُ لَعَلِیِّ بْنِ الْحُسیْنِ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے ابو مالک نے کہا: اَخْبِرْنِیْ بِجِمِیْعِ شَرَایِعِ الدِّیْنِمجھے آپ دین اسلام کی تمام شرعی باتوں کا خلاصہ بتادیجئے ۔قَالَ قَوْلُ الْحَقِّ وَالْحُکْمُ بِالْعَدْلِ وَالْوَفَاءُ بِالْعَھْدِ(۱۱)
امام علیہ السلام نے فرمایا:حق بات کہنا ، انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ، اور وعدے کو پورا کرنا۔
وعدہ وفائی کی اہمیت کے سلسلے میں اگرچہ آیا ت وروایات بہت وارد ہوئی ہیں لیکن ہم اسی مقدار پرا کتفا کررہے ہیں۔
وعدہ خلافی کی اقسام
وعدے کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ایک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو ۔
۲۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
۳۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ وہی ہے جو عالمِ ذر (عالمِ اروا ح) میں واقع ہوا ہے، قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے، اُس وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گئے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا،لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا، اسی لئے ارشاد ہے:
اَوْفُوْ ا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ(۱۲)
(اے میرے بندو!) مجھ سے کیا ہوا وعدہ وفا کرو ، اگر تم ایسا کرو گے تو میں بھی تم سے کیا ہوا وعدہ وفا کروں گا۔
یہ بھی ارشاد ہے کہ :
اَلَمْ اَعْھَدَ اِلْیْکُمْ یَابَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُو الشَّیْطَان(۱۳)
اے آدم علیہ السلام کی اولاد کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لیا تھاکہ خبردار شیطان کی پرستش نہ کرنا؟
عالَم ارواح میں پروردگارِعالم نے بندوں کی روحوں سے جو وعدے لئے تھے ان میں امیرالمومنین اور اَئمہ طاہرین کی ولایت کے بارے میں بھی وعدے شامل تھے، بہت سی روایتوں میں اس بات کا ذکر موجودہے، یہاں تک کہ تمام آسمانی کتابوں میں اس کاذکر ہے اور تمام انبیاء کے ذریعے بھی چہاردہ معصومین کی ولایت ومحبت کا پیغام پہنچایا گیاہے۔
البتہ بعض علماء نے عالم ذر یا عالم ارواح کا انکار کیا ہے۔ وہ اس موضوع پروار دہونے والی آیتوں اور روایتوں کی تاویل فرماتے ہیں، وہ عالمِ ذرسے مراد عَالَم فطرت لیتے ہیں، یعنی ان کے نزدیک خدا وندِ تعالیٰ نے فطری طور پر انسان کو اس بات کاپابند بنایا ہے کہ وہ احکامِ خدا کی پابندی کرے اور شیطان کی پرستش نہ کرے، اب اگر انسان مخالفت کرتا ہے تو اپنی فطرت کے خلاف کام کرتا ہے، البتّہ انسان کی عقل اس کو فطرت پر چلنے اور اپنے خالق کی اطاعت کرنے کا حکم دیتی ہے، وہ علمائے کرام اسی حکم کو عہدو پیمان شمار کرتے ہیں، بہرحال حقیقت کیا ہے، اس کی تفصیل کے لئے یہ کتاب مناسب نہیں ہے۔
بہرحال خواہ آدمی عالمِ ارواح میں کئے گئے وعدے کو توڑے، یا عالمِ فطرت میں کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کرے ، دونوں صورتوں میں وعدہ توڑنا بہرحال گناہِ کبیرہ ہے، بلکہ سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے، اکثر آیات وروایات میں اتنی تاکید موجود ہے کہ وعدہ وفا کرنا واجب اور وعدہ توڑنا حرام ثابت ہوتا ہے، وعدہ توڑنے پر سخت عذاب کی باتیں بھی وارد ہوئی ہیں اورروایا ت سے معلوم ہوتاہے کہ اتنا سخت عذاب اسی پہلی قسم کے وعدے کو توڑنے میں ہے اور یہی سب سے بڑا گناہِ کبیرہ ہے، پس بندوں کو چاہیئے کہ اپنے پروردگار سے کئے گئے تمام وعدوں کی وفا کریں تاکہ خدا بھی اس کے صلے میں اپنے تمام وعدے وفا کرے۔
خداوندِ عالم نے دُعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے
خدا نے بندوں سے جو وعدے کیے ہیں ان میں سے ایک دعا قبول کرنے کا وعدہ بھی ہے، لیکن اس وعدے کو پورا کرنے کی ایک شرط بھی ہےاور وہ شرط یہ ہے کہ بندے خدا سے کیا ہوا اپنا وعدہ وفا کریں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جمیل روایت کرتے ہیں
(عَن اَبِیْ عَبْدِ اللهِ) اَنَّ الْعَبْدَاِذَا دَعَا اللہَ تَعَالٰی بِنِیَّةٍ صَادِقَةٍ وَقَلْبٍ مُخِلصٍ اُسْتُجِیْبُ لَہ بَعْدَ وَفَائِہِ بِعَھْدِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ
جب بندہ خدا سے سچّی نیّت اور خلوص بھرے دِل کے ساتھ دُعا مانگتا ہے تو اس کی دُعا اس وقت قبول ہوتی ہے جب وہ خدائے عِزّوجل سے کئے ہوئے اپنے وعدے کو پورا کرلیتا ہے۔
وَاِذَادَعَا اللہَ بِغَیْرِ نَیَّةٍ وُّ اِخْلَا صٍ لَمْ یُسْتَجِبُ لَہ
لیکن جب بندہ خدا سے سچّی نیت اورخلوص کے بغیر دُعا کرتا ہے تو اس کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔
اَلَیْسَ اللہُ یَقُوْلُ اَوْفُوْا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ، فَمَنْ وَفٰی وُفِیَ لَہ (۱۴)
کیا خدائے تعالیٰ نہیں فرماتا (مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو تو میں تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گا )پس جو وعدہ وفا کرتا ہے اسی کے ساتھ وفا کی جاتی ہے۔
نذر اور عہد میں زبان سے کہنا
دوسری قسم کا وعدہ وہ ہے جو بندہ خودہی خدائے تعالیٰ سے کرتا ہے مثلاًنذر کرلیتا ہے یا قسم کھالیتا ہے، قسم ، عہد یا نذر کا محض دل ودماغ میں عزم کرلینا اور سوچ لینا کافی نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اس کا جملہ زبان سے ادا کرنا پڑتا ہے، مثلاً اگر کوئی بندہ خدا سے عہد کرنا چاہے اور عربی میں کہنا چاہے تو اسے کہنا پڑے گا عَاھَدْتُ اللہَ (میں نے خدا سے عہد کیا) یا یہ کہنا ہوگا کہ عَلَّی عَہدُ اللہِ(میرے ذمّے خدا سے کیا ہوا عہد ہے)عربی کے علاوہ کسی بھی زبان میں نذر، قسم ، یا عہد کا جملہ کہا جاسکتا ہے۔ مثلًا یہ نذر مانی جاسکتی ہے کہ اگر میں صحت یاب ہو گیا ،یا سفر سے صحیح و سالم واپس آگیا تو اتنی رقم خدا کے لے خیرات کروں گا، ایسا جملہ منہ سے کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوتی ہے اور محض دِل میں سوچ لینے سے واجب نہیں ہوتی۔
بیکار کام کی نذر یا عہد
یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیئے کہ عہد ، قسم یا نذر بے کار کام کی نہ ہو، یعنی شرعی طور پر نا پسندیدہ کام نہ ہو، دوسرے الفاظ میں کام حرام یا مکروہ نہیں ہونا چاہیئے، مثلاً اگر آدمی قسم کھائے اور عہد کرے کہ وہ فلاں حرام یامکروہ کام کرے گا تو یہ باطل اور غلط ہے، اسی طرح اگر وہ نذر کرے کہ اگر اس کا فلاں کام ہوگیا تو وہ فلاں حرام یا مکروہ کام کرے گا، تو یہ بھی غلط ہے، اسی طرح اگر کوئی کام ترک کرنے کی نذر، عہد یا قسم ہوتو وہ کام واجب یا مستحب نہیں ہونا چاہیئے، اسی طرح نذر، قسم اور عہد کے وقت اگر کام میں رحجان تھا، مثلاًاس کا کرنا واجب یامستحب تھایا اسکا نہ کرنا حرام یا مکروہ تھا ،لیکن بعد کے اضطراری حالات میں وہ رحجانِ شرعی طورپر ختم ہوگیا تونذر اور قسم وغیر ہ باطل ہوجاتی ہے، مثلاً آدمی نے نذر کی کہ اگر و ہ صحت یاب ہوگیا تو مثلاًایک ہزار روپیہ راہِ خدا میں خرچ کرے گا، لیکن جب وہ صحت یاب ہوا تو اتنا تنگ دست ہوگیا کہ اہل وعیال کا خرچ مشکل سے نکلنے لگا، ایسی صورت میں یہ نذر باطل شمار ہوگی اور اس کا پورا کرنا واجب نہیں رہے گا۔
نذر مفید کام کی ہونی چاہیے
پس ثابت ہوا کہ قسم یا نذر ایسے کام کی ہونی چاہیئے جس میں شرعی طور پر رحجان موجود ہو، اگر مباح کام کی بھی قسم یا نذر ہو تو بھی اس میں رحجان دیکھنا پڑتا ہے، یعنی اگر مباح کام کرنے کی قسم یانذر ہوتو اس کا کرنا کم از کم عقلی طور پرنہ کرنے سے بہتر ہو، مثلاًپیدل چلنا اور ورزش کرنا ایک ایسا ہی مباح کام ہے،اسی طرح اگر کسی مباح کام کو چھوڑنے کی قسم یا نذر ہو تو اس میں بھی عقلی رحجان کا پہلو ہونا چاہیئے، یعنی اس کا چھوڑ دینا اس کے انجام دینے سے بہتر ہو، مثلاً سگریٹ پینا ایک ایسا ہی مباح کام ہے۔
عہدِ مطلق اور عہدِ مشروط
نذر وقسم کی طرح عہد بھی یاتو مطلق ہوتا ہے یا مشروط مثلاً مطلق عہد یہ ہے کہ آدمی کہے: میں نے خدائے تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ میں فلاں کار خیر انجام دوں گا، پس یہ عہد واجب ہوجاتا ہے اور اس کارِ خیر کو ترک کرنا گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے، بلکہ عہد توڑنے کا کفّا رہ بھی الگ سے واجب ہوجاتا ہے، مطلق یعنی جس میں کوئی شرط نہ لگائی گئی ہو۔
اور مقید یا مشروط عہد یعنی آدمی خدا کےساتھ کسی خاص شرط کے تحت عہد کرے مثلاًکہے : اگر مجھے بیٹا دے تو میں فلاں کارِخیرانجام دوں گا۔پس وہ کارِ خیر اسی وقت واجب ہوگا جب وہ شرط پوری ہو، اور جب شرط پوری ہوجائے تو اس عہد کی خلاف ورزی کرنا نہ صرف یہ کہ گناہِ کبیرہ ہے بلکہ کفّارے کا بھی موجب ہے۔
نذرو عہد کا کفّارہ
عہد خواہ مطلق ہو یا مشروط، اس کو توڑنے کا کفّارہ دینا واجب ہے، اس کا کفّارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ نہ رکھنے اور توڑنے کاہے، یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنااور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے، یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ۔ نذر اور قسم کے کفّاروں میں یہ بات بھی ہے کہ اگر آدمی ان تینوں میں سے کوئی سا بھی کفّارہ نہ دے سکتا ہو تو اسے تین مسلسل روزے رکھنا واجب ہوتے ہیں۔
خدا سے عہد کی تین قسمیں
درحقیقت نذر اور قسم بھی خداوندِ تعالیٰ سے عہد ہے۔ اس لحاظ سے عہد کل تین قسموں کا ہوتا ہے، ایک خود عہد ہے اور باقی دو قسمیں نذر اور قسم کہلاتی ہیں، بس یہ لطفِ خدا وند ہے کہ اگر کوئی آدمی خدا سے عہد کرتے ہوئے ڈرے اور اتنے بڑے کفّارے (یعنی سا ٹھ غریبوں کو کھانا کھلانے یا ساٹھ روزے رکھنے سے بچنا چاہے تو وہ چھوٹے قسم کے عہد کرسکتا ہے،یعنی نذر کرسکتا ہے یا شرعی قسم کھاسکتاہے۔
وعدہ خلافی اور نفاق
وعدہ خلافی اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے باعث دل میں نفاق اور منافقت کا بیج اُگ جاتا ہے، مرتے وقت آدمی کا فرکی موت مرتاہے، اور قیامت میں وہ منافقین ہی کے ساتھ محشور ہوتا ہے، قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ:
وَمِنْھُمْ مَنْ عَا ھدَاللہَ لَیَنْ اٰتَیْنَا مِنْ فَضْلِہ لَنَصَدَّقْنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ منَ الصَّلحیْنَ فَلَمَّا اٰتَھُمْ منْ فَضْلہ بَخِلُوْ ا بِہ وَلَّوَ لَّوْاوّھُمْ مُعْرِضُوْنَ، فَاعْقَبْھُمْ نِفَا قًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقُوْ نَہ بِمَآ اَخْلَفُوا اللہَ ماَوَعَِدُوْہُ وَبِمُةا کَانُوْ یَکْذِبُوْنَ(۱۵)
اور ان (منافقین ) میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خدا سے قول واقرار کرچکے تھے کہ اگر ہمیں اپنے (فضل وکرم) سے (کچھ مال) دے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کار بندے ہوجائیں گے ۔ تو جب خدا نے اپنے فضل (وکرم) سے عطا فرمایا تواس میں بخل کرنے لگے اور کترا کے منہ پھیرنے لگے، پھر جب ان سے ان کے خمیازہ میں اپنی ملاقات کے دن (قیامت) تک ان کے دل میں (گویا خود ) نفاق ڈال دیا، اسی وجہ سے ان لوگوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا اور اس وجہ سے کے یہ لوگ جھوٹ بولاکرتے تھے۔
اس آیت شریفہ سے یہ ثابت ہوا کہ عہد شکنی اور جھوٹ ایسے گناہ ہیں جو ایسے نفاق کا سبب بنتے ہیں مرتے دم تک آدمی کے دِل میں باقی رہتا ہے۔ ان آیاتِ شریفہ کی شانِ نزول کے بارے میں تفسیر، منہجُ الصّادقین میں لکھا ہے کہ :ثعُلبہ ابنِ خاطب ایک ایسا عیسائی تھا جو اپنے مذہب میں عبادت اور زہد کے لحاظ سے مشہور تھا ۔ ایک دن وہ پیغمبرِ اسلامﷺکی خدمت میں آیا، اس نے اپنی تنگدستی کارونارویا، اس نے آنحضرت سے التماس کی کہ وہ خدا سے اس کی کشادہ حالی کے لئے دُعا فرمائیں، آنحضرت نے اسے نصیحت فرمائی کہ : اس حاجت سے دِل نہ لگاوٴ اور اپنی غربت پر صبرکرلو، رزق کی فراوانی تمہارے لئے خطرناک ہے ! تھوڑے پر اگر تم شک کروگے تو یہ اس بہت سے رزق سے بہتر ہے جس کا تم شکر بجا نہ لاسکو،آنحضرت نے فرمایا:
خدا کی قسم اگر میں دُعا کروں کہ پہاڑ سونے چاندی کے ہوجائیں اور میرے ساتھ ساتھ حرکت کریں تو حق تعالیٰ ایسا کردے گا، لیکن میں جانتا ہوں کہ غربت کی عاقبت خیر ہے اور کشادہ حالی کی عاقبت زیادہ تر شر ہوتی ہے! پس رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت کرو اور بات کو مان لو!
ثعلبہ نصرانی نے آنحضرت کی نصیحت قبول نہیں کی اگلے دن وہ پھر آنحضرت کے پاس وہی التماس لے کر آگیا وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! میں خدا سے عہد کرتا ہوں کہ اگر خدا مجھے فراوانی کے ساتھ مال دے گا تو میں مستحق افراد کے حقوق ادا کروں گا اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کروں گا، جب اس نے بہت اصرار کیا تو آنحضرتﷺنے خداوند تعالیٰ سے اس کی غربت دور کرنے کی دُعا کردی۔
خدا وندِ تعالیٰ نے اس کی بھیڑ بکریوں میں اسے بہت برکت دی ان کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ اپنی بھیڑبکریوں کی حفاظت میں پیغمبرِخدا کے ساتھ نماز باجماعت پڑھنا چھوڑ بیٹھا، وہ صرف صبح اور شام کی نماز پرا کتفاء کرنے لگا۔ پھر اس کا کام اتنا بڑھ گیا کہ مدینے کے اطراف میں اس کی بھیڑ بکریوں کے لئے جگہ کم پڑگئی،وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو لے کر صحرا ہی میں بس گیا، اب وہ رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ پانچوں وقت کی نمازِ باجماعت پڑھنے سے محروم ہوگیا تھا، البتہ اب بھی وہ نمازِ جمعہ کے لئے مدینہ آجاتا تھا! پھر بھیڑ بکریوں کے سلسلے میں اس کا دائرہ کا رمدینے کے اطراف کی وادیوں سے بھی آگے پھیل گیا اب وہ نمازِ جمعہ سے بھی محروم ہوگیا!
ایک دن پیغمبر ِاسلامﷺ نے اصحاب سے پوچھا کہ’’ کیا ہوا ثعلبہ ہماری نماز میں حاضر نہیں ہوتا؟‘‘
لوگوں نے کہا:اُس کے پاس اتنی زیادہ بھیڑ بکریاں ہیں کہ کسی وادی میں پوری طرح نہیں سماتیں! اب وہ فلاں وادی میں گیا ہے اور وہیں کا ہوگیا ہے، آنحضرت نے یہ سن کر تین بار فرمایا’’ثعلبہ پر وائے ہو ! ثعلبہ پر وائے ! ثعلبہ پر وائے ہو!‘‘
پھر جب زکوٰۃ واجب ہوئی اور اس کی آیت نازل ہوئی تو آنحضرت نے ایک صحابی کو وہ آیت تحریری صورت میں دی اور قبیلہ بنی سلیم کے ایک آدمی کو اس صحابی کے ساتھ کردیا، آنحضرت ﷺ نے حکم دیاکہ ’’جب ثعلبہ سے زکوٰۃ لے لینا تو فلاں بھلے آدمی سے بھی زکوٰۃ لیتے آن وہ دونوں ثعلبہ کے پاس گئے، زکوٰۃ کی آیت دکھائی اور آنحضرت کا خط بھی اُسے دیا جس میں زکوٰۃ کی شرائط درج تھیں، ثعلبہ اتنا مال کی محبت میں مبتلا ہوگیا تھا کہ اس نے کہا: محمد ہم سے جزیہ (ٹیکس ) طلب کررہے ہیں! کہیں اور جا کر طلب کرو ! جب تک میں اس بارے میں غور کروں گا!
وہ دونوں اُس بَھلے آدمی کے پاس گئے (جوقبیلہ بنی سلیم سے تعلق رکھتا تھا)اُس نے آیت قرآن اور پیغمبرکا خط دیکھ کر کہا’’ سَمْعًا وَّطَاعَةً لِاَّمْرِ اللہَ وَرَسُوْلِہ (حکم خدا اور حکم رسول کو سنتے ہوئے اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے حاضر ہوں)
وہ اپنے اونٹوں کے درمیان گیا، اُس نے چھانٹ کرزکوٰۃ کے لئے بہترین اونٹ نکالے اور کہا ’’یہ پیغمبرِ اکرم کے پاس لے جائیے‘‘دونوں نے کہا بہترین دینا واجب نہیں ہے !اُس نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں خدا و رسول کو بہترین نہ دوں!
وہ دونوں ثعلبہ کے پاس واپس گئے، اُس بدبخت نے وہی پہلی سی بات کی اور زکوٰۃدینے سے انکار کردیا۔
یہ واقعہ سُن کر آنحضرت نے ایک بار پھر فرمایا : ثعلبہ پروائے ہو! آنحضرت نے اُس دوسرے بُھلے آدمی کے لئے دُعا ئے خیر فرمائی جس نے بہترین طریقے سے زکوٰۃ دے دی تھی۔
صحابہ کرام تعجب کررہے تھے کہ واقعی ثعلبہ کو آنحضرت ﷺ کی بات پہلے ہی مان لینی چاہیئے تھی تاکہ اس حال پر نہ پہنچتا اور ایمان کھو کر مُرتد نہ ہوجاتا!: (زکوٰۃ ضروریاتِ دین میں سے ہے اور جو شخص کہے کہ زکوٰۃواجب نہیں ہے وہ مُرتد ہوجاتا ہے اور مسلمان نہیں رہتا !) سورہ توبہ کی مذکورہ آیتیں ثعلبہ کی مذّمت میں نازل ہوئی ہیں۔
آپس میں عہد وپیمان
وعدے کی تیسری قسم یہ ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے عہدو پیمان کرے، آیتوں اور بہت سی روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کا وعدہ بھی وفا کرنا واجب ہے اور اسے توڑنا بھی حرام ہے، مثلاً سورہ بنی اسرائیل میں حکم ہے کہ :
وِاَوْ فُوْ ا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعِھْدِکَانَ مُسْوٴُلًا(۱۶)
اور تم اپنے عہد کو پورا کرو، بے شک خدا قیا مت میں عہد کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔
اسی طرح اہلِ صدق وتقویٰ کی تعریف میں آیت ہے کہ :
وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَاعَا ھَدُوْا (۱۷)
اور یہ وہ ہیں کہ جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تواپنے وعدے کو وفا کرتے ہیں۔
اسی طرح دوزخ سے نجات پانے والوں اور جنت میں داخل ہونے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ:
وَالَّذِیْنُ ھُمْ لِاَمَانٰتِھمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ (۱۸)
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں:
اور اپنے مومن بھائی سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا نذر کی طرح واجب ہے، اگرچہ کہ اس وعدے کی خلاف ورزی پر کوئی کفّارہ نہیں ہے۔
پیغمبرِاکرم ﷺ فرماتے ہیں:
مَنْ کَانَ یُوٴْمِنُ باِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَفِ اِذَاوَعَدَ (۱۹)
جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیےکہ جب بھی وہ وعدہ کرے وفا کرے۔
معلوم ہوا کہ وعدہ وفا کرناخدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھنے کے لوازمات میں سے ہے ۔ اِسی طرح سور ئہ صف کی ابتدا ئی چند آیات وعدہ خلافی کی سخت مذمت میں نازل ہوئی ہیں اور اِن سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ وعدہ خلا فی ، خواہ کسی قسم کی بھی ہو حرام ہے۔
منافق، وعدہ خلافی کرتے ہیں
پیغمبر اکرمﷺ سے مَروی ہے کہ :
ثَلَاثُ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُناَ فِقًا وَاِنْ صَامَ صَلّٰی
تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی ہوں گی، وہ منافق ہوگا، اگرچہ وہ نماز روزے کاپابند ہو اور خواہ خود کو سچّامسلمان سمجھتا ہو!
وَاِذَا ا ئْتَمَنَ خَانَ ایک وہ شخص کہ جب بھی کوئی امانت رکھتا ہو اس میں خیانت کر بیٹھتا ہو۔
وَاِذَاحَدَّثَ کَذِبَ ایک وہ شخص کہ جب کبھی کوئی بات کرتا ہو، جھوٹ بولتا ہو۔
وَاِذَاوَعَدَ اَخْلَفَ (۲۰ )اورایک وہ شخص کہ جب بھی کوئی وعدہ کرتا ہو، اس کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہو!
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :
مَنْ عَامَلَ النَّاسَ ولَمْ ظَلَمَھُمْ، وَحَدَّثَھُمْ فَلَمق یُکَذِّبُھُمْ وَوَ عَذَھُمْ فَلَمْ یَخْلِفْھُمْ
جو شخص لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے تو ان پر ظلم نہ کرتا ہو، جب ا سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولتا ہو، اور جب ان سے کوئی وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔
فَھُوْ مِمَّنْ کَمُلَتْ مُرَوَّتُہ وَ حَرُمَتْ غَیْبَتُہ وَ ظَھَرَ عَدْلُہ وَوَجَبَتْ اُخُوَّتُہ (۲۱)
تو وہ ایسے لوگوں میں ہوتا ہے کہ جنکا اخلاقِ کامل ہے، جن کی غیبت حرام ہے، جن کا عادل ہوناظاہر ہے اور جن سے بھائی چارہ کرنا واجب ہے۔
پس جوشخص ظالم ، جھوٹا، یا وعدہ خلافی کرنے والا ہو، اسی روایت کی روشنی میں اس کا اخلاق کامل نہیں ہے، اس کی غیبت جائز ہے، وہ غیر عادل یعنی فاسق ہے، اور جس کے ساتھ برادرِ ایمانی والے حقوق کی رعایت واجب نہیں ہے!
کوئی چھوٹ نہیںاسی طرح چھٹے امام علیہ السلام کا یہ بھی ارشا د ہے کہ :
ثَلَا ثَةُ لَمْ یَجْعَلِ اللہَ تَعَا لٰی لِاَحَدٍفِیْھَارُخْصَةً
تین فرائض ایسے ہیں جن کے سلسلے میں خدائے تعالیٰ نے کسی کو ذرا سی بھی چھوٹ نہیں دی۔
بِرَّالْوَالِدَیْنِ ، بِرَّیْنِ،کَانَا اَوْفَاجِرَیْنِوالدین کے ساتھ نیکی کرنا ، خواہ دونوں نیک ہوں یا بدکردار !
وَالْوَفَاءُ بِالْعَھْدِ لِلْبِرّ وَالْفَاجِرِوعدے کو وفاکرنا ، خواہ نیک آدمی سے وعدہ کیا ہو ا بدکردار سے
وَاَدَاءُُ اَلْاَمَانَةِ لِلْبِّرِ والْفَاجِرِ(۲۲) اورامانت ادا کرنا ، خواہ وہ نیک آدمی کی ہو یا بدکردار کی۔
اسی جیسی ایک حدیث کافی میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے بھی مَروی ہے۔
حضرت امیر المومنین ؑکا ارشاد ہے کہ:
مَنْ لِاْمِرْئَتِہ شَرْطًا فَلْیَفِ بِہ فَاِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ عِنْدَ شُرْطًا حَرَّمَ حَلَا لاً اَوْ اَحَلَّ حَرَامًا(۲۳)
جو شخص اپنی بیوی سے کوئی وعدہ کرے تو اسے وہ بھی وفا کرنا چاہیے، اس لئے کہ مسلمان اپنے وعدوں کا ہردم لحاظ رکھتے ہیں، ہاں البتّہ اگر کسی وعدے کی وجہ سے کوئی حلال چیز حرام ہورہی ہوتو یا کوئی حرام چیز حلا ل ہورہی ہو تو وہ ایسے وعدوں کا لحاظ نہیں رکھتے۔
مشرکوں سے معاہدہ
بہرحال وعدہ وفائی کے واجب ہونے اوروعدہ خلافی کے حرام ہونے سے متعلق آیات وروایا ت بے شُما ر ہیں ۔ اس موضوع کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ:
اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْد اللہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْافَھُمْ لَا یُوٴْمِنُوْنَ اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنُ عَھْدَھمْ فِیْ کُلِّ مَرَّةٍ وَّھُمْ لَا یَتَّقُوْنَ (۲۴)
اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک جانوروں میں کفّار سب سے بدتر ہیں تو (باوجود اس کے ) پھر ایمان نہیں لاتے، (اے رسول) جن لوگوں سے تم نے عہدو پیمان کیا تھا پھروہ لوگ اپنے عہد کو ہر بار توڑڈالتے ہیں اور پھر (خدا سے نہیں ڈرتے)۔
پس وعدہ خلافی کرنے والے لوگ خدا کی بدترین مخلوق ہیں ! یعنی جانوروں سے بھی بدترین ہیں، یہ بات یہاں جان لینی چاہیئے کہ خداوندِ تعالیٰ نے مشرکو ں اور کافروں سے بھی کئے ہوئے معاہدے اور وعدے کو توڑنے کی اجازت نہیں دی ہے، اور اس کی وفا بھی واجب قرار دے دی ہے۔
حضور کا مشرکو ں سے ایفاءِ عہد
جب اسلام کی شان وشوکت عروج پر تھی تو سورہ برائت کی ایک آیت نازل ہوئی جس میں مشرکوں سے جہاد کا حکم دیا گیا تھا، مکّہ معظمہ کو شرک اوربُت پرستی سے پاک کردینے کا حکم ملا تھا، لیکن ان مشرکوں سے معاہدہ توڑنے کا حکم بھی آیا تھا جو معاہد ہ توڑنے میں پہل نہیں کررہے تھے ۔ وہ آیت شریفہ یہ ہے۔
اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰھَدْتُمْ مِّنْ الْمُشْرِکِیْنِ ثُمَّ یَنْقُصُوْکُمْ شُیْئًا وَّلَمْ یُظَا ھِرُوْ ا عَلَیْکُمْ اَحَدًافَاَتِمُّوْآ اِلَیْھِمْ عَھْدَ ھُمْ اِلٰی مُدَّتِھِمْ، اِنَّ اللہ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (۲۵)
مگر (ہاں) جن مشرکوں سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا پھر ان لوگوں نے کبھی کچھ تم سے (وفا عہد میں ) کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی تو ان کے عہدپیمان کو جتنی مدّت کے واسطے مقرر کیا ہے پورا کردو ۔ خدا پرہیزگاروں کو یقینا دوست ر کھتا ہے۔
ابو رافع کہتے ہیں: قریش نے مجھے پیغمبر ِ اسلام کے پاس روانہ کیا کہ جب میں نے آنحضرت کی زیارت کی اور اُن کے نورانی چہرے پر نگاہ کی تو میرے دِل میں اسلام کانور پیدا ہوگیا۔ میں نے آنحضرت سے کہا: یارسول الله ! اب میں قریش کی طرف لوٹ کرواپس نہیں جاوٴں گا! آپ نے جواب میں فرمایا میں عھد و پیمان کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور قریش کی طرف سے پیغام لانے والے کو کاپنے پاس نہیں رکھوں گا۔ اے ابورافع تم اپنے قبیلے کی طرف لوٹ جاوٴ اس کے بعد اگر تمہارا دل چاہے تو اسلام قبول کرکے ہمارے پاس آجانا۔
قریش سے کئے گئے عہد کا احترام
حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ صرف ایک چیز مجھے جنگ ِبدر میں شریک ہونے سے روکتی رہی تھی ، اور وہ یہ تھی کہ میں اور ابو الْحُسَیَلْ باہر جارہے تھے کہ قریش سے مڈبھیڑ ہوگئی، انہوں نے ہم سے کہا :تم محمد کوچاہتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں ہم مدینے کو چاہتے ہیں ،انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ جب مدینے پہنچ جائیں گے تو ہم پیغمبرِ اکرم کا جنگ میں ساتھ نہ دیں گے۔ جب ہم پیغمبر اکرم کا جنگ میں ساتھ نہ دیں گے ۔ جب ہم پیغمبر اکرم کی خدمت میں پہنچے اور یہ واقعہ سُنا تو آنحضرت نے فرمایا : جنگ میں جانے کا خیال اپنے اس عہد اور وعدے کی وجہ سے چھوڑدو ! ہم خدا سے مدد طلب کرلیں گے! یہ حدیث اور اس سے اوپر والی حدیث کتاب’’اسلام وصلح جہانی‘‘ تالیف سیّد قطب ، صفحہ۲۶۴سے منقول ہے۔
کافر باپ اپنے مسلمان بیٹے کو لے گی
صلح حُدیبیہ کے سلسلے میں سہیل ابن عمر کافروں کی جانب سے رسولِ خدا کے ساتھ مذاکرات کررہا تھا، جب عہد نامہ اورصلح نامہ لکھنے کا وقت تھا اور ابھی دستخط باقی تھے کہ سہیل کا بیٹا جندل کفّارِ قریش میں سے نکل کر مسلمانوں کے درمیان آگیا تھا، اس کو اسلام کی طرف مسلمانوں کے درمیان آگیا تھا،اسکو اسلام کی طرف مائل دیکھ کر کفّار قریش نے اسکے پیروں میں زنجیر باندھ دی تھی، وہ پیروں میں بندھی زنجیر سمیت ہی فرارہو گیا تھااور مسلمانو ں کے درمیان آکر خود کو مسلمان ظاہر کررہاتھا صلح حدیبیہ کہ تیار کرنیوالے کا فر باپ نے جب یہ حال دیکھا تواپنے بیٹے کے پاس آیا اور ایک طمانچہ رسید کیا، پھر اس نے رسولِ اسلام سے کہا ،یا محمد! یہ (صلح نامہ) وہ پہلی چیز ہے جو ہمارے درمیان صلح کی راہ استوارکررہی ہے اور اسی کے تحت آپ کو بھی چاہیئے کہ میرابیٹا مجھے واپس دے دیں!صلح حدیبیہ کے مطابق آنحضرت نے اس کی بات قبول کرلی اور جندل کو اس کے کافر باپ کے حوالے کردیا، مگر پہلے یہ شرط لگادی کہ وہ اسے حفاظت سے رکھے گا اور اذّیت نہیں دے گا، اس نے یہ شرط منظور کرلی لیکن جب جندل کو کافروں کے حوالے کرنے کا وقت آیا تو جندل کو کافروں کے حوالے کرنے کا وقت آیا توجندل کہنے لگا:’’اے مسلمانوں! میں تو مسلمان ہوگیا ہوں میں اب کس طرح مشرکوں کے درمیان جاوٴں گا؟‘‘ رسول خدا نے اس سے فرمایا:’’ جاوٴ صبر کرو، خدا اسی طرح تمہارے لئے آسانی پیداکرے گا، ہم نے جو معاہدہ کرلیا ہے، ہم اس کی مخالفت نہیں کرسکتے،سہیل نے اپنے مسلمان بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور لے گیا، لیکن اس نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا اوراپنے بیٹے کو سخت اذّیت دی۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدے کی کتنی اہمیت ہے،یہ واقعہ سورہ فتح کے ذیل میں تفسیر منہجّ الصّادقین میں موجود ہے۔
اپنی موت تک یہیں رہوں گا!
بحارالانوار میں یہ روایت موجود ہے کہ : پیغمبر ِاکرم نے ایک شخص سے وعدہ فرما لیا تھا کہ وہ ایک طے شدہ جگہ پر ایک پتھر کے پاس اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک کہ وہ جا کر واپس آجائے، آنحضرت وہاں رُک گئے لیکن وہ شخص وہاں نہیںآ یا، یہاں تک کہ صبح سے دوپہر ہوگئی ۔ انتہائی سخت دھوپ آنحضرت کے بدن پر پڑرہی تھی، بعض اصحاب نے آنحضرت کو دھوپ برداشت کرتے دیکھ کر کہا:’’یہاں سے جائیے ! ‘‘فرمایا :’’میں کسی اور جگہ اس وقت تک نہیں جاسکتا جب تک وہ شخص نہ آجائے‘‘آخرکار وہ شخص آگیا، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ شخص نہ آتاتو میں اپنی موت کے وقت تک یہاں سے نہیں ہٹتا!
جناب ِاسماعیل اور ایفاءِ عہد
حضرت اسماعیل پیغمبر کو قرآنِ مجید صَادقُ الْوَعْدِکے لقب سے یاد کرتا ہے۔ ارشاد ہے کہ
وَاذْکُرْنِیْ الْکِتٰبِ اسْمٰعِیْلَ اِنَّہ کَانَ صَادقُ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًانَّبِیّاً (۲۶)
اور (اے رسول ) قرآن میں اسماعیل کا تذکرہ کرو ۔ بے شک وہ وعدے کے سچے تھے اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
جب حضرتِ اسماعیل علیہ السلام نے کسی شخص سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں اس جگہ اس وقت تک رہوں گا جب تک کہ تم نہ آجاوٴ، پھر وہ کم از کم تین شب وروز وہاں رہے لیکن اکثر علماء یہ کہتے ہیں کہ اور مشہور بھی یہی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ایک سال تک اس شخص کا انتظار کیا، اس سلسلے میں انہوں نے سخت تکلیفیں اُٹھائیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں درختوں کے چھلکے تک کھانے پڑے!

وعدہ خلافی کفر کا نیتجہ ہے
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام وعدہ خلافی اور عہد شکنی کو کفر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جو دل میں ہوتا ہے، ارشادفرماتے ہیں:
وَاللہِ مَامَعْوِیَةَ بَادَھَی مِنِّی وَلٰکِنَّہ ایَغْدِدُ وَیَفْجُرُ وَلَوْلَا کَرَاھِیَّةُ الْغَدَرِ لَکُنتُ مِنْ اَدْھَی النَّاسِ وَالنَّاسِ وَلٰکِنْ کُلُّ فَجَرَةٍ وَکُلُّ فَجَرَةٍ کَفَرَةُ وَ لِکُلِّ غَادِرٍلِوَاٰ عُیُعْرَفُ بِہ یَوْمُ الْقِیَامَةِ (۲۷)
خداکی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ ذہین نہیں ہے، لیکن وہ عہد توڑ دیتا ہے اور حق سے منحرف ہوجاتاہے، اگر وعدہ خلافی ناپسندیدہ نہ ہوتی تو میں سب سے زیادہ ہوشیار انسان ظاہر ہوتا،لیکن ہر وعدہ خلافی فرمانِ خدا سے انحراف ہے اور فرماںِ خدا سے ہر قسم کا انحراف ایک طرح کا کفر ہے۔ ہر وعدہ خلاف شخص کا ایک پرچم ہوگا جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن پہچانا جائے گا۔
علامہ مجلسی ؒ فرماتے ہیں کہ روایات میں گناہِ کبیرہ کرنے والے شخص کو کافر بھی کہاگیا ہے،وعدہ خلافی چونکہ ایک بڑا گناہِ کبیر ہ ہے، اس لئے اس خطبہ میں ہر وعدہ خلاف شخص کو ایک طرح کا کافر کہاگیا ہے یہ وہ کفر ہے جس کا بیج دل میں ہوتا ہے اور جو احکا مِ خداکی نافرمانی کی صورت میں نمودارہوتاہے۔
مسلمان دھوکہ باز نہیں
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام یہ بھی فرماتے ہیں :
اِنَّ الْوَفاءَ تَوَأَمُ الصِّدْقِ وَلَآ اَعْمُ جِنَّةً اَوْتٰی مِنْہُ وَمَا یُعْدَدُ مِنْ علْمٍ کَیْفَ الْمَرْجَعُ وَلَقَدْاَصْبَحْنَافِیْ زَمَانٍ اتَّخَذَاَکْثَرُ اَھْلِہِ الْغَدَرَکِیْسًَا وَنَسَبَھُمْ اَھْلُ الْجَھْلِ فَیْہِ اِلٰی حُسْنِ الْحِیْلَةِ مَالَھُمْ قَاتَلَھُمْ اللہُ قَدَیُرَی الْحُوَلُ الْقُلَّبُ وَجْہَ الْحِیْلَةِوَدُوْنَھَا مَانِعُ مِنْ اَمْرِ اللہِ وَنَھِیہ فَیَدَعُھَا وَأْیَ عَیْنٍ بَعْدَالْقُدْرَةِ عَلَیْھَا وَیَنْتَھِزُ فُرْصَتَھَامَنْ لَّا جَرِیْخةَ لَہ فِیْ الدِّیْنِ (۲۸)
بے شک وعدہ وفائی اور سچائی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں،میں نے وعدہ وفائی سے بہتر کوئی اور ڈھال نہیں دیکھی جو عذاب سے بچانے والی ہو، جس شخص کا روزِ جزاء پر اعتقاد ہو وہ اپنے وعدے کو نہیں توڑے گا اور عذر خواہی نہیں کرے گا، ہم اس زمانے میں زندگی گذاررہے ہیں جس میں لوگ وعدہ خلافی اور دھوکہ بازی کو سیاست اور ہوشیاری سمجھتے ہیں ! اور جاہل افراد بہترین بہانہ بازی کو ہنر سمجھتے ہیں ان کو کیا ہو گیا ہے؟خدا ان کو ہلاک کرکے انہی دھوکہ بازی کے حیلوں میں ایک وعدہ خلافی بھی شامل ہے۔ حیلے کی کوئی بھی وجہ ہوخدا کا حکم اور اسکی نہی مانع ہے کہ میں اس پر عمل کروں ۔ پس اپنی آنکھوں کے سامنے بندہِ خدا حیلہ کودیکھ کر بھی اور حیلہ پر قدرت رکھتے ہوئے اسے چھوڑدیتا ہے ۔ لیکن جس شخص کو دین کا درد نہیں ہوتا وہ حیلہ کی فرصت کو غنیمت سمجھتا ہے اور چال بازی یا وعدہ خلافی کر بیٹھتا ہے۔
وعدہ خلافی اور جھوٹ
بعض مجتہدین نے عہد شکنی اور وعدہ خلافی کوجھوٹ کی قسموں میں شُمار کیا ہے، خصوصًاجب کہ عہد کرتے وقت یا وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورانہ کرنے کا ارادہ ہو۔ اس بنا ء پر مذمت ،حرمت اور سزاکے بارے میں جو کچھ آیات ذکر ہوچکی ہیں، وہ عہد شکنی اور وعدہ خلافی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

اگر کسی معاملے میں شرط ہو
اگر مجتہدین کے فتووں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تجارت کے یاکسی اور معاملے کے ضمن میں کوئی شرط عائدکی گئی ہو، عہد یا وعدہ لیا گیا ہو، تو اس کی پابندی واجب ہے، مثلاًخریدتے وقت اگر آدمی شرط لگادے کہ اگر مال میں کئی عیب نکلا تو وہ اسے دومہینے تک لوٹا سکے گااور دُکاندار مثلًاشرط لگادے کہ اگر مال کو لوٹاناہوتو اس میں خریدار کا پیدا کیا ہوا کوئی نقص نہ ہو۔توایسی شرطوں کی پابندی واجب ہے۔ اسی طرح مثلاًاگر مالکِ مکان کرائے دار پر یہ شرط عائد کردے کہ وہ کسی مہمان کو نہیں رکھے گا تو ایسی شرطوں کی بھی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔ معاملے میں دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو دوسرے پرشرط لگانے کا حق حاصل ہوتاہے۔
بعض دیگر مجتہدین فرماتے ہیں کہ نہ صرف ایسی شرطوں کی پابندی واجب ہے، بلکہ جس شخص نے شرط لگائی ہے اس کو بھی یہ شرعی حق حاصل ہوجاتا ہے کہ شرط ماننے والے شخص سے اپنے حق کا مطالبہ کرے۔ اگروہ چاہے توزبردستی بھی اپنا حق لے سکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ معاملے کے دوران شرط کو لازمی درجہ دیا گیاہو مثلاًاگر وہ چاہے توزبردستی بھی اپناحق لے سکتا ہے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ معاملے کے دوران شرط کو لازمی درجہ دیا گیاہو، مثلاًاگر ملازم یہ شرط لگادے کہ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو اس کی تنخواہ ملنی چاہیئے ، تو نہ صرف یہ کہ وہ پہلی تاریخ کو مطالبہ کرسکتا ہے، بلکہ زبردستی یا مالک کی لاعلمی میں بھی اپنا حق لے سکتا ہے، لیکن اگر معاملے کے درمیان شرط کولازی کی سی حیثیت نہ دی گئی ہواور شرط کی پابندی کو محض بہتر سمجھا گیا ہو تو نہ تو پابندی واجب ہے اور نہ ہی کسی کا حق بنتاہے، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ شرط کا معاملے سے کوئی تعلق نہ ہو، ایسی صورت میں معاملے سے متعلق شرط لگانے والے کو حق نہیں ہوگا کہ اُس شرط کی بناء پر معاملے میں اپنا حق حاصل کرے، البتہ شرط ماننے والے پر معاملے سے قطعِ نظر شرط کی پابندی واجب ہوگی۔
ہر حال میں وعدہ وفاکرنا چاہیے
بہرِحال آیت وروایت میں وعدہ وفائی کی اتنی تاکید موجودہے کہ انسان کو ہر قسم کے وعدے کی وفامیں شدید احتیاط سے کام لینا چاہیئے اگر آدمی وعدہ نہ کرنا چاہتا ہو، لیکن وعدہ کرنے پر مجبور ہو تو حرام اور وعدہ خلافی سے بچنے کے لئے وہ لفظ’’شاید‘‘’’اگر‘‘ یا انشاء الله وغیرہ استعمال کرسکتاہے، یعنی مثلاً انشاء الله کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدانے چاہا تومیں ایسا کروں گا۔
انشاء الله کہہ کرنذر وعہد کرن
ہر وہ عہد ، نذر یا وعدہ جس میں انشاء الله کہاگیا ہو، یا کسی بھی زبان میں خدا کی مرضی پر ڈال دیاگیا ہوتو اس کی وفاواجب نہیں رہتی،علّامہ حلّی نے یہی فرمایا ہے اور مشہور مجتہدین بھی ان کی موافقت کرتے ہیں۔ البتّہ اگر شرط یا وعدہ وغیرہ کسی واجب کام کو کرنے یا حرام کا م کو ترک کرنے کے سلسلے میں ہوتو اسی صورت میں اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔
یہ بات جان لینی چاہیئے کہ انشاء الله کہنے کے بعد وعدہ کی کووفا اس صورت میں واجب نہیں رہتی جب کہ آدمی وعدہ وفا کرنے کے عزّم کے ساتھ انشاءالله کہے یا برکت کی خاطر کاانشاء الله کہے اور ذہن میں انشاء الله کہے اور ذہن میں انشاء الله کا شرطیہ مفہوم نہ ہو تو ایسی صورت میں بہرحال شرط یا وعدے کی پابندی واجب ہوگی۔
گناہ انجام دینے کاوعدہ
ظاہرہے کہ اگر وعدہ یا شرط وغیرہ کسی واجب کام کو چھوڑدینے یا کسی حرام کام کو انجام دینے کے سلسلے میں ہوتو اس پابندی نہ صرف یہ کہ واجب نہیں ہے، بلکہ حرام ہے اور اگرآدمی یہ عہد کرے کہ اگر اس کی بیوی یا اس کے بیٹے نے فلاں بُرا کام انجام دیاتو وہ فلاں سختی کرے گا۔ ایسے عہد پر عمل نہ کرنا اور معاف کردینا بہترہے۔ ارشاد ہے
وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ (۲۹)
بلکہ انہیں چاہیئے کہ ان کی خطامعاف کردیں اور درگذرسے کام لیں ۔ کیا تم یہ نہیں چاہتے ہوکہ خدا تمہاری بھی خطا معاف کردے !” اس آیت کامفہوم یہ ہے کہ اگر بندے دوسرے بندوں کی خطائیں معاف کریں گے توخدا بھی ایسے معاف کردینے والے بندوں کی خطائیں معاف کرے گا۔
جنابِ ایوب نے اپنی زوجہ کو سوتا زیانے مارنے کی قسم کھائی
اگر سختی کرنے یا سزادینے کا عہد یا وعدہ بہت تاکید کے ساتھ ہو تو بہتر یہ ہے کہ کچھ اس قسم کی علامتی سزادے دی جائے کہ نہ تو وہ باقاعدہ سزا ہو اور نہ ہی عہد کی خلاف ورزی شما رہو، مثلاً حضرت ایوب پیغمبر نے جب اپنی بیوی کو ان کی مرضی کے خلاف ایک کام کرتے دیکھا تو انہوں نے قسم کھائی کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ اسے سو تازیانے ماریں گے،جب حضرت ایوب علیہ السلام صحت یا ب ہوئے تو حُکم ِ خدا ہوا کہ:
وَخُذْبِیْدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّہ وَالَا تَحْنَثْ (۳۰)
(اے ایوب) تم اپنے ہاتھوں میں سینکوں کا مُٹھّا لو (جس میں سوبالیاں ہوں) اور اس سے (اپنی بیوی کو ایک دفعہ) مارو، اوراس طرح اپنی قسم میں جھوٹے بننے سے بچ جاوٴ۔

حوالہ جات
۱۔سورہ رعد ،آیت ۲۵
۲۔سورہ آلِ عمران ،آیت ۷۶۔۷۷
۳۔سورہ انفال ،آیت ۵۵۔۵۶
۴۔سورہ بنی اسرائیل، آیت ۳۴
۵۔سورہ مائدہ ،آیت ۱
۶۔سورہ بقرہ ،آیت ۱۷۷
۷۔سورہ صف ،آیت۲۔۳
۸۔وسائل الشیعہ ، کتاب ِحج، باب ۱۰۹ صفحہ ۲۲۲
۹۔نہج البلاغہ
۱۰۔۱۱۔کتاب خصال
۱۲۔سورہ بقرہ ،آیت ۴۰
۱۳۔سورہ یٰسین ۳۶ : آیت ۶۰
۱۴۔سفینہ البحار جلد اوّل صفحہ ۴۹۹
۱۵۔سورہ توبہ ،آیت ۷۵۔۷۶۔۷۷
۱۶۔سورہ بنی اسرائیل ۱۷ ۔ آیت ۳۴
۱۷۔سورہ بقرہ ۲: آیت ۱۷۷
۱۸۔سورہ مومنوں ۲۳ : آیت ۸
۱۹۔اصولِ کافی
۲۰۔۲۱۔اصولِ کافی
۲۲۔۲۳۔شیخ صدوق کی کتاب خصال
۲۴۔سورہ انفال ،آیت۵۵ اور ۵۶
۲۵۔سورہ توبہ ،آیت ۴
۲۶۔سورہ مریم ،آیت۵۴
۲۷۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر۲۲۸
۲۸۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۴۳
۲۹۔سورہ نور ،آیت ۲۲
۳۰۔سورہ ص، آیت ۴۴