ur

تعارف امام محمد مہدی علیہ السلام

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام

امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سلسلہ عصمت محمدیہ کی چودھویں اور سلسلہ امامت علویہ کی بارھویں کڑی ہیں آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس(۱) خاتون تھیں۔
آپ اپنے آباوٴاجداد کی طرح امام منصوص، معصوم، اعلم زمانہ اور افضل کائنات ہیں۔ آپ بچپن ہی میں علم و حکمت سے بھرپور تھے۔ (صواعق محرقہ ۲۴۱#) آپ کو پانچ سال کی عمرمیں ویسی ہی حکمت دے دی گئی تھی، جیسی حضرت یحیٰ کو ملی تھی اور آپ بطن مادر میں اسی طرح امام قرار دئیے گئے تھے، جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی قرار پائے تھے۔ (کشف الغمہ ص ۱۳۰) آپ انبیاء سے بہترہیں۔ (اسعاف الراغبین ص ۱۲۸) آپ کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے بے شمار پیشین گوئیاں فرمائی ہیں اور اس کی وضاحت کی ہے کہ آپ حضور کی عترت اور حضرت فاطمةالزہرا کی اولاد سے ہوں گے۔ ملاحظہ ہو جامع صغیر سیوطی ص۱۶۰ طبع مصر و مسند احمد بن حنبل جلد۱ ص ۸۴ طبع مصروکنوزالحقائق ص۱۲۲ ومستدرک جلد۴ ص ۵۲۰ ومشکوة شریف) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ امام مہدی کا ظہور آخر زمانہ میں ہوگا۔ اورحضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ملاحظہ ہو صحیح بخاری پ۱۴ ص۳۹۹ وصحیح مسلم جلد۲ ص ۹۵ صحیح ترمذی ص ۲۷۰ وصحیح ابوداؤد جلد۲ ص۲۱۰ وصحیح ابن ماجہ ص۳۴ وص۳۰۹ وجامع صغیرص۱۳۴ وکنوزالحقائق ص۹۰) آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ امام مہدی میرے خلیفہ کی حیثیت سے ظہور کریں گے اور یختم الدین بہ کما فتح بنا جس طرح میرے ذریعہ سے دین اسلام کا آغاز ہوا۔ اسی طرح ان کے ذریعہ سے مہر اختتام لگا دی جائے گی۔ ملاحظہ ہو کنوزالحقائق ص۲۰۹ آپ نے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے کہ امام مہدی کا اصل نام میرے نام کی طرح محمد اور کنیت میری کنیت کی طرح ابوالقاسم ہو گی وہ جب ظہور کریں گے تو ساری دنیاکو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کر دیں گے جس طرح وہ اس وقت ظلم و جورسے بھری ہوگی۔ ملاحظہ ہو جامع صغیرص۱۰۴ ومستدرک امام حاکم ص ۴۲۲ و۴۱۵ ظہور کے بعد ان کی فورا بیعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ خداکے خلیفہ ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ اردوص۲۶۱ طبع کراچی ۱۳۷۷ھج)۔

حضرت امام محمد مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھج یوم جمعہ بوقت طلوع فجر واقع ہوئی ہے جیسا کہ (وفیات الاعیان، روضة الاحباب، تاریخ ابن الوردی، ینابع المودة، تاریخ کامل طبری، کشف الغمہ، جلاٴالعیون، اصول کافی، نور الا بصار، ارشاد، جامع عباسی، اعلام الوری، اور انوار الحسینہ وغیرہ میں موجود ہے (بعض علماٴ کا کہنا ہے کہ ولادت کا سن ۲۵۶ ھج اور مادہ ٴ تاریخ نور ہے) یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظھور و شہود میں تشریف لائے ہیں ۔
۱# نرجس ایک یمنی بوٹی کو کہتے ہیں جس کے پھول کو شعراٴ آنکھوں سے تشبیہ دیتے ہیں (المنجد ص۸۶۵ ) منتہی الادب جلد ۴ ص۲۲۲۷ میں ہے کہ یہ جملہ دخیل اور معرب یعنی کسی دوسری زبان سے لایا گیا ہے۔ صراح ص۴۲۵ اور العماط صدیق حسن ص۴۷ میں ہے کہ یہ لفظ نرجس، نرگس سے معرب ہے جوکہ فارسی ہے۔ رسالہ آج کل لکھنؤ کے سالنامہ ۱۹۴۷ کے ص ۱۱۸ میں ہے کہ یہ لفظ یونانی نرکسوس سے معرب ہے، جسے لاطینی میں نرکسس اورانگریزی میں نرس سس کہتے ہیں۔ ۱۲
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کا بیان ہے کہ ایک روز میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس گئ تو آپ نے فرمایا کہ اے پھوپھی آپ آج ہمارے ہی گھر میں رہیے کیونکہ خداوند عالم مجھے آج ایک وارث عطا فرمائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ فرزند کس کے بطن سے ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ بطن نرجس سے متولد ہو گا، جناب حکیمہ نے کہا: بیٹے! میں تو نرجس میں کچھ بھی حمل کے آثار نہیں پاتی، امام نے فرمایا کہ اے پھوپھی، نرجس کی مثال مادر موسی جیسی ہے جس طرح حضرت موسی کا حمل ولادت کے وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہوا۔ اسی طرح میرے فرزند کا حمل بھی بروقت ظاہر ہو گا غرضکہ میں امام کے فرمانے سے اس شب وہیں رہی جب آدھی رات گذر گئی تو میں اٹھی اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئی اور نرجس بھی اٹھ کر نماز تہجد پڑھنے لگی۔ اس کے بعد میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ صبح قریب ہے اور امام حسن عسکری علیہ السلام نے جو کہا تھا وہ ابھی تک ظاہرنہیں ہوا، اس خیال کے دل میں آتے ہی امام علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آوازدی: اے پھوپھی جلدی نہ کیجئے، حجت خدا کے ظہور کا وقت بالکل قریب ہے یہ سن کر میں نرجس کے حجرہ کی طرف پلٹی، نرجس مجھے راستے ہی میں ملیں، مگر ان کی حالت اس وقت متغیرتھی، وہ لرزہ براندام تھیں اوران کا ساراجسم کانپ رہاتھا، میں نے یہ دیکھ کر ان کو اپنے سینے سے لپٹا لیا، اورسورہ قل ھواللہ، اناانزلنا و ایة الکرسی پڑھ کر ان پر دم کیا بطن مادر سے بچے کی آواز آنے لگی، یعنی میں جوکچھ پڑھتی تھی، وہ بچہ بھی بطن مادرمیں وہی کچھ پڑھتا تھا اس کے بعد میں نے دیکھا کہ تمام حجرہ روشن و منور ہو گیا۔ اب جو میں دیکھتی ہوں تو ایک مولود مسعود زمین پرسجدہ میں پڑا ہوا ہے میں نے بچہ کو اٹھا لیا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے آواز دی اے پھوپھی! میرے فرزند کو میرے پاس لائیں میں لے گئی آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اپنی زبان بچے کے منہ میں دیدی اور کہا کہ اے فرزند! خدا کے حکم سے کچھ بات کرو، بچے نے اس آیت: بسم اللہ الرحمن الرحیم ونریدان نمن علی اللذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم الوارثین کی تلاوت کی، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پرجو زمین پر کمزور کردیے گئے ہیں اور ان کو امام بنائیں اورانھیں کو روئے زمین کا وارث قراردیں۔
اس کے بعد کچھ سبز طائروں نے آکر ہمیں گھیرلیا، امام حسن عسکری نے ان میں سے ایک طائر کو بلایا اور بچے کو دیتے ہوئے کہا کہ خدہ فاحفظہ الخ اس کو لے جا کر اس کی حفاظت کرو یہاں تک کہ خدا اس کے بارے میں کوئی حکم دے کیونکہ خدا اپنے حکم کو پورا کرکے رہے گآ میں نے امام حسن عسکری سے پوچھا کہ یہ طائر کون تھا اور دوسرے طائر کون تھے؟ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل تھے، اوردوسرے فرشتگان رحمت تھے اس کے بعد فرمایا کہ اے پھوپھی اس فرزند کو اس کی ماں کے پاس لے آؤ تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور محزون و مغوم نہ ہو اور یہ جان لے کہ خدا کا وعدہ حق ہے واکثرھم لایعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس کے بعد اس مولود مسعود کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا گیا (شواہدالنبوة ص ۲۱۲ طبع لکھنؤ ۱۹۰۵ء علامہ حائری لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ کو جبرئیل پرورش کے لئے اٹھا کر لے گئے (غایۃالمقصود جلد۱ ص ۷۵) کتاب شواہدالنبوت اوروفیات الاعیان وروضةالاحباب میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوے تو مختون اورناف بریدہ تھے اور آپ کے داہنے بازو پر یہ آیت منقوش تھی جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا یعنی حق آیا اور باطل مٹ گیا اورباطل مٹنے ہی کے قابل تھا۔ یہ قدرتی طور پر بحر متقارب کے دو مصرعے بن گئے ہیں حضرت نسیم امروہوی نے اس پرکیا خوب تضمین کی ہے وہ لکھتے ہیں
چشم وچراغ دیدہٴ نرجس عین خدا کی آنکھ کا تارا
بدر کمال نیمہٴ شعبان چودھواں اختر اوج بقا کا
حامی ملت ماحیٴ بدعت کفر مٹانے خلق میں آیا
وقت ولادت ماشاءاللہ قرآن صورت دیکھ کے بولا
جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
محدث دہلوی شیخ عبدالحق اپنی کتاب مناقب ائمہ اطہارمیں لکھتے ہیں کہ حکیمہ خاتون جب نرجس کے پاس آئیں تودیکھا کہ ایک مولود پیدا ہوا ہے، جومختون اور مفروغ منہ ہے یعنی جس کا ختنہ کیا ہوا ہے اور نہلانے دھلانے کے کاموں سے جو مولود کے ساتھ ہوتے ہیں بالکل مستغنی ہے۔ حکیمہ خاتون بچے کو امام حسن عسکری کے پاس لائیں، امام نے بچے کو لیا اوراس کی پشت اقدس اور چشم مبارک پرہاتھ پھیرا اپنی زبان مطہر ان کے منہ میں ڈالی اور داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی یہی مضمون فصل الخطاب اوربحارالانوارمیں بھی ہے، کتاب روضةالاحباب ینابع المودة میں ہے کہ آپ کی ولادت بمقام سرمن رائے سامرہ میں ہوئی ہے۔
کتاب کشف الغمہ ص۱۳۰ میں ہے کہ آپ کی ولادت چھپائی گئی اور پوری سعی کی گئی کہ آپ کی پیدائش کسی کو معلوم نہ ہوسکے، کتاب دمعہ ساکبہ جلد ۳ص۱۹۴ میں ہے کہ آپ کی ولادت اس لئے چھپائی گئی کہ بادشاہ وقت پوری طاقت کے ساتھ آپ کی تلاش میں تھا اسی کتاب کے ص ۱۹۲ میں ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ حضرت حجت کو قتل کرکے نسل رسالت کا خاتمہ کردے۔ تاریخ ابوالفداٴ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتزباللہ تھا، تذکرہ خواص الامة میں ہے کہ اسی کے عہد میں امام علی نقی کو زہر دیا گیا تھا۔ معتز کے بارے میں مورخین کی رائے کچھ اچھی نہیں ہے۔ ترجمہ تاریخ الخلفاٴ علامہ سیوطی کے ص۳۶۳ میں ہے کہ اس نے اپنے عہد خلافت میں اپنے بھائی کو ولی عہدی سے معزول کرنے کے بعد کوڑے لگوائے تھے اور تاحیات قید میں رکھا تھا۔ اکثر تواریخ میں ہے کہ بادشاہ وقت معتمد بن متوکل تھا جس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو زہر سے شہید کیا۔ تاریخ اسلام جلد۱ ص ۶۷ میں ہے کہ خلیفہ معتمد بن متوکل کمزور متلون مزاج اورعیش پسند تھا۔ یہ عیاشی اور شراب نوشی میں بسر کرتا تھا، اسی کتاب کے صفحہ ۲۹ میں ہے کہ معتمد حضرت امام حسن عسکری کو زہر سے شہید کرنے کے بعد حضرت امام مہدی کو قتل کرنے کے درپے ہو گیا تھا۔

آپ کا اسم گرامی

آپ کا نام نامی و اسم گرامی ”محمد“ اور مشہور لقب ”مہدی“ ہے علماء کا کہنا ہے کہ آپ کا نام زبان پر جاری کرنے کی ممانعت ہے علامہ مجلسی اس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حکمت آن مخفی است“ اس کی وجہ پوشیدہ اور غیرمعلوم ہے۔ (جلاٴالعیون ص۲۹۸) علماء کا بیان ہے کہ آپ کا یہ نام خود حضرت محمد مصطفی نے رکھا تھا۔ ملاحظہ ہو روضة الاحباب و ینابع المودة۔ مورخ اعظم ذاکر حسین تاریخ اسلام جلد۱ ص۳۱ پر لکھتے ہیں کہ ”آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے آپ نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی، تو میری اولاد میں سے مہدی کا ظہور ہو گا جو ظلم و جور کو دور کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ شرک و کفر کو دنیا سے نابود کردے گا، اس کا نام ”محمد“ اور لقب ”مہدی“ ہو گا حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتر کر اس کی نصرت کریں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے، اوردجال کو قتل کریں گے۔

آپ کے القاب

آپ کے مشہور القاب مہدی، حجة اللہ، خلف الصالح، صاحب العصر، صاحب الامر، صاحب الزمان، القائم، الباقی اور المنتظر ہیں۔ ملاحظہ ہو تذکرہ خواص الامة ۲۰۴، روضة الشہداٴ ص۴۳۹، کشف الغمہ ۱۳۱، صواعق محرقہ۱۲۴، مطالب السؤال ۲۹۴، اعلام الوری ۲۴ حضرت دانیال علیہ السلام نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے ۱۴۲۰ سال پہلے آپ کالقب منتظر قرار دیا۔ ملاحظہ ہو کتاب دانیال باب۱۲ آیت ۱۲۔ علامہ ابن حجر مکی، المنتظر کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھیں منتظر یعنی جس کا انتظار کیا جائے اس لئے کہتے ہیں کہ وہ سرداب میں غائب ہوگئے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں سے گئے (مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کا انتظار کر رہے ہیں، شیخ العراقین علامہ شیخ عبدالرضا تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کو منتظر اس لئے کہتے ہیں کہ آپ کی غیبت کی وجہ سے آپ کے مخلصین آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔ (انوارالحسینیہ جلد۲ ص۵۷طبع بمبئی)۔

آپ کی کنیت

اس پرعلمائے فریقین کا اتفاق ہے کہ آپ کی کنیت ” ابوالقاسم“ اور ابا عبداللہ تھی اور اس پر بھی علماء متفق ہیں کہ ابوالقاسم کنیت خود سرور کائنات کی تجویز کردہ ہے۔ ملاحظہ ہو جامع صغیر ص۱۰۴ تذکرہ خواص الامة ۲۰۴ روضة الشہداٴ ص ۴۳۹ صواعق محرقہ ص۱۳۴ شواہدالنبوت ص ۳۱۲، کشف الغمہ ص۱۳۰ جلاٴالعیون ص۲۹۸۔
یہ مسلمات سے ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہے کہ مہدی کانام میرا نام اوران کی کنیت میری کنیت ہوگی۔ لیکن اس روایت میں بعض اہل اسلام نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آنحضرت نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مہدی کے باپ کا نام میرے والد محترم کا نام ہو گا مگر ہمارے راویوں نے یہ روایت نہیں کی اورخود ترمذی شریف میں بھی ”اسم ابیہ اسم ابی“ نہیں ہے، تاہم بقول صاحب المناقب علامہ کنجی شافعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایت میں لفظ ”ابیہ“ سے مراد ابوعبداللہ الحسین ہیں۔ یعنی اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔

آپ کا حلیہ مبارک

کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا ارشادہے کہ امام مہدی، شکل و شباہت خلق و خلق شمائل و خصائل، اقوال و افعال میں میرے مشابہ ہوں گے۔
آپ کے حلیہ کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ آپ کارنگ گندگون، قد میانہ ہے۔ آپ کی پیشانی کھلی ہوئی ہے اور آپ کے ابرو گھنے اور باہم پیوستہ ہیں۔ آپ کی ناک باریک اور بلند ہے آپ کی آنکھیں بڑی اور آپ کا چہرہ نہآیت نورانی ہے۔ آپ کے داہنے رخسارہ پرایک تل ہے ”کانہ کوکب دری“ جو ستارہ کی مانند چمکتا ہے، آپ کے دانت چمکدار اور کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کی زلفیں کندھوں پر پڑی رہتی ہیں۔ آپ کا سینہ چوڑا اور آپ کے کندھے کھلے ہوئے ہیں آپ کی پشت پر اسی طرح مہر امامت ثبت ہے جس طرح پشت رسالت مآب پر مہر نبوت ثبت تھی (اعلام الوری ص۲۶۵ وغایۃ المقصود جلد۱ ص ۶۴ ونورالابصارص۱۵۲)۔

آپ کا نسب نامہ

آپ کا پدری نسب نامہ یہ ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی ابن جعفر بن محمدبن علی بن حسین بن علی و فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یعنی آپ فرزند رسول، دلبند علی اور نورنظر بتول علیھم السلام ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ اس سلسہٴ نسب کے اسماء کو اگر کسی مجنون پر دم کر دیا جائے تو اسے یقینا شفا حاصل ہو گی (مسندامام رضاص۷) آپ کا سلسہٴ نسب ماں کی طرف سے حضرت شمعون بن حمون الصفا ٴوصی حضرت عیسی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ علامہ مجلسی اورعلامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون تھیں، جن کاایک نام ”ملیکہ“ بھی تھا، نرجس خاتون یشوعا کی بیٹی تھیں، جو روم کے بادشاہ” قیصر“ کے فرزند تھے جن کاسلسلہٴ نسب وصی حضرت عیسی جناب شمعون تک منتہی ہوتاہے۔ ۱۳سال کی عمرمیں قیصر روم نے چاہا تھا کہ نرجس کاعقد اپنے بھتیجے سے کردے لیکن بعض قدرتی حالات کی وجہ سے وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا، بالاخرایک ایسا وقت آگیا کہ عالم ارواح میں حضرت عیسی، جناب شمعون حضرت محمد مصطفی، جناب امیرالمومنین اورحضرت فاطمہ بمقام قصر قیصر جمع ہوئے، جناب سیدہ نے نرجس خاتون کو اسلام کی تلقین کی اور آنحضرت نے بتوسط حضرت عیسی جناب شمعون سے امام حسن عسکری کے لئے نرجس خاتون کی خواستگاری کی، نسبت کی تکمیل کے بعد حضرت محمد مصطفی نے ایک نوری منبر پر بیٹھ کرعقد پڑھا اور کمال مسرت کے ساتھ یہ محفل نشاط برخواست ہو گئی جس کی اطلاع جناب نرجس کو خواب کے طور پر ہوئی، بالاخر وہ وقت آیا کہ جناب نرجس خاتون حضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں آپہنچی اورآپ کے بطن مبارک سے نور خدا کا ظہور ہوا۔ (کتاب جلاٴالعیون ص ۲۹۸ وغایۃ المقصود ص۱۷۵)۔

تین سال کی عمر میں حجت اللہ ہونے کا دعویٰ

کتب تورایخ و سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی پرورش کا کام جناب جبرائیل علیہ السلام کے سپرد تھا اور وہ ہی آپ کی پرورش و پرداخت کرتے تھے ظاہر ہے کہ جو بچہ ولادت کے وقت کلام کرچکا ہو اور جس کی پرورش جبرائیل جیسے مقرب فرشتہ کے سپرد ہو وہ یقینا دنیا میں چند دن گزارنے کے بعد بہرصورت اس صلاحیت کامالک ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے حجت اللہ ہونے کا دعویٰ کرے۔ علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ احمد ابن اسحاق اور سعدالاشقری ایک دن حضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ آج امام علیہ السلام سے یہ دریافت کریں گے کہ آپ کے بعد حجت اللہ فی الارض کون ہوگا، جب سامنا ہوا تو امام حسن عسکری نے فرمایا کہ اے احمد! تم جو دل میں لے کر آئے ہو میں اس کا جواب تمہیں دے دیتا ہوں، یہ فرما کر آپ اپنے مقام سے اٹھے اور اندر جا کر یوں واپس آئے کہ آپ کے کندھے پرایک نہآیت خوب صورت بچہ تھا، جس کی عمر تین سال کی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے احمد ! میرے بعد حجت خدا یہ ہوگا اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہے یہ خضر کی طرح زندہ رہے گا اور ذوالقرنین کی طرح ساری دنیا پر حکومت کرے گا۔ احمدبن اسحاق نے کہا مولا! کوئی ایسی علامت بتا دیجئے کہ جس سے دل کو اطمینان کامل ہو جائے۔ آپ نے امام مہدی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا، بیٹا! اس کو تم جواب دو۔ امام مہدی علیہ السلام نے کمسنی کے باوجود بزبان فصیح فرمایا: ”اناحجة اللہ وانا بقیةاللہ“۔ میں ہی خدا کی حجت اور حکم خدا سے باقی رہنے والا ہوں، ایک وہ دن آئے گا جس میں دشمن خدا سے بدلہ لوں گا، یہ سن کر احمد خوش و مسرور اور مطمئن ہوگئے (کشف الغمہ۱۳۸)۔
حدیث نعثل اورامام عصر:

نعثل ایک یہودی تھا اس نے ایک دن حضور رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی مجھے اپنے خدا، اپنے دین، اپنے خلفاٴ کا تعارف کرائیں اگر میں آپ کے جواب سے مطمئن ہوگیا تو مسلمان ہو جاؤں گا۔ حضرت نے نہایت بلیغ اور بہترین انداز میں خلاق عالم کا تعارف کرایا، اس کے بعد دین اسلام کی وضاحت کی۔ ”قال صدقت“ نعثل نے کہا آپ نے بالکل درست فرمایا پھر اس نے عرض کی مجھے اپنے وصی سے آگاہ کیجئے اور بتائیے کہ وہ کون ہے یعنی جس طرح ہمارے نبی حضرت موسی کے وصی یوشع بن نون ہیں اس طرح آپ کے وصی کون ہیں؟ آپ نے فرمایا میرے وصی علی بن ابی طالب اور ان کے فرزند حسن و حسین پھر حسین کے صلب سے نو بیٹے قیامت تک ہوں گے۔ اس نے کہا سب کے نام بتائیے آپ نے بارہ اماموں کے نام بتائے ناموں کو سننے کے بعد وہ مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا کہ میں نے کتب آسمانی میں ان بارہ ناموں کو اسی زبان کے الفاظ میں دیکھا ہے، پھر اس نے ہر وصی کے حالات بیان کئے، کربلا کا ہونے والا واقعہ بتایا، امام مہدی کی غیبت کی خبر دی اور کہا کہ ہمارے بارہ اسباط میں سے لادی بن برخیا غائب ہوگئے تھے پھر مدتوں کے بعد ظاہر ہوئے اور از سرنو دین کی بنیادیں استوار کیں۔ حضرت(ص) نے فرمایا اسی طرح ہمارا بارہواں جانشین امام مہدی محمد بن حسن(ع) طویل مدت تک غائب رہ کر ظہور کرے گا۔ اوردنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (غایۃ المقصود ص۱۳۴بحوالہ فرائدالسمطین حموینی)۔

امام عصر کا واقعہٴ کربلا بیان کرنا

حضرت امام مہدی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ”کھیعص“ کا کیا مطلب ہے تو فرمایا کہ اس میں ک سے کربلا، ہ سے ہلاکت عترت، ی سے یزید ملعون، ع سے عطش حسینی، ص سے صبر آل محمد مراد ہے۔ آپ(عج) نے فرمایا کہ آیت میں جناب زکریا(ع) کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب زکریا(ع) کو واقعہٴ کربلا کی اطلاع ہوئی تو وہ تین روز تک مسلسل روتے رہے۔ (تفسیرصافی ص۲۷۹)۔

امام غائب(عج) کا ہر جگہ حاضر ہونا

احادیث سے ثابت ہے کہ امام علیہ السلام جوکہ مظہرالعجائب حضرت علی(ع) کے پوتے ہیں، ہرمقام پر پہونچتے اور ہر جگہ اپنے ماننے والوں کی مشکلات حل کرتے ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ آپ بوقت ضرورت مذہبی لوگوں سے ملتے ہیں لوگ انھیں دیکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ انھیں پہچان نہ سکیں۔ (غایۃ المقصود)۔

حضرت صاحب العصر کی ازواج و اولاد

حضرت حجت کی اولاد کے بارے میں بعض صاحبان متحیر رہتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کے بےشتر محافل و مجالس میں ایسی باتوں کا ذکر نہیں ہوتا اورخود فرصت نہیں کہ ان کتابوں کو دیکھیں جن میں اس قسم کے تذکرے ملتے ہیں۔ بہت سی روایات میں اس قسم کے بیانات ملتے ہیں اور عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ عینی طور سے کسی امر پر ہمارا مطلع نہ ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ہم کیا اور ہمارا علم کیا؟ اگر ایک چیز ہمیں معلوم نہیں ہے تو اس سے یہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا کہ اس شی کا وجود ہی نہیں۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ ہمیں ایک بات کی اطلاع نہ ہو لیکن دوسرے لوگ اس سے مطلع ہوں۔ البتہ ہمارے پاس تین قسم کے ایسے قرائن و شواہد موجود ہیں جن کی بناء پر اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ امام زمانہ مجرد نہیں بلکہ معیل زندگی گزار رہے ہیں تو ہم حق بجانب ہوںگے۔ وہ شواہد و قرائن یہ ہیں:
فطرت انسانی کے فطری تقاضے۔
آئمہ معصومین سے منقول روایات۔
آئمہ کرام کی عطا کردہ دعائیں۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے طول عمر کی بحث

بعض مستشرقین و ماہرین اعمار کا کہنا ہے کہ ”جن کے اعمال و کرداراچھے ہوتے ہیں اور جن کا صفائے باطن کامل ہوتا ہے ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ علماٴ فقہاء اورصلحاء کی عمریں اکثر طویل دیکھی گئی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ طول عمر مہدی علیہ السلام کی یہ بھی ایک وجہ ہو، ان سے قبل جو آئمہ علہیم السلام گزرے وہ شہید کر دیے گئے جبکہ ان پر دشمن دسترس نہ کر سکے، اسی لیے آپ زندہ اور اب تک باقی ہیں لیکن میرے نزدیک عمر کا تقرر و تعین دست ایزد میں ہے اسے اختیار ہے کہ کسی کی عمر کم رکھے کسی کی زیادہ اس کی معین کردہ مدت عمر میں ایک پل کا بھی تفرقہ نہیں ہوسکتا۔
تواریخ واحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم نے بعض لوگوں کو کافی طویل عمریں عطا کی ہیں۔ عمرکی طوالت مصلحت خداوندی پر مبنی ہے اس سے اس نے اپنے دوست اور دشمن دونوں کو نوازا ہے۔ دوستوں میں حضرت عیسی(ع)، حضرت ادریس(ع)، حضرت خضر(ع) و حضرت الیاس(ع)، اور دشمنوں میں سے ابلیس لعین، دجال بطال، یاجوج ماجوج وغیرہ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ چونکہ قیامت اصول دین اسلام سے ہے اور اس کی آمد میں امام مہدی(ع) کا ظہور خاص حیثیت رکھتا ہے لہذا ان کا زندہ و باقی رکھنا مقصود ہو، اوران کے طول عمر کے اعتراض کو رد اور رفع و دفع کرنے کے لئے اس نے بہت سے افراد کی عمریں طویل کردی ہوں مذکورہ ا فراد کو جانے دیجئے۔ عام انسانوں کی عمروں کو دیکھیے بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جن کی عمرِیں کافی طویل رہی ہیں، مثال کے لئے ملاحظہ ہو:
۱)۔ لقمان ۳۵۰۰ سال۔ (۲) عوج بن عنق ۳۳۰۰ سال اور بقولے ۳۶۰۰ سال۔ (۳) ذوالقرنین۳۰۰۰ سال۔ (۴) حضرت نوح و (۵) ضحاک و (۶) طمہورثیں ۱۰۰۰ سال۔(۷) قینان۹۰۰ سال۔ (۸) مہلائیل۸۰۰سال (۹) نفیل بن عبداللہ۷۰۰ سال۔ (۱۰) ربیعہ بن عمرعرف سطیع کاہن۶۰۰ سال۔ (۱۱) حاکم عرب عامربن ضرب۵۰۰ سال۔ (۱۲) سام بن نوح۵۰۰ سال۔ (۱۳) حرث بن مضاض جرہمی۴۰۰ سال۔ (۱۴) ارفخشد۴۰۰ سال۔ (۱۵) دریدبن زید ۴۵۶ سال۔ (۱۶) سلمان فارسی۴۰۰ سال۔ (۱۷) عمرو بن روسی۴۰۰ سال۔ (۱۸) زہیر بن جناب بن عبداللہ۴۳۰سال۔ (۱۹) حرث بن ضیاص۴۰۰ سال۔ (۲۰) کعب بن جمجہ۳۹۰ سال۔ (۲۱) نصربن دھمان بن سلیمان۳۹۰ سال۔ (۲۲) قیس بن ساعدہ۳۸۰سال۔ (۲۳) عمربن ربیعہ۳۳۳سال۔ (۲۴) اکثم بن ضیفی۳۳۶ سال۔ (۲۵) عمربن طفیل عدوانی۲۰۰ سال تھی (غایۃ المقصود ص۱۰۳ اعلام الوری ص۲۷۰ ) ان لوگوں کی طویل عمروں کودیکھنے کے بعد ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ ”چونکہ اتنی عمر کا انسان نہیں ہوتا، اس لئے امام مہدی(عج) کا وجود ہم تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کی عمر اس وقت ۱۳۹۳ہجری میں صرف گیارہ سو اڑتالیس سال کی ہے جو مذکورہ عمروں میں سے لقمان حکیم اور ذوالقرنین جیسے مقدس لوگوں کی عمروں سے بہت کم ہے۔
الغرض قرآن مجید، اقوال علمائے اسلام اور احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی(عج) پیدا ہو کر غائب ہو گئے ہیں اور قیامت کے قریب ظہور کریں گے، اور آپ اسی طرح زمانہٴ غیبت میں بھی حجت خدا ہیں جس طرح بعض انبیاء اپنے عہد نبوت میں غائب ہونے کے دوران بھی حجت تھے (عجائب القصص ص ۱۹۱) اور عقل بھی یہی کہتی ہے کہ آپ زندہ، باقی اور موجود ہیں کیونکہ جس کے پیدا ہونے پر علماء کا اتفاق ہو اور وفات کا کوئی ایک غیر متعصب عالم بھی قائل نہ ہو اور طویل العمر انسانوں کے ہونے کی مثالیں بھی موجود ہوں تو لامحالہ اس کا موجود اور باقی ہونا ماننا پڑے گا۔ دلیل منطقی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے لہذا امام مہدی(عج) زندہ اور باقی ہیں۔
ان تمام شواہد اور دلائل کی موجودگی میں جن کا ہم نے اس کتاب میں ذکرکیا ہے، مولوی محمد امین مصری کا رسالہ ”طلوع اسلام“ کراچی جلد۱۴ ص ۵۴# و ۹۴# میں یہ کہنا کہ: ”شیعوں کو ابتداء روی زمین پر کوئی ظاہری مملکت قائم کرنے میں کامیابی نہ ہوسکی، ان کوتکلیفیں دی گئیں اور پراگندہ اور منتشر کردیا گیا تو انھوں نے ہمارے خیال کے مطابق امام منتظر اور مہدی وغیرہ کے پر امید عقائد ایجاد کرلئے تاکہ عوام کی ڈھارس بندھی رہے۔“ اور ملا اخوند درویزہ کا کتاب ارشادالطالبین ص ۳۹۶ میں یہ فرمانا کہ: ”ہندوستان میں ایک شخص عبداللہ نامی پیدا ہوگا جس کی بیوی کی ایمنہ (آمنہ) ہوگی، اس کا ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کا نام محمد ہوگا وہی کوفہ جا کرحکومت کرے گا …
لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ امام مہدی وہی ہیں جو امام حسن عسکری کے فرزند ہیں۔ ا لخ حد درجہ مضحکہ خیز، افسوس ناک اورحیرت انگیز ہے، کیونکہ علمائے فریقین کا اتفاق ہے کہ ”المھدی من ولدالامام الحسن العسکری۔“ امام مہدی حضرت امام حسن عسکری کے بیٹے ہیں اور ۱۵ شعبان ۲۵۵ کو پیدا ہو چکے ہیں، ملاحظہ ہو، اسعاف الراغبین، وفیات الاعیان، روضة الاحباب، تاریخ ابن الوردی، ینابع المودة، تاریخ کامل، تاریخ طبری، نورالابصار، اصول کافی، کشف الغمہ، جلاٴالعیون، ارشاد مفید، اعلام الوری، جامع عباسی، صواعق محرقہ، مطالب السول، شواہدالنبوت، ارجح المطالب، بحارالانوار ومناقب وغیرہ۔

زیارت ناحیہ اوراصول کافی

کہتے ہیں کہ اسی زمانہ غیبت صغریٰ میں ناحیہ مقدسہ سے ایک ایسی زیارت برآمد ہوئی ہے جس میں تمام شہدائے کربلا کے نام اور انکے قاتلوں کے نام ہیں۔ اس ”زیارت ناحیہ“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصول کافی جو کہ حضرت ثقة الاسلام علامہ کلینی المتوفی ۳۲۸ کی ۲۰ سالہ تصنیف ہے وہ جب ا مام عصر کی خدمت میں پیش ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”ھذا کاف لشیعتنا۔“ یہ ہمارے شیعوں کے لئے کافی ہے زیارت ناحیہ کی توثیق بہت سے علماء نے کی ہے جن میں علامہ طبرسی اور مجلسی بھی ہیں دعائے سباسب بھی آپ ہی سے مروی ہے۔