ur

تقویٰ و تہذیب نفس

آیۃ اللہ استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ
تقویٰ کے لغوی معنی :
تقوی ٰکا لفظ ایک کثیر الاستعمال اور مقبول عام دینی اصطلاح ہے ، قرآن کریم میں یہ لفظ اسم اور فعل دونوں صورتوں میں پچاسوں جگہ آیا ہے ، یہ لفظ تقریباً اتنی ہی بار استعمال ہواہے جتنی بار مثلاً ایمان یا عمل کا لفظ ، یا جتنی بار صلوٰۃ اورزکوٰۃ کا لفظ ، قرآنِ کریم میں روزہ کی نسبت تقوی ٰ کا تذکرہ بہت زیادہ ہے، نہج البلاغہ میں جن الفاظ کا استعمال بار بار ہواہے ان میں سے ایک تقویٰ بھی ہے، نہج البلاغہ میں ایک خطبہ ہے جس کا نام ’’خطبئہ متقین ‘‘ ہے، یہ خطبہ امیرالمومنینؑ نے کسی شخص کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا جس نے درخواست کی تھی کہ متقی کے اوصاف ایسی وضاحت سے بیان کیے جائیں کہ اس کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے، ابتدا میں تو امام نے اس کی درخواست مسترد کردی اور پھر صرف تین چار جملوں پر اکتفا فرمایا لیکن جب وہ شخص جس کا نام ہمّام بن شُریح تھا اور جو بہت ہوشیار اور تیز آدمی تھا کسی طرح مطمئن نہ ہوا اور اصرار ہی کرتارہا اور اس نے منّت سماجت شروع کردی تو امیرالمومنین ؑ نے بھی مفصل گفتگو کا آغاز کردیا، آپ ؑ نے متقی کی سوسے زیادہ صفات بیان کیں اور اس کی سو سے زائد خصوصیات کا نقشہ کھینچا اور اس کے فکر ی، اخلاقی اور عملی اوصاف پر بیان ختم ہوا، مورخین نے لکھا ہے کہ جیسے ہی امام علی ؑ کی گفتگو ختم ہوئی، ہمّام نے ایک چیخ ماری اور وہیں جاں بحق ہوگیا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کا لفظ عام طور پر رائج دینی اصطلاح ہے اور عام لوگوں کی زبان پربھی یہ لفظ بار بار آتاہے۔
اس لفظ کا مادّہ وقی ہے جس کے معنی ہیں کسی چیزکی حفاظت ، اس کا بچاؤ اور نگہداشت اِتِّقَاء کے معنی ہیں محفوظ رکھنا، لیکن یہ آج تک دیکھنے میں نہیں آیا کہ ہماری زبان میں تقویٰ کا ترجمہ حفاظت بچاؤ یا نگہداشت کیا گیاہو، جب یہ لفظ اسم کے طور پر استعمال ہوتاہے تو تقویٰ کا ترجمہ پرہیزگاری اور متّقی کا ترجمہ پرہیزگار کیا جاتاہے، مثلاً ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کا ترجمہ کیا جاتاہے کہ یہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے ، اگر یہی لفظ بطور (فعل) استعمال ہوتا ہے تو اگر امر کا صیغہ ہو اور اس کا مفعول بھی مذکور ہو تو اس کا ترجمہ خوف اور ڈر کیا جاتا ہے، مثلاًاِتَّقُوا اللّٰہَ کا ترجمہ ہو گا ڈرو اللہ سے اور اِتَّقُوا النَّارَ کا ترجمہ ہو گا ڈرو آتش جہنم سے۔یہ ضرور ہے کہ آج تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ تقویٰ کا ترجمہ ڈر اور خوف یا کسی چیز سے پرہیز اور اجتناب ہے لیکن چونکہ کسی چیز سے خوف کا لازمی نتیجہ ہے اس چیز کا ترک اور اس سے اپنا بچاؤ ، اس لیے خوف اور بچاؤ لازم و ملزوم ہیں ۔ ان باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مادّہ مجازاً بعض موقعوں پر اجتناب کے معنی میں اور بعض موقعوں پر خوف اور ڈر کے معنی میں بھی استعمال ہواہے۔
ظاہر ہی کہ اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ یہ لفظ مجازاً اجتناب یا خوف کے معنی میں استعمال کیا جائے لیکن ساتھ ہی اس کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ اس لفظ کے مجازی معنی ہی مقصود ہوں یعنی مثلاً ڈر یا اجتناب ۔ کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ اتقواللہ کے یہی معنی ہیں کہ اللہ سے ڈرو یا اتقواالنار کے یہی معنی ہیں کہ آتش دوزخ سے ڈرو بلکہ اس قسم کے جملوں کے دراصل یہ معنی ہیں کہ اپنے آپ کو عذاب الہٰی سے محفوظ رکھو، یا خود کو آتشِ دوزخ سے بچاؤ ۔ لہٰذا تقویٰ کا صحیح ترجمہ ہوا اپنی حفاظت یا اپنا بچاؤ۔ ضبط نفس کا بھی یہی مطلب ہے ، اس طرح متقین کے معنی ہوئے اپنی حفاظت کرنے والے ۔
راغب اصفہانی اپنی کتاب مُفردات القرآن میں کہتا ہے :
’’وِقَایَہ‘‘ کے معنی ہیں کسی چیز کو نقصان دینے والی باتوں سے محفوظ رکھنا ، اور تقویٰ کا مطلب ہے ان باتوں سے بچنا جن کا خوف ہو ۔ یہ تو ہوئی اس کی لفظی تحقیق ۔ بعد میں کبھی کبھی خوف کو تقویٰ اور تقویٰ کو خوف کہا جانے لگا جیسا کہ سبب کو مسبّب کے معنی میں یا مسبب کو سبب کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی ہوگئے نفس کو گناہ سے محفوظ رکھنا اور منہیّات سے اجتناب کرنا۔ ‘‘ ۱؎
راغب یہ تو تصریح کرتا ہے کہ تقویٰ کے معنی ہیں خود کو محفوظ رکھنا لیکن وہ صراحتاً یہ نہیں کہتا کہ خوف تقویٰ کے مجازی معنی ہیں ۔ وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ اِتَّقُوااللہ َ کے مجازی معنی مقصود ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے ابھی کہا ہے ، اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ اس طرح کے جملوں میں تقویٰ کا لفظ مجازی معنوں میں ہی استعمال ہواہے۔
یہ بات نسبتاً عجیب معلوم ہوتی ہے کہ فارسی ( اور اردو ) میں اس لفظ کا ترجمہ پرہیز گاری کیا گیا ہے ۔ اب تک یہ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی جگہ اہلِ لغت نے یہ کہا ہو کہ یہ لفظ اس معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔ ابھی ہم نے دیکھا کہ راغب نے یہ تذکرہ تو کیا ہے کہ لفظ خوف کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے لیکن پرہیزگاری کا تو اس نے نام بھی نہیں لیا ۔ معلوم نہیں کب سے اور کیوں اس کا ترجمہ پرہیزگاری رواج پاگیا۔ کوئی اہلِ زبان دورِ قدیم یا دورِ جدید میں اس لفظ کا یہ مفہوم بیان نہیں کرتا۔ اس میں تو شک نہیں کہ تقویٰ اور کسی چیز سے حفاظت ِ نفس کا لازمی نتیجہ اس چیز کا ترک اور اس سے اجتناب ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تقویٰ کے معنی ہی ترک ، پرہیز اور اجتناب کے ہوگئے۔
خوف ِخدا
چونکہ ضمناً خوف ِ خدا کا تذکرہ آگیا ہے ، یہ نکتہ بھی بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ خوفِ خدا کا کیا مطلب ہے ؟ کیا خدا کوئی خوفناک چیز ہے ؟ خدا تو کامل و اکمل اور اس قابل ہے کہ انسان اس سے محبت کرے اور اسے دوست رکھے ۔ پھر خدا سے ڈرنے کے کیا معنی ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں ہم یہی کہیں گے کہ واقعی ذات ِ خداوندی خوف اور دہشت کا سبب نہیں۔ یہ جو کہاجاتاہے کہ اللہ سے ڈرنا چاہیے اس کا مطلب یہ ہے کہ عدل ِ الٰہی کے قانون سے ڈرنا چاہیے۔ دعا میں آیا ہے :
یَا مَن لَا یُرجٰی اِلَّافَضلُہ‘ وَلَایُخَافُ اِلَّا عَدلُہ‘۔
’’اے وہ ذات کہ جس کے فضل و کرم ہی سے امید یں وابستہ ہیں اور خوف صرف اس کے عدل کا ہے ‘‘۔
اسی طرح دعا میں یہ بھی آیا ہے :
جَلَلْتَ اَنْ یُّخَافَ مِنْکَ اِلَّا الْعَدْلُ وَاَنْ
یُّرْجٰی مِنْکَ اِلَّا الْاِحْسَانُ وَالْفَضْلُ۔
’’تو اس سے بالاتر ہے کہ تجھ سے سوائے تیرے عدل کے کسی اور وجہ سے ڈرا جائے اور تجھ سے سوائے تیرے لطف و کرم کے کوئی اور امید رکھی جائے ۔ ‘‘
عدل و انصاف بھی بذات ِ خود کوئی ڈرنے اور خوف کھانے کی چیز نہیں ۔ انسان اگر عدل سے ڈرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی ذات یا اپنے اعمال سے ڈرتا ہے کہ مبادا اس نے ماضی میں کوئی غلطی کی ہو یا آئندہ اپنی حدود سے تجاوز کرے اور دوسروں کے حقوق پامال کرے۔لہٰذا خوف و رجا کے یہ معنی ہیں کہ مومن ہمیشہ پُرامید بھی رہے اور خائف بھی، بھلائی کی توقع بھی رکھے اور فکر مند بھی رہے، مطلب یہ ہے کہ اپنے نفسِ اماّرہ کی سرکشی سے خوف زدہ رہے کہ کہیں عقل و ایمان کی باگ ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے اور ساتھ ہی ذات خداوندی پر بھروسہ بھی رکھے اور یہ آس لگائے رہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ اس کے شامل ِ حال رہے گی، حضرت علی بن الحسین علیہ السلام مشہور دعائے ’’ابوحمزہ ثمالی‘‘میں فرماتے ہیں :
مَوْلَایَ اِذَارَایْتُ ذُنُوبِیْ فَزِعْتُ وَاِذَارَاَیْتُ کَرَمَکَ طَمِعْتُ۔
’’میرے آقا! جب میں اپنی خطائیں دیکھتا ہوں تو مجھ پر خوف و ہراس چھا جاتاہے لیکن جب تیرے کرم پر نظر پڑتی ہے تو امید بندھ جاتی ہے ۔ ‘‘
یہ وہ نکتہ ہے جسے ہم نے ضروری سمجھا کہ ضمناً بیان کردیا جائے۔
تقویٰ کی حقیقت اور اس کے معنی
تقویٰ کے جو لغوی معنی بیان کیے گئے ہیں ان سے کسی حدتک یہ اندازہ ہوجاتاہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے تقویٰ کی حقیقت اور اس کے معنی کیا ہیں لیکن ضروری ہے کہ اسلامی اور مذہبی آثار میں اس کے محل ِ استعمال پر ذرا اور نظر ڈال لی جائے تاکہ تقویٰ کے معنی پوری طرح واضح ہوجائیں ۔ پہلے ہم ایک تمہید بیان کرتے ہیں۔
اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی اصول ہو اور وہ اس اصول پر کاربند رہے تو چاہے اس اصول کا مآخذ دین و مذہب ہو یا کچھ اور اسے لازماً اپنے لیے ایک خاص روش متعین کرنی ہوگی تاکہ وہ جو کام بھی کرے وہ افراتفری اور بے اصولی کا شکار نہ ہوجائے ۔ ایک متعین روش اختیار کرنے اور خاص مسلک اور عقیدہ اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک مخصوص سمت میں ایک خاص مقصد کی طرف بڑھتا رہے اور ان کاموں سے اجتناب کرے جو اس کی وقتی خواہشات سے مطابقت تو رکھتے ہیں لیکن اس کے اصول اور مقصد کے منافی ہیں ۔
اس لیے وسیع تر معنی میں تقویٰ ہر اس فرد کی زندگی کا لازمہ ہے جو یہ چاہتاہے کہ ’’انسان‘‘ بن کر رہے اور عقل کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے اور کسی خاص اصول کا پابند ہو ۔
دینی لحاظ سے تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں دینی اصولوں کو اپنالے اور جو کام دین کے نقطہ نظر سے غلط اور گناہ ہیں اور ناپاک اور بُرے سمجھے گئے ہیں ان سے بچے اور ان کا مرتکب نہ ہو۔
اب بات یہ ہوئی کہ گناہوں کی آلودگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا نام تقویٰ ہے ۔ اس کی ممکنہ شکلیں دو ہیں ۔ بالفاظ دیگر یہ ممکن ہے کہ ہم تقویٰ کی دو قسموں میں سے کوئی ایک اختیار کریں ۔ پہلی قسم ہے ضعیف تقویٰ اور دوسری ہے قوی تقویٰ۔
پہلی قسم تو یہ ہے کہ ہم گناہوں کی آلودگی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور ان اسباب سے احتراز کریں جن کی وجہ سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہ کے ماحول سے دور رکھیں، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرے اور بیماری کے ماحول ، جراثیم اور بیماری کی چھوت سے بچنے کی کوشش کرے مثلاً وہاں نہ جائے جہاں ملیریا پھیلا ہوا ہو اور ان لوگوں سے دور رہے جو کسی متعددی بیماری میں مبتلا ہوں ۔
دوسری قسم یہ ہے کہ انسان میں ایسی روحانی طاقت پیدا ہو جائے کہ وہ اخلاقی اور روحانی ہر لحاظ سے ہر قسم کے گناہوں سے مامون اور محفوظ ہو جائے ۔ اگر بالفرض وہ کسی ایسے ماحول میں بھی پہنچ جائے جہاں معصیت کے سارے اسباب اور وسائل فراہم ہوں تب بھی اس کی روحانی طاقت اس کا دفاع کرے اور وہ گناہوں کی آلودگی سے محفوظ رہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنے جسم میں کسی بیماری کے خلاف ایسی قوت مدافعت پیدا کرے کہ اس بیماری کے جراثیم اس پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔
ہمارے زمانے میں تقویٰ کا جو تصور عام طور پر پایا جاتاہے ، وہ یہی پہلی قسم کا تقویٰ ہے ۔ اگر کسی شخص کے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ وہ متقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ محتاط ہے ، تنہائی پسند ہے اور گناہ آلود ماحول سے دور رہتاہے یہ تقویٰ کی وہ قسم ہے جسے ہم نے ابھی ضعیف کہاہے۔
شاید یہ تصور اس لیے پیدا ہوا ہے کہ ہم نے ابتدا ہی سے تقویٰ کا ترجمہ پرہیز گاری کیاہے، رفتہ رفتہ گناہ سے پرہیز کا مطلب ان عوامل اور اس ماحول سے اجتناب ہو گیا جو گناہ پر برانگیختہ کرتے ہیں، آہستہ آہستہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ عوام کی نظر میں تقویٰ کے معنی گوشہ نشینی اور سوسائٹی سے دور رہنے کے ہو گئے، عام بول چال میں جب یہ لفظ کان میں پڑتا ہے تو علیحدگی پسندی ، افسردگی اور پسپائی کی تصویر نگاہوں میں گھوم جاتی ہے ۔
اس سے قبل ہم نے کہا تھا کہ فطری اور معقول زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان متعین اصولوں کا پابند ہو اور پابندی اصول کے لیے لازمی ہے کہ آدمی ایسے کاموں سے اجتناب کرے جو گو اس کی خواہشات کے عین مطابق ہوں مگر اس نے اپنی زندگی کے جو اصول اپنائے ہیں ، ان کے منافی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی دنیا چھوڑ دے اور عزلت پسند اور گوشہ نشین ہوجائے ۔ جیسا کہ ہم اس سلسلہ میں بعد میں دینی شواہد پیش کریں گے بہتر صورت یہ ہے کہ انسان خود اپنے اندر ایسی استعداد اور ایسی قوّت ِ مدافعت پیدا کرے جو گناہوں سے اس کی حفاظت کرسکے۔
اتفاق کی بات ہے کہ خود ہمارے ادب میں خواہ وہ نظم ہو یا نثر ایسی مثالیں موجود ہیں جو تقویٰ کی پہلی صورت کی تصویر کشی کرتی ہیں جو در حقیقت ضعف و کمزوری کی نشانی ہے ۔ گلستان میں شیخ سعدی کہتے ہیں :
بدیدم عابدے دوکوہسارے
قناعت کود از دنیا بغارے
میں نے پہاڑ پر ایک عابد کو دیکھا جس نے دنیا کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لے رکھی تھی۔
چراگفتم بشہر اندر نیائی
کہ بارے بندازدل برکشائی
میں نے کہا کہ تم شہر میں کیوں نہیں آتے ہو کہ ایک دفعہ تمہارے دل کی بند کلی بھی کھل جائے ۔
بگف آبخاری پری رویان نغزند
چوگل بسیار شد پیلان بلغزند
کہنے لگا کہ وہاں حسینوں کا جمگھٹ ہے جب کیچڑ بہت ہو تو ہاتھی بھی پھسل جاتے ہیں۔
یہ تقویٰ اور گناہوں سے محفوظ رہنے کی وہ صورت ہے جسے ایک طرح کی کمزوری کہاجاسکتاہے، یہ کوئی خاص بات نہیں کہ آدمی ایسے ماحول سے دور رہے جہاں پاؤں پھسلنے کا احتمال نہ ہو اور وہ نہ پھسلنے ۔ لطف تو اس میں ہے کہ ایسے ماحول میں رہ کر جہاں بہتوں کے پاؤں پھسل جاتے ہیں خود کو محفوظ رکھا جائے ۔
یا مثلاً بابا طاہر کہتے ہیں :
زدست دیدہ و دل ہر دو فریاد
ہر آنچہ دیدہ بینددل کندیاد
میں آنکھ اور دل دونوں کے ہاتھوں مصیبت میں ہوں آنکھ جو کچھ دیکھتی دل اسے یاد رکھتا ہے۔
بسازم خنجرے نیشش زفولاد
زنم بردیدہ تا دل گرود آزاد
میں ایسا خنجربنائونگا جس کی نوک فولاد کی ہو گی اس سے آنکھیں نکال دونگا تا کہ دل آزاد ہو جائے۔
اس میں شک نہیں جہاں نظر جاتی ہے اس کے پیچھے پیچھے دل بھی وہیں پہنچتاہے لیکن کیا اس کا علاج یہ ہے کہ آنکھ ہی نکال ڈالی جائے ؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ دل میں ایسی طاقت اور قوّت پیدا کی جائے کہ آنکھ اسے اپنے پیچھے نہ کھینچ سکے ۔
اگر یہی طریقہ نکل آئے کہ دل آزادی اور رہائی کے لیے فولادی نوک کا خنجر بنانے کی ضرورت ہو تو پھر کانوں کے لیے بھی ایک اور خنجر بنانا پڑے گا کیونکہ کان جو کچھ سنتا ہے ، دل وہ بھی یاد کرلیتا ہے ۔ یہی حال چکھنے ، چھونے اور سونگھنے کی قوّتوں کاہے ۔ پھر انسان واقعی بغیر دُم ، بغیر پیٹ کے اس شیر کی طرح ہو جائے گا جس کی داستان مولوی نے مثنوی میں بیان کی ہے۔
عملی مجبوری پیداکرنا
بعض اخلاقی کتابوں میں کچھ ایسے بزرگوں کا تذکرہ ملتاہے جو بسیار گوئی سے بچنے کے لیے اور اس خیال سے کہ کہیں کوئی اور بری بات ان کے منہ سے نہ نکل جائے ، اپنے منہ میں کنکریاں بھر لیتے تھے ۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس قسم کے طرز عمل کو مثالی نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے اس قسم کی مجبوری پیدا کرنا اور پھر گناہ سے بچنا کوئی کمال کی بات نہیں ۔
اگر ہم اس قسم کی کوئی حرکت کرکے گناہ کے ارتکاب سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں تو گناہ سے تو ضرور بچ گئے مگر ہمارا نفس تو پھر بھی ویسے کا ویسا ہی پاپی رہا، صرف وسائل کی عدم موجودگی کے سبب قدرے مضمحل ہوگیا۔ کمال تو یہ ہے کہ بغیر کسی عملی مجبوری کے اور اسباب و وسائل کی موجودگی کے باوجود معصیت سے پرہیز کیا جائے ۔ اگر گناہوں سے اس طرح کے اجتناب کو کمال بھی تصور کیا جائے تب بھی یہ محض تقویٰ کی تمہید اور مشق ہے ، خود تقویٰ نہیں، اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ تقویٰ کا ملکہ اور استعداد پیدا کرنے کے لیے ابتدائی مرحلہ کی سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ تقویٰ کاملکہ بڑی مشق کے بعد پیدا ہوتاہے لیکن پھر بھی خود تقویٰ ان باتوں سے مختلف چیز ہے، دراصل تقویٰ وہ بلند اور پاک روحانی طاقت ہے جو از خود انسان کی محافظت کرتی ہے اس لیے پوری کوشش اس بات کی کرنی چاہیے کہ تقویٰ کی حقیقی روح پیدا ہو جائے۔
نہج البلاغہ میں تقویٰ کا بیان
مذہبی روایات خصوصاً نہج البلاغہ میں تقویٰ پر بار بار زور دیا گیاہے، ہر جگہ تقویٰ اس مقدس ملکہ کے معنی میں استعمال ہواہے جو ایسی روحانی طاقت پیدا کرتاہے جس سے نفس اماّرہ اور سرکش نفسانی خواہشات خود بخود زیر ہو جاتی ہیں، خطبہ نمبر ۱۱۲ میں حضرت امیرالمومنیں ؑ فرماتے ہیں۔
’’ تقویٰ اللہ کے دوستوں کو منہیات سے بچاتا ہے اوران کے دل میں خوفِ خدا پیدا کرتاہے یہاں تک کہ وہ صائم النہار اور قائم اللیل بن جاتے ہیں ۔ ‘‘ ۲؎
اس جملہ میں صراحت کے ساتھ تقویٰ اس روحانی طاقت کو کہا گیا ہے جو گناہوں سے محفوظ رکھتی ہے اور خوف خدا کو تقویٰ کا ایک ثمرہ بتلایا گیاہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ خود تقویٰ کے معنی خوف نہیں بلکہ تقویٰ کا ایک اثر یہ ہے کہ وہ دل میں خوفِ خدا پیدا کرتاہے ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا اِتَّقُوا اللّٰہ َ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ سے ڈرو۔
نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۶ میں حضرت امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں :
’’ میں جو کچھ کہتا ہوں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں اور اس کی صحت کا ضامن ہوں ۔ اگر گزشتہ واقعات سے عبرت کسی شخص کے لیے آئندہ واقعات کا آئینہ بن سکے تو تقویٰ اسے مشتبہ کاموں کے ارتکاب سے روکے گا‘‘۔۳؎
اسی خطبہ میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں :
’’یادرکھو! غلط روی کی مثال ایسے سرکش گھوڑوں کی سی ہے جو لگام کو توڑ کر سوار کو بے بس کردیں اور بالآخر اسے آتش ِ دوزخ میں گرادیں ، اور تقویٰ کی مثال ایسے گھوڑوں کی ہے جو رام ہوں ، سوار کے اشارہ پر چلیں اور اسے باغ جنت میں پہنچا دیں ‘‘۔ ۴؎
یہاں صراحت کے ساتھ اور ٹھیک ٹھیک تقویٰ کو ایسی روحانی حالت قرار دیا گیاہے جسے ہم ضبطِ نفس کی مکمل کیفیت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔
ضمناً ایک اور اہم حقیقت بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ہوا و ہوس کے تابع فرمان ہونے اور نفسِ سرکش کی باگ ڈھیلی چھوڑ دینے کا نتیجہ بے بسی ، کمزوری اور شخصیت کے فقدان کی صورت میں نکلتاہے ایسی صورت میں آدمی کی حالت اس بے بس سوار کی سی ہو جاتی ہے جو سرکش گھوڑے پر سوار ہو اورجس کا ،نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پائوں رکاب میں اور جو اپنے ارادے سے کچھ نہ کرسکے ۔ تقویٰ کا لازمی نتیجہ ضبطِ نفس ، قوّت ِ ارادی میں اضافہ اور روحانی اور فطری شخصیت کی بلندی کی صورت میں نکلتاہے، ایک متقی شخص کی حالت اس سوار کی سی ہوتی ہے جو سدھائے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو اور اسے اپنی مرضی سے بہ آسانی جدھر چاہے لے جائے۔
جو شخص ہواہوس ، شہرت طلبی ، حرص و لالچ اور جاہ پسندی کے سرکش گھوڑے پر سوار ہو اور ان ہی باتوں کے درپے ہو، زمام ِ اختیار اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے وہ ان ہی باتوں کا ہو رہتا ہے اور دیوانہ واران کے پیچھے دوڑتا ہے، مصلحت بینی اور مال اندیشی سے اسے کوئی واسطہ نہیں رہتا لیکن جو تقویٰ پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اسے اپنے آپ پر پورا اختیار رہتاہے اور وہ اپنے نفس کو جدھر چاہے موڑسکتااور حرکت دے سکتاہے۔
نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۸۹ میں فرمایا گیاہے :
فَاِنَّ التَّقْوٰی فِی الْیَوْمِ الْحِرْزُوَ الْجُنَّۃُ
وَ فِیْ غَدٍ اَلطَّرِیْقُ اِلَی الْجُنَّۃِ۔
’’انسان کے لیے آج تقویٰ بمنزلہ ایک حصار اور ایک ڈھال کے ہے اور کل جنت کا راستہ ہوگا۔‘‘
حضرت امیر المومنین ؑ کے خطبات میں اس طرح کے کلمات بکثرت ہیں مثلاً آپ نے خطبہ نمبر ۱۵۵ میں تقویٰ کو بلند و مستحکم پناہ گاہ سے تعبیر کیاہے ۔ ۵؎
یہ چند مثالیں بطور نمونہ اس لیے بیا ن کی گئی ہیں کہ اسلامی نقطئہ نگاہ سے تقویٰ کی اصل حقیقت واضح ہو جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ واقعی کون متقی کہلانے کا مستحق ہے، یہاں پر یہ بھی واضح ہو گیاکہ دراصل تقویٰ اس روحانی حالت کا نام ہے جو روح َانسانی کے لیے حصار اور دفاعی ہتھیار کا کام دیتی ہے، آدمی کے نفس کو اس کا مطیع و فرمانبردار بناتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ تقویٰ ایک روحانی طاقت ہے۔
تقویٰ اور آزادی
ہم کہہ چکے ہیں کہ حیوانی زندگی چھوڑ کر انسانی زندگی اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی متعین اصولوں کی پیروی کرے اور اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان اصولوں کے مطابق ڈھال لے اور ان سے سرِ مو تجاوز نہ کرے، اگر وقتی خواہشات اسے اپنی حدود سے تجاوز کرنے پر ابھاریں تو وہ اس سے باز رہے اور باز رہنے کے لیے اسے کچھ چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں، اسی کا نام تقویٰ ہے ۔ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ تقویٰ بھی نماز روزہ کی طرح دینداری کے لوازم میں سے ہے، تقویٰ تو انسانیت کا خاصہ ہے ۔
آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ حیوانوں کی سی جنگلی زندگی گزارنے کی بجائے انسانی زندگی گزارے تو وہ مجبور ہے کہ تقویٰ کی راہ اختیار کرے، ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل معاشرتی تقویٰ اور سیاسی تقویٰ جیسی اصطلاحیں بھی استعمال ہونے لگی ہیں، اصل بات یہ ہے کہ دینی تقویٰ میں کچھ اور ہی بلندی، تقدس اور استحکام ہے، حقیقتاً تقویٰ کی بنیاد محض دین پرہے اور دین ہی کی بنیاد پر مستحکم اور اصولی تقویٰ وجود میں آتا ہے ۔ ایمان باللہ مضبوط بنیاد کے علاوہ تقویٰ کے لیے کوئی اور مستحکم اور قابلِ اعتماد بنیاد موجود ہی نہیں۔
اللہ تعالی ٰ قرآن مجید میں فرماتاہے :۶؎
’’آیا وہ شخص بہتر ہے کہ جس نے اپنی زندگی کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الٰہی پر رکھی یا وہ جس نے اپنی بنیاد کھوکھلی اور غیر مستحکم کگرپر اٹھائی اور وہ اسے لیکر سیدھی جہنم میں جاگری۔ ایسے لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا ۔ ‘‘(سورہ توبہ ۔ آیت ۱۰۹)
بہرحال تقویٰ چاہے اس کی بنیاد مذہب پر ہو یا نہ ہو ، لازمئہ انسانیت ہے اور اس کالازمی نتیجہ کچھ چیزوں کا ترک کرنا اور اجتناب برتنا ہے۔
اس بات کے پیشِ نظر کہ ائمہ اہلبیت علیہم السلام نے تقویٰ کو حصار ، قلعہ اور اسی طرح کی چیزوں سے تشبیہہ دی ہے ممکن ہے بعض دلدادگانِ آزادی یہ تصور کریں کہ تقویٰ بھی آزادی کا دشمن اور آدمی کے پاؤں کی زنجیر ہے ۔
پابندی یا مدافعت
لہٰذا اب اس نکتہ کی بھی وضاحت ہوجانی چاہیے کہ تقویٰ پابندی نہیں بلکہ مدافعت ہے اور ان دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے لیکن اگر اسے پابندی بھی کہا جائے تب بھی یہ پابندی عین مدافعت ہے۔
چند مثالیں عرض کرتاہوں آدمی گھر تعمیر کرتاہے، کمرے بناتاہے، مضبوط دروازے اور کھڑکیاں لگاتاہے ، مکان کے اردگرد دیوار کھینچتاہے ۔ وہ یہ سب کام کیوں کرتاہے ؟ یہی نا کہ سردی کے موسم میں ٹھنڈک اور گرمی کے موسم میں تپش سے بچاؤ ہوسکے ، تاکہ وہ اپنی ضرورت کی چیزوں کو اس طرح محفوظ رکھ سکے کہ وہ صرف اس کے ذاتی تصرف میں رہیں لیکن وہ اپنی زندگی کو ایک مخصوص چاردیواری میں محدود کرلیتاہے، اب اس کو کیا کہا جائے گا؟
کیا گھر اور مکان کا وجود انسان پر پابندی اور اس کی آزادی کے منافی ہے یا اس کی مدافعت اور بچاؤ کا ایک طریقہ ! یہی حال لباس کا ہے ۔ آدمی اپنے پاؤں کو جوتے میں ، سرکو ٹوپی میں اور بدن کو مختلف کپڑوں میں محصورکرلیتاہے تا کہ اپنے جسم کو صاف ستھرا رکھ سکے اور گرمی و سردی سے بچ سکے ۔ اب اس کو کیا کہیں گے ؟ کیا یہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنے جسم کو قید کردیا؟ کیا اس پر اظہارِافسوس کرنا چاہیے کہ پاؤں جوتے میں، سرٹوپی میں اور بدن کپڑوں میں قید ہوگیا؟ کیا انہیں اس قید سے نجات دلانے کی آرزو کرنی چاہیے ؟ کیا یہ کہا جاسکتاہے کہ گھر اور مکان رکھنا کوئی پابندی ہے یا آزادی کے منافی ؟
تقویٰ بھی روح کے لیے ایساہی ہے جیسے زندگی بسر کرنے کے لیے گھر اور بدن کے لیے کپڑے، اتفاق دیکھیے کہ قرآن مجید میں تقویٰ کو لباس ہی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ سورۃ اعراف ، آیت ۲۶ میں بدن کے چند کپڑوں کا نام لیکر اللہ فرماتاہے:
وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ۔
’’تقویٰ جو روح کا لباس ہے سب سے بہتر ہے ۔‘‘
پابندی تو اسے کہاجاتاہے کہ انسان کو کسی صلاحیت اور کسی مسرت سے محروم کردیا جائے لیکن وہ چیز جو انسان کا تحفظ کرتی ہو اور اسے خطرات سے بچاتی ہو ، اسے پابندی کا نام کیسے دیا جاسکتاہے ؟ وہ تومدافعت ہے، تقویٰ کو مدافعت کہنا، یہ تعبیر بھی امیرالمومنینؑ کی ہے ۔
امامؑ فرماتے ہیں :
اَلَا فَصُوْ نُوْھَا وَتَصَوَّنُوْابِھَا۔
’’تقویٰ کی حفاظت کرو اور اس کے ذریعہ سے خود اپنا تحفظ کرو۔‘‘
امیرالمومنینؑ اس سے بھی بڑھ کر تقویٰ کی تعبیر فرماتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ پابندی نہیں سمجھتے بلکہ تقویٰ الہٰی کو آزادی کا ایک بڑا ذریعہ گردانتے ہیں، نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۲۲۸ میں آپ فرماتے ہیں :
’’تقویٰ راست روی کی کنجی اور آخرت کی پونجی ہے، اس سے ہر قسم کی غلامی سے آزادی اور ہر مصیبت سے رستگاری ملتی ہے۔ تقویٰ کے ذریعے سے آدمی اپنا مقصد حاصل کرتا اور دشمن سے چھٹکارا پاتاہے اور اس کے وسیلے سے اس کی خواہشیں پوری ہوتی ہیں ۔‘‘۷؎
سب سے بڑھ کریہ کہ تقویٰ براہِ راست انسان کو روحانی اور اخلاقی آزادی بخشتا ہے اور ہواوہوس کی غلامی سے نجات دلاتاہے حرص و ہوس ، حسد وشہوت اور غم و غصّہ کی زنجیروں سے اس کی گردن کو چھڑاتاہے۔
معاشرتی غلامی دراصل روحانی غلامی کا نتیجہ ہوتی ہے، جو شخص دولت اور عزت و مرتبہ کا غلام ہے وہ معاشرتی لحاظ سے بھی آزادانہ زندگی نہیں گزار سکتا لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ :
عِتْقٌ مِنْ کُلِّ مَلَکَۃٍ۔
اس لیے تقویٰ نہ صرف یہ کہ کسی قسم کی قید یا پابندی نہیں بلکہ عینِ حرّیت اور آزادی ہے۔
تقویٰ کی نگہبانی
ممکن ہے کہ تقویٰ کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ یہ نگہبان اور محافظ ہے ، یہ بات بعض لوگوں کے لیے غرور و غفلت کا سبب بن جائے اور وہ یہ سمجھ بیٹھیں کہ متقی شخص معصوم عن الخطا ہے اور یہ سمجھ کر ان خطرات کی طرف دھیان نہ دیں جو تقویٰ کو متزلزل کرتے اور اس کی جڑکاٹتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ خواہ کتنے ہی اونچے درجے کا ہو اسے بجائے خود خطرہ لاحق رہتاہے اس لیے آدمی کو چاہیے کہ جہاں وہ تقویٰ کی محافظت اور نگہبانی میں زندگی بسر کرے وہیں خود تقویٰ کی بھی حفاظت کرے، اس میں کوئی منطقی مغالطہ نہیں، یہ ممکن ہے کہ جو چیزہماری حفاظت کا ذریعہ ہو ہمارا بھی فرض ہے کہ خود اس چیز کی حفاظت کریں ابھی ہم نے مثال دی ہے کہ کپڑے آدمی کا گرمی ، سردی سے بچاؤ کرتے ہیں لیکن انسان کو بھی کپڑوں کی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔ حضرت امیرالمومنینؑ نے ایک ہی جملہ میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے:
اَلَا فَصُوْنُوْھَا وَ تَصَوَّنُوْابِھَا
’’تقویٰ کی حفاظت کرو اور اس کے ذریعہ سے خود اپنی حفاظت کرو۔‘‘
اس لیے اگر ہم سے یہ پوچھا جائے کہ تقویٰ ہمارا محافظ ہے یا خود ہمیں تقویٰ کی حفاظت کرنی چاہیے تو ہم یہی کہیں گے کہ دونوں باتیں درست ہیں، اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر یہ پوچھا جائے کہ آیا تقویٰ سے مقام ِقرب ِ الہٰی تک پہنچنے میں مدد لینی چاہیے یا اللہ سے حصولِ تقویٰ میں مدد کی التجا کرنی چاہیے تو ہم کہیں گے دونوں کا م ضروری ہیں، تقوی کے ذریعہ رضائے الٰہی کے حصول کی بھی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے تقویٰ کی توفیق مزید کی دعا بھی کرنا چاہئے۔
امیرالمومنین ؑ نے فرمایا ہے :
’’اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتاہوں کیونکہ تقویٰ تمہارے او پر اللہ کا حق ہے اور اس کی وجہ سے تمہارا بھی اللہ پر حق بن جاتاہے، تم اللہ سے مدد مانگو کہ وہ تمہیں تقویٰ کی توفیق عطا کرے اور تقویٰ سے اللہ تک پہنچنے میں مدد حاصل کرو۔ ‘‘۸؎
بہرحال چونکہ ایسے خطرات موجود ہیں جو تقویٰ کی بنیاد متزلزل کرسکتے ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات میں گو تقویٰ کو بہت سے گناہوں سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیاہے لیکن بعض دوسرے گناہوں کی نسبت جن میں کشش بہت قوی ہے مزید احتیاط کا حکم بھی دیا گیاہے ۔
مثلاً مذہبی تعلیمات میں یہ کہیں نہیں کہا گیاہے کہ چوری ، شراب خوری یا ارتکاب ِقتل کے خطرے کے پیش نظر تنہائی حرام ہے ۔ مثلاً اس کی ممانعت نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص معاذ اللہ شرا ب خوری یا ارتکاب ِقتل کے خطرے کے پیش نظر تنہائی حرام ہے ۔ مثلاً اس کی ممانعت نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص معاذ اللہ شراب پینا چاہتاہے تو وہ رات کو گھر میں تنہا نہ رہے کیونکہ وہاں بظاہر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی ۔ وہی ایمان اور تقویٰ اس کے محافظ ہوں گے ۔ اس کے برخلاف جنس کی کشش چونکہ زیادہ قوی ہے اور اس کی خواہش انسانی جبلّت میں داخل ہے اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ اگر خلوت میں بے عفتی کا اندیشہ ہو تو وہ ممنوع ہے کیونکہ یہ ایسا خطرہ ہے جو تقویٰ کے حصار کو توڑ سکتاہے اور اس پر غالب آسکتاہے۔
حافظ کی ایک مشہور غزل کا ایک شعر ہے ، میں جب بھی وہ شعر پڑھتا ہوں میری نظر میں یہی مضمون گھوم جاتاہے، حافظ نے اپنی مخصوص شیریں زبان میں اسی روحانی حقیقت کو بیان کیا ہے :
قو ّت ِ بازوئے پرہیز بخوباں مفروش
کہ دریں حیل حصارے بسوارے گیرند
تقویٰ کی قوّت کو حسینوں پرمت آزماؤ کیونکہ اس لشکر کا ایک ہی سوار ایک حصار کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔
اس شعر میں تقویٰ کو حصار سے تشبیہہ دی گئی ہے ۔ امیرالمومنین ؑ کے ملفوظات میں بھی بعینہ یہی تشبیہہ آئی ہے ۔ اس کے بعد حافظ نے حسینوں کے لشکر کی کشش اور طاقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تقویٰ کا حصار حسینوں کے لشکر کے سامنے نہیں باندھا جاسکتا کیونکہ اس لشکر کا ہر سپاہی تنہا اس حصار کو توڑنے کی قدرت رکھتا ہے۔ کسی اجتماعی یورش کی بھی ضرورت نہیں ۔
تقویٰ کی قدروقیمت اور اس کا اثر
ایک اور موضوع تقویٰ کی قدر و قیمت اور اس کے اثرات ہیں، تقویٰ کا جو اثر انسان کی اخروی زندگی پر مرتب ہوتاہے اس سے قطع نظر انسان کی دنیاوی زندگی میں بھی تقویٰ کی بڑی قدروقیمت ہے، امیرالمؤمنینؑ نے اپنی تعلیمات میں تقویٰ کا مطلب باربار دہرایا ہے اور تقویٰ کی ترغیب دی ہے، آپ نے اس کے اثرات بھی بکثرت بیان فرمائے ہیں، کہیں کہیں عام اندازمیں بڑے عجیب طریقے سے اس کے فوائد کا تذکرہ کیا ہے ۔ مثلاً آپ نے فرمایا :
عِتْقٌ مِنْ کُلِّ مَلَکَۃٍ نَجَاۃٌ مِّنْ کُلِّ ھَلَکَۃٍ۔
یہ آزادی ہے ہرقسم کی غلامی سے اور نجات ہے ہر قسم کی مصیبت سے ۔
یا یہ فرمایا:
’’تقویٰ تمہارے دلوں کی بیماری کے لیے دواہے اور تمہارے جسمانی امراض کے لیے شفا ہے، تمہارے سینہ کی خرابی کی اصلاح ہے اور تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے ۔ ‘‘۹؎
امیرالمؤمنین امام علی ؑ تقویٰ کو ہر تکلیف اور ہر مصیبت میں مفید قراردیتے ہیں اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اگر ہم تقویٰ کا صرف منفی پہلو نہ دیکھیں اور تقویٰ کے معنی صرف منہیّات سے اجتناب کے نہ سمجھیں بلکہ اسے اسی نقطئہ نظر سے دیکھیں جو امام ؑ کا ہے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ تقویٰ انسانی زندگی کا ایک اہم ستون ہے چاہے یہ زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی، اگر تقویٰ نہ ہو تو زندگی کی بنیاد ہی ہل جائے۔
کسی چیز کی قدروقیمت کا اندازہ اس وقت ہوتاہے جب ہم یہ دیکھیں کہ آیاکوئی دوسری چیز اس کی جگہ لے سکتی ہے یا نہیں ۔ تقویٰ زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے کہ کوئی دوسری چیز اس کی جگہ نہیں لے سکتی نہ طاقت ، نہ دولت ، نہ قانون ، نہ کچھ اور ۔
اس دور کی آفات میں سے ایک آفت قوانین کی کثرت ہے، ہر روز نئے قوانین بنتے او ربدلتے رہتے ہیں، ایک قانو ن بنتا ہے، اس کے قواعد مرتب ہوتے ہیں، ضوابط تیارہوتے ہیں، پھر معلوم ہوتاہے کہ اصل مقصد تو حاصل ہی نہیں ہوا ، قانون میں ترمیم کی جاتی ہے، قواعد و ضوابط میں اضافے ہوتے ہیں ۔ پھر بھی مطلب پورا نہیں ہوتا، اس میں شک نہیں قانون بھی زندگی کی ایک حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئی ناقابلِ تغیرقوانین کے علاوہ بھی کچھ سوِل قوانین اور ضابطوں کا وضع کیا جانا ضروری ہے لیکن کیا صرف قوانین وضع کرنے اور ان میں اضافہ کرتے رہنے سے معاشرہ کی اصلاح ہوسکتی ہے ؟ قانون کا کام حدود کا تعین ہے، ان حدود کا احترام لوگوں کا اپنا کام ہے جس کے لیے انہیں ایک اندرونی طاقت درکار ہوتی ہے اسی کا نام تقویٰ ہے، کہتے ہیں کہ قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے یہ درست ہے لیکن جب تک تقویٰ کے اصول کا احترام نہ ہو قانون کا احترام کیسے ہو سکتاہے ؟
نمونہ کے طور پرعصر حاضر کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے موجودہ دور میں ہماری زندگی کافی مشکل ہوگئی ہے، جن مسائل کے متعلق لوگ اخبارات میں اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں او ران کے حل کی کوشش کرتے ہیں ان میں سے ایک مسئلہ طلاق کے روز افزوں واقعات ہیں، ایک اور مسئلہ انتخابات کی اصلاح ہے، ایک مسئلہ ٹریفک کا ہے، میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مجھے طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب کا پورا علم ہے اور میں ان اسباب کو بیان کرسکتاہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اسباب میں گوناگوں معاشرتی عوامل کا دخل ہے۔
لیکن میں یہ جانتاہوں کہ طلاق کے واقعات کی افزائش کا اصل سبب تقویٰ کا فقدان ہے، اگر لوگوں میں تقویٰ کی کمی نہ ہوتی اور لوگ مادر پدر آزاد نہ ہوگئے ہوتے تو طلاق کے واقعات اتنے زیادہ نہ ہوتے، قدیم زمانے میں آج کے مقابلے میں زیادہ مشکلات اور نقائص تھے، آج کی خانگی زندگی میں مشکلات ہیں یقینا پرانے زمانے میں اس سے زیادہ تھیں، لیکن ساتھ ہی ایمان اور تقویٰ کا وجود ان مشکلات کے حل میں ممد و معاون ثابت ہوتا تھا لیکن آج جب ہم تقویٰ کا عنصر کھوبیٹھے ، زندگی کی تمام سہولتوں کے باوجود ہماری مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ قانون کے زور اور عدلیہ اور انتظامیہ کی طاقت اور قواعد و ضوابط میں رودوبدل کرکے طلاقوں کی تعداد میں کمی کردیں، مگر
این خیال است و محال است و جنوں
جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ انتخابات میں خرابی کی جڑانتخابی قوانین کا نقص ہے جو نصف صدی پیشتر بنائے گئے تھے اور وہ آج کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتے، ہم انتخابات کے موجودہ قوانین کا دفاع کرنا نہیں چاہتے، ان میں یقینا نقائص ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ قانون جیسا کچھ بھی ہے کیا لوگ اس پر عمل کرتے ہیں اور ان کے اس پر عمل کرنے کے باوجود خرابیاں پیدا ہوتی ہیں یا خرابی کا سبب یہ ہے کہ قانون پر عمل ہی نہیں ہوتا، در حقیقت کوئی شخص نہ اپنی ذمہ داری کا قائل ہے نہ دوسروں کے حقوق کا۔
موجودہ قانون اس بات کی اجازت دیتاہے کہ کوئی شخص کسی ایسے شہر میں جائے جہاں کے باشندوں نے نہ کبھی اسے دیکھا ہو،نہ اسے جانتے ہوں اور نہ کبھی اس کا نام سناہو اور وہ اپنی طاقت کے بل پر یہ کہے کہ تم مانویا نہ مانو میں تمہارا نمائندہ ہوں، اس قسم کے مفاسد کو مزید قانون بنا کر یا موجودہ قانون میں ردو بدل کرکے دور نہیں کیا جاسکتا، اس کا علاج یہی ہے کہ لوگوں میں بیداری ، ایمان اور تقویٰ پیدا ہو۔
اب تیز رفتاری، اوورٹیکنگ اور ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کو لیجیے، کیا ان خرابیوں کا سبب قوانین کی کمی ہے یا کچھ اور؟
موجودہ دور میں ہم بے شمار معاشرتی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جن کے متعلق لوگوں میں واویلا مچا ہواہے، لوگ پوچھتے ہیں کہ طلاق کے واقعات کیوں روز بروز بڑھ رہے ہیں ؟ قتل اور چوری کے جرائم میں اضافہ کیوں ہورہاہے؟ ملاوٹ اور دھوکہ بازی کیوں عام ہے؟ فحاشی کیوں بڑھ رہی ہے ؟
بلاخوفِ تردید یہ کہا جاسکتاہے کہ ان خرابیوں کاایک بڑا سبب ایمان کی کمزوری ہے ۔
اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ لوگ خود ہمیشہ یہ سب سوال اٹھاتے ہیں ، ان مسائل پر لکھتے ہیں لیکن چونکہ ایمان اور تقویٰ کے عناصر سے محروم ہیں اس لیے کوشش کرتے ہیں کہ ان مسائل کے اصل اسباب کی طرف لوگوں کو متوجہ نہ ہونے دیں، ان میں اخلاقی انتشار پیدا کرتے رہیں اور تقویٰ اور اس سے پیدا ہونے والی قوّت مدافعت کی بیخ کنی کرتے رہیں، نعوذ باللہ اگر ایمان اور تقویٰ کی حقیقت چھپی رہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کل کچھ لوگ یہ بھی پوچھنے لگیں کہ ہم چوری کیوں نہ کریں ، دھوکہ کیوں نہ دیں اور ملاوٹ کیوں نہ کریں وغیرہ وغیرہ
تقویٰ اور صحت
امیرالمؤمنینؑ نے تقویٰ کے بارے میں فرمایا ہے :
شِفَآئُ مَرَضِ اَجْسَادِکُمْ۔
’’تقویٰ تمہاری جسمانی بیماریوں کے لیے شفا ہے‘‘
شاید آپ یہ سوال کریں کہ تقویٰ تو ایک روحانی معاملہ ہے، اس کا صحت سے کیا تعلق ؟ یہ صحیح ہے کہ تقویٰ کوئی پائوڈر یا انجکشن نہیں ہے لیکن اگر تقویٰ نہ ہو تو شفاخانوں کا نظام بھی درست نہیں ہوگا، ڈاکٹر بھی صحیح کام نہیں کریں گے، نرسیں بھی اپنے فرائض کماحقہ انجام نہیں دیںگی دوا بھی صحیح نہیں ملے گی، اگر تقویٰ نہ ہو تو آدمی اپنی صحت بھی برقرار نہیں رکھ سکتا، متقی آدمی جو اپنی حدود کی اندر رہتاہے، اس کے اعصاب میں تناؤ نہیں ہوتا اور اس کا دل ٹھیک کام کرتاہے، اسے یہ فکر نہیں رہتی کہ کس چیزپر قبضہ کرے ، کیاچیز کھا جائے اور کسے نگل جائے، اعصابی بیماریاں اس کے پھیپھٹروں میں زخم نہیں ڈالتیں اور اسے معدہ کے السر میں مبتلا نہیں کرتیں، شہوت رانی کی زیادتی اسے کمزور نہیں کرتی۔ عمر اس کی طویل ہوتی ہے، بدن کی سلامتی ، روح کی سلامتی اور معاشرہ کی سلامتی سب کا تقویٰ سے گہرا تعلق ہے۔
دو خاص نکتے اور باقی رہ گئے، ایک تو یہ کہ تقویٰ روشن ضمیری اور بصیرت عطا کرتاہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتاہے :
اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا۔
’’ تقویٰ کا ایک بڑا نتیجہ بصیرت اور بھلے بُرے کی پہچان ہے۔‘‘
اسی بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتاہے کہ تقویٰ مرحلہ عرفان میں سیروسلوک کی راہ ہموار کرتاہے۔
تقویٰ کا ایک دوسرا اثر یہ ہے کہ تقویٰ مشکلات کو حل کرتا ہے۔ قرآن کریم میں سورۂ طلاق میں ہے :
وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْہُ مَنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ قَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ اِنَّ اللّٰہ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ٍٔقَدْرًا۔
جو تقوائی الہٰی کی دولت سے مالامال ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات میں سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردیگا اور اسے ایسے راستے سے رزق دیگا جس کا گمان بھی نہ ہوگا، جو اللہ پر بھروسا کرتاہے ، اللہ اس کے لیے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرکے رہتاہے ۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک حساب مقرر کررکھا ہے ۔ ( آیت ۲۔۳)
_________________________

۱۔اَلْوِقَایَۃُ حِفْظُ الشَّیْئِ مِمَّا یُؤْذِیْہِ وَالتّقْوٰی جَعْلُ النَّفْسِ فِیْ وِقَا یَۃِ مِمَّا یُخَافُ ھٰذَا تَحْقِیْقُہٗ۔ ثُمَّ یُسَمَّی الْخَوْفُ تَارَۃً تَقْوٰی خَوْفاً حَسِبَ تَسْمِیَۃِ مُقْتَضَی الشَّیْئِ بِمُقْتَضِیْہِ وَالْمُقْتَضِیْ بِمُقْتَضَاہُ وَصَارَ التَّقْوٰی فِیْ عُرْفِ الشَّرعِ:حِفْظُ النَّفْسِ مِمَّا یُؤْثِمُ وَذٰلِکَ بِتَرْکِ الْمَحْظُوْرِ۔
۲۔اِنَّ تَقْوَی اللّٰہِ حَمَتْ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ مَحَارِمَہٗ وَاَلْزَمَتْ قُلُوْبَھُمْ مَخَافَتَہٗ حَتّٰی اَسْھَرَتْ لَیَالِیَھُمْ وَاَظْمَاَتْ ھَوَاجِرَھُمْ۔
۳۔ذِمَّتِیْ بِمَآ اَقُوْلُ رَھِیْنَۃٌ وَاَنَابِہٖ زَعِیْمٌ اِنَّ مَنْ صَرَحَتْ لَہُ الْعِبَرُ عَمَّابَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْہُ التَّقْوٰی عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبْھَاتِ۔
۴۔اَلَاوَاِنَّ الْخَظَایَا خَیْلٌ شَمْسٌحُمِلَ عَلَیْھَا رَاکِبُھَا وَخُلِعَتْ لُجُمُھَا فَتَقَحَّمَتْ بِھِمْ فِی النَّارِ۔ اَلَاوَاِنَّ التَّقْوٰی مَطَایَا ذُلُلٍ حُمِلَ عَلَیْھَا رَاکِبُھَا وَاُعطُوْااَزِمَّتَھَا فَاَوْرَدَتْھُمُ الْجَنَّۃَ۔
۵۔ اِنَّ التَّقْوٰی دَارُحِصْنٍ عَزِیْزٍ وَالْفُجُوْرَ دَارُحِصْنٍ ذِلِیْلٍ لِا یَمْنَعُ اَھْلَہٗ وَلَا یُحْرِزُمَنْ لَّجَأَاِلَیْہِ۔
۶۔اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ۔
۷۔فَاِنَّ تَقْوَی اللّٰہِ مِفْتَاحُ سَدَادٍ وَذَخِیْرَۃُ مَعَادٍ وَعِتْقٌ مِنْ کُلِّ مَلَکَۃٍ وَنَجَاۃٌ مِّنْ کُلِّ ھَلَکَۃٍ بِھَا یَنْجُحُ الطَّالِبُ وَیَنْجُو الْھَارِبُ وَتُنَالُ الرَّغَائِبُ۔
۸۔اُوْصِیْکُمْ عِبَادَاللّٰہِ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّھَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ الْمُوْجِبَۃُ عَلَی اللّٰہِ حَقُّکُمْ وَاَنْ تَسْتَعِیْنُوْا عَلَیْھَا بِاللّٰہِ وَ تَسْتَعِیْنُوْا بِھَا عَلَی اللّٰہِ۔
۹۔دَوَائُ دَائِ قُلُوْبِکُمْ وَشِفَآئُ مَرَضِ اَجْسَادِکُمْ وَصَلَاحُ فَسَادِ صُدُوْرِکُمْ وَطَہُوْرُ دَنَسِ اَنْفُسِکُمْ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔