ur

توبہ’’ واجب ِفور ی‘‘ہے

توبہ’’ واجب ِفور ی‘‘ہے
حسین انصاریان
گناہوں کے بیمار کو اس چیز پر توجہ رکھنا چاہئے کہ جس طرح انسان عام بیمار ی کے معلوم ہونے کے فوراً بعد اس کے علاج کے لئے طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تاکہ درد و تکلیف سے نجات حاصل ہونے کے علاوہ بیماری بدن میں جڑ نہ پکڑلے، جس کا علاج ناممکن ہوجائے، اسی طرح گناہ کی بیماری کے علاج کے لئے بھی جلدی کرنا چاہئے اور بہت جلد الٰہی نسخہ پر عمل کرتے ہوئے توبہ و استغفار کرنا چاہئے، تاکہ گناہ و ظلمت ،معصیت ، شرّ شیطان اور ہوائے نفس کا اس کی زندگی سے خاتمہ ہوجائے،اوراس کی زندگی میں رحمت و مغفرت، صحت و سلامتی کا نور چمکنے لگے۔
گناہگار کو چاہئے کہ خواب غفلت سے باہر نکل آئے، اپنی نامناسب حالت پر توجہ دے اور یہ سوچے کہ میں نے خداکے ان تمام لطف و کرم ،احسان اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں شب و روز اپنی عمر کو نور اطاعت و عبادت اورخدمت خلق سے منور کرنے کے بجائے معصیت و گناہ اور خطا کی تاریکی سے اپنے کو آلودہ کیا ہے، اس موقع پر اپنے اوپر واجب قرار دے کہ اپنے تمام ظاہری و باطنی گناہوں کو ترک کرے، ہوائے نفس اور شیطان کی بندگی و اطاعت سے پرہیز کرے، خداوندعالم کی طرف رجوع کرے، اور صراط مستقیم پر برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ حیا و شرم، عبادت و بندگی اور بندگان خدا کی خدمت کے ذریعہ اپنے ماضی کا تدارک کرے۔
فقہی اور شرعی لحاظ سے یہ واجب ’’واجبِ فوری‘‘ ہے ، یعنی جس وقت گناہگار انسان اپنے گناہوں کی طرف متوجہ ہوجائے، اور یہ احساس ہوجائے کہ اس نے کس عظیم مقدس ذات کی مخالفت کی ہے اور کس منعم حقیقی کی نعمت کو گناہ میں استعمال کیا ہے، اور کس مولائے کریم سے جنگ کے لئے آمادہ پیکار ہوا ہے، اور کس مہربان کے روبرو کھڑا ہوگیا ہے، تو فوری طور پر اپنے علاج کے لئے توبہ کرے اور ندامت کی حرارت اور حسرت کی آگ کے ذریعہ اپنے وجود سے گناہوں کے اثر کو جلادے اور اپنے دل و جان اور روح سے فحشاء و منکر کی گندگی کو پاک کردے اور اپنے اندر خدائی رحمت و مغفرت کو جگہ دے کیونکہ توبہ میں تاخیر کرنا خود ایک گناہ ہے اور خود کو عذاب الٰہی سے محفوظ سمجھنا اور اس حالت پر باقی رہنا گناہان کبیرہ میں سے ہے۔
حضرت عبد العظیم حسنی نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے ،انہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے ،انہوںنے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے، انہوں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ عمرو بن عُبَید نے امام علیہ السلام سے سوال کیا: گناہان کبیرہ کون سے ہیں؟ تو آپ نے قرآن سے گناہان کبیرہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:خود کو عذاب الٰہی سے محفوظ سمجھنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔(۱)
کسی گناہگار کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ توبہ و استغفار کے لئے کوئی زمانہ معین کرے اور خداوندعالم کی طرف بازگشت کو آئندہ پر چھوڑدےاور اپنے درد کے علاج کو بڑھاپے کے لئے چھوڑدے۔
کیونکہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جس امید کے سہارے اس بیماری کے علاج کو آئندہ پرچھوڑا جارہا ہے وہ اس وقت تک زندہ بھی رہے گا، کیا ایک جوان کا بڑھاپے تک باقی رہنا ضروری ہے؟ ہوسکتا ہے اسی غفلت کی حالت اور گناہ و شہوت کے عالم میں ہی موت کا پیغام پہنچ جائے۔
ایسے بہت سے لوگ دیکھنے میں آئے ہیں جو کہتے تھے کہ ابھی تو جوانی ہے، بوڑھاپے میں توبہ کرلیں گے ،لیکن موت نے ان کو فرصت نہ دی اور اسی جوانی کے عالم میں توبہ کئے بغیر چل بسے۔
بہت سے گناہگار جوانوں کو دیکھا گیا جو کہتے تھے کہ ابھی تو ہم جوان ہیں لذت و شہوت سے فائدہ اٹھائیں، بوڑھاپے کے وقت توبہ کرلیں گے ، لیکن اچانک اسی جوانی کے عالم میں موت نے آکر اچک لیا!
اسی طرح بہت سے گناہگاروں کو دیکھا ہے جو کہتے تھے کہ ابھی تو وقت ہے بعد میں توبہ و استغفار کرلیں گے، لیکن گناہوں اور معصیت کی تکرار نے نفس کو ہوا و ہوس کا غلام بنالیا اور شیطان نے انھیں گرفتار کرلیا اور گناہوں کے اثر سے توبہ کی صلاحیت کھو بیٹھے، اور ہرگز توبہ و استغفار نہ کرسکے، اس کے علاوہ گناہوں کی کثرت ، ظلمت کی سنگینی اور خدا کی اطاعت سے زیادہ دوری کی بنا پر وہ خدا کی نشانیوں اور اس کے عذاب ہی کو جھٹلانے لگے اور آیات الٰہی کا مذاق اڑانے لگے اور خود اپنے ہاتھوں سے توبہ و استغفار کا دروازہ بند کرلیا!
ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِینَ َسَائُوا السُّوئَی َنْ کَذَّبُوا بِآیَاتِ اﷲِ وَکَانُوا بِہَا یَسْتَہْزِئُون(۲)
اس کے بعد برائی کرنے والوںکا انجام برا ہوا کہ انہوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلایادیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
گناہ، جذام اور برص کی طرح گناہگار انسان کے ایمان، عقیدہ، اخلاق، شخصیت، کرامت اور انسانیت کو کھاجاتے ہیں، انسانی زندگی اس منزل پر پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا کی آیات کی تکذیب کرنے لگتاہے اور انبیاء، آئمہ معصومین علیہم السلام اور قرآن مجید کا تمسخرکرتا ہوا نظر آتا ہے، اور اس پر کسی کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:
وَسَارِعُوا ِلَی مَغْفِرَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالَْرْضُ ُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِین۔(۳)
اور اپنے پروردگار کی مغفرت اور اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے اور اسے صاحبان تقویٰ لئے مہیا کیاگیاہے۔
س آیت کے پیش نظر واجب ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو گناہوں سے پاک کرنے اور مغفرت و بہشت حاصل کرنے کے لئے توبہ و استغفار کی طرف جلد از جلد قدم اٹھائے، اور توبہ و استغفار کے تحقق کے لئے جتنا ہوسکے جلدی کرے کیونکہ توبہ میں ایک لمحہ کے لئے تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، قرآن مجید کی رُوسے توبہ میں تاخیر کرنا چاہے کسی بھی وجہ سے ہو ،ظلم ہے، اور یہ ظلم دوسرے گناہوں سے الگ خود ایک گناہ ہے۔
… وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُونَ(۴)
…اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھ لو کہ یہی لوگ در حقیقت ظالموں میں سے ہے۔
گناہگار کو اس حقیقت کا علم ہونا چاہئے کہ توبہ کا ترک کرنا اسے ستم گاروں کے قافلہ میں قرار دیدیتا ہے اور ستم گاروں کو خداوندعالم دوست نہیں رکھتا۔
…وَاﷲُ لاَیُحِبُّ الظَّالِمِین(۵)
…اور خدا، ظلم کرنے والوں کوپسند نہیںکرتا۔
گناہگار کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص سے خداوندعالم، انبیاء اور آئمہ علیہم السلام سخت نفرت کرتے ہیں اور اس سے ناراض رہتے ہیں چنانچہ حضرت عیسٰی اپنے حواریوں کو تہدید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یا مَعْشَرَ الْحَوارِیّینَ ،تَحَبَّبُوا اِلَی اللہِ بِبُغْضِ اَہْلِ الْمَعاصی ،وَ تَقَرَّبُوا اِلَی اللہِ بِالتَّباعُدِ مِنْھُمْ وَ الْتَمِسُوا رِضاہُ بِسَخَطِھِمْ۔(۶)
اے گروہ حوارین! گناہگاروں اور معصیت کاروں سے دشمنی اور ناراضگی کا اظہار کرکے خود کو خدا کا محبوب بنائو، آلودہ لوگوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے خدا سے نزدیک ہوجائو، اور گناہگاروں کے ساتھ غیض و غضب اورغصہ کا اظہار کرکے خداوندعالم کی خوشنودی حاصل کرلو۔
گناہگار انسان کو اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ ہر گناہ کے انجام دینے سے خدا کے نزدیک انسان کی شخصیت اور کرامت کم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ انسان حیوان کی منزل میں پہنچ جاتا ہے بلکہ اس سے بھی پست تر ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایسا شخص قیامت کے دن انسان کی صورت میں محشور نہیں ہوسکتا۔
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام براء بن عازب سے فرماتے ہیں:
’’تم نے دین کو کیسا پایا‘‘؟
انہوں نے عرض کیا:
مولا! آپ کی خدمت میں آنے اور آپ کی امامت و ولایت کا اقرار کرنے نیز آپ کی اتباع اور پیروی سے پہلے یہودیوں کی طرح تھا، ہمارے لئے عبادت و بندگی ، اطاعت و خدمت بے اہمیت تھے، لیکن ہمارے دلوں میں ایمانی حقائق کی تجلی اور آپ کی اطاعت و پیروی کے بعد عبادت و بندگی کی قدر کا پتہ چل گیا، اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
دوسرے لوگ قیامت کے دن گدھے کے برابر محشور ہوں گے، اور تم میں سے ہر شخص روز محشر بہشت کی طرف جارہا ہو گا۔(۷)
توبہ واجب اخلاقی ہے
علمائے کرام ،اہل عرفان حضرات اور پاک دل دانشوروں نے اخلاقی مسائل کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں اور اخلاق کی دوحصوں میں شرح کی ہے: اخلاق حسنہ، اور اخلاق سیئہ ، غرور وتکبر، اور خود غرضی کو برے اخلاق اور تواضع و انکساری کو اخلاق حسنہ میں مفصل طور پر بیان کیاہے۔
ابلیس کے لئے پیش آنے والی صورتحال کی بنا پر خداوندعالم کی طرف سے ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیااور اس کو اپنی بارگاہ سے نکال دیا ، کیونکہ اس نے حکم خداکے مقابلہ میں غرور و تکبر کیا تھا، لیکن دوسری طرف جناب آدم اور جناب حوّا کی توبہ قبول کر لی گئی، جس کی وجہ تواضع و انکساری تھی، قرآن نے واضح کردیا کہ چونکہ غرور و تکبر خدا کی بارگاہ سے نکال دئے جانے کا سبب ہے لہٰذا اس سے دوری اختیار کرنا واجب ہے اور تواضع و انکساری انسان کو خدا سے نزدیک کردیتا ہے اور اس کو عبادت و بندگی سے رغبت میں مدد ملتی ہے ، نیز انسان اپنے گناہوں اور خطائوں کے لئے خدا سے عذر خواہی کرتا ہے اور توبہ و استغفار کرتا ہے لہٰذا انسان پر واجب ہے کہ خودکو تواضع و انکساری سے آراستہ کرے، اور اس کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کردے، خشوع و خضوع اورآنسو بھری آنکھوں کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس سے یہ عہد کرے کہ آئندہ گناہوں سے پرہیز کرے گا نیز اپنے گزشتہ کی تلافی کرے گا۔
خدائے مہربان جناب موسیٰ بن عمران سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
یَابْنَ عِمْرانَ،ھَبْ لی مِنْ عَیْنَیْکَ الدُّمُوعَ،وَمِنْ قَبلکَ الْخُشُوعَ،وَ مِنْ بَدَنِکَ الْخُضُوعَ ثُمَّ ادْعُنی فی ظُلَمِ اللَّیالی تَجِدْنی قَریباً مُجیباً۔(۸)
اے موسیٰ بن عمران! میری بارگاہ میں اشکبار آنکھوں، خاشع قلب اور لرزتے ہوئے جسم کے ساتھ حاضر ہو، پھر شب کی تاریکی میں مجھے پکارو، مجھے نزدیک اور جواب دینے والا پائوگے۔
قرآن ابلیس کے بارے میں فرماتا ہے:
قَالَ مَا مَنَعَکَ َلاَّ تَسْجُدَ ِذْ َمَرْتُکَ قَالَ َنَا خَیْر مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ، قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ َنْ تَتَکَبَّرَ فِیہَا فَاخْرُجْ ِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِینَ۔(۹)
فرمایا: (اے ابلیس) تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ میرے حکم کے بعد بھی سجدہ نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے بنایا ہے۔ فرمایا تو یہاں سے چلا جا، تجھے ہماری بارگاہ میں رہنے کا حق نہیں ہے تو نے غرور سے کام لیا، نکل جا کہ تو ذلیل لوگوں میں سے ہے۔
قرآن مجید نے شیطان کی شقاوت اور بدبختی کی وجہ حکم خدا کے سامنے غرور و تکبر بیان کی ہے، اور اسی تکبر کی بنا پر وہ بارگاہ الٰہی سے نکال دیا گیا،لہٰذا انسان کو غرور و تکبر سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ شیطانی صفت انسان کو حکمِ خدا کے مقابلہ میں لا کھڑ ا کرتی ہے۔
قرآن مجید، جناب آدم و حوا علیہما السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
قَالاَرَبَّنَا ظَلَمْنَا َنفُسَنَا وَِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِینَ۔(۱۰)
ان دونوں نے کہا کہ پروردگار! ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور ہم پررحم نہ کرے گا، تو یقینا ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
قرآن نے جناب آدم و حوا علیہماالسلام کے اقرار و اعتراف اور طلب مغفرت کو جو واقعاً ایک پسندیدہ اور قابل تعریف عمل ہے،اس کوان کی توبہ کے عنوان سے بیان کیا ہے، سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۳۷ میں اس توبہ کا تذکرہ ہوا ہے، لیکن اس حقیقت پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ اقرار و اعتراف اور خداوندعالم کی طرف بازگشت ، خشوع و خضوع ، قلبی انکساری اور دل شکستگی کا ثمرہ ہے، چونکہ علمائے اخلاق کی نظر میں تکبر انسان اور ذات خدا کے درمیان ایک سخت حجاب ہے لیکن تواضع و خاکساری انسان اورذات خدا کے درمیان ایک سیدھا راستہ اور کھلا ہوا دروازہ ہے، کبر و تکبر کی حالت پر باقی رہنا ،ایک عظیم گناہ ہے، اور نخوت سے پرہیز کرنا ایک عظیم واجب ہے اورتواضع و انکساری سے آراستہ ہونا ایک عظیم عمل ہے اور اپنے کو گناہوں سے دھونا عظیم عبادت و بندگی ہے؛ لہٰذا گناہوں سے توبہ کرنا خدا کی بارگاہ میں تواضع و انکساری اور کبر و نخوت سے دور ہونے کی نشانی اور اخلاقی علامت ہے۔
تکبر کے بارے میں ایک حدیث کے ضمن میں بیان ہوا ہے:
عَن حَکیمٍ قالَ:سَأَلَتْ اَبا عَبْدِاللہ(علیہ السلام ) عَنْ اَدْنَی الاِلْحادِ ،فَقالَ:اِنَّ الْکِبْرَ اَدْناہُ(۱۱)
حکیم کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے ’’الحاد‘‘ یعنی انکار خداوندی کے سب سے کم درجے کے بارے میں سوال کیا ،تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا پست ترین درجہ تکبر اور غرور ہے۔
حسین بن اعلا کہتے ہیں: میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
اَلْکِبْرُ قَدْ یَکونُ فی شِرارِ النَّاسِ مِنْ کُلِّ جِنْسٍ،وَالْکِبْرُ رِدائُ اللہِ،فَمَنْ نازَعَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ رِدائَ ہُ لَمْ یَزِدْہُ اللہُ اِلاَّسَفالاً…(۱۲)
تکبر کسی بھی جنس میں ہو وہ بدترین لوگوں میں سے ہے، بزرگی ذات خدا ہی کے لئے سزاوارہے ، لہٰذا جو شخص خدا کی بزرگی میں جھگڑے اور اس کی ذات اقدس کے ساتھ شریک ہونا چاہے تو اس کو خدا ذلیل کردیتا ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
اَلْعِزُّ رِدائُ اللہِ ،وَالْکِبْرُ اِزارُہُ ،فَمَنْ تَناوَلَ شَیْئاً مِنْہُ اَکَبَّہُ اللہُ فی جَھَنَّمَ (۱۳)
عزت ردائے خدا ہے، بزرگی اس کا جامہ ہے، جو شخص ان کو اپنے لئے سمجھے تو خداوندعالم اس کو جہنم میں ڈال دیتا ہے۔
تواضع کے بارے میں احادیث
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اِنَّ فِی السَّمائِ مَلَکَیْنِ مُوَکَّلَیْنِ بِالْعِبادِ،فَمَنْ تَواضَعَ لِلّٰہِ رَفَعاہُ، وَمَنْ تَکَبَّرَ وَضَعاہُ(۱۴)
بے شک آسمان میں دو فرشتے ہیں،جن کو خدا نے اپنے بندوں پر موکل قرار دیا ہے کہ جو شخص خدا کے سامنے تواضع و انکساری سے پیش آئے اسے سربلنداور جو شخص غرور و تکبر سے کام لے اسے ذلیل اور رسواکردیں۔
حضرت رسول خدا ۖ کا ارشاد ہے:
’’فَاِنَّ مَنْ تَواضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہُ،وَمَن تَکَبَّرَ خَفَضَہُ اللہُ ،وَمَن اقْتَصَدَ فی مَعیشَتِہِ رَزَقَہُ اللہُ ،وَمَنْ بَذَّرَ حَرَمَہُ اللہُ ،وَمَنْ اَکْثَرَ ذِکْرَ الْمَوْتِ اَحَبَّہُ اللہُ (۱۵)
بے شک جو شخص خداکے سامنے تواضع وانکساری سے پیش آئیگا خداوندعالم اس کو بلند کردیگا اور جو شخص اس کے سامنے غرور و تکبر دکھائیگا خداوندعالم اس کو ذلیل و رسوا کردے گا،جو شخص زندگی میں درمیانی راستہ اپنائیگا خداوندعالم اس کو روزی عنایت فرمادے گا، جو شخص اسراف اور فضول خرچی سے کام لے گاخداوندعالم اس پر اپنی عنایت حرام کردے گااور جو شخص موت کو بہت زیادہ یاد رکھے تو خداوندعالم اس کو اپنا محبوب بنالے گا۔
ایک مقام پر خداوندعالم نے جناب دائود سے خطاب فرمایا:
یا داوُد کَما اَنَّ اَقْرَبَ النَّاسِ مِنَ اللّٰہِ الْمُتَواضِعونَ ، کَذٰلِکَ اَبْعَدُ النّٰاسِ مِنَ اللّٰہِ الْمُتَکَبِّرُونَ(۱۶)
اے دائود! جس طرح خداوندعالم سے زیادہ قریب متواضع افراد ہیں اسی طرح مغرور و متکبر لوگ خدا سے بہت زیادہ دور ہیں۔
حوالہ جات
۱۔کافی ج۲،ص۲۸۵،باب الکبائر ،حدیث ٢٤؛وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۳۱۸،باب ۴۶حدیث۲۰۲۲۹۔
۲۔سورۂ روم آیت۱۰۔
۳۔سورۂ آل عمران، آیت۱۳۳۔
۴۔سورۂ حجرات آیت ۱۱۔
۵۔سورۂ آل عمران آیت۵۷
۶۔جموعۂ ورّام ج۲،ص۲۳۵،الجزء الثانی ؛بحا رالانوار،ج۱۴،ص۳۳۰،باب ۲۱حدیث۴۶،مستدرک الوسائل ج۱۲،ص۱۹۶،باب۶،حدیث ۱۳۸۶۵۔
(7)رجال علامہ بحر العلوم ،ج٢،ص١٢٧.
۸۔عدۃ الداعی ۲۰۷، القسم الثالث فی الاداب المتاخرۃ،بحارالانوار،ج۱۳، ص۳۶۱،باب۱۱،حدیث ۷۸۔
۹۔سورۂ اعراف آیت۱۲۔۱۳
۱۰۔سورۂ اعراف آیت۲۳
۱۱۔اصول کافی ،ج۲،ص۳۰۹،باب الکبر ،حدیث۱،بحار الانوارج۷۰،ص۱۹۰،باب ۱۳۰،حدیث۱۔
۱۲۔اصول کافی،ج۲،ص۳۰۹،باب الکبر،حدیث ۲،بحارالانوارج۷۰،ص۲۰۹، باب ۱۳۰،حدیث۲۔
۱۳۔اصول کافی ،ج۲،ص۳۰۹،باب الکبر ،حدیث ۳،ثواب الاعمال ص۲۲۱،عقاب المتکبر، بحار الانوار ج۷۰، ص۲۱۳، باب۱۳۰، حدیث۳۔
۱۴۔اصول کافی ،ج۲،ص۱۲۲،باب التواضع ،حدیث ۲،مشکاۃ الانوار ص۲۲۷، الفصل الثانی فی التواضع،بحار الانوار ج۷۰،ص۲۳۸،باب۱۳۰،حدیث ۴۴۔
۱۵۔اصول کافی ،ج۲،ص۱۲۲،باب التواضع ،حدیث٣؛مجموعہ ورّام ج۲،ص۱۹۰، الجزء الثانی ؛بحارالانوار ج۷۲، ص۱۲۷، باب ۵۱، حدیث ۲۵
۱۶۔اصول کافی،ج۲،ص۱۲۳،باب التواضع،حدیث۱۱،وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۲۷۲،باب۲۸،حدیث۲۰۴۹۴ ، بحار الانوار ج۷۲، ص۱۳۲، باب ۵۱،حدیث۳۴