ur

طاغوتی قوتوں کے خلاف جہاد، عاشورا کا سرمدی پیغام

( حسن رشوند)

اگرچہ واقعہ عاشورا 61 ہجری میں پیش آیا لیکن چونکہ اس کا مقصد ایسی حکومت کے خلاف جہاد تھا جس کی بنیاد دھوکے، جھوٹ اور لالچ کی سیاست پر استوار تھی اور وہ اپنے سیاسی اہداف کے حصول کی خاطر دین کی تحریف سمیت ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتی تھی لہٰذا امام حسین علیہ السلام کی سربراہی یں رونما ہونے والا یہ قیام تاریخ کا ایک زندہ، متحرک اور لازوال انقلاب ثابت ہوا ہے اور رہے گا۔ اس بنیاد پر حسینی تحریک ایک ایسی تحریک ہے جو ایک مستکبر اور طاغوتی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور بہترین اور پاکیزہ ترین انسانوں کی جان کا نذرانہ پیش کر کے اعلیٰ ترین دینی اور انسانی اقدار کو ہمیشہ کیلئے زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر آزاد اندیش انسانوں کو ہر زمانے کی طاغوتی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے، مزاحمت کرنے اور جہاد کرنے کا درس بھی دے دیا۔

یہی وجہ تھی کہ واقعہ عاشورا کے بعد بڑی تعداد میں حق طلبی پر مبنی جہادی تحریکوں نے جنم لیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ امام حسین علیہ السلام کا قیام حتی موجودہ صدی میں رونما لینے والے عظیم ترین اور موثر ترین اسلامی انقلاب یعنی انقلاب اسلامی ایران کیلئے بھی عالمی استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد کا رول ماڈل بن گیا۔ ایسا انقلاب جو اگر رونما نہ ہوتا تو عالمی طاقتیں اپنی میڈیا، سیاسی اور اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر الہٰی اقدار کو مکمل طور پر نابود کر چکی ہوتیں اور بنی امیہ حکومت کی طرح اپنی مرضی کی اقدار کو دینی رنگ دے کر انسانی معاشروں پر حکم فرما کر دیتیں۔ انقلاب اسلامی ایران امام خمینی جیسے شخص کی سربراہی میں رونما ہوا جو خود حسینی مکتب فکر کا شاگرد تھا اور اس کی کامیابی میں ایسے انسانوں نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا جو گذشتہ کئی نسلوں سے “ھیھات من الذلہ” کے حسینی نعرے اور عزاداری سید الشہداء کے ذریعے امام خمینی کی نصرت کیلئے میدان میں آئے۔ آج ہم اس انقلاب کی چنگاریاں بحرین اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی مشاہدہ کر رہے ہیں جن کا اصلی مقصد دنیا سے استکباری نظام کا خاتمہ ہے۔
واقعہ عاشورا اور حسینی تحریک کے مختلف پہلووں کا مطالعہ آج کی نسلوں کیلئے انتہائی سبق آموز ہے جس پر غور کرتے ہوئے ہم اس عظیم اور نورانی راستے پر چل کر اس کے الہٰی اہداف کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس بارے میں چند نکات قابل غور ہیں:
1)۔ حسینی تحریک انسانوں کو بیدار کرنے والی تحریک تھی اور امام حسین علیہ السلام کے قیام نے ثابت کر دیا کہ ہر زمانے کے مستکبرین اور طاغوتی قوتوں کے ظلم کے خلاف ظاہر ہونے والا حق اور حقیقت پر مبنی راستہ نہ صرف اپنے زمانے کے انسانوں بلکہ ہر زمانے کے انسانوں کو جہالت اور گمراہی سے نجات دلائے گا اور ایک لازوال اور مجاہدانہ مکتب فکر کی بنیاد رکھے دے گا۔ جیسا کہ ہم زیارت اربعین میں معصومین کی زبانی امام حسین علیہ السلام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: “وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فیکَ لِیسْتَنْقِذَ عِبادَکَ مِنَ الْجَهالَه وَ حَیرَه الضَّلالَه” (آپ نے خدا کے بندوں کو جہالت اور گمراہی سے نجات دلانے کیلئے اپنی جان قربان کر دی)۔آج جب ہر زمانے سے زیادہ عالمی طاغوتی قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی عاشورائی تحریک سے سبق سیکھتے ہوئے انہیں اپنی انفرادی اور سماجی زندگی میں جاری کرے اور امریکہ کی سربراہی میں عالمی استعماری نظام کے خلاف جدوجہد کو اپنا شرعی فریضہ قرار دے۔

2)۔ ملت ایران نے عالمی استکبار کے خلاف مظلومانہ انداز میں گذشتہ کئی سالوں کی جدوجہد اور اس راہ میں اپنے جوانوں کی قربانی پیش کر کے نہ صرف ایرانیوں کو مستکبرین کی قید سے رہائی دلوائی ہے بلکہ دنیا میں بہت سی بیداری کی تحریکوں کا باعث بنی ہے اور انہیں یہ راستہ اختیار کرنے کیلئے پرامید کر دیا ہے۔ جیسا کہ ہم آج لبنان، شام، عراق، یمن اور بحرین میں عوامی انقلابی اور شہادت طلب تحریکوں کے جنم لینے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام تحریکیں امام حسین علیہ السلام کے قیام اور عزت طلبی اور حریت پسندی پر مبنی ان کے پیغام کا نتیجہ ہیں۔

3)۔ عاشورا کا واقعہ مختلف پہلووں سے اپنے اندر عبرتیں بھی لئے ہوئے ہے جن میں سے اہم ترین عبرت اپنے زمانے کے ولی امر اور امام کی دعوت پر لبیک نہ کہنے اور طاغوتی حکومت کی اطاعت کرنے کے انتہائی منفی اور تباہ کن نتائج ہیں۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں: “کوفہ میں ایسے افراد موجود تھے جن کے دل امام حسین علیہ السلام سے عقیدت سے لبریز تھے، وہ اہلبیت علیہم السلام سے محبت بھی کرتے تھے لیکن انہوں نے میدان میں آتے آتے چند مہینے دیر کر دی۔ یہ سب شہید بھی ہو گئے، خدا کے حضور ان کا اجر بھی محفوظ ہے لیکن جو ان کی ذمہ داری بنتی تھی انہوں نے وہ کام نہیں کیا، صحیح وقت کو نہیں پہچانا، عاشورا کو نہیں پہچانا۔”