ur

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ :

معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَة ١

تمہارے لیے بہترین نمونہ رسول اللہ ۖکی زندگی ہے ۔

لہذا انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم ۖکی ذات کے مختلف پہلوئوں کا دقت نظر سے مطالعہ کیاجائے اور اُسے معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاشرہ ان سے الہام لیتے ہو ئے ترقی اور سعادت کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔

امیر المومنین علی ـنے اسی بات پر زور دیا ہے ،وہ فرماتے ہیں :

وَلقد کان فِی رَسُولِ اللّٰہِ ( صلّی اللہ علیہ وآلہ) کافٍ لَکَ فِی الْاسْوَةِ وَدَلِیل لَکَ عَلٰی ذَمِّ الدُّنیا وعَےْبِھَا وکَثْرَةِ مَخَازِےْھَا ، ومَسَاوِےْھَا،اِذ قُبِضَتْ عَنْہُ اَطْرَ فُھَا وَوُطِّئَتْ لِغَےْرِہ اَکْنَا فُھَا وَفُطِمَ عَنْ رَضَا عِھَا وَزُوِیَ عَنْ زخارِ فِھَا ٢

یقینا رسول اکرم ۖ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے آپ کی ذات دنیا کے عیوب اور اس کی ذلت و رسوائیوں کی کثرت کو دکھانے کے لیے راہنما ہے اس لیے کہ آپ سے دنیا کے دامنوں کو سمیٹ لیا گیا اوردوسروں کے لیے اس کی وُسعتیں ہموار کر دی گئیں آپ کو اس کے منافع سے الگ رکھا گیا اور اس کی آرائشوں سے کنارہ کش کر دیا گیا ۔

اسی خطبے میں آپ کے اُسوہ ہونے اور اس کی پیروی کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہو ئے فرماتے ہیں :

فَتَأَسَّ بنَبِےِّکَ الْاَ طےَبِ الاَ طْھَرِ صلی اللہ علیہ وآلہ فَاِنَّ فِیہ اُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّی ، وعَزَآ ئً لِمَنْ تَعَزَّیٰ وَاَحَبُّ العِبَادِ اِلَی اللّٰہِ الْمُتَأَ سِّیْ بِنَبِےِّہ، وَالْمُقْتَصُّ لِاَ ثَرِہِ،قَضَمَ الدُّنیا قَضْماً وَلَمْ ےُعْرِھَا طَرْفاً اَھْضَمَ اَھْلَ الدُّینَا کَشْحاً وَاَخْمَصَھُمْ مِنَ الدُّنیا بَطْناً عُرِضَتْ عَلَےْہِ الدُّینا فَاَبیَ اَنْ ےَقْبَلَھَا ، وَعَلِمَ اَنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ اَبْغَضَ شَےْئاًفَاَبْغَضَہُ وحَقَّرَ شئیاً فَحَقَّرَہُ ،وصَغَّرَ شَیاً فَصَغَّرہُ ۔وَلَو لَمْ ےَکُنْ فِےْنَا اِلَّا حُبُّنَا ما اَبْغَضَ اللّٰہُ وَرَسُولُہ ،وتعظیماً ما صَغَّرَاللّٰہُ ورَسُولُہ لَکَفٰی بِہ شِقَاقًا لِلّٰہِ وَمُحَادَّةً عَنْ اَمْ ِاللّٰہِ ٣