ur

قرآن اور حضرت امام مہدی علیہ السلام

حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے: ”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں: ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتہ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر

ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورہٴ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔ وہ احادیث جو اس سورہ اور سورہٴ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام (ص) کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپ(ص) کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اوروہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“
مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں: ”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطف الٰہی کا انحصار امام (ع) کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطف الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غیبت خود ہم سے مربوط ہے۔“