ur

گریہ بر امام حسین (ع) اور فلسفہ عزاداری

(سیدہ ایمن نقوی)

قیام عاشورا کو باقی رکھنے کے لئے آئمہ اطہار کی تدابیر میں سے ایک موثر تدبیر امام حسین علیہ السلام پر گریہ ہے۔ بعض علماء نے گریہ کے جسمانی اور نفسیاتی مثبت آثار اور انسان کی روح و نفس کی صفائی میں اس کی تاثیر کو مدنظر رکھتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آئمہ علیہم السلام نے گریہ کے ذاتی حسن کی وجہ سے مجالس عزاء کو برپا کرنے کی تاکید کی ہے، کیونکہ گریہ کے ذریعہ “تاثرات کا اظہار” انسان کی عطوفت کے متعادل اور اس کی فطری نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جو لوگ کم گریہ کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنے غموں اور افسردگی کو کم نہیں کر پاتے اور اپنی درونی گرہوں کو کھول نہیں پاتے وہ متعادل نفسیات اور اچھی روح اور جسم سے برخوردار نہیں ہیں، اسی وجہ سے ماہرین نفسیات کا عقیدہ ہے کہ عورتوں کی مشکلات مردوں سے کم ہوتی ہیں کیونکہ وہ بہت جلد اپنی روحی مشکلات کو گریہ کے ذریعہ باہر نکال دیتی ہیں اور بہت کم اس کو اپنے اندر چھپاتی ہیں اور یہ امر سلامتی کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔(1) نیز ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کے اندر جمع ہوئی مشکلات کے فشار کو گریہ کم کردیتا ہے اور انسان کے بہت سے داخلی رنج و آلام کا علاج ہے۔ حقیقت میں آنکھوں کے آنسو اطمینان کے ان لمحات کی طرح ہیں جو مشکل حالات میں انسان کی روح کو معتدل رکھتے ہیں۔

ان کے عقیدے کے مطابق گریہ کے اسی ذاتی حسن کی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام نے برسوں برس اپنے بیٹے کی دوری میں آنکھوں سے اشک بہائے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے بیٹے ابراہیم (2) اور اپنے جلیل القدر صحابی عثمان بن مظعون کی موت پر بہت گریہ فرمایا (3)۔ اسی طرح اپنے بہت سے

اصحاب اور دوستوں کی موت اور اپنے چچا حمزہ کی شہادت پر گریہ فرمایا اور مدینہ کی عورتوں کو اپنے چچا کے جنازہ پر رونے کے لئے دعوت دی (4) اور یہی وجہ تھی کہ حضرت زہرا (علیہا السلام) اپنے والد گرامی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی وفات پر شب و روز گریہ فرماتی تھیں (5) اور حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) برسوں برس اپنے والد بزرگوار امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت پر روتے رہے (6)۔ انسان کی روح کی صفائی اور اس کو کمال تک پہنچانے میں اگرچہ گریہ کے مثبت آثار اور اس کے طبی فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ایسی تحلیل کبھی بھی آئمہ علیہم السلام کی اس قدر تاکید اور سفارش کا راز نہیں ہو سکتی۔ یہ تحلیل ایک بہت بڑی غلطی ہے، جو بھی اسلامی روایات کو اس سلسلہ میں مطالعہ کرتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کام کا ایک بہت اہم ہدف موجود ہے (7)۔

کیا امام حسین پہ گریہ کرنیکا ہدف صرف ثواب کا حصول ہے؟
گریہ کا ایک ہدف ثواب بھی شمار کیا جاتا ہے لیکن اس تحلیل کا ضعف بھی بخوبی روشن ہے، کیونکہ کسی عمل کے لئے ثواب کا فرض کرنا اسی عمل میں مصلحت اور حکمت کے فرعی وجود کا ہونا ضروری ہے، جب تک کسی عمل میں معقول حکمت اور مصلحت نہ ہو اس کا ثواب نہیں مل سکتا، اس بحث میں ہم فلسفہ عزاداری یعنی اس عمل کی حکمت اور مصلحت کو بتانا چاہتے ہیں، لہٰذا اس مرحلہ میں ثواب کے متعلق بات کرنے کی جگہ نہیں ہے کیونکہ ثواب اس حکم کے معلولات کی ردیف میں شمار ہوتا ہے اور علت میں شمار نہیں ہوتا۔ ان سب کے علاوہ کیا یہ ممکن ہے کہ پوری تاریخ میں لاکھوں لوگوں کے احساسات کو فقط ثواب کے لئے تحریک کیا جائے اور ان کو رلایا جائے؟ اگر اس میں عشق کا دخل نہ ہو اور دل محبت سے مالا مال نہ ہو تو کیا ممکن ہے کہ یہ وعدہ، انسان کے عواطف و احساسات کو بھڑکا دے؟ (8۔9)

کیا امام حسین (علیہ السلام) پر گریہ گناہوں کی بخشش کیلئے کیا جاتا ہے؟
کیا امام حسین (علیہ السلام) نے اپنی قربانی اس لئے دی تاکہ شیعوں اور ان کے چاہنے والوں کے گناہ معاف ہوجائیں؟ اس کی تحلیل کچھ یوں کی جا رہی ہے کہ امام حسین نے اپنی جان کو فدا کر دیا تاکہ امت کے گناہ بخش دیئے جائیں اور امام کو امت کا کفارہ سمجھ لیا جائے۔ اس اعتقاد کی مثال عیسائیوں کے اسی عقیدہ کی طرح ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰی اپنی جان پر کھیل کر صلیب پر چڑھ گئے تاکہ ان کے ماننے والوں کے گناہ بخش دیئے جائیں اور انہوں نے ان لوگوں کو کامیاب کردیا۔ اس تحلیل کے معتقد حضرات نے اس طرح کی تعبیر سے تمسک کیا ہے جیسے “یا باب نجاها لامه” کہ امام حسین نے شہادت کو قبول کرکے فاسق و فاجر لوگوں کے گناہوں کو بخشوا دیا ہے لہٰذا اس کے نتیجے میں لوگوں کو امام حسین کی عزاداری برپا کرکے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ یہ تحلیل بھی دین کے کسی اصول و قوانین سے سازگار نہیں ہے، بہت سے لوگوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ امام حسین نے اپنی اور اپنی اولاد کی قربانی دے کر گناہگاروں کو عذاب الٰہی سے محفوظ کر دیا ہے، اور وہ صرف امام حسین پہ گریہ کر کے خود کو ان کی شفاعت کے ذریعے بخشوا لیں گے۔

بعبارت دیگر امام حسین اور ان کے اصحاب قتل ہو گئے تاکہ دوسرے لوگ گناہ اور جنایتیں کرنے کے لئے آزاد ہو جائیں اور خدا کے احکام ان سے ساقط ہو گئے۔ اسی طرح کی فکر باعث بنی کہ لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ امام حسین پر گریہ و عزاداری کرنے سے ان کے جتنے بھی گناہ ہیں وہ سب دھل جائیں گے اور اگر وہ ضروریات دین کا پابند بھی نہیں ہوں گے تب بھی بخش دیئے جائیں گے اور اس کو نجات مل جائے گی۔ اکثر وہ لوگ جو نماز نہیں پڑہتے ان کا فلسفہ یہی ہے کہ ہماری نمازیں امام حسین (ع) پڑھ گئے ہیں۔ اسی طرح کی غلط باتیں اس حد تک رائج ہیں اور تھیں کہ ستمگر و ظالم بادشاہ جن کی حکومتیں ہی ظلم و بے عدالتی پر استوار تھیں اور ان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون میں رنگیں ہوئے تھے، ایام محرم میں یہ ظالم بادشاہ مجالس عزاء برپا کرتے تھے اور عزاداری کے جلوس میں ننگے پیر سر و سینہ کو پیٹتے ہوئے چلتے تھے اور اس کو اپنی نجات کا سبب سمجھتے تھے۔ (10)

کیا عزاداری کا مقصد مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت ہے؟
جی ہاں دوست و دشمن اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مجالس عزائے امام حسین لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے اچھا ذریعہ ہیں اور یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کو آئمہ نے اپنے چاہنے والوں کو سکھایا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے دین اسلام ہمیشہ باقی رہے۔ ان مجالس کو برپا کرنے کی اہمیت اور اس کو محفوظ کرنے کی آئمہ کی تاکید کا راز اس وقت روشن ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت یہ روایتیں صادر ہوئی ہیں اس وقت شیعیان اہل بیت کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور اموی و عباسی حکومت کا فشار اس قدر تھا کہ کوئی سیاسی یا اجتماعی کام انجام نہیں دے سکتے تھے اور ان کے ختم ہو جانے میں کچھ باقی نہیں رہا تھا لیکن امام حسین کی مجالس عزاداری نے ان کو نجات دی اور اس عزاداری کی پناہ میں ان کو ایک نئی شکل ملی اور اس طرح ان کو اسلامی معاشرہ میں اچھی طرح ظاہر ہونے اور ہمیشہ باقی رہنے کا موقع ملا۔ اسی وجہ سے روایات میں ان مجالس عزاء کو “امر اہلبیت کو باقی رکھنے” کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے، امام صادق علیہ السلام نے ان مجلسوں کے متعلق فرمایا،”ان تلک المجالس احبھا فاحیوا امرنا”۔ میں (تمہاری) اس طرح کی مجلسوں کو پسند کرتا ہوں اس طرح ہمارے مکتب کو باقی رکھو (11)۔

جمہوری اسلامی ایران کے بنیان گذار امام خمینی ایک جامع تعبیر میں فرماتے ہیں، “ہم سب کو جان لینا چاہیئے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا اصل مرکز یہ سیاسی رسومات، آئمہ اطہار خصوصا امام حسین علیہ السلام کی عزاداری ہے جو کہ مسلمان ملت خصوصاً شیعیان اثناء عشر کی محافظ ہے۔ (12) جوزف فرانسوی اپنی کتاب “اسلام اور مسلمان” میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شیعہ، اسلام کی پہلی صدی میں بہت کم تھے اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ حکومت تک نہیں پہنچ پاتے تھے اور دوسرے یہ کہ ظالم و جابر حاکم ان کو قتل کردیتے تھے اور ان کے اموال کو غارت کر دیتے تھے، لکھتا ہے کہ “شیعوں کے ایک امام نے ان کو تقیہ کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کی جانیں دوسروں کے گزند سے محفوظ رہیں اور یہی بات سبب بنی کہ آہستہ آہستہ شیعہ قوی ہوتے چلے گئے اور اب دشمن ان کو قتل کرنے اور ان کے اموال کو غارت کرنے کا کوئی حیلہ تلاش نہ کرسکا۔ شیعہ چھپ کر محفل و مجالس کرتے تھے اور امام حسین کے مصائب پر گریہ کرتے تھے، یہ عطوفت اور یہ قلبی توجہ شیعوں کے دلوں میں مستحکم ہوگئی اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتی چلی گئی۔ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری ہے جس نے دوسروں کو بھی مذہب شیعہ کی طرف دعوت دی، حقیقت میں ہر شیعہ دوسرے لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دیتا ہے اور کوئی دوسرا مسلمان اس طرف متوجہ نہیں ہو پاتا بلکہ خود شیعہ بھی (شاید) اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اس میں کتنا فائدہ ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں صرف اخروی فائدہ ہے۔(13) ماربین، جرمن کا تاریخ نگار اپنی کتاب “سیاست اسلامی” میں لکھتا ہے، “میرا اعتقاد ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا اصل سبب امام حسین کی شہادت اور دوسرے غم انگیز واقعات ہیں اور مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں کی عاقلانہ سیاست اور زندگی ساز پروگراموں کو اجراء کرنا امام حسین کی عزاداری کی وجہ سے ہے۔ (14)۔ (15)۔

عزاری امام حسین (ع) کا اصل فلسفہ و ہدف کیا ہے؟
اب یہاں سوال یہ ہے کہ عزاداری امام کا فلسفہ اور اصل ہدف کیا ہے؟ یہ جاننے کیلئے ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں خود اہلیبت علہیم السلام سے رجوع کیا جائے کیونکہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے اور شیعہ ہونے کے ناطے سے ہمارے اعمال، افعال و گفتار و کردار خود ہماری پسند و ناپسند اور رائے کے تابع ہونے کی بجائے آئمہ اطہار علیہم السلام کے احکام و فرامین کے تابع ہوں، پس ہماری عزاداری کے مقاصد اور اصل ہدف کو بھی آئمہ اطہار کے فرامین اور ان کی ہدایت کی روشنی میں ہی ہونا چاہیئے۔ تو کیا آج جو عزاداری جو ہم برپا کرتے ہیں وہ صرف اس لئے ہے کہ یہ معصوم کا فرمان ہے؟ یا معصومین کے ان فرامین کے پیچھے کوئی اور حکمت عملی کارفرما ہے؟؟ ہمارے آئمہ اطہار نے ان مجالس عزاء کو برپا کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے، اس مقالہ میں ہم نے عزاداری کے ہدف کو بیان کرنے کے لئے مختلف تحلیلات بیان کیں، جن میں سے کچھ کچھ درست ہیں لیکن ان تمام باتوں کے علاوہ عزاداری کے اصل اہداف کچھ اور ہیں جنہیں انشاءاللہ اگلی تحریر میں مراجع عظام کے بیانات کی روشنی میں بیان جائیگا۔

منبع و مآخذ:
1۔ صد و پنجاه سال جوان بمانيد، ص 134۔
2۔ صحيح بخارى، كتاب الجنائر، ح 1277 و كافى، ج 3، ص 262۔
3۔ كافى، ج 5، ص 495 ; بحارالانوار، ج 79، ص 91 و مسند احمد، ج 6، ص 43۔
4۔ وسائل الشيعة، ج 2، ص 70 و تاريخ طبرى، ج 2، ص 210۔
5 . بحارالانوار، ج 43، ص 155 و 175۔
6۔ همان مدرك، ج 44، ص 284۔
7۔ آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا سے اقتباس ، صفحہ 67۔
8۔ تفصیل جاننے کے لئے استاد شہید مرتضی مطہری کی کتاب “”حماسہ حسینی”” جلد ١، فصل دوم پر عوامل تحریف کی بحث میں مراجعہ کریں۔
9۔ کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص68۔
10۔ کتاب، عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص69۔
11۔ وسائل الشيعة، ج 10، ص 391-392، ج 2۔
12۔ وصيّت نامه الهىـ سياسى امام خمينى (قدس سره)ـ صحيفه نور، ج 21، ص 173۔
13۔ به نقل از فلسفه شهادت و عزادارى حسين بن على (عليه السلام)، علاّمه سيد عبدالحسين شرف الدين، ترجمه على صحت، ص 92۔
14۔ فلسفه شهادت و عزادارى حسين بن على(عليه السلام)، ص 109۔
15۔ کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص70۔